مکان مالکن نے کروایاخاتون کا گینگ ریپ، زانی مردوں سے کرتی تھی کمائی

Share Article
rape-demo
مشرقی دہلی سے ایک سنسنی خیزمعاملہ سامنے آیاہے، جہاں ایک 28سالہ خاتون کے ساتھ کئی بارریپ اورایک بارگینگ ریپ کا انکشاف ہواہے۔متاثرہ خاتون بنیادی طورپرمغربی بنگال کی رہنے والی ہے۔معاملہ مشرقی دہلی کے گیتاکالونی کاہے۔متاثرہ کا الزام ہے کہ اس کے ساتھ یہ سنگین جرم کروانے والی کوئی اورنہیں بلکہ اس کی مکان مالکن ہی ہے۔متاثرہ کا الزام ہے کہ جس شخص نے اس کے ساتھ ریپ کیااسے اس کی مکان مالکن ہی لیکرآئی تھی۔ملزم خاتون ان آدمیوں کے ساتھ پیسے کی ڈیل کرکے مجبورکرائے دارخاتون کاریپ کرواتی تھی۔خاتون اور ریپسٹ ملزمین دونوں کوپولس نے گرفتارکرلیاہے۔متاثرہ نے پولس کوبتایاکہ اس کے شوہرمشرقی دہلی میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتے ہیں۔لیکن پچھلے سال سیلنگ کے دوران جب ان کی کمپنی بندہوگئی تووہ بے روزگارہوگئے۔ اکتوبر2018میں جب اس خاندان کے پاس کرایہ دینے کے پیسے نہیں تھے تومکان مالکن نے متاثرہ خاتون کواپنے گھرمیں کام کرنے کا آفردیا۔کچھ دن کے بعد مکان مالکن نے کہاکہ وہ اس کے ساتھ بزنس مین ساتھی کے ساتھ اس کے کام میں ہاتھ بٹاسکتی ہے۔جب وہ اپنی ایک سالہ بیٹی کے ساتھ وہاں پہنچی تواس خاتون نے متاثرہ کے ہاتھ سے اس کی بیٹی کوچھین لیا اوراس بزنس مین کے کمرے میں اسے دھکادیکربھیج دیا۔اس کے بعد اس شخص نے اس کے ساتھ ریپ کوانجام دیاہے۔
مکان مالکن خاتون نے متاثرہ کودھمکی دی تھی کہ اس کا فحش ویڈیوبنوالیاہے، اگروہ پولس کے پاس جائے گی تووہ اسے سوشل میڈیا پروائرل کردے گی۔اس نے بتایاکہ ریپ کے بعد اسکی بلڈنگ(خون) شروع ہوگئی تواسے سینٹرل دہلی کے ایک سرکاری اسپتال میں داخل کروایاگیا، وہ اسے علاج کے بہانے ایک کمرے میں لیکرگیا اوراس کے ساتھ دوبارہ ریپ کیاگیا۔ اس کے بعد اس خاتون نے کئی دیگرآدمیوں سے اس کا ریپ کروایا، یہاں تک کہ اس نے اپنے رشتے دار اوردوستوں سے بھی ایک باراس کے ساتھ گینگ ریپ کروایا۔آخرمیں متاثرہ نے پریشان ہوکر اپنے شوہرکوساری باتیں بتائی جس کے بعد وہ ایک این جی اوکے توسط سے پولس کے پاس گئے۔ڈی سی پی میگھنا یادونے بتایاکہ ملزموں کے خلاف گینگ ریپ کا معاملہ درج کرلیاگیاہے۔کل ملاکرمعاملہ سنجیدہ ہے اورامیدکی جانی چاہئے کہ دہلی پولس معاملے کی سنجیدگی کودیکھتے ہوئے متاثرہ کوانصاف دلانے کی سمت سخت قدم اٹھائے گی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *