ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کا جلوہ 

Share Article


بھلے پارلیمنٹ میں خواتین کو کوٹہ مختص نہ ہوسکا لیکن یہ خوشی ہے کہ گزشتہ 18 برسوں میں ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کی تعدد بڑھی ہے۔ انگریزی روزنامہ ’دی ہندو ‘(مورخہ 26دسمبر 2018)کے مطابق 1983 تا 2000 کے بالمقابل 2001 تا 2018 کے دوران خواتین کی اسمبلیوں میں تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان دنوں ہریانہ اسمبلی میں خواتین ایم ایل ایز سب سے زیادہ 15 فیصد ہیں جبکہ ناگالینڈ میں خواتین کی نمائندگی صفر ہے۔ اسی طرح گوا میں خواتین کی تعداد میں کمی آئی ہے۔
1996 تا 2001 میں کیرل اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی 9.3 فیصد تھی مگر 2001 کے انتخابات کے بعد یہ کم ہو کر 5.7 فیصد ہوگئی۔ اس کے بعد تو ان کی نمائندگی 6 فیصد سے کم ہی رہی۔
شمالی مشرقی ریاستوں میں صرف آسام اور سکم میں 2001 تا 2018 خواتین کی نمائندگی اوسط سے زیادہ رہی۔ خطہ کی دیگر ریاستیں بھی قومی اوسط سے نیچے رہیں۔ اتراکھنڈ ، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور تلنگانہ کا کوئی ڈاٹا دستیاب نہیں ہے کیونکہ یہ نئی ریاستیں ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *