اسمگلنگ کی شکار خواتین کے چاروں طرف اندھیرا

Share Article

بمل رائے
چاند دیکھنے سے لگتا ہے جیسے دل کے اندر تصویر دیکھ رہی ہوں/چاند کی بولی میٹھی لگتی ہے/ اگر آپ چاند کو چھوتے ہو تو وہ برف جیسا ٹھنڈا لگتا ہے /جب تم چاند کو سونگھتے ہو تو لگتا ہے کہ یہ خوشبو دل کے اند ربیٹھے اس آدمی کی ہے/ جو تم سے محبت کرتا ہے۔
یہ نظم بنگلہ سے ترجمہ کی گئی ہے۔ جوانی کی دہلیز پر کھڑی چاندنی کی جو کولکاتا کے ایک ہوم میں اپنی نئی زندگی کے خوابوں کے ساتھ کھلے آسمان میں اڑنا چاہتی ہے۔ چاندنی جیسی لاکھوں لڑکیاں ملک بھر کے سیکڑوں سرکاری یا غیرسرکاری ہوم یا اصلاح خانوں میں بیٹھ کر خواب بنتی ہیں، لیکن کتنی لڑکیوں کو روشن مستقبل کی سوغات ملتی ہے، اس طرف زیادہ تر لوگوں کی توجہ نہیں جاتی۔ حکومت کا محکمۂ برائے بہبود خواتین و اطفال اور سیلف ہیلپ گروپوں کی فوج ان کی حفاظت اور ان کی باز آبادکاری میں لگی ہوتی ہے، لیکن ان بدنصیبوں میں شاذ و نادر خواتین  ہی ایک عام عورت کی زندگی بسر کرپاتی ہیں۔اگرانہیں واپس ان کے گھر بھیجا جاتا ہے تو ان کا خاندان و سماج انہیں قبول نہیں کرتا، جس کے نتیجے میں بیشتر خواتین کو اسی جہنم میں واپس لوٹنا پڑتا ہے، جہاں سے یہ نکالی گئی تھیں۔ اس طرح بھاری بھرکم غیر ملکی و غیر سرکاری عطیوں کی کروڑوں کی رقم بھی ان بدنصیبوں کی تقدیر نہیں بدل پاتی۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائگریشن کے اندازہ کے مطابق پوری دنیا میں انسانی اسمگلنگ کے ذریعہ ہر سال 80لاکھ امریکی ڈالر کا کار و بار ہوتا ہے۔ ہندوستان میں اسمگلنگ کی جانے والی 15فیصد متاثرہ لڑکیاں و بچے 15سال سے کم عمر کے ہوتے ہیں،جب کہ 18سال سے کم عمر کے لڑکے لڑکیوں کی تعداد 25فیصد ہے۔
چوتھی دنیا نے جاننا چاہا کہ ہوم اور اس کے بعد لڑکیوں کی زندگی کی تصویر کیسی ہے تو کئی چونکانے والے حقائق سامنے آئے۔ واضح طور پر یہ دیکھا گیا کہ نوآبادکاری پر بھلے ہی کروڑوں اور اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہوں، لیکن اس کا فائدہ بہت کم لڑکیوں کو ہی مل پاتا ہے۔ بنگلہ دیش کی سال گڑھیا گاؤں کی ایک 17سالہ لڑکی کو کولکاتا میں ایک اچھا کام دلانے کے لیے لایا گیا۔ والدین کو محسوس نہیں ہوا کہ ان کی بیٹی کے ساتھ دھوکہ ہوگا۔ کولکاتا لانے سے قبل اسے مدنا پو رمیں رکھا گیا، جہاں سے اسے جسم فروشی کے دھندے میں لگایا جانا تھا۔ بعد میں ایک دن پولس اسے پکڑ کر لے گئی اور اسے ہوڑہ کے پاس سندر بھائی مول چند موہتا ہوم للوا میں رکھا گیا۔ استحصال کی شکار اس لڑکی کی کونسلنگ کی گئی اور بنگلہ دیش کی ایک رضاکار تنظیم سے رابطہ کیا گیا۔ کولکاتا کے بنگلہ دیشی ہائی کمیشن کے ایک نمائندے نے بھی لڑکی سے معلومات حاصل کی اور اس کی شہریت کی تصدیق ہونے پر اسے کونٹائی کی ایک عدالت کے حکم پر واپس بنگلہ دیش بھیجا گیا۔
بنگلہ دیش کے ہی کھلنا ضلع کے باگھیر ہارٹ گاؤں کی 15سال کی دوشیزہ نجمہ (بدلا ہوا نام) کو اس کا چچا ہی کولکاتا لایا اور سیالدہ اسٹیشن پر اسے ایک جگہ بٹھا کر آدھا گھنٹہ بعد آنے کو کہہ کر غائب ہوگیا۔ اس درمیان وہ جسم فروشی کے دھندے سے وابستہ کسی دلال سے نجمہ کا سودا کرنے لگا۔ کولکاتا کی ایک رضاکار تنظیم سیمریٹنس کے رضاکاروں نے بچی کو دیکھا اور اسے سنی آشا ہوم میں بھیجا۔ اس دوشیزہ کی تفصیل ڈھاکہ آشیانہ مشن کو بھیجی گئی۔ پھر بنگلہ دیشی ہائی کمیشن کے نمائندے کی انکوائری اور عدالت کے حکم کے بعد اسے واپس ڈھاکہ بھیج دیا گیا۔
ہماری چھان بین میں ایسی کئی لڑکیوں کا پتہ چلا ہے جنہیں سیلف ہیلپ گروپوں کی مدد سے ان کے گھروں میں واپس بھیجا گیا۔ ملک کا سیلف ہیلپ ادارہ سن لاپ اسمگلنگ کی شکار بنگلہ دیشی لڑکیوں کو واپس بھیجنے میں سب سے آگے ہے۔ 1999سے 2003تک ادارے نے کل 49لڑکیوں (1999میں 17، 2000میں 11، 2001میں 7، 2002میں 3اور 2003 میں 11) کو ان کے گھر واپس بھیجا۔
اس کے علاوہ 2009میں ادارے کے ہوم میں کل 104لڑکیاں آئیں، جن میں سے 36کی بازآبادکاری کی گئی۔ ظاہر ہے کہ اسمگلنگ کے اعداد و شمار کے مقابلے اس بازآبادکاری کے اعداد و شمارکتنے بونے ہیں۔
اکثر ان لڑکیوں کے اصل گھر کا پتہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ للوا ہوم میں رکھی گئی لڑکیوں سے سن لاپ کے رضاکار تفتیش کرتے ہیں۔ کئی بار نئے ماحول اور دکھ بھرے تجربہ سے لڑکیاں خوف زدہ ہوتی ہیں اور وہ اپناپتہ بھی ٹھیک سے نہیں بتا پاتیں۔ کچھ دانستہ طور پر پتہ نہیں بتاتیں، کیوں کہ وہ وہاں بدنامی کے ڈر سے لوٹنا نہیں چاہتیں۔ پھر ان کا پتہ بنگلہ دیش کے سیلف ہیلپ گروپوں کو بھیجا جاتا ہے، پتے کی تصدیق ہونے پر وہ ادارہ سن لاپ اور بنگلہ دیشی وزارت داخلہ سے رابطہ کرتا ہے۔ اس کارروائی میں پولس و دیگر سرکاری افسران کا تعاون ہوتا ہے۔ بنگال میں سرکاری ہوم سرکار کے سوشل ویلفیئر ڈائریکٹوریٹ کے تحت کام کرتے ہیں۔ بنگلہ دیشی لڑکی کے ہوم میں آنے پر ڈائریکٹوریٹ وزارت داخلہ کو اطلاع دیتا ہے۔
جیسا کہ سن لاپ کی پروگرام کوآرڈینیٹر تاپتی بھیمک نے بتایا کہ عدالتی حکم اور رضاکار تنظیموں کی کوشش سے بیشتر لڑکیوں اور بچوں کو پھر ان کے گھر واپس بھیجا جاتا ہے، لیکن بہت سے افراد کو حقیقی گھر نصیب نہیں ہوتا۔ مغربی بنگال کے لکشمی کانت پور کے پاس رگھوناتھ پور کی حسینہ کو پنے کے ایک کوٹھے پر بیچا گیا۔ وہاں سے اسے 2006میں سن لاپ کے بازآبادکاری سینٹر میں لایا گیا اور کچھ وقت بعداسے اپنے گھر بھیج دیا گیا۔ چار ماہ بعد سن لاپ کی ٹیم اس کی کھوج خبر لینے جب اس کے گھر گئی تو اس کی سوتیلی ماں ملی۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ حسینہ کی شادی ہوگئی ہے۔ اس کا شوہر لکشمی کانت پور میں چمڑے کے بیگ بناتا ہے، لیکن وہ لوگ پوری تفصیل نہیں دے پائے کہ حسینہ اسے کب اور کیسے ملی؟ شادی کب ہوئی؟ کیا کوئی تصویر ہے؟ کوٹھے سے لوٹی لڑکیوں کو واپس گھر بھیجنے کو نوآبادکاری کہنا صحیح نہیں ہوگا۔ وہاں ایک پڑوسی نے بتایا کہ حسینہ حاملہ ہوگئی تھی۔ اسے باپ کا تھوڑا بہت پیار تو ملتا تھا، لیکن سوتیلی ماں کا ظلم جاری رہا اور پھر اچانک اس بیگ بنانے والے آدمی سے شادی ہوگئی۔ بہرحال نتیجہ یہ نکلا کہ حسینہ پھر انہی اندھی گلیوں کا رخ کرچکی ہے۔
سن لاپ سے وابستہ متا گھوش نے بتایا کہ تنظیم کے اہلکاروں نے واپس گھر بھیجی گئیں 10لڑکیوں کی کھوج خبر لی، لیکن ان میں سے ایک کا بھی پتہ نہیں چل پایا۔ لکشمی کانت پور کی ایک لاپتہ لڑکی کے بارے میں اس کی بڑی بہن نے بتایا کہ وہ واپس ممبئی کے اسی کوٹھے پر چلی گئی ہے، جہاں سے پولس نے اسے آزادی دلائی تھی۔ اسے بھی سن لاپ کے ہوم میں رکھا گیا تھاا ور واپس گھر بھیجا گیا تھا۔ کوٹھے سے واپس لائی گئی شمالی 24پرگنہ کی ایک لڑکی کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ ایچ آئی وی (ایڈس)کے ساتھ آئی، اسے بھی گھرواپس بھیجا گیا۔ معلوم ہوا کہ  مرض کے بارے میں بتائے بغیر اس نے لکھنؤ کے ایک آدمی سے شادی کرلی۔ شمال 24پرگنہ کے حسن آباد کی شبینہ کو بھی ہوم سے ا س کے گھر واپس بھیجا گیا۔ وہ پنے کے ایک کوٹھے سے چھڑائی گئی تھی۔ گھر پر معلوم کرنے پر اس کی چھوٹی بہنوں نے بتایا کہ اب شبینہ یہاں نہیں رہتی، اس نے شادی کرلی ہے، لیکن کہاں اور کس سے کا جواب صرف اس کی ماں جانتی ہے، گاؤں کے لوگ بھی نہیں جانتے ہیں۔
جن لڑکیوں کو خود ان کے ماں باپ شادی کے بہانے فروخت کردیتے ہیں ، انہیں ہوم میں بھیجنے اور واپس ان کے گھر بھیجنے کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ہے۔ بنگال کے مالدہ ضلع کے نج گاؤں کی میمی خاتون کو 2سال قبل 26ہزار میں خرید کر اسمگلروں نے دہلی کے پرمیشور لال بیروا نام کے ایک آدمی کی بیوی بنا دیا۔ شرابی پرمیشور اسے مارتا پیٹتا تھا۔ آخر میں علاج کرانے کے بہانے وہ گھر سے بھاگ نکلی، اس نے گاؤں میں اپنے جیسی 4-5لڑکیوں کا پتہ لگایا جو بنگال سے گئی تھیں۔ اسے کچھ وقت تک راجستھان یونیورسٹی ویمن یونین کے ہوم شکتی استمبھ میں رکھا گیا۔ میمی گھر لوٹنا نہیں چاہتی تھی، کیوں کہ اس کے ماں باپ اسے فروخت کرچکے تھے اور اسمگلر وہاں سے آکر پھر اسے اٹھالے جاتے۔ اپنے ایک خوشحال گھر کی تلاش میں وہ ہوم کی ایک الگ تھلگ زندگی جینے پر مجبورہے۔
ویسے کوٹھے کی دلدل سے سچ مچ باہر نکل کر کھلی ہوا میں سانس لینے کی تمنا بھی آسانی سے پوری نہیں ہوتی۔ کسی لڑکی کو اس دلدل سے نکالا جاتا ہے اور وہ کوٹھا چلانے والے اور اسمگلر کے خلاف گواہ بنتی ہے تو اس کی جد و جہد کا لمبا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ آج سے 10سال قبل بدنام بستی سونا گاچھی کے اپنے گھر سے آزاد کرائی گئیں 9، 10اور 11سال کی جادھو بہنوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ بھوپال میں رہنے والا اس کا کنبہ روایتی طور پر کوٹھا چلانے کا ہی پیشہ کرتا ہے۔ ایک بہتر ماحول میں ان کی پرورش ہوسکے، اس لیے پولس نے انہیں پکڑ کر للوا ہوم میں رکھا۔ ڈاکٹر نے تصدیق کی کہ یہ سیکس ورکر بن چکی تھیں۔ حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے للوا ہوم میں ان کی زندگی جہنم سے بھی بدتر ہوگئی۔ کافی جد و جہد کے بعد انہیں جوی نائل جسٹس ایکٹ کے تحت بنے سن لاپ کے نریندر پور ہوم میں رکھا گیا۔ دو چھوٹی بہنیں آج سیالدہ کے لوریٹو اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔بڑی بہن فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ مطالعہ کر رہی ہے۔ اس درمیان، ان بہنوں نے اپنے والدین کو اس پیشہ کو ترک کرنے کے لیے مجبور کیا اور انہیں عدالت کے کٹہرے میںلا کھڑاکیا۔ مگرتاریخ پر تاریخ والے انصاف کے نظام نے ان جوان لڑکیوں کو مایوس کر دیا ہے۔ مقدمہ کی سماعت کرنے والے مجسٹریٹ کا تبالہ ہو گیا ہے۔ گھروالوں نے بتایا کہ ان کے الزام جھوٹے ہیں اور معاملہ دوسری عدالت میں منتقل ہو گیا ہے۔ ان میں سے سب سے چھوٹی بہن درجہ 8کی طالبہ ہے۔ اس کا کہنا تھا ’’عدالت میں بیٹھے رہنے کے دوران لوگ ہمیں گھورتے ہیں اور تاریخ کے چکر میں ہمیں اسکول سے غیرحاضر رہنا پڑتا ہے‘‘۔ اس طرح ان بہنوں کو بھی نہیں معلوم کہ انہیں ان تاریخوں سے نجات کب ملے گی؟وہ اب یہ سوچ رہی ہیں کہ والدین کے خلاف اس طرح کھڑا ہونا کیا مناسب تھا؟ معاملے لمبے کھنچتے ہیں اور مجرمین بری ہو جاتے ہیں۔مغربی بنگال خواتین کمیشن کی 2007میں جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ لڑکیوں کی اسمگلنگ سے متعلق صرف7.1فیصد معاملات میں ہی قصورواروں کو سزا مل پاتی ہے۔ ویسے فاسٹ ٹریک عدالتوں میں بھی ان معاملات کی سماعت ہوتی ہے، مگر رہائی پانے والی لڑکیوں میں کئی تو اپنے غیر یقینی مستقبل سے گھبرا کر اپنا بیان بدل دیتی ہیں اور کئی لاپتہ ہو جاتی ہیں۔
جادھو بہنوں جیسا ہی حال فی الحال ہوم میں رہ رہی روشنی (بدلا ہوا نام) کا ہے۔ راقم الحروف سے بات کرتے وقت روشنی نے اپنا لقب نہیں چھاپنے کا اصرار کیا، کیونکہ مدھیہ پردیش کے اس کے کنبہ کا دھندہ سونا گاچھی میں جسم فروشی کا دھندہ ہی ہے۔اس کے ساتھ اس کی بہن ریوا اور شبنم بھی ہے۔ بیریا برادری کے کنبوں کے لو گ اپنی اولادوں کو بھی اس پیشہ میں ڈال  دیتے ہیں مگر روشنی نے اس رواج سے بغاوت کرتے ہوئے اپنی دنیا الگ بسانے کی ٹھانی ہے۔9سال کی عمر سے ہی وہ سنلاپ کے اسنیے ہوم میں ہے اور وہ ٹیلرنگ کی تربیت لے کر اپنے پیروں پر کھڑی ہونا چاہتی ہے۔ ہوم کی تمام لڑکیاں اپنے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں لگی ہیں۔ کاٹھمانڈو کی گیتا تھاپا کام دلانے کے بہانے ناگپور کے کوٹھے پر بیچ دی گئی۔ وہاں سے سونا گاچھی آئی تو ایچ آئی وی لے کر آئی۔ اب اس کا خواب ہوم سے اپنے ملک نیپال لوٹنے کا ہے۔ اس موذی مرض کی وجہ سے گیتا حال ہی میں ایک رضاکار تنظیم کی مدد سے نیپال واپس بھیجی گئی 16لڑکیوں میں شامل نہیں ہو پائی۔ ان 16لڑکیوں کو نیپال کے سفارتخانہ برائے کامرس اور کاٹھمانڈو کی رضاکار تنظیم شکتی گروپ کے وسیلہ سے بھیجا گیا ۔
پنجاب کی پوجا سنگھ کو کولکاتہ کے آمتلا میں رہنے والی اس کی دیدی نے کام دینے کے بہانے بلایا اور اسے جسم فروشی میں لگا دیا۔ آخر پولس نے اسے وہاں سے نکال کر ہوم میں رکھا ۔17سال کی محسنہ ملک کوباروئی پور سے لے جا کر دہلی میں جسم فروشی میں جھونک دیا گیا اور بنگال پولس اسے چھڑا کر یہاں لے آئی۔ وہ خاتون پولس بننا چاہتی تھی،مگر وہ اب زری کا کام سیکھ رہی ہے، تاکہ خود کفیل بن سکے اور اپنی ایک الگ دنیا بسا سکے۔ 22سال کی عاصم مولا بنگلہ دیش کے کھلنا میں اپنے شوہر اور بچے کو چھوڑ کر بنگال کے سرحدی قصبہ بنگائوں آئی تھی۔ وہاں اسے ایک بدنام بستی میں نشیلی اشیاء کھلا کر جسم فروشی کے لئے مجبور کیا گیا۔ آخر پولس اسے چھڑا کر ہوم لے آئی۔ وہ پھر واپس بنگلہ دیش لوٹنا چاہتی ہے۔ مرشد آباد کی پلاسی سے آئی سونالی شیخ پانچ ماہ سے اس ہوم میں ہے۔ پانچ بہنوں کے اس کنبہ کو دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہو پا رہی تھی۔ایسے کنبوں پر اسمگلروں کی خاص نظر رہتی ہے۔ سب سے بڑی سونالی کو اچھا کام دلوانے کے بہانے ایک اسمگلر نے اس کے والدین کو راضی کر لیا۔ اس نے اسے بھی جسم فروشی میں لا پھینکا۔ پھر کچھ ماہ بعد ہی وہ سنلاپ کی مدد سے باہر نکلی۔ ہوم میں وہ زری کا کام اور ٹیلرنگ سیکھ رہی ہے۔ کولکاتہ کی ایک دوسری رضا کار تنظیم سے جڑی ایک خاتون نے بتایا کہ ایک کمسن لڑکی کو یہ ثابت کر پانا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ فلاں آدمی نے ہی اسے اس پیشہ کو اپنانے پر مجبور کیا۔یہاں تک کہ سرکاری وکیل کو بھی یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس کا کیس لڑ رہا ہے۔ یہ کیس کی چھان بین کرنے والے پولس افسر پر منحصر ہوتاہے۔ اگر60دن کے اندر فرد جرم داخل ہو گئی تب بھی ضمانت نہیں ملتی ہے۔ویسے قانون میں بھی کئی خامیاں ہیں۔ اسمگلنگ اممورل ٹریفکنگ (پرونشن)ایکٹ (اٹپا) کے دائرے میں آتی ہے، جس کا استعمال تعزیرات ہند کی دفعات سے وابستہ ہے۔ رضاکار تنظیموں کا ماننا ہے کہ اگر اسے ایک خصوصی قانون کے طور پر خواتین کی اسمگلنگ تک محدود رکھا جائے اور اس میں ترمیم کی جائے تو ان معاملات سے بااثر طریقے سے نمٹا جا سکتا ہے۔ دفعہ 7میں کہا گیا ہے کہ سیکس ورکروں کی بستی کے 200میٹر کی دوری کے دائرے میں اگر کوئی مندر، مسجد، گرجاگھر، اسکول، کالج یا اسپتال ہوگا تو سیکس ورکرس اور گاہک دونوں اس دفعہ کے تحت سزاکے مستحق ہوںگے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ علاقہ کے آس پاس نئے مندر، مسجد،گرجا، اسکول کالج یا اسپتال بنا کر اس قانون کے سہارے سیکس ورکروں کو بربادکیا گیا ہے۔ اٹپا کی دفعہ8بھی جسم فروشوں کی زندگی اور روزگار کے لیے مناسب نہیں ہے۔ عام طور پرجسم فروش اور ممکنہ سیکس ورکر کثیر آبادی والے علاقوں میں ہی گاہکوں کو رجھانے کا کام کرتی ہیں۔ کچھ پولس اہلکار اس دفعہ کے بہانے دانستہ طور پرجسم فروشوں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ایسی جسم فروش لڑکیاں یا عورتیں جو صرف کھڑی رہتی ہیں اور گاہکوں کو رجھانے اور مائل کرنے کے لئے ادائیں نہیں دکھاتیں ،انہیں بھی کیس میں پھنساکر پولس رشوت لیتی ہے اور ان پر زیادتی کرتی ہے۔ ادھر رشوت کی رقم کا انتظام کرنے کے لئے جسم فروشوں کومالک یا مہاجن کے پاس سے 100روپے کاقرض فی یوم2روپے سود، یعنی سالانہ 720روپے فیصد کی شرح سے قرض لینا پڑتا ہے۔ قرض کی ادائیگی کے لئے زیادہ کمائی کے لالچ میں جسم فروش خواتین غیر محفوظ جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ ایچ آئی وی کا پتہ لگانے پر رضاکار تنظیم انہیں پیشے سے نکال لیتی ہے اور پھر شروع ہوتی ہے ان کی ازسر نو زندگی شروع کرنے کی جدوجہد۔ ان سب وجوہات سے سرکاری و غیر سرکاری فلاحی گروپس پر ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور گنجائش سے زیادہ لڑکیوں کو رکھنا پڑتا ہے، جس سے پرورش، صفائی ستھرائی اور بہتر صحت بحال رکھنے میںکافی مشکل ہوتی ہے۔
رضاکار تنظیمیں ایچ آئی وی متاثرہ لڑکیوں کی شادیاں اس مرض سے متاثرہ لڑکوں سے کرنے کے لیے آمادہ کرتی ہیں۔2008میں سن لاپ نے شمالی چوپیس پر گنہ کے ایک ایسے ہی نوجوان سے اپنے ہوم کی ایک لڑکی کی شادی کرائی تھی۔ سن لاپ کی ڈائریکٹر اندرانی سنہا نے ’چوتھی دنیا‘ کو بتایا کہ محدود وسائل کے باوجودہم لڑکیوں کو بہتر زندگی کے لئے تربیت دیتے ہیں، جس میں سلائی ، کڑھائی، زری، بلاک پرنٹنگ اور ٹیلرنگ جیسے کام شامل ہیں۔اب تک سن لاپ میں تربیت یافتہ 30لڑکیاں باہر کام کررہی ہیں۔
سن لاپ کی ہی پروگرام کوآرڈینیٹر تاپتی بھومک نے بتایا کہ 1996میں ممبئی کے کماٹی پور میں بڑے پیمانے پر مارے گئے چھاپے کے بعد معلوم ہوا کہ 60فیصد لڑکیاں آندھرا پردیش کی تھیں، لیکن اب ممبئی اور پنے کے چھاپوں میں جن لڑکیوں کو دلدل سے باہر نکالا جاتا ہے، ان میں سے 90فیصد مغربی بنگال کی ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے بنگال میں بڑھتی اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ رضاکار تنظیموں اور حکومت کا درد سربھی بڑھا ہے۔ سی آئی ڈی کا انسداد اسمگلنگ سیل بھی ہے۔ بنگال، نیپال اور بنگلہ دیش کی سرحدوں سے متصل ہے اور ریاست میں تشکیل شدہ اسمگلنگ گروپوں کا بین الاقوامی سطح پر نیٹ ورک ہے۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں سب سے زیادہ ہوم بنگال میں ہیں۔ بنگال میں 18سرکاری ہوم ہیں، جن میں سب بڑا ہوم للوا کا ہے۔ اس میں 400متاثرین افراد کو رکھنے کی گنجائش ہے، ابھی اس میں600لڑکیاں و خواتین رہ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف رضاکار تنظیموں کی جانب سے چلائے جانے والے ہوم کی تعداد26ہے۔ ان سب کے باوجود مسئلہ سے نجات کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔ ہوم میں غیر یقینی مستقبل کا دھندلکا ہے تو ہوم کے باہر بھی اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دیتا ہے۔
کولکاتا کے سینٹ جیویرس کالج کی پروفیسر اننیا چٹرجی نے 2009میں اپنی ڈاکیومنٹری ’’انڈراسٹنڈنگ ٹریفکنگ‘‘ میں لڑکیوں کی اسمگلنگ اور ان کی بازآباد کاری کے مسائل کی چھان بین کی ہے۔ اسے ’لاڈلی یونائٹیڈ نیشنس پاپولیشن فنڈ‘ کی جانب سے ایوارڈ بھی ملا، جسے اسی سال مئی میں صدر جمہوریہ پرتبھا دیوی سنگھ پاٹل کے ہاتھوں تفویض کیا گیا۔ چوتھی دنیا سے بات کرتے ہوئے اننیا نے بتایا کہ اس ڈاکیومنٹری کے دوران انہیں نیپال سرکار سے تو تعاون ملا، لیکن خالدہ ضیاء کی حکومت نے ٹیم کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی۔
انہوں نے بتایاکہ نیپال اور ہندوستان سے ہر ماہ تقریباً 500لڑکیاں ہندوستان لائی جاتی ہیں، لیکن انہیں واپس بھیجنے کی شرح کافی کم ہے۔ اننیا نے ڈاکیومنٹری میں رامائن کتھا کی طرز پر بتایا ہے کہ اگر کوئی لڑکی یا خاتون اخلاقی حدود عبور کرتی ہے تو اس پار اسمگلروں اور دلالوں کی شکل میں راون موجود ہوتا ہے، جو اس کا اغوا کرکے جسم فروشی کے دھندے میں قید کردیتا ہے۔ یہاں سے نکلنے کے بعد خاتون سماج کے سامنے سخت آزمائش دینے کے قابل بھی نہیں رہتی۔ سماج ٹھکرا دیتا ہے۔ اس کے سامنے صرف اندھیرا ہوتا ہے اور صحیح معنوں میں کہیں تو ان کی باز آباد کاری ناممکن ہوجاتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *