عورت کا اصل حسن​

Share Article

 

عورت کا اصل حسن کس چیز میں ہے؟ کس زیور سے آراستہ ہو کر وہ دوسروں کی نگاہ میں عزت و وقار حاصل کر سکتی ہے؟ کیا لباس کی شوخی ، زیورات کی چمک اور چہرےکے میک اپ سے یہ مقام مل سکتا ہے؟ ہر گز نہیں… کبھی نہیں ، وہ ان چیزوں سے قطا یہ مقام حاصل نہیں کر سکتی۔

اس کےبرعکس شریعت اسلامیہ جو عقل سلیم اور فطرت صحیحہ کے عین مطابق ہے اس کی نظر میں عورت کی سب سے خوبصورت چیز حیاء ہے ۔

ہاں ہاں ! وہی حیاء جو مومن دل سے نمودار ہوتا ہے، جس میں ایمان شامل ہو، جس پر اللہ تعالی کے ذکر اور قرآن کی چمک اور پالش ہو۔

علماء نے حیاء کی تعریف یوں کی ہے:

حیاء ایک ایساعمدہ اسلامی اخلاق ہے جو قبیح چیزوں کے چھوڑ دینے پر ابھارتا ہے ، اور صاحب حق تک اس کا حق پہچانے میں تقصیر و کوتاہی سے روکتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا ہے :

” ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے ، اور اسلام کا اخلاق حیاء ہے ۔” (موطا لمالک ، حسن الخلق)

ایک اور حدیث میں ہے :

” رسول صلی اللہ علیہ وسلم اوڑھنی میں ملبوس کنواری لڑکی سے بھی زیادہ با حیاء تھے۔” (مسلم)

حیاء ایک ایسا اخلاق ہے جو ہر انسان کو خوبصورت بناتا ہے ، لیکن یہ عورت پر اور بھی زیادہ صادق اور تاکید والا ہے ۔ حیاء کے بغیر عورت میں کوئی خیر اور بھلائی نہیں ۔

قرآن مجید نے حضرت موسی کے قصے میں عورت کے حیاء کی تعریف یوں کی ہے ۔ فرمایا :

” ان میں سے ایک ، جو شرماتی چلی آتی تھی، موسی کے پاس آئی۔” ( سورۃ القصص )

قرآن کا یہ بیان ایسی چیز کے متعلق ہے جس سے ہر مسلم ، فرمانبردار اور صالح خاتون کو آراستہ ہونا چاہیے ، اور حیاء کو مسلم خاتون کے تمام تصرفات میں ظاہر ہونا چاہیے۔

اس کے کپڑے اور حجاب میں ، اس کی چال میں ، اس کی گفتگو میں ، حتی کہ اس کے تمام معاملات میں ، چنانچہ اس کی گفتگو میں نرمی اور مٹھاس، اور اس کی چال میں کسی طرح کا تصنع اور میلان نہیں ہون چاہیے، اور اس کے لباس میں کسی طرح کی شوخی نہیں ہونی چاہیےاور نہ اسے ٹیلی فون پر کسی سے زیادہ بات کرنی چاہیے۔

اور جب مسلم خواتین کا حیاء اٹھ گیا تو اس وقت ان کی حالت ایسی ہو گی کہ اس پر ماسوائے رونے اور اللہ سے شکوہ کرنے کے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ نیز ان کی صفوں میں انحراف شروع ہو چکا ہے۔ ، اس لیے اب اللہ تعالی سے ہی مدد مطلوب ہے ۔

اے اللہ کی بندیو ! تم اپنی حیاء کو برقرار رکھو ، یہ بڑا قیمتی خزانہ ہے۔

ایک شاعر کہتا ہے :

جب چہرے کا پانی کم ہو جاتا ہے تو اس کی حیاء بھی کم ہو جاتی ہے
اور جس چہرے کی حیاء کم ہو جائے اس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *