یوم اساتذہ طلباء و اساتذہ کے محبوب تھے ڈاکٹر رادھا کرشنن

Share Article

p-2bعظیم مفکر دانشور اور ماہر تعلیم ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن سوویت یونین میںسفیر رہے اور ملک کے 1952 سے 1957 اور 1957 سے 1962 تک نائب صدر اور 1962 سے 1967 تک صدر رہے اور اپنی 50سے زائد فکر و فلسفہ و دیگر علمی ایشوز پر معرکۃ الاراء کتابیں تصنیف کیں۔ان کی عالمانہ اور دانشوارانہ افکار و خیالات کی قدر ان کے ہم عصروں میں گاندھی جی، پنڈت جواہر لال نہرو،ڈاکٹر راجندر پرساد، رابندر ناتھ ٹیگور، اور مولانا ابولکلام آزاد نے اندرون ملک اور روسی رہنما جوزف اسٹالن ،سائنس داں البرٹ آئنسٹائن، مفکر و دانشور جارج پرنادڑ شا اور معروف پاکستانی دانشور اور ناقد پروفیسر نظیر صدیقی نے اپنی اپنی بیرون ملک تقریر و تحریر میں کی۔ مرحوم نظیر صدیقی نے تو انہیں اپنی ایک کتاب میں عظیم ترین ہندوستانی قرار دیا اور دوسری ضخیم کتاب میںعلامہ اقبال سے مدلل موازنہ کرتے ہوئے انہیں ان سے بڑا مفکر بتایا جو کہ تقریبا 20برس قبل علمی دنیا میں موضوع بحث بھی بنا۔بہر حال ذیل میں یوم اساتذہ کے موقع پر تعلیم پر ان کے کارناموں کے تناظر میں ان کے خیالات و فرمودات پیش کئے جارہے ہیں:
ہندوستان کے دوسرے صدر اور عظیم فلسفی ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن کے یوم پیدائش 5 ستمبرکو ہر سال ’یوم اساتذہ‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ان دنوں جب تعلیم کا معیار کم ہوتا جارہا ہے اور استادو شاگرد کے درمیان رشتوں کی پاکیزگی کو گرہن لگا جارہا ہے،ان کی فضیلت کو یاد کرکے پھرسے ایک نئی بیداری پیدا کی جاسکتی ہے۔جب وہ صدر بنے تھے، تب کچھ شاگرد اور پرستار ان کے پاس گئے تھے۔انہوں نے ان سے گزارش کی تھی کہ وہ ان کے یوم پیدائش کو یوم اساتذہ کے طور پر منانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے یوم پیدائش کو یوم اساتذہ کے طور پر منانے سے یقینا میں فخر محسوس کروں گا۔ تب سے 5 ستمبر کو پورے ملک میں یوم اساتذہ کے طور پر منایا جارہاہے۔
تعلیم کے میدان میں ڈاکٹر رادھا کرشنن نے جو انمول شراکت داری کی ہے وہ یقینا ناقابل فراموش ہے۔وہ مختلف النوع تجربوں سے مالا مال تھے۔ اگرچہ وہ ایک جانے مانے دانشور،استاد،اسپیکر،ایڈمنسٹریٹر،سفارت کار،محب وطن اور ماہر تعلیم تھے، تاہم اپنی زندگی کے آخری ایام میں متعدد اعلیٰ عہدوں پر کام کرتے ہوئے بھی تعلیم کے شعبے م میں مسلسل حصہ لیتے رہے۔ان کا ماننا تھا کہ اگر صحیح طریقے سے تعلیم دی جائے تو سماج کی متعدد برائیوں کو مٹایا جاسکتاہے۔
ڈاکٹر رادھا کرشنن کہا کرتے تھے کہ محض جانکاریاں دینا تعلیم نہیں ہے۔اگرچہ جانکاری بھی اہم ہوتی ہیں، تاہم فرد کے ذہنی میلان اور اس کے جذبات و احساسات کی بھی بڑی اہمیت ہے۔یہ باتیں کسی بھی فرد کو ایک ذمہ دار شہری بناتی ہیں۔ تعلیم کا مقصد ہے علم کے تئیںلگن کا احساس اور مسلسل سیکھتے رہنے کا رجحان۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو آدمی کو علم اور تجربے دونوں عطا کرتا ہے اور اس کی زندگی گزارنے کی راہیں ہموار کرتا ہے۔ہمدردی،محبت اوربہترین روایات کو فروغ دینابھی تعلیم کا مقصد ہے۔
وہ کہتے تھے کہ جب تک استاد میںتعلیم کے تئیں وقف اور عزم کا جذبہ نہیں ہوتا اور وہ تعلیم کو ایک مشن نہیں مانتا ،تب تک اچھی تعلیم کی امید نہیں کی جاسکتی ۔ انہوں نے کئی سالوں تک درس و تدریس کا کام کیا۔ ایک مثالی استاد کی تمام خوبیاں ان میں موجود تھیں۔ ان کاکہنا تھا کہ استاد انہی لوگوں کو بنایا جانا چاہئے جو سب سے زیادہ دانشور ہوں۔ استاد کو صرف اچھی طرح تعلیم دے کر ہی مطمئن نہیں ہو جانا چاہئے ،اسے اپنے طلباء کو پیار اور عزت دینا چاہئے۔عزت محض استاد ہونے سے نہیں ملتی ،اسے حاصل کرنا پڑتا ہے۔
استاد کا کام ہے علم کو جمع کرنا یاحاصل کرنا اور پھر اسے دوسروں کو بانٹنا۔اسے علم کی شمع بن کر چاروں طرف اپنی روشنی پھیلانی چاہئے ۔اسے سادہ زندگی اور اعلیٰ خیالات کی گفتگو کو اپنی زندگی میں ثابت کرنا چاہئے۔اس کا علم گنگا کی طرح بہتے رہنا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *