یہ پہل جمہوریت کو مضبوط کرے گی

Share Article

سنتوش بھارتیہ 
کیا سپریم کورٹ یہ بھی طے کرے گا کہ اگر نالی بنانی ہے، تو نالی کا سائز کیا ہوگا؟ اینٹیں کہاں سے آئیں گی؟ سیمنٹ کہاں سے آئے گا؟ یا پھر سپریم کورٹ یہ کرتا ہے کہ نالی یہاں پر بننی چاہیے، تو اس پر عمل کرنے کا کام ان کا ہوگا، جن کے اوپر اس کی ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ کو صرف اصولی فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اسے عملی جامہ پہنانے کا کام سرکار کا یا جس سے متعلق وہ فیصلہ ہوتا ہے، اس ادارہ کا ہوتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ یہی نہیں ہو رہا ہے۔
شری انا ہزارے نے سارے ملک میں انتخابی اصلاحات کے لیے مہم چلائی، جس میں انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ اختیار ملنا چاہیے کہ وہ ان امیدواروں کو خارج کردے، جو امیدوار لوک سبھا یا اسمبلیوں کے لائق نہیں ہیں۔ لائق سے مطلب اگر وہ مجرم ہیں، بدعنوان ہیں، سزا یافتہ ہیں یا داغی ہیں، تو انہیں لوک سبھا یا اسمبلیوں میں نہیں جانا چاہیے۔ سارے ملک میں انا کی اس صلاح کا پرتپاک خیر مقدم ہوا کہ الیکشن کمیشن کو ووٹنگ مشین میں آخری لال بٹن بنانا چاہیے، جس کے ذریعے عوام یہ طے کریں کہ اگر انہیں کوئی بھی امیدوار پسند نہیں ہے، تو وہ اس لال بٹن کو دبا دیں۔ اس کا مطلب کسی پارٹی کا یا آزاد امیدوار، جسے سب سے زیادہ ووٹ ملے ہوں اور اگر اس سے زیادہ ووٹ عوام لال بٹن دبا کر ناپسندی والے کھاتے میں ڈال دیں، تو وہ الیکشن کینسل ہو جائے گا۔ انا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسی صورت میں دوبارہ انتخابات ہوں اور جن امیدواروں کو عوام خارج کر چکے ہیں، ان امیدواروں کو اگلی بار کھڑا ہونے کی اجازت نہ ملے۔ انا کے ان مشوروں کو ملک بھر کے لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔
خوشی کی بات ہے کہ سپریم کورٹ نے اصولی طور پر یہ مان لیا ہے کہ اسی الیکشن میں رائٹ ٹو رجیکٹ کا استعمال کیا جائے، یعنی عوام کو یہ اختیار ہو کہ انہیں اگر کوئی امیدوار پسند نہ ہوں، تو آخری لال بٹن دباکر وہ ناپسندی کا مہر لگا دیں۔ سپریم کورٹ کا یہ اصولی فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ایک ہتھیار دے سکتا ہے۔ اب اس کے آگے کا کام الیکشن کمیشن کا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو مؤثر ڈھنگ سے لاگو کرنے کے قاعدے قانون بنائے۔ لیکن الیکشن کمیشن ابھی اس کے اوپر خاموش ہے۔ اگر الیکشن کمیشن انا کے مشوروں کے مطابق، پورا لائحہ عمل تیار نہیں کرتا اور سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو صرف ووٹنگ مشین میں ایک بٹن کا انتظام کرکے چھوڑ دیتا ہے، تو یہ نہ صرف سپریم کورٹ کی بے حرمتی ہوگی، بلکہ ملک کے ووٹروں کی امیدوں پر بھی پانی پھر جائے گا۔ ملک کے عوام سپریم کورٹ کے فیصلہ پر پوری طرح سے عمل ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔
اگر اس فیصلہ پر انا کے مشوروں کے مطابق عمل ہوتا ہے، تو اس کے دو فائدے ہوں گے۔ پہلا فائدہ، داغی امیدواروں کے کسی پارٹی سے امیدوار بننے کا امکان بے حد کم ہو جائے گا، کیوں کہ پارٹیوں کو ڈر ہوگا کہ لوگ اس کے امیدوار کے خلاف لال بٹن دبا سکتے ہیں اور دوسرے، اس بات کا امکان بھی کم ہو جائے گا کہ امیدوار دس سے پندرہ کروڑ روپے خرچ کرکے لوگوں کو کنفیوز کریں، کیوں کہ اس صورت میں اس کے پندرہ کروڑ روپے پانی میں جائیں گے اور وہ الیکشن لڑنے سے بھی محروم ہو جائے گا۔ اس سے امکان بڑھ جائے گا کہ سیاسی پارٹیاں زیادہ سے زیادہ صحیح امیدواروں کو کھڑا کریں۔ لیکن ہمارے ملک میں ہر اچھے فیصلے کو پلٹنے کی سیاسی پارٹیوں کی منشا ہوتی ہے، جس کی سب سے تازہ مثال سپریم کورٹ کے ذریعے سزا یافتہ امیدواروں کا الیکشن لڑنے سے روکنے والا فیصلہ ہے۔ جب اس فیصلہ کے خلاف سرکار راجیہ سبھا میں بل لائی، تب اس بل کی حمایت بی جے پی سمیت سبھی پارٹیوں نے کی اور ارون جیٹلی کی تقریر تو پڑھنے لائق ہے۔ لیکن چونکہ یہ بل سرمائی اجلاس میں پاس ہونا ہے، اس لیے سبھی سیاسی پارٹیوں کی منظوری سے سرکار نے ایک آرڈی ننس بنانے کا من بنا لیا۔
ہمیں ڈر ہے کہ سیاسی پارٹیاں سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو بدلنے کے لیے کوئی نہ کوئی صلاح الیکشن کمیشن کو دیں گی اور الیکشن کمیشن سرکار کی منظوری سے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے منطقی اثر کو بے اثر بنا دے گا۔ ابھی تک الیکشن کمیشن نے کورٹ کے اس فیصلہ کا نہ تو خیر مقدم کیا ہے اور نہ ہی فیصلہ کو لاگو کرنے کے عمل کا کوئی ڈرافٹ سیاسی پارٹیوں کو جاری کیا ہے۔ دراصل، یہ ڈرافٹ عوامی طور پر جاری ہونا چاہیے، تاکہ عوام یہ جان سکیں کہ الیکشن کمیشن کیا کرنا چاہتا ہے۔
سپریم کورٹ سے بھی ایک گزارش ہے کہ وہ سب سے پہلے داغیوں کے الیکشن لڑنے کے اپنے فیصلہ کے اس حصہ پر غور کرے، جس میں کہا گیا کہ اگر کوئی شخص حوالات میں ہے، تو وہ بھی پرچہ نامزدگی نہیں بھر سکتا۔ یہ فیصلہ تھانے کے داروغہ کو لامحدود اختیار دیتا ہے۔ ساتھ ہی بدعنوانی کا بہت بڑا ذریعہ بھی بن جائے گا۔ دوسری طرف نچلی عدالتوں کا احترام کرتے ہوئے بھی ہم یہ درخواست کرنا چاہیں گے کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلہ کو ہائی کورٹ کے فیصلے سے جوڑے، نہ کہ اس سے نچلی عدالتوں کے فیصلے سے یا پھر سپریم کورٹ ایک اور انقلابی فیصلہ کرے کہ نچلی عدالتوں کے جس جج کا فیصلہ ہائی کورٹ پلٹے، اس جج کے لیے کسی نہ کسی طرح کی سزا کا انتظام ہو۔ اس سے نچلی عدالتوں میں ذمہ داری کا جذبہ پیدا ہوگا اور وہ ایسے فیصلے کم کریں گی، جو ہائی کورٹ میں بدلے جا سکیں۔ ایک سوال کھڑا ہوا ہے کہ جس طرح عاملہ اور مقننہ میں ذمہ داری طے کرنے کی مانگ اٹھ رہی ہے، کیا ویسی ہی مانگ عدلیہ کے لیے بھی اٹھانی چاہیے۔
سپریم کورٹ کے سامنے رائٹ ٹو رجیکٹ کے فیصلے کو لے کر کچھ سوال اور آ سکتے ہیں کہ اگر رائٹ ٹو رجیکٹ کے اختیار کا استعمال کرنے والے لوگ الیکشن میں کھڑے لوگوں کو خارج کر دیتے ہیں اور انہیں دوبارہ الیکشن لڑنے کا اختیار الیکشن کمیشن نہیں دیتا ہے، تو کیا ان امیدواروں کے نجی حقوق کی خلاف ورزی تو نہیں مانی جائے گی۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ جمہوریت میں انتخابی عمل کو آلودہ کرنا اور اس عمل کا فائدہ ذاتی مفادات کے ذریعے اٹھانا جمہوریت کے خلاف ہے۔ اور جمہوریت میں عوام کے ذریعے ایک بار خارج کیے گئے افراد اسی الیکشن میں دوبارہ نہ کھڑے ہوں، اس سے انتخابی عمل کے صاف ہونے کا امکان بڑھے گا۔ خارج کیے گئے امیدوار اگلے الیکشن میں بھلے ہی کھڑے ہو جائیں، لیکن اس الیکشن میں انہیں کھڑا نہ ہونے دینے کا فیصلہ ہی جمہوریت کے تصور کے موافق ہے۔ اب الیکشن کمیشن کو جلد از جلد فیصلہ لینا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *