خواتین کا بغیر محرم سفر حج کرنا ممنوع ہے:مفتی ابوالقاسم

Share Article
mufti-abul-qasim-nomani
وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ بیان کہ حکومت ہند نے اس سال سفر حج پر جانے والی خواتین کو بغیر محرم کے سفر حج پر جانے کی اجازت دے کر ایک اچھا قدم اٹھایا ہے اور ان خواتین کی قرعہ اندازی بھی نہیں ہوگی ، اس وقت مسلم معاشرہ میں ہدف تنقید بنتا نظر آرہاہے۔اس سلسلہ میں دارالعلوم دیوبند کا موقف آیا ہے کہ مسلم خواتین بغیر محرم سفر حج اختیار نہیں کرسکتیں ۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ خواتین کے لئے حج کا سفر بغیر مرد محرم کے کرنا ممنوع ہے ، اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے بیان پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے چونکہ یہ ظاہر ہے کہ ان کا بیان انتظامی امور اور سیاسی مصلحتوں سے متعلق ہے ۔ شریعت اسلامی سے ان کے بیان کا کوئی واسطہ نہیں ہے ، ہم کوئی تبصرہ کرنے کے بجائے محض شرعی مسئلہ بیان کرسکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ حدیث میں صراحت کے ساتھ یہ بات موجود ہے کہ خواتین بغیر محرم مرد کے سفر اختیار نہیں کرسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ فقہاء کا اجتہادی مسئلہ نہیں بلکہ حدیث میں اس کی وضاحت اور صراحت موجود ہے۔
مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ اگر حکومت ہند بغیر محرم مرد کے عورت کو حج پر جانے کی اجازت دیتی ہے تو یہ مذہبی امور میں براہ راست مداخلت ہوگی ، حکومت کو ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ مذہبی امور میں حکومت کی مداخلت سے معاملات سدھرنے کے بجائے خرا ب ہوتے ہیں اور حکومت کی نیت پر بھی شبہ ہوتا ہے ۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر کوئی عورت بغیر محرم مرد کے سفر حج پر جاتی ہے تو یہ بلاشبہ اسلامی احکامات کی خلاف ورزی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر اجازت بھی دیدے تو مسلم خواتین کو ا س سے اجتناب کرنا چاہئے ، غیر شرعی راستہ اور طریقہ اختیار کرکے حج یا کوئی دوسری عبادت کرنا کوئی بھی مومن پسند نہیں کرسکتا ، اس لئے ہم امید کرتے ہیں کہ وزارت حج اس مسئلہ پر نظر ثانی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے ایسا نہیں بھی کیا جاتا تو مسلم خواتین کو اس فیصلہ سے انحراف کرتے ہوئے اسلامی اصولوں پر عمل کرنا چاہئے اور اللہ جب حج بیت اللہ کی توفیق دے تو بغیر محرم مرد کے سفر نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حج کا ویزہ دینے کا حق سعودی حکومت کا ہے، بنا شرعی اصول کے حج کرنا ٹھیک نہیں ہوگا ۔
دارالعلوم وقف دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا احمد خضر شاہ مسعودی نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی اس قسم کی تجویز قابل مذمت ہے۔ اگر اس قسم کا کوئی فیصلہ لیا جاتا ہے تو یہ شریعت میں براہ راست مداخلت کے ہم معنی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جو حکم ساڑھے چودہ سال پہلے آچکا ہے وہی حکم آج بھی ہے ، حکومت یادور بدلنے سے اسلامی قوانین نہیں بدلے جاسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ حج ادا کرنے کا طریقہ عورتوں کو بھی وہی اختیار کرنا چاہئے جس کا حکم اسلام نے دیا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *