اسد مفتی، ایمسٹرڈیم ، ہالینڈ
ناروے میں کشت و خون ریزی اور اندھا دھند فائرنگ کرکے سو کے لگ بھگ افراد کو ہلاک کرنے والے اور اس سے چند گھنٹے قبل اوسلو میں وزیر اعظم کے دفتر کو بم سے اڑانے والے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند عیسائی نوجوان آندرے بیرنگ برائیوک نے اپنا جرم قبول کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ یہ کارروائی ضروری تھی ۔ آندرے نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ یہ قتل غارت گری کا کھیل اس نے تن تنہا ہی کھیلا ہے اوراس کی منصوبہ بندی اور عمل آوری میں کوئی ا ور شریک نہیں ۔ آندرے کے وکیل گیٹر لپس ٹیڈ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ملز م پوچھ تاچھ میں پولس سے مکمل تعاون کررہا ہے ۔ وکیل کا کہنا ہے کہ اس کا موکل عوام کے سامنے اپنے جرم کے بارے میں بیان دینا چاہتا ہے۔ لیکن استغاثہ کا موقف ہے کہ ملزم عدالت میں اپنی پیشی اور بیانات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے  عدالت کو سیاسی پلیٹ فارم کے طورپر استعمال کرناچاہتا ہے اس لیے اسے اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ ملزم نے اپنے اعترافی بیان میں یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ وہ ملک کے سابق وزیر اعظم کو بھی قتل کرنا چاہتاتھا لیکن جزیرے اوٹویا میں ان کی آمد میں تاخیر کے سبب وہ ہلاک ہونے سے بچ گئیں ملزم کے وکیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس کا کلیت و خونریزی کو وحشیانہ اقدام مگر لوگوں کو جگانے کیلئے ضروری سمجھتا تھا یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اس فعل کو مجر مانہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔
32سالہ آندرے کے فلیٹ سے ملی 1500صفحات پر مشتمل ڈائری سے پتہ چلا ہے کہ اس نے اپنے اس ’’جہادی مشن ‘‘ کی تیاری 2009سے شروع کر رکھی تھی ۔ بظاہر یہ ڈائری خود آندرے نے تحریر کی ہے یہ ڈائری بھی ہے اوربم سازی کا ہدایت نامہ کے علاوہ سیاسی سماجی اور مذہبی برہمی کا اظہار بھی ہے کہ اس ڈائری میں یورپ میں بسنے والے مسلمان اوراسلام سے خوف کی تفصیلات دائرہ تحریر میں لائی گئی ہیں اس نے ڈائری میں لکھا ہے کہ وہ دائیں بازو کا انتہا پسند عیسائی ہے اور  9/11کے بعد مسلمانوں کے رویے سے ان کا دشمن ہے اور یہ کہ ناروے میں اسلام کا راستہ روکا جانا بہت ضروری ہے (یہاں مجھے اپنے ملک ہالینڈ کے انتہا پسند خیرت ویلڈرس کا خیال آگیا ہے کہ وہ بھی یہی نعرہ لگاتا ہے ) حال ہی میں پیوگلو بل پروجیکٹ نے ایک سروے کیا ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گذشتہ دس برس کے دوران اہل مغرب اورمسلمان کے ایک دوسرے کے بارے میں دقیانوسی تصورات رکھتے ہیں۔
اسرائیلی اورفلسطینی علاقوں کے علاوہ بارہ ملکوں میں کئے جانے والے اس سروے میں چھ ملکوں کی اکثریتی آبادی مسلمان تھی جن میںانڈونیشیا ، پاکستان، لبنان، مصر ،اردن اور ترکی شامل ہیں جبکہ مغربی ممالک یا مسیحی آبادی کی اکثریت والے باقی چھ ملکوں میں امریکہ ، جرمنی ،ا سپین ، فرانس، برطانیہ اور روس شامل ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ اکثر مغربی باشندے مسلمانوں کو جنونی اور پرتشدد تصور کرتے ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ اور ایشیاء کے مسلمانوں کے نزدیک مغربی باشندے خود غرض، لالچی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ جنونی بھی ہیں۔ سروے کے مطابق تین ملکوں کو چھوڑ کر دیگر مغربی ملکوں کے عوام نے اس بات سے اتفاق کیاہے کہ ان کے نزدیک اسلام سب سے پرتشدد مذہب ہے جبکہ دوسری جانب مسلم ملکوں کے بیشتر افراد نے اپنے طورپر یہودیت کو پرتشدد مذہب قرار دیاہے۔ مسلمان ملکوں میں بڑھتی ہوئی انتہا پسند ی سے مغربی ملکوں میں منفی رد عمل پیدا ہونے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مغربی ممالک کے افراد نے تشویش کا اظہار کیاہے اس سروے سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ مسیحی باشندوں کی نسبت مسلمان اپنے آپ کو پہلے مسلمان اور بعدمیں کسی ملک کا باشندہ یاشہری تصور کرتے ہیں اوران کی وفاداریاں اسلام کے ساتھ ہیں نہ کے کسی ملک کے ساتھ ۔ یہاں یہ بتانا بھی میں ضروری سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں 94فیصد رائے دہندگان نے اسی سوچ کا اظہار کیاہے۔
ادھر بین الاقوامی یہودی کانگریس(WJC) نے ایک رپورٹ جاری کی ہے’’ یورپ میں اسلام کا فروغ‘‘ اس سروے رپورٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ 2017تک یورپ میں مسلمانوں کے احوال وکوائف میں ’’غیر معمولی آبادیاتی انقلاب‘‘Revolution Demo Graphyرونما ہوگا۔اس سروے رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ یورپ کے مسلمان قابل لحاظ حد تک سیاسی طاقت کی نمائندگی کررہے ہیں۔ اگر مستحکم سیاسی نمائندگی کا یہی حال رہا تو 2020تک یورپ کی عام آبادی میں ان کی شرح تناسب 10فیصد سے بڑھ جائے گی یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ میرے ملک ہالینڈ کی جملہ آبادی میں مسلمانوں کی شرح تناسب ابھی سے 10فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ میرے حساب سے یورپ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے ناروے کا آندرے ہو یا ہالینڈ کا خیرت ویلڈرس 2وجوہات کی بنا پر تشویش میں مبتلا ہیں پہلی وجہ سیاسی ہے جو کہ ایک طرف یورپی ممالک میں ’’مسلم کالونیوں‘‘ اور ان کے سیاسی نظریات واثرات کی اہمیت اور پوزیشن سے تعلق رکھتی ہے او ردوسری ان یورپی ممالک کے موقف سے تعلق رکھتی ہے جہاں آنے والے دنوں میں ’’اقتدار کی کشمکش ‘‘پر مسلمانوں کے موقف اور ان کے وزن میں گراں قدر اضافہ کی وجہ سے اثر پڑے گا کہ برطانیہ میں ابھی سے یار لوگوں نے لندن کو ’’لندنستان‘‘ کہنا شروع کردیا ہے جہاں دن بدن مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے وہاں ان کا سیاسی وزن بھی بڑھ رہا ہے ۔ مغربی ممالک کی سیاسی جماعتوں اور قانون ساز شخصیات کے حامل موثر ترین رول ادا کرنے کا موقف بھی مستحکم ہو رہا ہے۔ یہاں تک کہ یورپی ممالک میں حکومت سیاسی جماعتیں اور یورپین پارلیمنٹ اسلام سے بڑھتی ہوئی لوگوں کی دلچسپی کو تسلیم کرتے ہوئے علاقائی مسائل میں سیاسی موقف کے یقین کے ساتھ اس کا لحاظ کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے ہی مسائل نے یورپ میں ایک تنازع کھڑا کررکھا ہے جس سے آندرے اور خیرت جیسے انتہا پسند انتہائی خوف زدہ ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں کو یورپی معاشرہ میں مدغم کرنے پر تقسیم اجاگر ہو رہی ہے۔ آندرے کا یہ کہنا ہے کہ یورپ میں اسلام کا فروغ عیسائیت کیلئے خطرہ اورسیکورٹی کیلئے رسک ہے اور خیرت کا یہ کہنا کہ مسلمان یورپ میں خطرہ بنتے جارہے ہیں اوران کی ثقافتی علامات غالب آتی جا رہی ہیں اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ مسلم انتہا پسند حلقوں کی اکثریت مغرب مخالف سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہے اوراہل مغرب کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا ہے کہ یورپ میں ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات مغربی باشندوں پر ضرور مرتب ہونگے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ میرے حساب سے اب یورپ میں سیکورٹی کے ماہرین کو اپنی سوچ بدلنی پڑے گی ۔ ناروے کی حکومت اس طرف اب پوری توجہ دے رہی ہے کہ ناروے میں قتل غارت گری سے ثابت ہوگیا ہے کہ دائیں طرف کے انتہا پسند عیسائی اب پورے یورپ کے لئے ایک چیلنج بن چکے ہیں اب تک ایسے گروپوں کو اتنا خطرنا ک تصور نہیں کیا جاتاتھا لیکن اب ہمیںیہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ صرف ناروے کا مسئلہ نہیں ہے یہ لوگ کسی بھی ملک میں سر اٹھا سکتے ہیں یورپ کی حکومتوں کو ان تنظیموں کے بارے میں ڈاٹا اکٹھا کرنا ہوگا کہ یورپ میں تشدد بڑھ رہا ہے جب تک ڈاٹا جمع نہیں ہوگا تشدد کی شدت کی پیمائش اور اعدادو شمار مشکل ہوگی۔ ماہرین کی رائے میں یورپی حکومتوں کو جن موضوعات پر سنجیدہ تحقیق کی ضر ورت ہے ان میں دائیں بازو کی انتہا پسندانہ نظریات کی حامل تنظیموں کے علاوہ رائٹ دنگ سب کلچرزم اورملٹی کلچراز کے اثرات ،امیگریشن اور مسلم اقلیتوں کی یورپ میں نقل مکانی اور اس کے ثقافتی اثرات اور رد عمل، بڑی سیاسی پارٹیوں کی جانب سے ان خطرات کا احساس اور فوری ایکشن کی ضرورت اب پہلے سے بھی زیادہ در پیش ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here