یہ جارج کو مٹانے کی سازش ہے!

Share Article

پچیس سالوں تک آپ کسی شخص کی طرف پلٹ کرنہیں دیکھتے۔25یوں مرتبہ وہ شخص بیمار ہوتا ہے۔ اسپتال میں داخل ہوتاہے۔ آپ اس کی خیریت تک نہیں پوچھتے اور، جب آپ کو اچانک معلوم ہوتا ہے کہ زندگی سے جوجھتا وہ بیمار اور لاچار آدمی 13کروڑ روپیوں کا مالک ہے تو رشتوں کی دوہائی دیتے ہوئے، پیار اور دلی محبت کا اظہار کرتے ہیں اور اس کی تیمارداری کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔تعلقات کی آڑ میں آپ نہ صرف اس کی مرضی کے خلاف کام کرتے ہیں،بلکہ دیکھ بھال کا دکھاوا کر کے آپ اس کی بے بس کی اتنی سست نگرانی کرتے ہیں اس کی سانسیں گھٹنے لگتی ہیں۔ ایسے میں آپ کا ناگوار پیار سازش ہی تو نظر آئے گا۔ آپ کی نیت پر ہزار سوال اٹھیں گے۔سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈیز کی قانوناً بیوی لیلا کبیر فرنانڈیز بھی شک کے دائرے میں ہیں۔ گزشتہ پچیس سالوں سے اپنے بیٹے شیان کے ساتھ جارج فرنانڈیز کی پرچھائی سے بھی دور رہنے والی ان کی بیوی لیلا کبیر فرنانڈیز کا جارج کے تئیں موجودہ رویہ خوف پیدا کرتا ہے۔
آخر کیا چاہتی ہیں لیلا کبیر؟ جارج کو حاصل کرنا یا مٹانا؟ کہیں وہ جارج سے اپنے بیتے دنوں کا بدلا تو نہیں لے رہیں؟ اس جارج سے، جو بیماری کی وجہ سے پرانا سب کچھ بھول چکاہے۔محض حالیہ چیزوں یا پھر وہ لوگ یاد ہیں، جن کے ساتھ انھوں نے پچھلے 25-30سال کا ہر لمحہ شدت سے گزارا ہے۔ الزائمر جیسی بیماری کے چھٹے اسٹیج میں پہنچ چکے جارج ایک بے قصور بچے کی طرح ہو گئے ہیں۔ بیماری میں جسم اتنا بوڑھا ہو چکاہے کہ کوئی انہیں چوٹ پہنچانا چاہے تو وہ اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتے۔ مگر لیلا کبیر اپنے بیٹے شیان کے ساتھ جارج کی لاچاری سے بے حد بے رحمی سے کھلواڑ کر رہی ہیں۔جارج کو آرام اور سکون کی زندگی دینے کے بجائے لیلا انہیں در بدر کر رہی ہیں، جس سے جارج صاحب کی حالت اور بھی بگڑتی جا رہی ہے۔ پہلے تو لیلا نے جبراً جارج صاحب کو اس مکان3،کرشنا مینن مارگ سے دور کر دیا، جہاں وہ دہائیوں سے رہتے آ رہے تھے۔ جہاں کے نہ صرف ساز و سامان، بلکہ گھاس مٹی تک سے انہیں ذہنی لگاﺅ ہے۔ انہیں مرضی کے خلاف علاج کے نام پر یوگ گرو بابا رام دیو کے آشرم ہریدوار میں چپ کے سے نصف شب کو سب سے چھپا کر اس لئے لے جا کر رکھ دیا، تاکہ وہ ان اپنوں سے دور ہو جائیں، جنھوں نے لیلا کبیر کے ساتھ چھوڑ جانے کے بعد بے حد عزیزیت سے ان کی ہر لمحہ دیکھ بھال کی۔ایمس کے نیورو سرجری محکمہ کے ان ڈاکٹروں سے لیلا نے صلاح لینا بھی مناسب نہیں سمجھا، جو گزشتہ 15سالوں سے جارج کا علاج کرتے آ رہے ہیں۔ اور اب، لیلا انہیں ہریدوار سے لے کر دہلی آ تو چکی ہیں،مگر جارج کو انھوں نے اپنے پنچ شیل واقع مکان میں رکھا ہے۔جبکہ جارج صاحب وہاں رہنا ہی نہیں چاہتے۔وہ3،کرشنا مینن مارگ کے اپنے پرانے بستر پر سونے کے لئے مچلتے ہیں۔اچھے برے وقت میں ایمانداری سے ساتھ نبھانے والی ساتھی جیہ جیٹلی اور اپنی کتابوں کو تلاشتے ہیں۔ ان دونوں کتوں کو تلاشتے ہیں، جو سالوں سے ان کے ساتھ صبح شام کی چہل قدمی کرتے رہے ہیں۔مگر لیلا کبیر کی من مانی کی وجہ سے جارج کو یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی میسر نہیں ہو پا رہی ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بیماری سے جارج متاثر ہیں، اس میں اگر انہیں نارمل رکھنا ہے تو ان کا ہر وہ سامان یا دوست پا س ہونا چاہئے، جس کووہ تلاشتے ہیں ۔مگر شاید لیلا ایسا نہیں چاہتی کہ جارج ٹھیک ہوں۔
دراصل تصویر کایہ ایسا غمگین پہلو ہے، جس کی جانب شاید کسی کی نظر نہیں ہے۔ پوری زندگی مزدوروں کے حق کی لڑائی لڑنے والا، انہیں آواز دینے والا، نظام انتظامیہ اور حکومت سے بے خوف ہو کر لڑنے والا لیڈر آج ایک قیدی کی طرح جی رہاہے،مگر اس پر کوئی بحث نہیں ہو رہی۔ بحث کا ایشو تو کچھ اور ہے۔جارج کی جائیداد کولے کر ان کی زندگی میں شامل دو عورتوں کی لڑائی۔ زمانہ بڑے چاﺅ سے اسے دیکھ سن رہا ہے۔ اپنی سادگی،بے باکی ، حکومت کے ساتھ بھڑنے کی وجہ سے گزشتہ پچاس سالوں سے موضوع گفتگو جارج کی شبیہ، ان کی کرم پوجا آج ان کی ہی بیوی اور بیٹے مٹی میں ملا رہے ہیں۔سماجوادی پارٹی کے قومی سکریٹری اور مدھیہ پردیش سے ممبر اسمبلی رہ چکے ڈاکٹر سنیلم دہائیوں سے جارج صاحب کے ساتھ ہیں۔ بڑی ناراضگی سے کہتے ہیں کہ لیلا کبیر فرنانڈیز کو صرف رشتہ کی بنیاد پر اس بات کی قطعی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ جارج صاحب جیسے سوشلسٹ، قوم پرست لیڈر کونجی جائیدا د کی طرح استعمال کریں۔ لیلا جی کو شوہر ہونے کے ناطہ جارج فرنانڈیز نے تو کبھی اپنی جاگیر نہیں مانا۔وہ اپنی مرضی سے پچیس سال پہلے چلی گئیں۔ پھر اپنے بیٹے شیان کے ساتھ امریکہ میں رہنے لگیں۔اور،جیسے ہی ماں-بیٹے کو پتہ چلا کہ ان کے پاس کروڑوں روپے ہیں، تو وہ یہاں آ کر حساب کتاب کرنے لگے؟تو پھر پچیس سالوں کے تعلقات کا بھی حساب ہونا چاہئے۔ڈاکٹر سنیلم کا ماننا ہے کہ لیلا اور شیان کو اتنا ہنگامہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔وہ قانونی طور پر ابھی بھی جارج صاحب کی بیوی اور بیٹے ہیں۔ لہٰذا جائیداد پر انہیں کا حق ہے۔ تو پھر اس تماشہ کی کیا ضرورت ہے؟ ان کی بیوی اور بیٹا جو سلوک ان کے ساتھ کر رہے ہیں، وہ انہیں جیتے جی مارنے جیسا ہے۔یہ پیار تو ہو ہی نہیں سکتا ۔ یہ صرف سازش ہے۔
جارج فرنانڈیز کے بھائی مائیکل،پال اور رچی بھی ڈاکٹر سنیلم کی اس بات سے پورا اتفاق رکھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جارج کے ساتھ ان کی بیوی اور بیٹا ہی ظلم کر رہے ہیں۔وہ گزشتہ پچیس سالوں سے ہر لمحہ جارج کا ساتھ نبھا رہی جیہ جیٹلی پر الزام لگا رہے ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جیہ جیٹلی نے نہ صرف ایک عورت،بلکہ ایک ماں کی طرح جارج فرنانڈیز کو سنبھالا ہے۔بیماری کی حالت میں جب جارج بے وقت کسی بات کی ضد پکڑ لیتے یا ناراض ہو جاتے، توجیہ جیٹلی بڑے استقلال اور پیار سے جارج کو سمجھاتیں اور جارج مان جاتے۔لوک سبھا انتخابات 2009کے وقت جیہ جیٹلی نے جارج کو سمجھانے کی بے حد کوشش کی کہ وہ انتخاب نہ لڑیں۔ لیکن جارج اپنے پرانے شریک کاروں کی دغہ بازی سے بڑے ہی زخمی تھے ۔ انھوں نے جیہ کو صاف جواب دے دیا۔ اب جیہ جیٹلی یا تو ان کا ساتھ دیتیں یا چھوڑ دیتیں ۔تب جیہ نے جارج صاحب کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اگر جیہ کو پیسوں کا لالچ ہوتا تو یہ کبھی کا اپنے پاور آف اٹارنی کا غلط استعمال کر کے پیسے نکال سکتی تھیں۔ مگر انھوں نے صرف جارج صاحب کے گھر کے اخراج کے لئے ہی معمولی پیسے نکالے۔ غلط تو جارج کی بیوی لیلا کبیر اور بیٹے شیان نے کیا۔ان دونوں نے جارج سے جبراً پاور آف اٹارنی پر انگوٹا لگوا لیا۔ اب اپنی غلطی چھپانے کے لئے وہ ہائے توبہ مچا رہے ہیں۔
جب جارج صاحب وزیر ریل تھے، اس وقت ان کے شریک کار رہ چکے اجے بتاتے ہیں کہ جب انھوں نے ،3کرشنا مینن مارگ جا کر جارج فرنانڈیز سے ملنا چاہا تو لیلا کبیر اور ان کے بیٹے شیان نے رہائش کا دروازہ بند کروا دیا۔
حالانکہ لیلا اور شیان اس بات سے صاف انکار کرتے ہیں کہ انہیں جائیداد کا کوئی لالچ ہے یا جارج کے روپیوں سے کوئی لینا دینا ہے۔وہ دونوں جیہ جیٹلی پر ایسا الزام لگاتے ہیں۔ مگر شاید ہی لوگوں کو معلوم ہے کہ جارج نے جو اپنی وسیت بنائی ہے، اس میں جیہ کو صرف اپنی کتابوں کا وارث ہی بنایا ہے۔جارج صاحب کو صاف کپڑے پہننا اور بالکل چکنی داڑھی بنانا بے حد پسند ہے۔جب ان کے ہاتھ بیماری سے جنبش کرنے لگے، تب جیہ بے حد احتیاطی سے ان کی داڑھی بناتی تھیں۔ پھر جارج اپنے گالوں پر ہاتھ پھرا کر تسلی کرتے۔صاف چکنا چہرا پا کر وہ چھوٹے بچوں کی طرح خوش ہو جاتے تھے۔ چائے کی سپ لینے کے بعدفوراً وہ اپنے ہونٹوں کو صاف کرتے تھے، مگر آج انہیں جارج کی حالت ایسی ہے کہ وہ کچھ کھانے کی کوشش میں کانپتے ہاتھوں کی وجہ سے کپڑا گندا کر بیٹھتے ہیں۔
سابق ممبر اسمبلی ڈاکٹر سنیلم پوچھتے ہیں ایسے برے وقت میں اس سوشلسٹ لیڈر کے تئیں ملک کا کیا فرض بنتا ہے؟کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں کہ اس برے وقت میں ہم جارج کی مرضی جاننے کی کوشش کریں اور انہیں ان کے مطابق جینے دیں؟کیا گھریلو مسئلہ ہونے سے ہم اس بات سے کنارا کشی کر لیں اور جارج کے گھل گھل کر ختم ہونے کا تماشہ دیکھیں ؟
واقعی، اس وقت بھی اگر ملک اور سماج نے جارج کے تئیں اپنا فرض نہیں نبھایا تو ہم تازندگی گناہ سے بری نہیں ہو پائیں گے۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *