زبانی جمع خرچ پر لڑے جا رہے انتخابات

Share Article

کرشن کانت 

پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ختم ہو چکے ہیں۔ کہنے کو ان انتخابات میں ہر پارٹی نے اپنا منشور جاری کیا، لیکن حقیقت میں یہ انتخابات مدعوں کی بنیاد پر نہیں، بلکہ صرف ذاتی حملوں اور الزام در الزام کے دَم پر لڑے گئے۔ کانگریس اور بی جے پی کے بڑے لیڈروں سے لے کر ریاستی اکائی تک کے لیڈروں نے ایک دوسرے پر زبانی حملے کیے اور کیچڑ اچھالا۔ ایسے میں وہ بنیادی ایجنڈے پارٹیوں سے غائب ہیں، جن پر بات کی جانی چاہیے۔ گزشتہ دنوں پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات یہ ثابت کرتے ہیں کہ عوام کی حقیقی ترقی کے مدعوں پر بحث کرنے سے سبھی پارٹیاں کترا رہی ہیں۔

p-5bہر انتخاب سے پہلے بیدار عام عوام میں یہ بحث اور امید رہتی ہے کہ آنے والا انتخاب گزشتہ انتخابات سے کچھ معاملوں میں الگ ہوگا۔ مثال کے طور پر، سیاسی پارٹیوں کی طرف سے اپنائے جانے والے روایتی طریقے بدلیں گے۔ وہ ترقی کی باتیں کریں گے۔ وہ بجلی، پانی، تعلیم، صحت، روزگار اور تجارت وغیرہ کو ایشو بنائیں گے۔ جو چیزیں سرکار کی طرف سے اب تک عوام کو مہیا نہیں ہو سکی ہیں، ان پر سنجیدگی سے بحث کریں گے اور جو بھی پارٹی اقتدار میں آئے گی، وہ بنیادی ضروریات کو اپنے ایجنڈے کے تحت پورا کرے گی۔ لیکن ہر الیکشن کے بعد تبدیلی کی امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے 65 برسوں میں آج تک ہر الیکشن میں بجلی، پانی، سڑک ہی انتخابی ایشو بنا رہتا ہے، جو کہ کبھی پورا نہیں ہوتا۔
پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ختم ہو چکے ہیں۔ کہنے کو ان انتخابات میں ہر پارٹی نے اپنا منشور جاری کیا، لیکن حقیقت میں یہ الیکشن ایشوز کی بنیاد پر نہیں، بلکہ صرف زبانی جمع خرچ کی بنیاد پر لڑا گیا۔ الیکشن کے ابتدائی دور پر غور کریں، تو ایسا ماحول بن رہا تھا کہ لوک سبھا کے علاوہ ان پانچوں ریاستوں کے انتخابات بنیادی سہولیات، وسائل اور ضروری مدعوں کی بنیاد پر لڑا جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ دہلی سے لے کر پانچوں ریاستوں تک صرف زبانی تیر چلے اور انتخابات ختم ہو گئے۔
دہلی کی بات کریں، تو بی جے پی نے 30 فیصد سستی بجلی اور 12 سیلنڈر دینے کا وعدہ کیا۔ عام آدمی پارٹی نے ہر دن 700 لیٹر مفت پانی اور 50 فیصد سستی بجلی کا وعدہ کیا۔ شیلا دکشت نے قابل لاڈلی اسکیم، ہر مہینے 40 کلو لیٹر پانی کی بات کی۔ لیکن جیسے جیسے انتخابات نزدیک آتے گئے، وہ سارے مسئلے صرف پری ریکارڈیڈ میسج تک محدود رہ گئے۔
میزورم کی بات چھوڑ دیں، کیوں کہ پانچوں ریاستوں میں سب سے زیادہ 81 فیصد ووٹنگ میزورم میں ہوئی، باوجود اس کے میڈیا میں کوئی بڑا کوریج نہیں ملا۔ دیگر چاروں ریاستوں، یعنی دہلی، راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں یہ حال رہا کہ منشور کے علاوہ عوام کی بات کسی نے نہیں کی۔ کہیں بھی ایسا دیکھنے کو نہیں ملا کہ دو مخالف پارٹیاں عوامی مسائل اور ان کے حل پر سنجیدگی سے بحث کرتی ہوئی دکھائی دی ہوں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس دونوں ہی پارٹیوں کے لیڈروں نے صرف اور صرف ایک دوسرے پر الزام لگانے کو اپنے پرچار کا ذریعہ بنایا۔
راجستھان کے بانس واڑہ میں بی جے پی کی طرف سے پی ایم امیدوار نریندر مودی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی پارٹی کانگریس سے زیادہ زہریلی نہیں ہو سکتی، کیوں کہ وہ قریب آدھی صدی سے اسی پر پھل پھول رہی ہے، جسے انہوں نے اقتدار کا زہر کہا تھا۔ اس پر سونیا گاندھی نے کہا کہ بی جے پی زہریلے لوگوں کی پارٹی ہے۔ مودی سیاست کی سمت بدلنے اور ترقی کے مدعے پر الیکشن لڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن انہوں نے اپنے پرچار میں ذاتی حملے کیے، جو صرف نفرت کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ راجستھان کے بڑے حصوں میں پینے کا صاف پانی مہیا نہ ہونے کی بات کہتے ہوئے مودی نے کہا کہ راجستھان اور گجرات کا جغرافیہ تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ میں نے پانی مہیا کروانے کے لیے پاکستان کی سرحد تک پائپ لائنیں بچھائی ہیں۔ یہ پائپ اتنے بڑے ہیں کہ گہلوت جی اور ان کی فیملی کے لوگ اس میں ایک ماروتی کار میں بیٹھ کر سفر کرسکتے ہیں۔
اسی طرح مودی نے بندیل کھنڈ کے مچھروں کو کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کو کاٹنے کے لیے مبارکباد دی ہے۔ راہل نے راحت گڑھ میں کہا تھا کہ مچھر کاٹنے کی وجہ سے وہ بیمار ہو گئے تھے۔ مودی نے ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بندیل کھنڈ کے مچھروں کو شہزادے کو کاٹنے کی ہمت، طاقت اور حوصلے کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔ گزشتہ 100 برسوں میں جس خاندان کو کوئی چھو بھی نہیں سکا، اس کا وہ خون چوستے رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا خاندان ہے، جسے چھونا تو دور، اگر اس کے خلاف کوئی بول بھی دے، تو اسے ان کی فوج نوچ لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے، جیسے بندیل کھنڈ کے مچھر اچھی طرح تربیت یافتہ تھے۔ عام طور پر تو مچھر کے کاٹنے پر لوگوں کو اپنے خون کی جانچ کرانی پڑتی ہے، لیکن یہاں کے مچھروں نے شہزادے کو کاٹ کر خود ہی رپورٹ تیار کر لی ہے، جس کا نتیجہ 8 دسمبر کو عوام کے سامنے آئے گا، جب ای وی ایم سے الیکشن کے نتائج سامنے آئیں گے۔
کانگریس صدر سونیا گاندھی اور پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی پر بالواسطہ طور پر حملہ کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ دہلی سے آئے شہزادے کہتے ہیں کہ مرکز نے ریاست کی ترقی کے لیے بہت پیسے دیے، وہ بتائیں کہ یہ پیسہ مرکز کے پاس کہاں سے آیا، کیا ان کے ماما نے دیے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کانگریس بتائے کہ ان کا سی ایم امیدوار کون ہے؟ جب کانگریس کے لوگوں سے پوچھا جاتا ہے، تو وہ دبے چھپے روپ میں اجیت جوگی کا ہی نام لیتے ہیں، ایسے میں وہ جوگی کے نام کا اعلان کیوں نہیں کرتی؟ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے، جوگی سے کانگریس کو ہار کا خطرہ ہے۔ ہو بھی کیوں نہ، ایک طرف چھتیس گڑھی ہیں، تو دوسری طرف دھوکہ دھڑی ہے۔
دہلی اسمبلی انتخابات کے مد نظر نریندر مودی نے دوارکا علاقہ میں ایک انتخابی ریلی میں کہا کہ کانگریس نے اکثر اپنا نام، نشان اور پالیسیاں بدلیں، لیکن اپنی نیت نہیں بدلی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی یہ مان بیٹھی ہے کہ ایشور نے اسے حکومت کرنے کے لیے ہی بنایا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ ان کا جنم ہی حکومت کرنے کے لیے ہوا ہے اور عوام تو ان کی جیب میں ہیں۔ وہ (عوام) جائیں گے کہاں۔
مدھیہ پردیش میں کانگریس امیدواروں کی حمایت میں پرچار کرنے آئے راہل گاندھی نے مندسور کے ملہار گڑھ میں کہا کہ کانگریس وعدے کرنے کے بعد انہیں پورا کرتی ہے، وہیں بی جے پی مارکیٹنگ کرتی ہے، کئی کیمروں کے ذریعے اپنا پرچار کرتی ہے، مگر کیمرے سچائی کو نہیں چھپا سکتے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ سرکاروں پر حملہ بولتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان دونوں سرکاروں کے درمیان بدعنوانی کی ورلڈ چمپئن شپ چل رہی ہے۔ یہ بکواس ختم ہونا چاہیے۔
یہ صرف بی جے پی اور کانگریس تک ہی محدود نہیں ہے، مورل کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں الیکشن کمیشن نے عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروِند کجریوال کو نوٹس بھیجا۔ کجریوال پر مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کا الزام لگا۔ مسلمانوں سے ووٹ مانگنے کی کوشش میں کجریوال نے قابل اعتراض باتیں کہیں۔ نریندر مودی نے الور میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راجستھان میں کانگریس نے کچھ ترقی نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے آسمان اور زمین کسی کو نہیں چھوڑا ہے، ہر جگہ بدعنوانی ہے۔ وہ ریت میں بھی کھاتے ہیں اور کھیت میں بھی۔ وہ ریل میں بھی کھاتے ہیں اور کھیل میں بھی۔ راہل گاندھی کے بارے میں بات کریں، تو جس طرح سے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں راہل گاندھی نے یو پی اور بہار کے دورے میں مقبولیت حاصل کی تھی، وہ اس چناؤ پرچار میں کہیں دکھائی نہیں دی۔ دہلی کی ایک ریلی میں راہل گاندھی کے آنے پر لوگ اٹھ کر جانے لگے، تو شیلا دکشت کو ہاتھ جوڑ کر عوام سے اپیل کرنی پڑی کہ براہِ کرم آپ لوگ راہل کی تقریر سن لیجئے۔ یہی حال ان کی دیگر ریلیوں کا بھی رہا۔
یہ حملے دونوں ہی پارٹیوں کے سبھی درجے کے لیڈر کر رہے تھے۔ ملک کے تاریخی واقعات کے بارے میں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی جانکاری پر سوال اٹھاتے ہوئے کانگریس کے جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ نے طنز کیا کہ بی جے پی کو چاہیے کہ وہ اپنے پی ایم امیدوار کو تاریخ کا ٹیوشن دلائے۔ بی جے پی کے پی ایم امیدوار کو ملک کی اس تاریخ کی بھی جانکاری نہیں ہے، جو ہمارے یہاں بارہویں کلاس میں پڑھائی جاتی ہے۔ دگ وجے نے کیشو بھائی پٹیل سے لے کر لال کرشن اڈوانی جیسے سینئر لیڈروں کے نام گناتے ہوئے کہا کہ جس ہاتھ نے مودی کو آگے بڑھایا، اسے انہوں نے کاٹا ہے۔ اب بی جے پی کے صدر راجناتھ سنگھ کا نمبر ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شو راج سنگھ چوہان کے ذریعے کی جانے والی ترقی کے دعووں کو کھوکھلا بتاتے ہوئے انہیں ’پھینکو نمبر دو‘ بتایا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *