نامور قلمکار حکیم حامد تحسین کی جانب سے صدر جمہوریہ کو خط ارسال

Share Article
Hamid
دیوبند کے نامور قلمکار حکیم حامد تحسین نے صدر جمہوریہ ہند کو ایک مکتوب ارسال کرکے اپنی ادبی خدمات سے روشناس کراتے ہوئے اردو اکیڈمیوں اور اردو تنظیم کے ذریعہ انہیں نظر انداز کئے جانے پر تکلیف کا اظہار کرتے ہوئے صدر جمہوریہ ہند سے ان کی ادبی خدمات کے سلسلہ میں اردو اداروں کو غورو وفکرکئے جانے کی ہدایت دینے اور ’پدم شری‘ کی فہرست میں شامل کئے جانے کی گذارش کی ہے۔ صدر جمہوریہ ہند رامناتھ کووند کو ارسال اپنی نوعیت کے منفرد خط میں حکیم حامد تحسین خود اپنے بارے میں تحریر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انکی عمر 82؍ سال ہے، جسمانی طورپر اپاہج ہیں،پیشے ایک طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ ،لکھنے پڑھنے کے شوق نے ارد و کا ادیب بنا دیا،19؍ کتابیں لکھ چکاہوں،ان میں کچھ چھپ چکیں اور مقبول ہوچکی ہیں۔ان میں ایک کتاب ’’عزل کی کہانی ‘‘ بھی ہے جو آپ کی خدمت میں روانہ کررہاہوں،خدا کاشکر ہے کہ یہ میری زندگی کاعظیم کارنامہ ہے۔ حامد تحسین اپنے خط میں اپنی کتاب کے سلسلہ میں لکھتے ہیں کہ اس کتاب میں میں نے ایک شاخ غزل کی سو تعریفوں کے ساتھ ایک کہانی بیان کی ہے۔ ایسا اردو ادب کی سیکڑوں سالہ تاریخ میں پہلی بار ہواہے ،کیونکہ اس سے پہلے صرف دو تعریفیں غزل کی بیان کی جاتی رہی ہیں۔
انہوں نے اردو اداروں کے ذریعہ نظر انداز کئے جانے پر افسوس کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ جن اردو اداروں کو مرکزی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے کروڑوں روپیہ اردو کی ترقی کے لئے امداد کے طورپر ملتے ہیں انہوں نے اس جانب توجہ نہیں دی ، میں نے اس سلسلہ میں تمام اردو اکاڈمیوں اور صدور کو کتاب کے ساتھ ساتھ خط بھی تحریر کیاہے مگر اس جانب توجہ ضرور نہیں سمجھا گیا۔ انہوں نے صدر جمہوریہ ہند کو ہندوستان جیسے ملک کی سرپرستی کے لئے اعلیٰ عہدہ پر فائزہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ انہیں انکی خدمات کے اعتراف میں’پدم شری ‘ کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ ساتھ ہی حامد تحسین نے صدر جمہوریہ سے گذارش کی ہے کہ اردو کیڈمیز ،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور یونیورسٹیوں کے اردو ڈیپارٹمنٹ کو انکی خدمات کے سلسلہ میں غوروفکر کئے جانے کی ہدایت دی جائے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *