آپ کو عوام نے چنا ہے ان کا حق تو ادا کیجئے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
نومبرکا مہینہ یوں تو تہواروں کا مہینہ ہے اور دسہرہ، دیوالی کے ساتھ ساتھ سیاسی تہوار بھی اسی مہینے میں ہیں، یعنی 8؍نومبر سے پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہورہا ہے۔ 6سے 8نومبر کو اوباما تشریف لارہے ہیں۔ ہم نے گزشتہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں یہ اچھی طرح دیکھا کہ بار بار کسی ایک سوال کو لے کر پورے پورے دن کے لیے پارلیمنٹ اجلاس ملتوی کردیا گیا۔ ایک بات بار بار ذہن میں آتی ہے کہ پارلیمنٹ میں یوں تو ہر مسئلہ پر سوال اٹھایا جاتا ہے، ان مسائل پر بھی جو بہت اہم نہیں ہوتے، مگر مسلم ممبر آف پارلیمنٹ کیا کرتے ہیں، وہ مسلمانوں کے مسائل کیوں نہیںاٹھاتے۔ پارلیمنٹ میں مسلمانوں سے وابستہ بہت سے اہم مسائل کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اب الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہی لے لیجیے، بی جے پی کو تو چھوڑ دیجیے، مگر کانگریس کے لیڈر کیوں خاموش ہیں؟ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی بھی کانگریسی لیڈر نے کوئی بیان نہیں دیا۔ وزیراعظم خاموش، سونیا گاندھی خاموش، پرنب مکھرجی خاموش، شیلا دیکشت خاموش۔ آخر اتنے بڑے فیصلے کے بعد کانگریس نے کوئی بھی بیان کیوں نہیں دیا؟ کیا یہ خاموشی لوک سبھا میں ٹوٹے گی؟ کیا اس خاموشی کو مصلحت کا نام دے دیا جائے۔ یہاں صرف اور صرف شکایت مسلم ممبرآف پارلیمنٹ سے ہے کہ بے روزگاری، غربت اور تعلیم سے وابستہ مسلمانوں کے مسائل کو پارلیمنٹ میں پرزور آوازمیں کیوں نہیں اٹھاتے۔ سلمان خورشید اس وقت مسلمانوں کے سب سے قد آور لیڈر ہیں۔ خود سلمان خورشید نے مسلمانوں کے مسائل کو پارلیمنٹ میں کتنی بار اٹھایا ہے۔ جب کوئی سیاسی پارٹی کسی مسلم امیدوار کو الیکشن میں کھڑا کرتی ہے تو وہ یہ مان کر نہیں اس کو ٹکٹ دیتی کہ وہ اپنا ایجنٹ چن رہی ہے، بلکہ پارٹی کی قدر و منزلت اور اس کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ، وہ مسلم امیدوار چنتی ہے اور عوام اسی امیدوار کو اپنا قیمتی ووٹ اس لیے دیتے ہیں کہ یہ عوامی نمائندے جب جیت کر پارلیمنٹ میں جائیںگے تو ہمارے مسائل اٹھائیںگے۔ ہمارے بنیادی حقوق کی حفاظت کریںگے، مگر یہ فاتح امیدوار جب ہر جگہ خاموشی اختیار کیے رہتے ہیں تو اس طرح نہ صرف وہ عوام کی امیدوں پر ہی کھرے نہیں اترے، بلکہ تھرڈ گریڈ کے ایجنٹ اور دلال بن جاتے ہیں۔ بتائیے کتنےمسلم ممبران پارلیمنٹ نے مسلمانوں کے مسائل کو اٹھایا ہے؟ خواتین کی تعلیم، ان کی آزادی، ان کی برابری، نوجوانوں میں بے روزگاری کے مسائل، تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کے ساتھ بھید بھاؤ وغیرہ ایسے مسائل ہیں، جن کو بتانے یا جن کے لیے لڑنے کے لیے کوئی نعوذ باللہ خدا تو آسمان سے اترے گا نہیں، بلکہ ہمارے بیچ میں ہی سے ہمارے نمائندوں کو ہمارے لئے بات کرنی چایئے مگر سب کچھ مصلحت کی تہہ میں دب کر رہ جاتا ہے۔ چلیے بات کرتے ہیں سچر کمیٹی اور رنگاناتھ مشرا رپورٹ کی۔ اس کمیٹی کی سفارشات سالوں ٹھنڈے بستے میں پڑی رہیں، مگر جب یہ سامنے آئیں اور سچر کمیٹی نے مسلمانوں کی صحیح صورت حال کو پیش کیا تو کتنے مسلم ممبران پارلیمنٹ اور اداروں کے سربراہان نے اس کے لیے پلاننگ کیں؟ کیا مسلم ممبران پارلیمنٹ نے پارٹی کو یہ دھمکی دی کہ اگر یہ سفارشات نافذ نہیں ہوئیں تو وہ پارٹی چھوڑ دیںگے؟ نہیں کسی نے نہیں۔ بڑے بڑے جلسے کیے جاتے ہیں، کبھی جمعیۃ علماء ہند، کبھی جماعت اسلامی ہند، کبھی احمد بخاری صاحب صحافیوں کی میٹنگ بلاتے ہیں، مگر سچر کمیٹی اور رنگا ناتھ مشرا کمیشن نے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے، ان پر یہ جلسے جلوس کیوں نہیں کرتے؟ یہ مسلمانوں کے وہ مسائل جو روزی روٹی اور تعلیم سے جڑے ہیں، ان کے لیے کیوں نہیں متحد ہوتے؟
جذباتی مسئلوں پر تو ہر اخبار، ہر مسلم رہنما کا بیان آجاتا ہے۔ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر، عشرت جہاں، کوثر بی، بیسٹ بیکری وغیرہ بے شک بہت اہم ہیں اور ان کے لیے بھی ضرور حق و انصاف کی دہائی دینی چاہیے، مگر خدا را مسلمانوں کی اس جذباتیت سے نکل کر ان کے بنیادی مسائل، روٹی کپڑا اور مکان اور ساتھ ساتھ تعلیم پر بھی دھیان دیجیے۔ ان جذباتی مسائل کو سیاسی لیڈران پر چھوڑ دیجیے۔ مسلمانوں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ دیکھئے اتنی بڑی حکمراں جماعت کی میٹنگ ہوتی ہے، جی ہاں اے آئی سی سی کی میٹنگ کی ہم بات کر رہے ہیں کہ اے آئی سی سی کی میٹنگ میں سبھی ممبران موجود تھے اور اس میں سونیا گاندھی جی کہتی ہیں کہ بابری مسجد کا انہدام جرم ہے۔ تو اس کے لیے کیا سونیا جی کا شکریہ ادا کیا جائے کہ آپ نے جرم کرنے والوں کو آزاد چھوڑ دیا ہے۔ آج آپ ایک ذمہ دارانہ اسٹیج سے یہ بات کہہ رہی ہیں اور ببانگ دہل کہہ رہی ہیں تو محترمہ آپ نے یا آپ کی پارٹی نے مجرموں کے خلاف کیا ایکشن لیا؟ سبھی تو آزاد گھوم رہے ہیں۔ بڑی نمک پاشی کی آپ نے مسلمانوں کے زخموں پر، بابری مسجد انہدام میں اگر مجرموں کا پتہ نہیں ہوتا یا پھر سی بی آئی یا کوئی دوسری خفیہ ایجنسی اس کی تفتیش کر رہی ہوتی تو الگ بات تھی، مگر جب سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے، میڈیا سبھی کو کور کر رہا ہے۔ مجرم سامنے ہے تو پھر کس کا انتظار ہے؟ حکومت آپ کی ہے، آپ کو سزا دینے کے لیے جن شواہد کی ضرورت ہے، وہ سامنے ہیںپر اب اے آئی سی سی میں ہی آجاتے ہیں پرنب مکھرجی کے بیان پر۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں سنگھ پریوار پوری طرح سے ملوث ہے۔ پرنب مکھرجی اس وقت کانگریس کے بہت ہی سینئر لیڈر ہیں، وہ وزیراعظم منموہن سنگھ، سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور باقی لیڈران کے سامنے اتنا بڑا بیان بڑی ہی ذمہ داری سے دے رہے ہیں تو ان ہی سے یہ سوال پوچھا جائے کہ جب آر ایس ایس اور اس سے وابستہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو پھر دیر کس بات کی ہے؟ کس کا انتظار ہے؟ صرف بیان ہی کیوں دے رہے ہیں، ان پر Banکیوں نہیں لگاتے؟ صرف بیان بازی سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اصل میں اے آئی سی سی کی میٹنگ میں یہ سب بیان بازی اس لیے کی گئی، کیوں کہ کانگریس اس وقت بہت سے سوالوں کے دائرے میں ہے اور چونکہ یہ میٹنگ سونیا جی کو پھر سے نامزد کرنے کے لیے تھی اور سونیا جی نے پھر سے ترپ کی چال چلی ہے، کیوں کہ بنگال، گجرات اور یوپی میں الیکشن کا وقت قریب آرہا ہے اور کانگریس کو مسلم ووٹ بینک کی ضرورت پڑنے والی ہے۔ کمال کی بات ہے۔ اس میٹنگ میں ملک میں بڑھتی مہنگائی، کامن ویلتھ گیمس میں ہوئی بدعنوانی، آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی کا بدعنوانی مسئلہ کسی پر بھی کوئی بات نہیں ہوئی، سونیا جی اور وزیر اعظم تو غریبی، مہنگائی جیسے مسئلوں پر خاموش رہے اور کانگریس کے شہزادے یہ بیان دے رہے ہیں کہ غریب ہی ملک کو آگے لے جائیںگے۔ راہل گاندھی جی بے چارے خود اچھی سیاست کے پینتروں سے ناواقف ہیں، نہ جانے ان کو بھی کتنی مصلحتوں سے گزرنا پڑتا ہوگا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کانگریس ملک کے اہم مسئلوں پرتوجہ دے اور مسلمان ممبران پارلیمنٹ بھی ان کے مسائل کو پارلیمنٹ میں لے کر آئیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *