یہ ملک کی مشینری کے منھ پر ایک طمانچہ ہے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
حیدر آباد میں دو دھماکے ہوئے، سرکاری طور پر 14 لوگوں کی جانیں گئیں اور غیر سرکاری طور پر 20 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔ روز نکلنے والے اخبار اس واقعہ کو ٹیلی ویژن کی طرح رپورٹ کر رہے ہیں، پر کچھ دوسرے سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سا جادو ہے کہ دھماکہ ہونے کے دو گھنٹے کے اندر پولس کے پاس نام پہنچ جاتے ہیں، اسکیچ جاری ہو جاتا ہے کہ یہ یہ شامل تھا، اس اس طرح سے شامل تھا، اس اس طرح اس نے ٹریننگ لی اور پھر آدمیوں کے ساتھ تنظیموں کے نام بھی سامنے آنے لگتے ہیں۔
سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہماری خفیہ ایجنسیاں یا پولس اتنی زیادہ باصلاحیت ہیں کہ واقعات رونما ہوتے نہیں ہیں اور ان کے پاس واقعہ میں شامل لوگ اپنی پوری پہچان کے ساتھ آ جاتے ہیں۔ تو ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ واقعہ رونما ہونے سے پہلے ان لوگوں کو پکڑ لیا جائے۔ باصلاحیت پولس کے پاس یہ جانکاری پہلے کیوں نہیں آتی کہ یہ یہ واقعہ ہونے والا ہے، تاکہ وہ اسے ہونے سے پہلے روک سکے۔ ہمارے عظیم باصلاحیت وزیر داخلہ بیان دیتے ہیں کہ ہم نے عام الرٹ جاری کر دیا تھا۔ وزیر داخلہ بچے نہیں ہیں، وہ 120 کروڑ کے لوگوں کے ملک کے وزیر داخلہ ہیں اور وہ اپنا نام پچھلے دو مہینوں میں کئی بار اجاگر کر چکے ہیں۔
سشیل کمار شندے کے کئی بیان بے تکے رہے ہیں اور بھگوا دہشت گردی کو لے کر ان کے ذریعے دیا گیا بیان اور اس پر ایک ہفتے سے زیادہ چلی بحث کے بعد ان کا تقریباً معافی مانگنے والا بیان سب کو حیرانی میں ڈالتا ہے۔ کیا ملک کا وزیر داخلہ اتنا غیر ذمہ دار ہو سکتا ہے کہ بغیر ثبوتوں کے کچھ بھی بول دے اور جب ثبوتوں کے ساتھ بولے، تو معافی کیوں مانگے؟ پر یہ سوال نہ منموہن سنگھ کو پریشان کرتا ہے اور نہ سونیا گاندھی کو۔
وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے ایسا ہی بیان دیا کہ ہم نے عام طور پر الرٹ جاری کر دیا تھا۔ یہ عام طور پر آج کل وزارتِ داخلہ اور خفیہ ایجنسیوں کا ایک پَیٹ ورڈ ہو گیا ہے، عام بول چال کی زبان ہو گیا ہے۔ ہر تہوار سے پہلے اور مہینے میں ایک بار یہ وارننگ خفیہ ایجنسی ہر صوبے کی پولس کو جاری کر دیتی ہے کہ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے، ہمارے پاس خبر آئی ہے اور اس خبر سے صوبائی حکومت نمٹے۔ صوبائی حکومتوں کو نہ کوئی لیڈ ملتی ہے اور نہ کوئی بڑی جانکاری۔ صرف ایک دو لائن کی صلاح دے دی جاتی ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس طرح کا بے تکا بیان وزیر داخلہ کو دینا چاہیے؟ وزیر داخلہ کو کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی، کیوں کہ وہ کپڑے کی طرح بیان بدلتے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ حیدرآباد کے واقعہ کے اوپر بھی انہوں نے تین بار بیان بدلے۔
انگریزوں نے خفیہ سسٹم ایک مخصوص طریقے سے ایجاد کیا تھا۔ اس کے اوپر وہ اس تھانہ علاقہ کے مجرموں کے بیچ کے لوگوں کو چنتے تھے اور انہیں باقاعدہ پیسہ بھی دیتے تھے۔ اس پیسے کے بدلے وہ لوگ نہ صرف اپنے گروہ کی جانکاری، بلکہ دوسرے گروہوں کی جانکاری بھی تھانہ انچارج کو دیتے تھے اور تھانہ انچارج اس جانکاری کا سہارا لے کر اس پر عمل کرتا تھا۔ وہ جانکاری اکثر پکّی ہوتی تھی، کیوں کہ جانکاری دینے والے کو معلوم تھا کہ اگر جانکاری غلط ہوئی، تو تھانہ انچارج مجھے کسی نہ کسی معاملے میں پھنسا دے گا۔ اس جانکاری پر عمل کرنے سے بڑے جرائم ہونے سے رک جاتے تھے۔ چھوٹے جرائم ہوتے تھے، لیکن اس کا پتہ وقت پر چل جاتا تھا اور اسی لیے وہ قانون کی زد میں آ جاتے تھے۔ جب آزادی ملی، تو دھیرے دھیرے ہمارا یہ سسٹم فیل ہونے لگا، کیوں کہ جو پیسہ پولس مجرموں کو جانکاری لینے کے عوض میں دیتی تھی، اس کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا تھا، لہٰذا وہ پیسہ ایک پلاننگ کے تحت نیچے سے اوپر تک بٹنے لگا۔ پیسے کا والیوم بڑھنے ضرور لگا، لیکن پیسہ اطلاعاتی مشینری کے پاس جانا دھیرے دھیرے کم ہوگیا۔ آج حالت یہ ہے کہ اس پیسے کو، جسے سیکریٹ منی کہتے ہیں، اس کا استعمال کہیں پر بھی جانکاری حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا جاتا، بلکہ افسروں کے درمیان اس کا بندر بانٹ کھلے عام ہونے لگا ہے۔
اسی لیے اب نہ خفیہ ایجنسیوں کو کوئی جانکاری مل پاتی ہے اور نہ پولس کو۔ اس کے نتیجہ میں جو تھوڑی بہت جانکاری انہیں اخباروں اور انٹرنیٹ سے ملتی ہے، اسی کے سہارے وہ کسی نہ کسی کو جرم کی سازش کرنے والے کے روپ میں سامنے لے آتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر کیس سلجھنے کے بجائے اور بری طرح الجھ جاتا ہے۔
میں سازش کرنے والوں کے حق میں قطعی نہیں لکھ رہا ہوں، بلکہ پولس کی کاہلی کے بارے میں بتا رہا ہوں۔ سسٹم کے فیل ہونے کے اسباب کے بارے میں لکھ رہا ہوں۔ اب تک دھماکوں کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں، ان میں جن جن کو پولس نے پہلے مجرم قرار دیا، بعد میں پتہ چلا کہ وہ مجرم نہیں ہیں، بلکہ مجرموں کی شکل میں کوئی اور لوگ سامنے آئے۔ چونکہ ان کا رشتہ سیاسی پارٹیوں سے ہے، اس لیے انہیں کبھی سزا ملی ہی نہیں۔ جتنے بھی بم دھماکوں کے معاملے ہمارے سامنے گزشتہ پانچ یا آٹھ سالوں میں آئے، اگر انہیں سلسلہ وار دیکھیں، تو ہم پائیں گے کہ شاید ہی ان میں سے کسی کو سزا مل پائی ہو یا کوئی پکڑا گیا ہو، کیوں کہ پولس اگر جن کا نام لے رہی ہے اور وہی سازش کرنے والے ہیں، تو پولس انہیں سب سے پہلے محتاط کر رہی ہے، اپنے تفتیش کے طریقے سے انہیں با خبر کر رہی ہے اور انہیں خود کو بچانے کا راستہ بھی فراہم کر رہی ہے۔ ہوتا کبھی کبھی یہ بھی ہے کہ اس تفتیشی ٹیم میں سے ہی کوئی انہیں جانکاری دیتا رہتا ہے کہ ہمارے یہاں ایسا ہو رہا ہے، ویسا ہو رہا ہے۔ ان لوگو ںکو کبھی پکڑا نہیں جاتا اور زیادہ تر خفیہ اطلاعات پولس کے درمیان سے ہی باہر نکلتی ہیں۔
میں یہ بات اس لیے لکھ رہا ہوں، کیوں کہ ہم میں اگر ذرا بھی حب الوطنی کا جذبہ بچا ہے اور سسٹم کو لے کر ذرا بھی حساسیت ہے، تو ہمیں ان ساری چیزوں کو فوراً ٹھیک کرنا ہوگا، جس میں وزیر داخلہ، حزب اختلاف کے لیڈر اور صوبوں کے وزرائے داخلہ کو بیٹھنا ہوگا اور پوری مشینری میں اصلاح کرنی ہوگی۔ اگر یہ اطلاعاتی مشینری از سر نو نہیں بنائی گئی، تو مجھے ڈر ہے اور وہ ڈر جنرل مشرف کے ہندوستان میں آکر چوبیس گھنٹے گزارنے کے بعد بحفاظت واپس جانے کو لے کر ہے۔ ہماری کیسی سرکار ہے کہ جب تک پاکستان کے کسی کرنل نے اجاگر نہیں کیا، تب تک اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ مشرف آئے تھے۔ کرگل کے واقعہ کو دس سال سے زیادہ ہوگئے، لیکن ہماری سرکار کو نہیں پتہ چلا کہ پڑوسی ملک کا جنرل آیا، ہمارے یہاں رکا، منصوبہ بنایا اور ہماری بیوقوفی پر ہنس کر واپس چلا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی کسی بھی طریقے سے ہندوستان میں کہیں بھی آ سکتا ہے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہمارا خفیہ نظام ملک میں تو صفر ہے ہی، ملک سے باہر بھی صفر ہے۔ اتنا بڑا واقعہ ہوگیا، جسے پاکستانی آرمی کا ہر آدمی جانتا ہے، لیکن وہ جانکاری ہمارے پاس نہیں آ پائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے جو لوگ بیرونی ممالک میں کام کرتے ہیں، وہ یا تو غیر ملکی طاقتوں سے پیسے لیتے ہیں یا ڈبل کراس کرتے ہیں۔ جو بھی صحیح لفظ ہو، میں نہیں جانتا، لیکن وزیر اعظم، وزیر دفاع اور خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کو ذرا بھی شرم نہیں آئی کہ مشرف یہاں آ کر چلے گئے اور ہم ان کے اوپر الزام لگانے سے آگے نہیں بڑھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس وقت جو بھی جنرل تھے، جو بھی خفیہ مشینری کو دیکھنے والے لوگ تھے، ان کا کورٹ مارشل ہوتا، انہیں سزائیں ملتیں اور جتنے بھی لوگ ان ساری چیزوں میں شامل تھے، ان سبھی کو یادگار سزائیں دی جاتیں، تاکہ مشینری ٹھیک رہتی، لیکن نہ وزیر اعظم، نہ فوج اور نہ خفیہ مشینری کے لوگ کچھ شرماتے دکھائی دیے اور نہ خود کو ٹھیک کرتے دکھائی دیے۔ ہندوستان کے لیے یہ بہت ہی افسوس ناک صورتِ حال ہے اور یہ بتاتی ہے کہ ہمارے یہاں پاکستان تو پاکستان، شری لنکا، برما اور نیپال بھی آکر ہمیں یہ طمانچہ مارکر واپس جا سکتا ہے اور ہم سوائے مسکرانے اور یہ کہنے کے کہ اب کی بار مارو، تو بتائیں گے، اور کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *