سنتوش بھارتیہ 
میڈیا کو ان دلیلوں کا استعمال نہیں کرنا چاہئے جن دلیلوں کا استعمال جرائم پیشہ لوگ کرتے ہیں۔اگر تم نے برا کیا تو میں بھی برا کروں گا۔میں نے برا اس لئے کیا کیونکہ میں اس کی تہہ میں جانا چاہتا تھا۔ یہ صحافت نہیں ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ جتنا اوچھاپن ہندوستان کی سیاست میں آگیا ہے اتنا ہی اوچھا پن صحافت میں بھی آگیا ہے۔ لیکن کچھ پیشے ایسے ہیں جس کا اوچھا پن پورے سماج کو بھگتنا پڑتا ہے۔اگر جسٹس اوچھا پن کریں تو اس سے ملک کی بنیاد ہلتی ہے۔ اسی طرح اگر ڈاکٹر اوچھا پن کرے تو ملک کی بنیاد کھوکھلی ہوتی ہے، لوگوں کی جان جاتی ہے۔ اگر میڈیا میں یہ سب شروع ہو جائے جسے ہم اوچھا پن کہتے ہیں،تو پھر یہ ماننا چاہئے کہ سماج کے سارے انگ آزاد ہوجائیںگے اور اتنے بے لگام ہو جائیں گے کہ اس ملک میں ہر ایک کو خریدنے کا خواب سجا لیںگے۔ ’زی نیوز‘ کے مسئلے میں میرا صاف ماننا ہے کہ ’زی نیوز‘ کے ایڈیٹر نے اور’ زی نیوز‘ کے مالکوں نے اگر مالکوں کو یہ بات پتہ تھی تو یہ بہت غلط کیا ہے۔’ زی نیوز‘ کے ایڈیٹر سدھیرچودھری اسٹنگ آپریشن کے نام پر نوین جندل کے پاس گئے۔ ان کے ساتھ ان کی مارکیٹنگ ٹیم کا ایک آدمی تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایڈیٹر خود اسٹنگ آپریشن کرنے جاتا ہے۔ اگر ایڈیٹر اسٹنگ آپریشن کرنے جاتا ہے تو وہ ایڈیٹر پہلے بھی کچھ نہ کچھ ایسی رپورٹ کر چکا ہوگا جس نے لوگوں کا دھیان کھینچا ہو۔ مجھے یاد نہیں آتا کہ سدھیر چودھری نے پہلے کوئی ایسی رپورٹ کی ہو جو ہم میں سے کسی کو یاد ہو۔ مارکیٹنگ ٹیم کا ممبر کیسے صحافی بن گیا اور اگر سدھیر چودھری نے اسٹنگ آپریشن کیا تو اسٹنگ آپریشن کا ایک بنیادی طریقہ ہے کہ جب آپ اندر جاتے ہیں ،تب سے آپ کا کیمرہ آن ہو جاتاہے یا ٹیپ ریکارڈر آن ہو جاتاہے۔ اس لئے جتنی چیزیں وہاں ہو رہی ہوں وہ سب ریکارڈ ہوتی ہیں اور ان میں سے بغیر چھیڑ چھاڑ کیے، اس پورے فوٹیج کو دکھاتے ہیں، تبھی مانا جاتا ہے کہ اسٹنگ آپریشن مکمل ہے، نہیں تو ایڈیٹنگ ورزن یا چنے ہوئے منظر دکھانا یہ کبھی بھی صحافت کے اصول کے لحاظ سے صحیح نہیں ہے۔ لیکن یہاں تو کوئی فوٹیج سامنے آیا ہی نہیں۔’زی نیوز‘ نے پچھلے کئی دنوں سے ایک مہم چلا رکھی ہے اور جس میں نوین جندل کو لے کر کئی کہانیاں سامنے آئیں ،جن سے لگا کہ’ زی نیوز‘ نے کوئی بڑا خلاصہ کیا ہے۔ لیکن نوین جندل نے جب پریس کانفرنس کرکے یہ بتا دیا ، یہ بات سب کو پتہ چل گئی۔ انہوں نے ویڈیو دکھا دیا کہ’ زی نیوز‘ کے ایڈیٹر اور ان کی مارکیٹنگ ٹیم ان سے کیا بات کر رہی تھی۔ شاید اس لئے ایڈیٹر وں کی تنظیم این بی اے نے اپنی جانچ کی اور سدھیر چودھری کو دی گئی ذمہ داریاں واپس لے لی۔
یہ پریشان کرنے والی صورت حال ہے۔ نوین جندل سے یہ امید نہیں کرنی چاہئے کہ وہ کسی بھی بات کو اپنے حق میں نہیں موڑیں گے۔ لیکن نوین جندل نے ایک اچھا کام کیا۔ اچھا کام انہوں نے یہ کیا کہ اگر ان سے کوئی صحافی یا ایڈیٹر بات کرنے گیا تو انہوں نے اس کی ساری بات ریکارڈ کر لی۔ ہو سکتاہے کہ ان کے پاس کچھ اور صحافیوں کی بات ریکارڈ میں ہو۔ کیونکہ یہ رقم جو سدھیر چودھری نے مانگی، تھوڑی حیثیت سے زیادہ تھی۔ چاہے وہ اشتہار کی شکل میں مانگی گئی ہو یا اور کسی طریقے سے۔ اب سوال صرف یہی اٹھتا ہے کہ’ زی نیوز‘ کے مالکوں کو اس واقعے کا پتہ تھا یا نہیں تھا۔ایسا لگتا ہے کہ شاید اس کے مالکوں کو اس پورے حادثے کا اچھی طرح پتہ ہے ۔ اب تک سدھیر چودھری کا زی نیوز میں بنے رہان یہ ظاہر کرتا ہے کہ ن ساری چیزوں میں ’زی‘ کے سارے مالک اور’ زی‘ کے ایڈیٹر شامل تھے۔ میں ایسی صحافت کو غلط صحافت مانتا ہوں۔ہم صحافیوں میں ایسی صحافت کے خلاف ہاتھ کھڑے کرنے کی ہمت ہونی چاہئے لیکن ہمارے بہت سارے ساتھی اس لئے ہاتھ کھڑا کرنے کی ہمت نہیں کریںگے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اگر انہوں نے کچھ کیا تو’ زی نیوز‘ ان سے ناراض ہو جائے گا اور انہیں بعد میں ضرورت پڑی تو ان کو وہاں نوکری نہیں ملے گی لیکن نوکری کے لئے آپ اپنے ضمیر کو طاق پر رکھتے ہیں ۔میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ نوین جندل صنعت کار ہیں۔ نوین جندل کو کول بلاک ملے۔ ممبر پارلیمنٹ رہتے ہوئے انہوںنے اپنی پارٹی کو متأثر کرکے پیسہ کمایا ۔ اس کی جانچ ہونی چاہئے لیکن وہ جانچ اس لئے نہیں ہوگی کیونکہ نوین جندل کی طرح اور بہت سارے لوگ جو کانگریس سے جڑے ہیں یا کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ہیں وہ سب کوئلہ گھوٹالے میں شامل ہیں۔ ان کی جانچ نہیں ہوگی ۔ سوال یہ ہے کہ صحافت جس کو سماج میں منصف سمجھا جاتا ہے،جسٹس سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لکھے پر لوگ بھروسہ کرتے ہیں۔ عام آدمی اس کے لکھے ہوئے لفظوں اور ٹیلی ویژن میں دیکھے گئے منظر وں کو بالکل حتمی مان لیتاہے۔ جس طرح گیتا کے لکھے ہوئے لفظوں کو حتمی مان لیتاہے، آئڈیل مانتا ہے اسی طرح ہمارے پرنٹس میں یا الکٹرانک میڈیا میں یا ٹیلی ویژن نیوز میں دکھائی گئی چیزوں کے اوپر بھروسہ کر لیتا ہے۔ اب اگر ہمارے بیچ میں سے ایسے لوگ نکل آئیں جو اسپانسرڈ جرنلزم کریں یا رشوت خوری کی صحافت کریں یا ایسی صحافت کریں جس سے سماج کی بنیاد ہِل جائے اور اس پاکیزگی کو جسے غیر تحریری طور پر جمہوریت کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے، جس کے اوپر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تین ستونوں کے اوپر نگرانی رکھے تو پھر ایسے لوگ اگر ہمارے بیچ میں سے پیدا ہوںگے یا ٹریند بڑھے گا تو ہم اس چیز سے چوک جائیں گے۔
صحافت میں ایک چیز سمجھنی چاہئے ،کہیں یہ نہیں لکھا ہے کہ صحافی کو کچھ کہنے سے کوئی روکے مگر جو صحافی نہیں ہے یا اپنے کو صحافی نہیں کہہ سکتا ہے اگر وہ کسی کو بھی روکتا ہے، کچھ کہتا ہے تو لوگ اسے گالی دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔لیکن جب اسے کوئی ایسا آدمی روکتا ہے اور کہتاہے کہ میں صحافی ہوں تو وزیر اعظم سے لے کر ایک معمولی افسر تک رک جاتا ہے اور اس کی بات سنتا ہے۔ یہ حق تحریر ی شکل میں کہیں نہیں ہے ، لیکن سماج نے یہ غیر تحریر شدہ حق صرف صحافیوں کو دیا ہے ۔اس کا مطلب صحافیوں کو جو عزت ملی ہے، جو احترام ملا ہے، ہمارے سسٹم میں، ہمارے سماج میں، اس احترام کا مذاق اڑانے کا حق کسی کے پاس نہیں ہے۔صحافیوں کے پاس بھی نہیں ہے۔ کیونکہ ایک آدمی اس پوری برادری کی عزت دائو پر اگر لگانے کی بات کرتا ہے تو اس سے گھٹیا کوئی آدمی ہے ہی نہیں ۔ میں پوری ذمہ داری اور فخر کے ساتھ ایسی صحافت کی مخالفت کرتا ہوں۔مجھے قطعی بھروسہ نہیں ہے کہ سدھیر چودھری یا ’زی گروپ‘ کے مالک معافی مانگیں گے۔ انہیں ملک سے معافی مانگنی چاہئے۔معافی اس لئے مانگنی چاہئے کیونکہ انہوں نے صحافت کی توہین کی، جس صحافت پر ملک کے لوگ گیتا اور بائبل کی طرح بھروسہ کرتے ہیں اور شاید آگے سے لوگ صحافیوں کو ایسی نظرسے دیکھیں گے جیسے دلالوں کو دیکھتے ہیں۔ مجھے یاد ہے میرے دوست ونود دُوا نے کہا تھا دو صحافیوں کی مثال دیتے ہوئے کہ پہلے جب ہم کسی سے بات کرتے تھے تو لوگ کہتے تھے کہ آپ صحیح کہہ رہے ہیں ونود جی اگر ہم اپنے اندر جھانکیںگے ، لیکن ٹو جی اسپیکٹرم میں بڑے صحافیوں کے نام آنے کے بعد ونود دوا نے مجھے بتایا کہ جب انہوں نے کئی لیڈروں سے بات کی تو انہوں نے کہا، ونود جی اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھ لیجئے، اپنی برادری میں دیکھ لیجئے کہ کس طرح کے لوگ ہیں، کتنے بڑے دلال ہیں۔ آپ ہم پر کیوں انگلی اٹھاتے ہیں۔ اس کا درد صرف ونود دوا کو نہیں ہے۔ہم سب لوگوں کو ہے، جو ایمانداری سے صحافت کرتے ہیں۔ لیکن ’زی نیوز‘ کے اس حادثے نے ہمیں دلال سے بڑھا کر اکسٹراشن منی دینے والا بنا دیا ہے۔ پیسہ وصولنے والا، دھمکی دے کر پیسہ وصولنے والا بنا دیا ہے۔میں زیادہ سخت لفظ استعمال کر رہا ہوں لیکن اس امید سے کر رہا ہوں کہ سدھیرچودھری اس کا برا نہیں مانیں۔’زی نیوز‘ کے لوگ اس کا برا نہ مانیں اور اگر وہ برا مانتے ہیں، تو مانیں کیونکہ انہوں نے صحافت کے پیشے کی توہین کی ہے اور انہیں اس توہین کا حق کم سے کم صحافت تو نہیں دیتی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here