وسیم راشد
چھپن سالہ سام باسیل کی ڈائرکشن میں امریکہ میں تیار کی گئی120 منٹ کی اسلام مخالف فلم’’انوسنسن آف مسلمس‘‘ کے ریلیز ہوتے ہی پورے عالم عرب میں تشدد کی لہرپھوٹ پڑی ۔لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ میں امریکی سفیر سمیت چار دیگر افراد ہلاک کردیے گئے۔یمن میں سیکورٹی فورس اور احتجاجیوں کے درمیان جھڑپ میں کئی لوگوں کی جانیں گئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔قاہرہ میں تشدد ہوا جس میں کئی لوگ زخمی ہوئے ۔تیونس میں شدید احتجاج ہوا ۔احتجاجیوں کو روکنے کے لئے پولیس کو سخت مزاحمت کرنی پڑی۔اس کے علاوہ دیگر کئی ملکوں میں فضا ناسازگار رہی۔

وری دنیا کو آگ کی تپش میں جھونکنے والی یہ فلم ’’ انوسنس آف مسلمس‘‘ یوٹیوب پر گیارہ منٹ کے لئے دکھائی گئی ہے۔
ہودی ڈائرکٹر اسرائیل کا رہنے والا ہے ۔اس کا نام سام باسیل ہے۔وہ مارے خوف کے کیلیفورنیا میں روپوش ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی اس فلم سے لوگوں میں سیاسی پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔یہ ایک سیاسی فلم ہے۔وہ بتانا چاہتا ہے کہ امریکہ نے عراق اور افغانستان کی جنگ میں زبردست جانی و مالی خسارہ اٹھایا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت نظریاتی جنگ لڑ رہے ہیں
اس فلم کو تیار کرنے میں 5 ملین ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔اس کی سرمایا کاری 100 یہودیوں نے مل کر کی ہے۔ فلم تیار ہونے کے بعد منظر عام پر لانے میں تین ماہ لگ گئے۔
اس میں 59 اسٹاراور 45 ٹیکنیشین نے کیمرہ کے پیچھے کام کیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس فلم کا عربی ترجمہ جس نے کیا ہے وہ اسے نہیں جانتا ہے مگر اسے یقین ہے کہ ترجمہ بالکل صحیح کیا گیا ہے۔
فارت خانوں پر حملے کے تعلق سے اس کا کہنا ہے کہ سیکورٹی بندوبست بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا۔اس کا کہنا ہے کہ اسے گمان نہیں تھا کہ عربوں کی طرف سے اس طرح رد عمل ہوگا۔
لم کی شروعات مصر کے ایک دیہات سے ہوتی ہے جہاں ایک قبطی طبیب پر ایک اسلامی جماعت کے کارکن نے حملہ کیا اور اس کی بیٹی کو قتل کردیا۔ وہیں پر سیکورٹی والے موجود ہیں مگر وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اس وقت وہ طبیب کہتا ہے کہ دہشت گردی کی اصل وجہ اسلام ہے۔ وہ اس وقت پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخانہ الفاظ بولتا ہے۔

حکومت کی توجہ کسی خاص واقعہ کی طرف دلانے کے لئے پر امن احتجاج کرنے کا حق ہر فرد کو حاصل ہے لیکن احتجاج میں تشدد کی راہ اپنانے کی اجازت نہ تو قومی آئین دیتا ہے اور نہ ہی مذہب اسلام میں اس کی اجازت ہے۔ لہٰذا لیبیا اور دیگر عرب ملکوں میں جو کچھ بھی ہوا وہ غلط ہے۔جذبات کی رو میں بہہ کر کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا جانا چاہئے جس سے امن و امان کو نقصان پہنچے۔ایسا کرنے والوں کو کیے کی سزا ملنی چاہئے۔مگر اس کے ساتھ ہی پورے عرب میں بیک وقت اس طرح اچانک تشدد پھوٹ پڑنا،پوری دنیا کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ پورا عرب اس فلم کے ریلیز ہوتے ہی تشدد پر اتر آیا؟۔میں نے بھی اس فلم کو یو ٹیوب پر دیکھا ہے۔بلا شبہ کوئی بھی صاحب ایمان تو دور کی بات کوئی منکر بھی اس کو دیکھ نہیں سکتا۔نعوذ باللہ حضور کے لئے جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیںوہ شاید کسی عام انسان کے لئے بھی کوئی استعمال نہیں کرتا کجا کہ پیغمبر اسلام کے لئے جو مسلمانوں کے لئے سب سے معتبر اور قابل احترام شخص ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تمام اسلامی ممالک اس فلم کو دیکھ کر اشتعال میں آگئے ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں۔ ممکن ہے احتجاج کی آڑ میں شدت پسندوں نے منصوبہ بند طریقے سے یہ کام انجام دیا ہو کیونکہ اس وقت نائن الیون کی گیارہویں برسی منائی جارہی تھی اور برسی کے موقع پر ایسے حادثوں کا سامنے آنا جانا بعید از قیاس نہیں ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں عربوں کے دل میں امریکہ کے لئے جو نفرت پیدا ہوئی ہے ۔اس نفرت نے رسول کی شان میں گستاخی کی وجہ سے تشدد کی شکل اختیار کر لی ہو ۔اگر ایسا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ان حادثوں میں کہیں نہ کہیں امریکہ خود بھی اس کا ذمہ دار ہے کیونکہ امریکہ نے کبھی بھی عربوں کے درد کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔خاص طور پر نائن الیون کے بعد پورے یورپ میں مسلمانوں کے خلاف جو پروپیگنڈے کیے گئے۔ کبھی کسی ایئر پورٹ پر عربی لباس میں ہونے کی وجہ سے توہین آمیز فقرے تو کبھی جہاز میں یبٹھے ہوئے عرب مسافر کو سفر کرنے سے اس لئے روکنا کہ وہ دہشت گرد ہوسکتا ہے ۔کبھی نبی کی شان میں گستاخانہ کارٹون بنا کر دل آزاری کرنے کی کوشش تو کبھی پیغمبر اسلام کے خاکے شائع کرکے ذہنی تکلیف پہنچانے کی سازش اور کبھی قرآن کے نسخے پھاڑ کر تو کبھی حرم شریف کو ڈھانے کی دھمکی۔غرض گیارہ ستمبر کے بعد پورے یور پ میں مسلمانوں کو ذہنی تکلیف دینے کی ہوا چل پڑی۔ مسلمانوں نے جب بھی اس توہین آمیز رویے کے خلاف آواز اٹھائی تو رسمی کارروائیاں کرکے معاملے کو دبادیا گیا۔ مسلمانوں نے ہر مرتبہ یہ مطالبہ کیا کہ پیغمبر کی شان میں گستاخی کرنے والوں اور مسلمانوں کی تذلیل کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ پھر کوئی ادارہ ، تنظیم یا فرد رسول کی شان میں گستاخی کرنے کا ارادہ نہ کرسکے۔ مگر ہر مرتبہ ڈھاک کے تین پات۔کچھ رسمی باتیں کہہ کر دلاسہ دے کر معاملے کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بار بار کہیںنہ کہیں نبی کی شان میں گستاخانہ کارٹون، مضامین شائع ہوتے رہے، بے ادبیاں ہوتی رہیں۔ہر بار مسلمانوں نے خاص طور پر عربوں نے سپر پاور امریکہ کے سفارت خانوں میں اپنا احتجاج درج کرایا اور امید کی کہ شاید اب یہ سلسلہ رک جائے مگر یہ حرکتیں ہر سال دو سال کے بعد ہوتی رہتی ہیں اور یوروپین ممالک خاص طور پر امریکہ اس کو اظہار رائے کی آزادی کے نام پر خوب بڑھاوا دیتا ہے مگر مسلمانوں کو اس طرح کا رد عمل نہ دکھا کر با ہوش طریقے سے احتجاج کرنا چاہئے کیونکہ اس کا مقصدہی عالم اسلام میں انتشار و تشدد بھڑکانا ہے ۔ پہلے عمل اور پھر رد عمل یعنی پہلے Provoc کرنااور پھر مسلمانوں کو ہی اس کے لیے معتوب کرنا۔پہلی بات تو یہ کہ اگر امریکہ اتنا ہی فکر مند ہے تو یہ فلم ریلیز ہی کیوں ہونے دی اور پھر اس کو یو ٹیوب اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر کیوں ڈالا گیا۔ اس کا پس منظر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکہ کا الیکشن قریب ہے ۔شاید کسی سوچی سمجھی اسکیم کے تحت اس فلم کو ریلیز کرایا گیا ہو۔ امریکہ کی غلطی یہ بھی رہی کہ اس نے نہ تو اس سے پہلے عربوں کے پر امن احتجاج کی طرف دھیان دیا اور گستاخی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی اور نہ ہی ’’ انوسنس آف مسلمس ‘‘ جیسی فلم کے ریلیز ہونے پر روک لگائی۔ اس کا صاف مطلب نکلتا ہے کہ امریکہ خود ہی اس طرح کے عمل کو شہہ دیتا ہے اور اور جب بات بگڑ جاتی ہے تو صفائی کے لئے رسمی بیانات جاری کردیتا ہے۔ غالباً عربوںنے بار بار اپنے پر امن احتجاج کے نا کام انجام کو دیکھنے کے بعد تشددکی راہ اختیار کر لی ہو، جس کا نتیجہ لیبیا میںسفارت کار کے قتل کی شکل میں سامنے آیا۔ لیبیا میں جو کچھ بھی ہوا وہ قابل مذمت ہے ۔اس واقعہ کو ایک حادثہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتابلکہ مستقبل میں اس طرح کے حادثے کو روکنے کے لئے امریکہ کو اپنی خارجہ پالیسی پر از سر نو غور کرنا چاہئے۔ اس نے اپنے مفاد کے لئے قذافی حکومت کا تختہ پلٹنے کی غرض سے باغی جماعت کو دھڑلے سے ہتھیار فراہم کیے تھے۔ اس وقت اس نے یہ نہیں سوچا تھا کہ جب قذافی کی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا اس کے بعدوہاں کے باغی ان اسلحوں کا غلط استعمال کرسکتے ہیں۔ شاید امریکہ جانتے ہوئے بھی اس پہلو کو نظر انداز کررہا تھا۔ کیونکہ اس کے ساتھ یہی صورت حال افغان میں پیش آچکی ہے۔ اس نے روس کو افغان سے باہر کرنے کے لئے طالبان کی بھرپور مدد کی تھی،اسلحوں سے طالبانیوں کو لیس کردیا تھا۔طالبانیوں نے روس کا جم کر مقابلہ کیا نتیجتاً روس کو افغان کی زمین خالی کرنی پڑی۔ امریکہ کا مقصد حل ہوا۔ مگر جلد ہی اسے پتہ چل گیا کہ طالبانیوں نے ان اسلحوں کو ہی امریکہ کے خلاف جم کر استعمال کیا۔مگر شاید امریکہ نے اس واقعہ سے کوئی سبق نہیں لیا اور وہی غلطی لیبیا میں دہرا دی ،جس کے خمیازہ میں اسے اپنے سفیر اوردیگر افراد کی جانیں گنوا کر دینی پڑی۔ اس وقت ملک شام کی صورت حال بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔یہاں بھی امریکہ وہی غلطی دہرا رہا ہے جو اس نے افغان اور لیبیا میں کی ہے۔ یہاں سنیوں کو اسد حکومت کے خلاف نبرد آزما ہونے کے لئے جو اسلحے فراہم کر رہا ہے ،کل یہی سنی امریکہ کے خلاف زور آزمائی کر سکتے ہیں۔لہٰذا امریکہ اگر چاہتا ہے کہ پھر اس طرح کا کوئی حادثہ پیش نہ آئے تو اسے چاہئے کہ امریکہ اور دیگر ملکوں میں پنپ رہی مذہبی نفرت کو کچلنے کے لئے مناسب اقدام کرے اور اپنے مفاد کے لئے دوسرے ملکوں میں اسلحہ کی فراہمی کا راستہ بند کرے۔ کیونکہ اس طرح اسے فوری فائدہ تو مل سکتا ہے مگر اس کا نقصان دیر پا اور بھیانک ہوتا ہے۔
عربوں کے امریکہ سے نفرت کی جہاں ایک وجہ یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد پوری دنیا میںان کی شبیہ خراب کرنے والوں کے خلاف کوئی کارگر کارروائی نہیں کی گئی وہیں ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ امریکہ نے دوستی کی آڑ میں ان کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرکے انہیں اقتصادی طور پر کمزور بنا دیا ہے ۔ یوں تو امریکہ کی پالیسی ہمیشہ سے ہی اس طرح طے کی گئی کہ عرب کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کا عمل امریکہ پر منحصر رہے مگر 1990 میں عراق پر حملے کے بعد امریکہ نے عرب کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش تیز کردی ۔جب صدام کا تختہ الٹ دیا گیا اور امریکہ نے اپنی مرضی کی حکومت وہاں بنا لی تو وہاں کے کنووں سے نکلنے والے پٹرول پر اپنی اجارہ داری قائم کرلی جس کی وجہ سے قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باجود عراق اقتصادی اعتبار سے کمزور ہوگیا۔یہی صورت حال لیبیا میں بھی پیش آئی۔ کرنل قذافی کو امریکہ کا سب سے بڑا حریف سمجھا جاتا تھا۔مگر اتحادیوں کی مدد سے قذافی کوقتل کر دیا گیا اور وہاں محمد یوسف مقریف کو یعنی امریکہ نواز چہرے کو ملک کا صدر بنا دیا گیا تاکہ لیبیا کے قدرتی وسائل کے استعمال پر اس کا تسلط قائم رہے۔ مصر اگر چہ قدرتی وسائل سے مالا مال نہیں ہے مگر خطہ عرب میں اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔افریقہ کا سب سے بڑا مسلم ملک ہے ۔حسنی مبارک کو اسرائیل نواز حکمراں سمجھا جاتا تھا حسنی مبارک کے زریعہ وہاں کے عوام کو مذہب سے دور کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی یہاں تک کہ اخوان المسلین (موجودہ حکمراں پارٹی) کو ممنوعہ قرار دیا گیا۔ ظاہر ہے وہاں کے عوام میں اس وجہ سے سخت نفرت تھی۔اب جب انقلاب کے بعد وہاں اخوان کی حکومت بنی ہے تو ان کے دل میں امریکہ کے تئیں نفرت ابل کر سامنے آرہی ہے۔ یہی صورت حال تیونس کی بھی تھی۔ زین العابدین کو امریکہ نواز سمجھا جاتا تھا۔ اب وہاں اسلام پسندسیاسی پارٹی کا اثرو رسوخ ہے ۔جب تک زین العابدین کی حکومت رہی ،انہیں سیاسی طور پر دبایا جاتا رہا مگر اب وہاں ویسی صورت حال نہیں ہے لہٰذا عوام کا غصہ ابھر کر سامنے آنا فطری بات ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو عالم عرب میں آج امریکہ کے خلاف جو بھی ہورہا ہے وہ اسی کااپنا کیا کرایا پھل ہے ۔ اس نے ماضی میں جو ببول بوئے ہیں آج اسے کاٹ رہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here