چوتھی دنیا بیورو
سنجے سنگھ انّا کے ساتھی ہیں اور انڈیا اگینسٹ کرپشن کے اہم کارکن بھی۔ 26 اگست کو جب دہلی کی سڑکوں پر پولس سے انڈیا اگینسٹ کرپشن کے کارکنوں اور عام آدمیوں سے مڈبھیڑ ہوئی، تب اس کے کئی دنوں بعد پولس نے اروِند کجریوال سمیت ان کے کئی ساتھیوں کے خلاف معاملے درج کیے۔ سنگین الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی جاتی ہے۔ ان سب کے بیچ سنجے سنگھ کا نام چھوٹ جاتا ہے، ان کے خلاف ایف آئی آر نہیں ہو پاتی ہے، لیکن سنجے سنگھ خوش ہونے کی بجائے پولس کو ایک درخواست دے کر اپنے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرنے کی بات کہہ رہے ہیں۔ دراصل، کسی تحریک کے لیڈر کو یہ نفسیاتی اور اخلاقی طاقت اس عوام سے ملتی ہے، جو اس کی حمایت میں ہر وقت، ہر موقع پر ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ وہ عوام، جو بدعنوانی مخالف تحریک میں ہر ایک بلاوے پر انّا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کا ساتھ دینے پہنچ جاتے ہیں۔ یہی عوام اس تحریک کی طاقت ہیں اور یہی طاقت 26 اگست کو دہلی میں دکھائی دی۔

وی کے سنگھ نے نوجوانوں کو نعرہ دیا، آپ بیدار ہوں، ملک کے تئیں وفادار بنیں، اب جدوجہد کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی لڑائی بھید بھاؤ مٹانے اور سب کو انصاف دلانے کے لیے لڑی گئی تھی۔ آزادی کے بعد زمیندارانہ نظام تو ختم ہوگیا، لیکن 65 سالوں کے بعد آزادی تلاش کرنے پر بھی نہیں ملتی۔ انہوں نے بدعنوانی کو سب سے بڑا مسئلہ بتایا اور کہا کہ یہ ہر جگہ موجود ہے، زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں بچاہے، جو بدعنوانی سے نہ لڑ رہا ہو۔ ایسی صورتِ حال میں تبھی سدھار آ سکتا ہے، جب ہم اپنے آپ کو بدلیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی لبرلائزیشن سے ملک کو کافی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ لبرلائزیشن کو نافذ کرتے وقت کہا گیا تھا کہ اس سے ملک ترقی کرے گا، لیکن آج بچے کم غذائیت کے شکار ہیں، کسان خودکشی کرنے کو مجبور ہیں، تعلیم یافتہ بے روزگاروں کی تعداد لگاتار بڑھتی جا رہی ہے۔

ساڑھے پانچ فٹ کا ایک دبلا پتلا آدمی، اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ علی الصبح اس ملک کی سب سے طاقتور خاتون کے گھر کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے، جسم پر بینر پوسٹر لٹکائے، جن پر کوئلے کی سیاہی سے کانگریس اور بی جے پی کا نام لکھا ہوا ہے۔ اسے گرفتار کیا جاتا ہے، لیکن پورا معاملہ یہیں سے گھوم جاتا ہے۔ دراصل، پہلی بار گاندھی وادی انّا ہزارے کی غیر موجودگی میں اروِند کجریوال نے دہلی میں کوئلہ گھوٹالے کی مخالفت میں سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا تھا۔ 26 اگست کو پہلے سونیا گاندھی اور وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر جاکر صبح صبح مخالفت کی گئی۔ جیسے ہی اروِند کجریوال کی گرفتاری کی خبر پھیلتی ہے، عوام مندر مارگ تھانے پر جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ عوام نے مندر مارگ تھانے پر گھیرا بندی کی، تو اروِند کجریوال کو چھوڑ دیا گیا۔ اس کے بعد سارے لوگ جنتر منتر پہنچے۔ اس درمیان، دہلی اور خاص کر سونیا گاندھی اور وزیر اعظم کے گھر کی طرف جانے والے ہر ایک راستے کی قلعہ بندی کر دی گئی، لیکن دوپہر ہوتے ہوتے عالم یہ تھا کہ احتجاج کرنے والوں کو جہاں جگہ ملی، وہاں وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنی مخالفت درج کرائی۔ اتنا ہی نہیں، جن پتھ کے راستے میں بھی یہ احتجاجی پہنچ گئے۔ جیب میں ترنگا لے کر عام آدمی کی طرح پہلے پولس کے نزدیک پہنچ کر اور پھر بیری کیڈ توڑ کر عوام نے سرکار کی قلعہ بندی کو توڑ دیا۔
پولس اور سرکار، دونوں کے لیے یہ حیرانی کی بات تھی کہ آخر یہ لوگ اتنے سخت سیکورٹی نظام کے ہوتے ہوئے بھی کیسے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ دراصل، یہ عوام کی طاقت تھی، جسے سرکار اور پولس بھی نہیں سمجھ پائی۔ احتجاج کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے پولس کو آنسو گیس، لاٹھی چارج اور پانی کی بوچھار کا استعمال کرنا پڑا۔ سرکار نے اس احتجاجی مظاہرے سے نمٹنے کی پوری تیاری کر لی تھی۔ پہلے اعلان کیا گیا کہ اتوار (26 اگست) کو میٹرو بند رہے گی۔ اتوار کی صبح جب کافی تعداد میں عوام اکٹھے ہوگئے تو سرکار کو لگا کہ کچھ ہونے والا نہیں۔ پھر اعلان کیا گیا کہ میٹرو کھلی رہے گی۔ پھر اروِند کجریوال کی گرفتاری اور اس کے بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ جمہوریت میں اب بھی عوام کی طاقت سب پر بھاری پڑتی ہے۔ اس تحریک کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ پہلی بار عوام نے ایک ساتھ کانگریس اور بی جے پی دونوں کو نشانے پر لیا۔ اروِند کجریوال کا صاف ماننا تھا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں بدعنوانی میں شامل ہیں۔ بہرحال، پولس ایک بار پھر سے انڈیا اگینسٹ کرپشن کے کارکنوں کو لگاتار تغلق روڈ تھانے میں بلاکر ان کے بیان درج کر رہی ہے، انہیں دہلی نہ چھوڑنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ باوجود اس کے، ان کارکنوں کا حوصلہ بلند ہے۔ اخیر میں، 26 اگست کی اس تحریک سے موجودہ نظام میں تبدیلی کے اشارے صاف صاف نظر آنے شروع ہو گئے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here