یہ ہم کون سا اسلام اپنا رہے ہیں

Share Article

وسیم راشد 
حج اور عمرہ ایک ایسی عبادت ہے جس کو ادا کرنے کے لئے ہر مسلمان بے قرار رہتا ہے۔ہمیں یاد ہے ہمارے بچپن میں دور دراز علاقوں سے کوئی اکّا دکّا شخص ہی حج یا عمرہ کے لئے جاتا تھا اور جو جاتا تھا کئی کئی دن اس کے جانے کا اور واپسی کا جشن منا یا جاتا تھا۔پانی کے جہاز سے ممبئی جانا اور پھر وہاں سے روانگی کافی مشکل اور مہنگا پڑتا تھا،لیکن ہوائی سفر نے جہاں اس عبادت کی ادائیگی کو آسان کردیا ہے ،وہیں اب الحمد للہ مسلمان بھی کافی تعداد میں صاحب حیثیت ہونے لگے ہیں اور خدانے اپنے گھر بلانے کے لئے ہر طرح کی سہولیات فراہم کردی ہیں لیکن آج بھی حج اور عمرہ پر جانے والوں کو لوگ عزت و احترام سے دیکھتے ہیں۔ ان کو پھول مالائیں پہنا کر رخصت کرتے ہیں اور واپسی میں بھی ان کے احترام میں عقیدت کے پھول بچھادیتے ہیں۔
خدا کا کرم ہوا کہ مجھ ناچیز کو بھی اللہ نے اپنے گھر بلانے کے لئے منتخب کرلیا ۔ہم نے بھی سوچا کہ غم روزگار فرصت دے رہا ہے تو اس بار اللہ کے گھر اور اس کے پیارے نبی کے دیار کی زیارت کی جائے اور ان کا مہمان بنا جائے۔ اس مقدس مقام کو تصویروں میں اس قدر دیکھا اور اس کے بارے میں سنا تھا کہ لگتا تھا کہ کافی جانتے ہیں مگر جس لمحہ مکہ کی سرزمین پر لبیک اللھم لبیک کہتے ہوئے قدم رکھا تو روشنی کا ایسا جھماکا ہوا کہ آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ مذہبی جذبہ اپنی جگہ، مگر اچانک مکہ شہر کو دیکھ کر لگا یہ تو بالکل الگ دنیا ہے۔ہم اس کرہ ارض پر نہیں،بلکہ کسی اور پلانیٹ پر ہیں ۔بالکل ہمارے تصور سے الگ دنیا جو ہماری آنکھوں نے دیکھا سنا، اس سے الگ دنیا۔ اونچی اونچی آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتیں، بے حد صاف شفاف ایسی سڑکیں کہ چاول کا دانہ بکھر جائے تو سمیٹ لیا جائے۔مذہبی جذبہ تو سارے جذبوں پر غالب تھا ہی ،مگر صحافتی حِس بھی جاگ چکی تھی اور عمرہ کے پورے 15 دن ایک ایک مؤمن کی طرح ہم نے گزارنے کی کوشش کی اور جذبہ ایمانی کو جلا ملتی رہی وہیں صحافی کی نگاہ بھی ہر چیز کا جائزہ لیتی رہی۔بے پناہ صفائی کا انتظام، جدید ٹکنالوجی سے آراستہ و پیراستہ حرم شریف اور مسجد نبوی ،روحانیت میں ڈوبا مکہ المکرمہ اور مدینہ منورہ جہاں جس وقت دیکھ لو ہر شخص حرم شریف کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔ سفید چادروں میں عربی، عجمی، ایرانی، افغانی، ہندوستانی اور پاکستانی اور کالے سفید برقعوں میں ملبوس مگر چہرہ کھلا ہوا خواتین،جہاں بالوںکی ایک لٹ بھی نظر نہیں آتی،حرم شریف کے احترام میں دو مہینے کی بچی سے لے کر 80سال کی بوڑھی عورت تک سب کے سر ڈھکے ہوئے۔

ہندوستان میں ہمیشہ ہی ہم نے دیکھا کہ اگر کسی کا شوہر مرجاتا ہے تو سب سے پہلے میت کے سامنے بیٹھا کر حق مہر معاف کرایا جاتاہے۔ وہ رقم جو عورت کی سیکورٹی کے لئے ہوتی ہے، اس رقم کا ہندوستان و پاکستان میں کوئی ذکر ہی نہیں ۔ حق مہر ادا کرنے کا تصور ہی ہمارے ملک میں نہیں ہے۔وہاں لڑکی اس پیسے سے جو چاہے کرے۔ وہ صرف اور صرف اس کا حق ہے۔بے حد حیرت اور مسرت ہوئی اس سرزمین پر جہاں حضور اکرم ؐ نے حضرت فاطمہؓ کو معمولی سی زندگی گزارنے کی کچھ اشیاء مہیا کیں ۔اسی سرزمین پر آج بھی عورتوں کی بے پناہ عزت ہے۔ وہی بہت ہی معمولی سی چیز یں آج بھی لڑکی اپنی ماں کے گھر سے لے کر جاتی ہے۔

کیسی عجیب و غریب حیرت انگیز چونکا دینے والی دنیا۔سب سے زیادہ تعجب صفا و مروہ کو دیکھ کر ہوا۔ حرم کے طواف کے بعد جب سعی کرنے کی باری آئی تو ہمیں لگا کہ اب کہیں صفا کی پہاڑی آئے گی مگر یہ کیا؟ بے حد خوبصورت دو منزلہ عمارت،فرش پر سفید ٹائل لگے ہوئے، بے پناہ خوبصوت چھت او ر شیشے میں قید صفا کی پہاڑیاں اور موم سے محفوظ کیاہوا مروہ پہاڑ،جہاں پہنچ کر آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں اور حضرت ہاجرہ کی بے بسی اور تڑپ کا احساس کرکے پیروں میں جانے کہاں سے طاقت آجاتی ہے ۔ یا خدا اب جبکہ چاروں طرف ایئر کنڈیشن لگے ہوئے ہیں اور ٹھنڈا فرش ہے پھر بھی ہمارے پائوں تھکے جارہے ہیں ۔اس وقت جب چاروں طرف تپتی ہوئی صفا اور مروہ کی پہاڑیاں ،سرپر چلچلاتی ہوئی دھوپ اور صفا پر ایک معصوم بچہ پیار سے تڑپتا ہوا اور بے قرار ماں اس کی پیاس بجھانے کی تڑپ میں ایک پہاڑی سے دوسری اور دوسری سے پہلی کی طرف دوڑ تی ہوگی تو کیا حالت ہوئی ہوگی ۔
سعودی حکومت نے بے پناہ سہولیات فراہم کی ہیں۔ ہر طرف ٹھندے زمزم کا انتظام۔جس زمزم کو ہم یہاں اپنے ملک میں آنکھوں سے لگاتے ہیں اور اس کے قطرے کو آنکھوں سے مل لیتے ہیں ، وہاں وہی زمزم وضو کے لئے استعمال ہورہا ہے، اس کو لوگ دھوپ کی تپش سے بچنے کے لئے اپنے اوپر ڈال رہے ہیں۔ کیسا عجب منظر ہے۔ اس پورے خطہ کی اللہ نے کیسی دولت سے نوازا ہے۔ کس قدر سستا پٹرول ، کس قدر سستا ڈیزل۔
کیسی متضاد سماجی اور اسلامی قدریں،کیسی رسومات اور فرائضگویا ہندوستان اورپاکستان کا اسلام سعودی عرب کے اسلام سے بالکل مختلف ہو۔ اذان ہوئی تو فرض نماز ادا کرنے کے لئے جو جہاں ہے وہیں سے یا تو حرم کی طرف بھاگ رہاہے یا جہاں پرہے ، وہیں زمین پر کچھ بھی بچھا کر نماز ادا کرلیتا ہے اور اگر کچھ نہ ملا تو زمین اتنی صاف ،سڑکیں اتنی صاف کہگویا پوری زمین مصلیٰ بنا دی گئی ہو۔اس وقت اللہ کے رسول کی وہ حدیث یاد آجاتی ہے جس میں کہا گیا ہے ’’ پوری کی پوری زمین کو اللہ نے سجدہ گاہ بنا دیا ہے‘‘۔
جس چیز نے مجھے حیرت زدہ کردیا وہ وہاں کی سماجی رسومات تھیں۔ ہمارے ملک ہندوستان اور پڑوس ملک پاکستان میں یہ کون سا اسلام ہے جسے ہم اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک میں لڑکی والے جہیز دے کر بھی لڑکی کی خوشی کی ضمانت نہیں لے پاتے ۔غریب ماں باپ کی لڑکی تو ساری عمر بیٹھی رہ جاتی ہے مگر سعودی عرب میں مجھے اپنی بھتیجی کی شادی میں شرکت کرنے کا موقع ملا تو وہاں کی عورتوں سے بھی بات چیت کی ۔ان کے رسم و رواج ،ان کی تہذیبی اقدار ان کے طور طریقے سب جاننے کے بعد حیرانی کے سمندر میں ڈوب گئی۔ سعودی عرب میں لڑکے والے پورا گھر سیٹ کرکے ایک ایک چیز لڑکی کے لئے مہیا کرکے تب رشتہ دیتے ہیں۔ لڑکی والے لڑکے کے گھر جاتے ہیں ۔سب چیک کرتے ہیں اور اگر ان کی لڑکی کے مطابق گھرپر سب مکمل لگتا ہے تو ہی وہ ہاں کرتے ہیں۔ نکاح کے فوراً بعد لڑکا حقِ مہر لڑکی کو ادا کردیتا ہے۔
ہندوستان میں ہمیشہ ہی ہم نے دیکھا کہ اگر کسی کا شوہر مرجاتا ہے تو سب سے پہلے میت کے سامنے بیٹھا کر حق مہر معاف کرایا جاتاہے۔ وہ رقم جو عورت کی سیکورٹی کے لئے ہوتی ہے ،اس رقم کا ہندوستان و پاکستان میں کوئی ذکر ہی نہیں ۔ حق مہر ادا کرنے کا تصور ہی ہمارے ملک میں نہیں ہے۔وہاں لڑکی اس پیسے سے جو چاہے کرے۔ وہ صرف اور صرف اس کا حق ہے۔بے حد حیرت اور مسرت ہوئی اس سرزمین پر جہاں حضور اکرم ؐ نے حضرت فاطمہؓ کو معمولی سی زندگی گزارنے کی کچھ اشیاء مہیا کیں ۔اسی سرزمین پر آج بھی عورتوں کی بے پناہ عزت ہے۔ وہی بہت ہی معمولی سی چیز یں آج بھی لڑکی اپنی ماں کے گھر سے لے کر جاتی ہے۔
ہندوستان ،پاکستان میں دلہن کو لال جوڑا پہنایا جاتا ہے اور پورے جہیز اوربری میں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر سفید رنگ ہٹا دیا جاتا ہے ۔لال رنگ کو سہاگ کی علامت اور سفید رنگ بیوگی کی علامت ہے۔ وہاں دلہن کو ہی سفید لباس پہنایا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں کیک کاٹنا مذہبی مزاج کے خلاف ہے ،وہاں دولہا دلہن دونوں ساتھ مل کر شادی کا کیک کاٹتے ہیں اور ساتھ ہی دعوت میں شریک ہوتے ہیں۔ دلہن صرف زنان خانے میں ہوتی ہے دولہا مردانہ میں ۔صرف گھر کی خاص خاص عورتیں جن کا دولہان محرم ہوتا ہے بس وہی سامنے آتی ہیں۔ پردے کا بے پناہ اہتمام۔ گھروں میں بھی مردانہ الگ ہوتا ہے اور زنان خانہ الگ۔ زنان خانے میں گھر کی لڑکیاں ، بہو و بیٹیاں ایسے ہی رہتی ہیں جیسے ہم اپنے گھروں میں رہتے ہیں ۔ آزادی سے خوبصورت لباس، بیش قیمت میک اپ ،بے پناہ خوبصورت ہیئر اسٹائل مگر باہر جاتے ہی پردے میں سمٹ جاتی ہیں۔ چہرہ کھلا رہتا ہے۔ہمارے ملک میں چہرہ ڈھکنے پر بہت زور دیا جاتا ہے مگر وہاں مکہ اور مدینے میں صرف 10فیصد ہی خواتین چہرہ ڈھکی ہوئی نظر آتی ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عمرہ کے دوران احرام میں چہرے پر کپڑا نہیںلگنا چاہئے۔ ظاہر ہے یہ بھی کچھ سوچ سمجھ کر ہی کیا گیا ہوگا۔ بار بار مجھے یہ خواہش تھی کہ میں خاص سعودی گھرانوں کی زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کروں تو پتہ چلا کہ وہاں کی بھی یہی رسومات ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔بس فرض ادا کرنے کے جنون میں رہنے والے ان لوگوں کی زندگی میں نماز بالکل ایسے ہی ہے جیسے کھانا پینا ۔ ان کی زندگی میں نماز اورکھانا بالکل ایک جیسی ضرورت اور فرض ہے۔ قرآن کو وہ سجا کر نہیں رکھتے بلکہ اس کو پابندی سے پڑھتے ہیں۔ ان کی خوش قسمتی ہے کہ وہ عربی جانتے اور سمجھتے ہیں۔ اس لئے قرآن ان کے لئے ایک ایسی کتاب ہے جس سے وہ اسلامی تاریخ کو جانتے اور سمجھتے ہیں ۔قرآن ان کے لئے زندگی گزارنے کا طریقہ بھی ہے اور روحانیت پیدا کرنے کا ذریعہ بھی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *