تالاب میں نہانے کے دوران نوجوان کی ڈوب کر موت،علاقے میں غم کی لہر

Share Article

 

پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلہ کی ووٹنگ ہونے کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں چھٹی ہونے کے سبب دیوبند کے محلہ گوجر واڑہ کا ایک نوجوان اپنے دوستوں کے ساتھ شری تر پور ماں بالا سندری دیوی مندر سے ملحق تالاب میں نہانے کے لئے پہنچ گیا، لیکن اچانک پاؤں پھسل جانے اور گہرے پانی میں گھنی گھاس میں پاؤں الجھ جانے کی وجہ سے نوجوان کی پانی میں ڈوب کر موت ہوگئی۔ کئی تیراکوؤں نے گھنٹوں کی مشقت کے بعد نوجوان کی لاش کو تالاب سے باہر نکالا تفصیلات کے مطابق دیوبند کے محلہ گوجر واڑہ کے باشندہ راج کمار کا 17 سالہ بیٹا آکاش محلہ کے ہی اپنے دوستوں کے ساتھ دوپہر کے وقت ماں بالا سندری دیوی مندر سے ملحق تالاب میں نہانے کے لئے گیا تھا۔

 

 

بتایا جاتا ہے کہ پانی میں ڈائیو لگانے کے وقت آکاش کا ایک پیر تالاب کے نیچے واقع کمل کی جڑوں میں پھنس گیا، جس کی وجہ سے وہ پانی سے بہر نہیں آسکا، موقع پر موجود آکاش کے دوستوں نے اس کو پانی سے نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن جب وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکے تو ان کے ہوش وحواس بھی گم ہوگئے اور وہ خوف کے مارے وہاں سے بھاگ نکلے نوجوان کی تالاب میں ڈوبنے کی اطلاع پورے دیوبند میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے تالاب کے ارد گرد سیکڑوں لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی، جن لوگوں کو تیرنا آتا ہے انہوں نے تالاب میں اتر کر آکاش کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن اسی درمیان فائر برگیڈ کی ایک ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی اور انہوں نے آکاش کو بچانے کے لئے ریسکیو آپریشن شروع کیا، لیکن تالاب میں کمل گٹوں کی بہت زیادہ تعداد ہونے کی وجہ سے بچاؤ آپریشن میں کافی دشواریاں آئیں، لیکن تیراکوؤں نے ہمت نہیں ہاری اور تقریباً تین گھنٹے کی جدوجہد کے بعد تالاب میں ڈوبے ہوئے آکاش کی لاش کو انہوں نے ڈھونڈ نکالا، جیسے ہی آکاش کو پانی سے باہر نکالا گیا موقع پر موجود اسکے اہل خانہ میں کہرام مچ گیا۔ پانی سے باہر نکالنے کے بعد آکاش کے پیٹ سے پانی نکالنے کی کوشش کی گئی لیکن تب تک آکاش کی موت واقع ہوچکی تھی۔ بعد ازاں غم زدہ اہل خانہ آکاش کی لاش کو لیکر اپنے گھر چلے گئے۔ واضح ہوکہ آکاش کے والد راج کمار بس اسٹینڈ روڑ پر واقع ایک مشہور ویشنو ہوٹل پر کام کرتے ہیں۔ بدھ کے روز راج کمار نے اپنے بیٹے آکاش کو بھی اسی ہوٹل پر کام کرنے کے لئے بلالیا تھا لیکن جمعرات کے روز ووٹنگ کی وجہ سے بازار اور ہوٹل اور بند ہونے کی وجہ سے آکاش اور اس کے والد دونوں چھٹی پر تھے۔ اسی وجہ سے آکاش محلہ کے اپنے دو دوستوں کے ساتھ دیوی کنڈ کے تالاب میں نہانے چلا گیا جہاں پر ڈوب جانے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوگئی۔

 

 

 

آکاش کے اہل خانہ اور لوگوں کی بڑی تعداد جس وقت تالاب کے آس پاس جمع تھی تو اسی وقت آکاش کو ڈھونڈنے کے لئے دیوبند کے ایک نوجوان فیروز نے گھنٹوں پانی میں رہ کر اپنی پوری طاقت صرف کردی۔ تالاب میں رُکے ہوئے پانی اور جگہ جگہ کمل گٹے ہونے کی وجہ سے تیرنے میں دشواری آنے کے باوجود فیروز لگاتار آکاش کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ تقریباً تین گھنٹہ کی سخت محنت کے بعد آکاش کو ڈھونڈ نکالا گیا۔ گہرے پانی میں آکاش کو تلاش کرنے کے لئے فیروز کی جدوجہد کو دیکھ کر وہاں موجود لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں ابھی انسانیت باقی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *