ریاست اترپردیش میں جمنا ایکسپریس وے پروجیکٹ کے خلاف مقامی کسانوں کی منظم تحریک جاری ہے۔ ایکسپریس وے مخصوص زرعی علاقے میں 9.739 کروڑ کی لاگت کا بے حد اہمیت کا حامل پروجیکٹ ہے، جس کے لیے مایاوتی حکومت نے اپنی ساری توانائی لگادی ہے۔ دوسری طرف کسان زرعی اراضی پر اس طرح کے پروجیکٹ کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور اب تک متعدد جانیں اس پروجیکٹ کی مخالفت میں ضائع ہوچکی ہیں۔ گزشتہ اتوار کو بھی دو پولس سپاہیوں اور تین کسان بشمول مجموعی طور پر پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان ہلاکتوں کے باوجود کسانوں کی تحریک ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے بلکہ مزید اس تحریک میں شدت آگئی ہے۔ ہفتہ کے دن گریٹر نوئیڈا کے بھٹہ پارسول گاؤں میں جو تشدد کی آگ مشتعل ہوئی تھی، اس کی چنگاریاں ایکسپریس وے پر واقع علی گڑھ، متھرا اور آگرہ کے متعدد گاؤوں اور قصبوں تک پہنچ چکی ہیں۔
گزشتہ دنوں پولس سے معمولی جھڑپ اور جمنا پروجیکٹ کے لیے برآمد مشینوں اور تکمیل شدہ تعمیرات میں توڑ پھوڑ ہوئی تاہم اتوار کے دن جس پیمانے پر کسانوں کی تحریک شروع ہوئی تھی، اس کے پیش نظر عظیم نقصانات کا خدشہ تھا۔ جہاں تک کسانوں پر پولس فائرنگ کا تعلق ہے، اس ضمن میں پولس بے قصور اور حکومت ذمہ دار ہے، اس کے علاوہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی اسی پروجیکٹ کے خلاف تحریک میں شامل کسانوں پر گولیاں چلائی گئی ہیں، حالانکہ یہ تحریک تشدد آمیز نہیں تھی، علاقے کے کسان اس پروجیکٹ کے لیے اراضی قومی ملکیت میں لینے کی مخالفت کے مقصد سے ایک جگہ جمع ہوئے تھے تاہم پرسکون ہجوم پر اترپردیش کی پولس نے مبینہ طور سے گولیاں چلائیں، اسی طرح ضلع علی گڑھ کے تحت ٹپل نامی مقام پر بھی گزشتہ سال تحریک پر کمربستہ کسانوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک اسکولی بچہ بشمول پانچ کسانوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں، اس سے اور پہلے متھرا میں کسانوں پر گولیاں برسائی گئی تھیں۔
جب ٹپل پولس فائرنگ کے خلاف ملک بھر میں آواز بلند ہوئی تو عوامی غم و غصے کو سرد کرنے کے لیے مایاوتی حکومت نے کسانوں کی اراضی قومیانے کے حوالے سے ایک نئی پالیسی کا اعلان کیا، اس پالیسی کو نیا نام ضرور دیا گیا تاہم اس میں صرف ایک بات نئی تھی، وہ یہ کہ پروجیکٹ میں علی گڑھ کے جن کسانوں کی اراضی پر حکومت کی نظر تھی اور جسے وہ قومیانہ چاہتی تھی ان کے معاوضے کی شرح پانچ سو روپے فی مربع میٹر مقرر کی گئی، اس کے علاوہ ایک حصہ امدادی شکل میں تین عشرے تک یا ایک مشت دینے کا اعلان کیا گیا تھا، اس کے علاوہ رہائشی پروجیکٹوں کے لیے استعمال ہونے والی اراضی کے عوض کچھ حصہ خالی کردینے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ اس ضمن میں سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ کسانوں کی اراضی کے معاوضے کے طور پر حکومت کی طرف سے مقرر کردہ قیمت کی یکبارگی ادائیگی کافی نہیں ہے، بلکہ انہیں قسط وار متبادل طور پر فائدہ بہم پہنچانا ضروری ہے۔
ماہ جنوری سے بھٹہ پارسول میں جاری کسانوں کی تحریک کا تشدد میں تبدیل ہونا اور علی گڑھ اور آگرہ میں تحریک کا دوبارہ شروع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ علاقے کے کسان حکومت کی مذکورہ پالیسی سے خوش نہیں ہیں، خواہ حکومت کی نظر میں یہ کسانوں کی اراضی کو قومی تحویل میں لینے کی ملکی سطح پر نرم پالیسی ہی کیوں نہ ہو، لہٰذا اس ضمن میں کسانوں کی عدم اطمینانی پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ ٹپل کے کسان حکومت سے نوئیڈا کے کسانوں کو دی جارہی 850 روپے کی شرح کے مساوی مطالبہ پر اٹل ہیں۔ دوسری طرف گرینو کے کسانوں کو وہ شرح بھی منظور نہیں ہے۔ آخر کیوں؟ اس ’’کیوں‘‘ کا راست تعلق اس نت نئے ترقیاتی ماڈل سے ہے، جسے جمنا ایکسپریس وے سے متعارف کیا گیا ہے۔ جس کی بابت حکومت اترپردیش کا ادعا ہے کہ اس کی تعمیر سے دہلی سے آگرہ تک کی مسافت دو گھنٹے کم ہوجائے گی۔ حالانکہ اس کے پس پردہ حکومت کے کچھ اور عزائم ہیں۔ حکومت جمنا ایکسپریس وے تعمیر کر کے شاہراہ کے دونوں جانب صنعتیں قائم کرنا چاہتی ہے تاکہ ریاست کو مالی فائدہ حاصل ہو، تاہم اس کے باعث زرخیز زمینوں سے کسان محروم ہوجائیںگے۔ حکومت قطعاً عوامی مفاد کے تئیں اس پروجیکٹ کی حمایت نہیں کر رہی ہے بلکہ اس میں اس کا نجی مفاد پوشیدہ ہے، غالباً اترپردیش حکومت گجرات کے نقش قدم پر چلنا چاہتی ہے، جہاں صنعتوں کا جال بچھ گیا ہے، مگر حکومت کو شاید یہ بات معلوم نہیں کہ گجرات اور اترپردیش کی اراضی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اترپردیش کی بیشتر زمینیں قابل کاشت اور زرخیز ہیں، جب کہ گجرات کی بیشتر زمینیں چٹیل، اوسر، بنجر اور ناقابل کاشت ہیں۔ چنانچہ اس ریاست کی اراضی کے مالکوں کے لیے ان کی زمینوں پر صنعتوں کا قیام فالِ نیک ہے اور اسی میں ان کا فائدہ ہے۔ دوسری طرف اترپردیش میں اس طرح کا عمل کسانوں کے لیے بدشگون اور خسارے کا موجب ہے۔ اسی سبب اترپردیش کے کسان اراضی قومیانے کے خلاف منظم تحریک پر کمربستہ ہیں اور اپنی ایک انچ زمین چھوڑنے کے لیے قطعی تیار نہیں ہیں۔ ان کی یہ تحریک ہر لحاظ سے قومی مفاد میں ہے کیوں کہ صنعتی انقلاب سے کسی کا شکم ہر گز پر نہیں ہوسکتا۔ لوگوں کو بہرحال اناج چاہیے، چنانچہ زرخیز اراضی پر صنعتوں کے قیام سے پیداوار سے محرومی ہوگی اور اس کے باعث ملک و قوم دونوں کا عظیم خسارہ ہوگا۔
غور طلب بات ہے کہ آخر ایک کمپنی کو اس علاقے میں ایکسپریس وے کی تعمیر سے اتنی زیادہ دلچسپی کیوں ہے؟ ضرور اس کے لیے یہ منافع بخش سودا ہے، چنانچہ اسے یقین ہے کہ 6,000 ایکڑ کے تجارتی پراپرٹی پروجیکٹوں سے اسے خوب مالیاتی فائدہ ہوگا۔ گویا ایکسپریس وے اس کمپنی کے لیے ایک منافع بخش پروجیکٹ ہے۔ اس 6 یا 8 لائن کے نئے ایکسپریس وے کی تعمیر سے اسے آئندہ 45 سالوں تک ٹرانسپورٹ ٹول حاصل ہوگا اور ریاستی حکومت کے ذریعے دی جانے والی طرح طرح کی رعایتوں سے یہ نجی کمپنی مستفید ہوگی اور یہ اس کے لیے اضافی آمدنی ہوگی۔
کمپنی کے مجوزہ پروجیکٹ کا ماڈل ہر لحاظ سے لوٹ کھسوٹ پر مبنی ہے۔ اسی سبب علاقے کے کسان اس پروجیکٹ کے خلاف گزشتہ چار سالوں سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ چونکہ ملک کی تمام اراضی حکومتی اختیارات میں ہیں، اس لیے کوئی انہیں قومیانے سے روک نہیں سکتا۔ البتہ اپنی زمین کا معاوضہ طلب کرنے کا حق حاصل ہے۔ چنانچہ علاقے کے کسانوں کی تحریک صرف ان زمینوں کے معقول اور تشفی بخش معاوضہ کے مطالبے پر مرکوز ہے، جب کہ اس علاقے کی زمینیں سب سے زیادہ زرخیز اور زرعی لحاظ سے کسانوں کے لیے بے حد منافع بخش ہیں۔
یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ جس ملک میں خوراک کے عدم تحفظ کا مسئلہ درپیش ہو اور جہاں کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہو، وہاں کی قابل کاشت اراضی کو غیرضروری پروجیکٹ کے لیے قربان کردیا جائے۔ حیرت ہے کہ اس کے سبب ملک میں جو برے نتائج سامنے آئیںگے اس طرف ملک کے پالیسی ساز اداروں کی نظر نہیں ہے۔ حکومت اترپردیش کی نرم پالیسی سے کسانوں کے شور و غل میں کسی حد تک کمی آگئی ہے تاہم کسانوں کی نئی نسلیں اس بابت بے حد حساس ہیں۔ وہ بنیادی طور پر اس اراضی کو اپنی اہم جائیداد تصور کرتی ہیں۔ اسی سبب وہ اس جائیداد کی پوری قیمت وصول کرنا چاہتی ہیں۔
دوسری جانب برطانوی حکومت کا وضع کیا ہوا 1894 کا وہ قانون جس کے ذریعے کسی کی زمین قومیانہ آسان ہے، اس کا طریقہ کار بالکلیہ طور پر جمہوری نظام کے خلاف ہے۔ حیرت ہے کہ ہمارے ملک میں اب تک انگریزوں کا مسلط کیا ہوا قانون نافذ العمل ہے اور حکومتی سطح پر اسی قانون کے سہارے لوگوں کی اراضی قومی ملکیت میں لینے کا ہنوز سلسلہ جاری ہے۔ اس قانون کی رو سے ملک کا کوئی باشندہ کسی زمین کا حقیقی مالک نہیں ہوتا، بلکہ ملک کی ساری زمینیں حکومت کی ملکیت ہیں۔ تاہم جب حکومت کسی سرمایہ دار کو کوئی زمین حوالہ کرتی ہے تو اس زمین کا اس سرمایہ دار کو مالک تصور کرتی ہے۔ چنانچہ اسی قانون کے بل بوتے پر پوری جسارت سے حکومت جب چاہتی ہے کسی کی زمین پر حسب ضرورت قابض ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف حکومت جو اراضی کارخانوں کو دے چکی ہے اور وہ کارخانے بند ہوچکے اس کے باوجود اس کی اراضی پر قابض نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ ماضی اور حال میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ حکومت کسی بند پڑے کارخانہ کی زمین پر قابض ہوئی ہو۔
اب جب کہ شاہراہیں بھی نجی حلقے کے لیے منافع کے حصول کا وسیلہ بن گئی ہیں۔ اس طرح کے پروجیکٹوں کے لیے مٹی کے مول کسانوں کی اراضی پر قابض ہونے کا اب کوئی اخلاقی جواز نہیں رہ گیا۔ کسانوں کی اراضی کی جو قیمت دی جاتی ہے، وہ ناکافی ہوتی ہے۔ وہی اراضی بعد میں سرمایہ دار چوگنی قیمتوں پر فروخت کر کے زیادہ منافع حاصل کرتے ہیں۔ یہ درحقیقت کسانوں کا دانستہ استحصال ہے، لہٰذا اس حوالے سے قانون میں ترمیم ضروری ہے تاکہ اراضی قومیانے کا قانون عوامی بن سکے، یہ بات قومی مفاد میں شامل ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ منصفانہ قانون وضع کرے تاکہ ٹپل اور بھٹہ پارسول میں ناحق بہے کسانوں کے خون کی طرح آئندہ کسی کا خون نہ بہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here