سرکار اور آر بی آئی کا آپسی اختلاف افسوسناک

Share Article

سرکار اور ریزروآف انڈیا (آر بی آئی )کا آپسی اختلاف افسوسناک ہے۔اس سرکار نے کئی معاملوں میں پختگی سے کام نہیں لیا۔آر بی آئی ایک خود مختار ادارہ ہے۔ اس کا کام ہے ملک کی کرنسی کی افادیت اور کرنسی پر نظر رکھنا اور سرکاری اور پرائیویٹ بینکوںپر کنٹرول رکھنا۔ شروع میں جب معیشت چھوٹی تھی، تو آر بی آئی کا گورنر اہم ہوتا تھا۔وہ وزیر خزانہ سے ہم آہنگی بنا کر کام کرتا تھا۔ 1991 میں لبرلائزیشن کے بعد بازار کی اہمیت بڑھ گئی، جی ڈی پی بڑھ گئی، مالیاتی اعدادو شمار بڑھ گئے۔ ایسے میں یہ وزیر خزانہ اور ریزرو بینک کے گورنر کی شخصیت پر ہی منحصر ہے کہ وہ ان معاملوں سے کیسے نمٹتے ہیں۔ ان سے پہلے پی چدمبرم وزیر خزانہ تھے۔وہ تھوڑا سخت مزاج آدمی تھے۔ کچھ لوگ انہیں خود پسند بھی کہتے ہیں۔ ریزرو بینک کے اس وقت کے گورنر سُبّا رائو کے ساتھ ان کے رشتے اچھے نہیں تھے۔ حالانکہ رگھو رام راجن کے ساتھ ان کا رشتہ ٹھیک رہا۔
جب موجودہ سرکار اقتدار میں آئی اور ارون جیٹلی وزیر خزانہ بنے، تب رگھو رام راجن گورنر تھے۔ رگھو رام راجن شیکاگو کانسینسس کے آدمی ہیں۔ ان کی سوچ الگ ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ امریکہ میں پڑھا ہوا ماہر اقتصادیات یہاں کے ماہرین اقتصادیات سے زیادہ ہوشیار ہوگا۔ ہندوستان کی آبادی سوا سو کروڑ ہے، جبکہ امریکہ کی آبادی صرف 20-30 کروڑ ہے، وہ ہمیں کیا بتائے گا۔ امریکہ بہت امیر ہے، لیکن وہ اپنا پیسہ ہمیں تو دیتا نہیں ، پھر وہ ہمیں کیوں بتائے گا کہ کیا کرنا ہے۔ اگر امریکی سوچ کا کوئی آدمی آئے گا تو وہ امریکہ کے مفاد کے لئے ہی کام کرے گا۔مثال کے لئے امپورٹ – ایکسپورٹ پالیسی کو لیتے ہیں۔ ہر ملک چاہتا ہے کہ اس کا مال بکے۔ ظاہر ہے امریکہ بھی چاہتا ہے کہ اس کا زیادہ سے زیادہ مال ہندوستان میں بکے آرمس کے شعبے میں ،چاہے وہ ہتھیار ہوں یا جہاز، ان میں تو ان کی برتری ہے ، کیونکہ ان کی ٹکنالوجی اچھی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جو چھوٹی چیزیں یہاں بن سکتی ہیں، وہ بھی ہندوستان وہیں سے منگوائے۔اب امریکہ کے مقابلے میں چین آگیا۔ چین نے ہندوستانی مارکیٹ کو موبائل سے بھر دیا۔ ہم موبائل بنا سکتے تھے، لیکن اس سرکار کو چین اور جاپان سے بہت لگائو ہے، امریکہ سے سرکار ڈرتی ہے۔

 

 

 

دراصل ہندوستان کی قیادت وہی کر سکتا ہے، جس کی ریڑھ کی ہڈی میں دم ہو۔اگر ٹرمپ کے ٹیلی فون کال سے آپ کرسی سے اٹھ جائیں گے تو آپ ملک کی قیادت نہیں کر سکتے ہیں۔ اگر یوم جمہوریہ کے پریڈ کے موقع پر آپ ٹرمپ کو بلانا چاہتے تھے لیکن انہوں نے اس لئے نہ کر دیا، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مودی ڈوبتے ستارہ ہیں، رائزنگ اسٹار نہیں ہیں۔اپنا نام ان کے ساتھ کیوں جوڑیں۔ جو نیا وزیر اعظم آئے گا، اس سے بات کریں گے۔ہر ملک اپنا مفاد، اپنا انٹریسٹ دیکھتا ہے اور یہ غلط نہیں ہے۔
ہماری خود اعتمادی ، خود کا احترام اتنا نیچے گر گیا ہے کہ امریکہ اگر ویزہ پر روک لگاتا ہے تو ہم اعتراض کرتے ہیں۔ ان کا ملک ہے، وہ فیصلہ کریں گے کہ کس طرح کے لوگ وہاں جائیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آپ امریکہ کیوں جانا چاہتے ہیں؟کیونکہ آپ نے نوجوانوں کے ذہن میں ایسا احساس پیدا کردیا ہے کہ امریکہ جانے سے ہی ان کی بھلائی ہوگی۔ مودی کو این آر آئی سے بہت لگائو ہے۔ اکتوبر مہینے میں این آر آئی اور فارن پورٹ فولیو انوسٹرس نے ہندوستان سے پانچ بلین ڈالر واپس لے لیا، کیونکہ پیسے کی تو ایک پالیسی ہوتی ہے۔جہاں پیسہ بڑھے گا، وہیں پیسہ جائے گا۔ ہندوستان میں بازار مندی کی طرف چلا گیا تو انہوں نے اپنا پیسہ واپس لے لیا۔ یہاں کوئی بھلائی کا کام کرنے نہیں آیا ہے۔
اب اصل سوال پر واپس آتے ہیں۔ریزرو بینک اور سرکار میں کیا اختلاف ہے؟سرکار نے ریزرو بینک کے بورڈ میں ایس گرو مورتی کو نامزد کیا ۔وہ ایک چارٹرڈ اکائونٹینٹ ہیں، دانشور ہیں، آر ایس ایس کے قریبی ہیں اور میرے بھی واقف ہیں۔وہ بورڈ میں کہتے ہیں کہ پیسے کی کمی ہو گئی ہے، تو کم سے کم جو مائیکرو اسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزیز ( ایم ایس ایم ای ) ہیں، انہیں قرض دینے میںتھوڑی ڈھیل دیجئے۔ آر بی آئی کے گورنر اور ان کے ڈپٹی گورنرویرل اچاریہ مانتے نہیں ہیں۔ وہ تو امریکہ کی بنسی بجا رہے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ درمیانے اور چھوٹے ایریا کے انٹرپرائزیز بند ہو جائیں۔صرف 20-30 بڑے گھرانے بنے رہیں، امریکہ کے ساتھ ان کی سانٹھ گانٹھ رہے اور امریکہ کی دکان چلتی رہے۔ گرو مورتی ’سودیشی جاگرن منچ ‘کے کنوینر تھے۔ان کا مانناہے (اور صحیح ماننا ہے ) کہ لاکھوں کروڑوں کاروباری اداروں کے بل پر ہی ہندوستان اوپر اٹھ سکتا ہے۔کسان تو ہیں ہی۔کسان جو فصل اُگاتا ہے ، اس کی ترقی تب ہوتی ہے، جب گائوں میں آپ چھوٹی اکائی لگاتے ہیں، گرو مورتی اس خیال کے ہیں۔ وہ تھوڑا سا زور لگاتے ہیں، لیکن یہ نہیں مانتے۔ ارون جیٹلی میں وہ طاقت نہیں ہے، کہ وہ ریزرو بینک کے گورنر کو سمجھا سکیں۔
سرکار بہر حال سرکار ہوتی ہے۔ چاہے کوئی بھی سرکار ہو۔ میں بی جے پی کی پالیسیوں کے حق میں نہیںہوں، لیکن سرکار کے اختیار کے حق میں ہوں۔ ریزرو بینک کے گورنر کون ہوتے ہیں، انہیں چلتا کیجئے۔ ویرل اچاریہ کو چلتا کیجئے۔ ہمیں ملک بچانا ہے یا ان کی نوکری بچانی ہے؟وزیر خزانہ انہیں صاف صاف کہہ دیں کہ وہ میری بات مانیں یا استعفیٰ دے دیں۔ دو منٹ میں بات ختم۔ فی الحال آر بی آئی ایکٹ کا سیکشن 7 چرچا میں ہے۔ مودی جی اور راہل گاندھی کے بیچ خوب توتو ،میں میں چل رہی ہے۔ راہل گاندھی بولتے ہیں کہ سرکار سیکشن 7 کا استعمال کررہی ہے۔ سرکار نے سی بی آئی کو برباد کر دیا اور آر بی آئی کو برباد کر رہی ہے۔ میں نہیں مانتا۔ آر بی آئی خود ملک کو برباد کر رہی ہے۔ دراصل سیکشن 7 لاگو کرکے سرکار آر بی آئی کو بربا دنہیں کررہی ہے، بلکہ گورنر اور ڈپٹی گورنر کو نہیں ہٹا کر برباد کررہی ہے۔ یہ کس کے مفاد میں کام کررہے ہیں؟

 

 

 

 

’از آف ڈوئنگ بزنس‘ یعنی کاروبار کرنے کی آسانی کا ایک سلوگن نکالا ۔ اس رینکنگ میں ہم 130 ویں نمبر پر تھے، پھر 100ویں پر آئے اور اب 77ویں مقام پر آگئے ہیں۔اس رینکنگ کا فیصلہ امریکہ کرتا ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ ساری انڈسٹریز کو بند کر دیجئے، تو امریکہ آپ کو پہلے مقام پر کھڑا کر دے گا۔ کیونکہ امریکہ میں بازار ڈوئنگ بزنس اینڈ کلوزنگ بزنس کے اصول پر چلتا ہے۔جو بزنس نہیںچلے، اسے بند کر دو۔ ایسا ہندوستان میں نہیں ہوتا ہے۔ یہاں ایسا نہیں ہوتا ہے کہ بوڑھے ماں باپ کماتے نہیں ہیں، تو ان کی گردن کاٹ دو۔ یہ رواج وہاں ہے کہ بوڑھے ماں باپ کو اولڈ ایج ہوم میں ڈال دیتے ہیں۔ ہمارا رواج سناتن دھرم کا رواج ہے۔ ہم چند سکوں کے لئے خاندان یا ماں باپ کو نہیں بیچتے، یا گدھے کو باپ نہیں بنا لیتے ہیں۔ میں ہندوتو کے حق میں نہیں ہوں، لیکن مجھے امید تھی کہ کم سے کم اس ثقافت کے لوگ پاور میں آئیںگے تو کچھ نہ کچھ اس طرح ہو جائیں گے ۔یہ تو الٹی سمت میں ہی جارہے ہیں۔
مودی جی کہتے تھے کہ ہمیں’ کانگریس مکت بھارت ‘ چاہئے۔ بعد میں انہوں نے خلاصہ کیا کہ ’کانگریس مکت بھارت ‘سے میرا مطلب کانگریس پارٹی سے نہیں ہے، بلکہ ہمیں اس کانگریسی کلچر سے نجات چاہئے ، جہاں ہر کام پیسے کے زور پر ہوتا ہے۔ انتخاب پیسے کے زور پر ہوتا ہے لیکن ان چار سال میں یہ کانگریس سے آگے چلے گئے۔ کانگریس نے اتنا پیسہ کبھی خرچ ہی نہیں کیا، جتنا بی جے پی نے کیا۔ امیت شاہ نے جتنا اقتدار کا غلط استعمال کیا ہے، کسی نے تاریخ میں نہیں کیا ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ بی جے پی نے ساڑھے چار سال میں یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ملک چلانے کے قابل نہیں ہیں۔ وہ میونسپلٹی ، پنچایت سطح کی ہی بات کر سکتے ہیں۔ملک کی معیشت، خارجہ پالیسی، سیکورٹی جیسے موضوعات ان کی سمجھ سے باہر ہیں۔مودی جی تقریر کرکے اس کا میک اپ نہیں کرسکتے ہیں۔ چندر شیکھر جی ہمارے لیڈر تھے۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ چاہے جتنی بھی اچھی تقریر کرلو ، تقریر کرلینے سے ایک کلو گیہوں، دو کلو نہیں بنے گا، وہ ایک کلو ہی رہے گا۔ مودی جی سمجھتے ہیں کہ ہر چیز کا متبادل تقریر ہے۔ نیتا جی بوس کا نعرہ تھا’ تم مجھے خون دو، میں تمہیں آزادی دوں گا‘۔
میں نے ٹویٹر پر ایک کارٹون دیکھا، جس میں مودی جی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ تم مجھے خون دو، میں تمہیں بھاشن دوں گا۔ اب سارا معاملہ بھاشن پر آگیا ہے کہ کون اچھا بھاشن لکھتا ہے، کون اسے مودی جی کی طرح ہاتھ پائوں ہلا کر زور دار ڈھنگ سے بولتا ہے۔ اس کا فائدہ ایک بار 2014 میں مل چکا ہے۔ کاٹھ کی ہانڈی بار بار نہیں چڑھتی ہے۔ یہ 2019 میں دوبارہ نہیں ہو سکتا ہے۔ آج بھی اگر مودی جی ٹھوس بات کرتے ہیں اور مان لیتے ہیں کہ مجھ سے یہاں یہاں غلطی ہوئی ہے ،جسے میں ٹھیک کروں گا تو اب بھی انتخابات میں ان کے لئے نتیجہ خراب نہیں ہوگا، لیکن ایسی تواضع تو ان میں ہے ہی نہیں ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *