وسیم احمد
حاجیوں کے لئے پہلی فلائٹ کا اعلان ہوچکا ہے ۔17 ستمبر کو حاجیوں کا پہلا قافلہ سعودی عرب کے لئے روانہ ہوگا اور یکم نومبر کو ان کی واپسی شروع ہوگی۔حج کا موسم جوں جوں قریب آرہا ہے عازمین کے دلوں میں زیارت کا جذبہ بڑھتا  جارہا ہے۔اسی جذبے کو لے کر وہ اپنی اپنی ریاستوں کے حج ہائوس میں جاتے ہیں تاکہ فارم بھر کر قرعہ میں اپنا نام شامل کراسکیں مگر وزارت خارجہ کے ایک نئے اعلان نے حاجیوں کے لئے نئی مصیبت کھڑی کردی ہے۔اب حاجیوں کو فارم بھرنے کے لئے اتنا بھٹکنا پڑتا ہے جتنا اس سے پہلے کبھی نہیں  بھٹکنا پڑا۔ دراصل وزارت خارجہ نے پاسپورٹ  کے لئے براہ راست دفتر میں درخواست جمع کرنے کے بجائے اب یہ کہا ہے کہ فارم آن لائن بھرے جائیںگے۔فارم بھرنے کے بعد جانچ کی جائے گی اور جانچ میں جس حاجی کی مذکورہ تفصیل مکمل پائی جائے گی اسے ہی پاسپورٹ دیا جائے گا یعنی وہی حاجی اب زیارت کے لئے سفر کرسکیں گے جنہوں نے مکمل فارم پُر کیا ہو اور تمام تفتیشی مراحل کا سامنا کیا ہو۔اب تک حاجیوں کو اس طرح کی پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ ان کے فارم براہ راست دفتر میں جمع ہوتے تھے مگر نئے اعلان کی وجہ سے ان کے پاسپورٹ بننے میں بہت تاخیر ہورہی ہے۔

حج پر جانے والوں میں بیشتر کا تعلق دیہات اور گائوں سے ہوتا ہے۔یہ لوگ انجان اور انپڑھ ہوتے ہیں ۔ انہیں کمپیوٹر کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہوتی۔گائوں میں سائبر کیفے بھی نہیں ہوتا۔انہیں اپنا فارم بھروانے کے لئے شہر جانا پڑتا ہے اور وہاں سائبر کیفے  کی تلاش میں بھٹک رہے ہوتے ہیں ۔اس وقت ریاست  اتر پردیش کے 72 ضلعوں  کے عازمین کو اس طرح کی پریشانیوں کا سامنا ہے۔ وہ شہر  پہنچ کر سائبر کیفے  میںجاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بجلی نہیں ہے۔فٹ پاتھ پر وقت گزار کر بجلی آنے کا انتظار کرتے ہیں۔ جب بجلی آتی ہے تو سائبر کیفے چلانے والے من مانے پیسے مانگتے ہیں۔

ملک کے سب سے بڑے صوبے یوپی کا یہ حال ہے کہ حاجی ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں ۔ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کس طرح اور کہاں اپنا فارم بھریں۔کیونکہ حج پر جانے والوں میں بیشتر کا تعلق دیہات اور گائوں سے ہوتا ہے۔یہ لوگ انجان اور انپڑھ ہوتے ہیں ۔ انہیں کمپیوٹر کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہوتی۔گائوں میں سائبر کیفے بھی نہیں ہوتا۔انہیں اپنا فارم بھروانے کے لئے شہر جانا پڑتا ہے اور وہاں سائبر کیفے کی تلاش میں بھٹک رہے ہوتے ہیں۔اس وقت ریاست اتر پردیش کے 72 ضلعوں کے عازمین کو اس طرح کی پریشانیوں کا سامنا ہے۔ وہ شہر  پہنچ کر سائبر کیفے  میںجاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بجلی نہیں ہے۔فٹ پاتھ پر وقت گزار کر بجلی آنے کا انتظار کرتی ہیں۔ جب بجلی آتی ہے تو سائبر کیفے چلانے والے من مانے پیسے مانگتے ہیں ۔جب اس کی شکایت حج آفس میں کی جاتی ہے تو وہ بے بسی کا اظہار کرتے ہیں ۔ان کا جواب ہوتا ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسا متبادل نہیں ہے جس سے وہ حاجیوں کی ان پریشانیوں کو دور کرسکیں۔
پہلے حج کمیٹی کی طرف سے حاجیوں کے لئے عارضی پاسپورٹ جاری کردیا جاتا تھاجس سے عازمین کو بڑی سہولت تھی ۔آسانی کے ساتھ ان کا پاسپورٹ بن جاتا تھا اور عارضی پاسپورٹ کے لئے نہ تو زیادہ کاغذی  خانہ پری کرنی پڑتی تھی اور نہ ہی  ادھر ادھر بھٹکنا پڑتاتھا لیکن وزارت خارجہ نے اس نظام کو بدل کر حج کے لئے انٹرنیشنل  پاسپوٹ لازمی قرار دے دیا۔ اس کے علاوہ اس میں دیگر کئی پیچیدگیاں بھی پیدا کردی ہیں ،جن کو حجاج نہ تو ٹھیک سے سمجھ پارہے ہیں اور نہ ہی ان کی خانہ پری کرپارہے ہیں۔اس کامنفی اثر یہ ہو رہا ہے کہ وہ دلالوں کے جال میں پھنستے جارہے ہیں ۔ اس نئے اعلان کے بعد تو جیسے دلالوں کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہوں،منہ مانگی قیمت وصول کرتے ہیں  اور اگر ان کی مانگی ہوئی رقم نہ دی جائے تو آن لائن فارم بھرنے سے منع کردیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں عازمین کے لئے ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ دلال کی خوشامد کریں اور ان کی منہ مانگی قیمت  ادا کریں۔ یہ دلال اتنے چالاک ہوتے ہیں کہ حج آفس کے سامنے منڈلاتے رہتے ہیں مگر کسی کو بھنک تک نہیں لگتی۔اس نئے قانون نے نہ صرف دلالوں ، سائبر کیفے کے مالکوں کو بلکہ پولیس کے لئے بھی لوٹ کھسوٹ کا پورا موقع فراہم کردیا ہے۔ چونکہ عازمین حج کو ایل آئی یو(local intelligence unit) رپورٹ سے علاحدہ  نہیں کیا گیا ہے اس لئے ان کی انکوائری کے وقت پولیس والے اچھی خاصی رقم وصول کرتے ہیں ۔ حاجی اپنی زندگی کی گاڑھی  کمائی ان پولیس افسروں کو دے کر اپنا پاسپورٹ بنواتے ہیں۔
عازمین کے لئے  آن لائن فارم کی خانہ پُری کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کو حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔اگر حکومت اس مسئلے کا کوئی آسان حل تلاش نہیں کرتی ہے تو ایسی صورت میں بہت سے عازمین کا یہ مبارک خواب ادھورا رہ جائے گا ۔ اتر پردیش کے ریاستی  وزیر اعظم خان نے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کو ایک خط میں حاجیوں کی ان پریشانیوں کی شکایت کی ہے اور کہا ہے کہ نئے قانون نے حاجیوں کے لئے مسائل کھڑے کردیے ہیں ،لہٰذا اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور پاسپورٹ کی راہ میں جو رکاوٹیں ہیں انہیں دور کیا جائے۔انہوں نے اپنے خط میںحکومت کی طرف سے ایئر لائن کے تئیں  اپنائی گئی پالیسی میں تبدیلی لانے کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ اب تک حج کمیٹی سے جانے والے عازمین کے لئے یہ لازمی قرار دیا جاتا رہا ہے کہ وہ انڈین ایئر لائنس سے ہی سفر کریں جبکہ انہیں اس ایئر لائنس میں کئی طرح کی مشقتوں کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔جبکہ دیگر ایئر لائنس کم قیمتوں میں زیادہ سہولتیں  دے کر سعودی عرب لے جانے کے لئے تیار ہیں۔ اس طرح کے مطالبے ملک کے مختلف مکتبہ فکر کے دانشوروں اور علماء نے بھی  کئے اور حکومت کی توجہ اس طرف دلائی ہے کہ قرعہ اندازی کا وقت قریب آتا جارہا ہے مگر پاسپورٹ مکمل نہ ہونے کے سبب عازمین فارم نہیں بھر پارہے ہیں۔ دلی حج ہائوس کے چیئرمین پرویز میاں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وقت قریب ہونے کے باوجود عازمین کے فارم بہت کم تعداد میں  جمع ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہے  کہ 25 اپریل فارم بھرنے کی آخری تاریخ ہے۔ 15 مئی کو قرعہ اندازی کی تاریخ طے کی گئی ہے مگر اب تک توقع کے مطابق فارم نہیں جمع ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے جب تک ان کے پاسپورٹ تیار نہیں ہوتے، اس وقت تک ان کے فارم آن لائن جمع  نہیںکیے جاسکتے ہیں اور پاسپورٹ بننے میں وزارت خارجہ کا نیا قانون رکاوٹ بن رہا ہے جس کی وجہ سے حاجیوں میں بے چینی پائی جارہی ہے۔
پاسپورٹ میں سہولت دینے کے لئے مسلسل مطالبے کے بعد حکومت نے کچھ رعایت دی ہے۔ ایسے عازمین جن کے انٹرنیشنل پاسپورٹ  اب تک نہیں بن سکے ہیں اور جانچ میں تاخیر ہورہی ہے ایسے عازمین کے لئے وزارت خارجہ نے ایک سہولت یہ دی ہے کہ وہ حلف نامہ داخل کرکے ایک سال کے لئے عارضی پاسپورٹ بنوا سکتے ہیں۔مگر اس اعلان کا فائدہ نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ اضلاع میں حلف نامہ داخل کرنے کے لئے جو دفاتر کھولے گئے ہیں وہ ضرورت سے بہت کم ہیں ایسے میں ہر دفتر پر حاجیوں کا ہجوم رہتا ہے ۔ان کا کام جتنی سست رفتاری سے ہورہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ایسا نہیں لگتا ہے کہ وہ وقت مقررہ تک سفر حج کے لئے تمام کاغذی کارراوئیاں پوری کر سکیں گے۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ حاجیوں کے پاسپورٹ کے لئے یا تو حج کمیٹی کو مکمل اختیار دے اور جس طرح پہلے عارضی پاسپورٹ بنا کر انہیں حج کی اجازت دی جاتی تھی، اسی طرح پھر ان کے لئے حج کمیٹی کے توسط سے عارضی پاسپورٹ بنانے کا اختیار دے اور آن لائن فارم جمع کرنے کا جو اعلان ہوا ہے اس اعلان کو واپس لے، ورنہ گائوں، جہاں ملک کی تقریباً 60 فیصد آبادی رہتی ہے کے عازمین اس مقدس سفر سے محروم رہ جائیں گے۔جہاں تک انٹرنیشنل پاسپورٹ پر ہی سعودی حکومت کی طرف سے ویزا جاری کرنے کی بات ہے، تو اس سلسلے میںہندوستانی وزارت خارجہ کو چاہئے کہ سعودی حکومت سے بات کرے اور ہندوستانی عازمین کے لئے رعایت حاصل کرے۔اگر حکومت حج کمیٹی کو خود مختاری دینے میں رکاوٹ محسوس کرتی ہے تو پھر کسی ایسے اسپیشل کارپوریشن کی تشکیل دے جو مالی وسائل میں خود مختار ہو اور اس کارپوریشن کو اس بات کا اختیار حاصل ہو کہ وہ پاسپورٹ سے لے کر سعودی عرب میں حاجیوں کے مسائل اور سفر کے وسائل کی مکمل دیکھ ریکھ کرے۔ ملیشیا میں اسی طرح کا نظام حاجیوں کے لئے موجود ہے ۔ اس کا فائدہ یہ ہورہا ہے کہ حاجیوں کا کام بڑی آسانی سے انجام پا جاتا ہے۔اگر انہیں ایک مرتبہ کسی طرح کی کوئی دقت پیش آتی ہے تو یہ کارپوریشن فوری طور پر حرکت میں آتی ہے اور دوسرے سال پھر کسی حاجی کو اس طرح کی دقتیں پیش نہیں آتی ہیں مگر ہمارے ملک میں بار بار حاجیوں کے استحصال کی خبریں  آنے کے باجوجود اس کے حل کے لئے سنجیدگی سے غور نہیں کیا جاتا ہے۔ کچھ سال پہلے راجیہ سبھا کے چیئر مین کے رحمن نے اس طرح کی کارپویشن کے قیام کا مطالبہ کیا تھا مگر ان کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی کیونکہ  حکومت  عازمین کے اس ادارے کو خود مختار بنانا ہی نہیں چاہتی ۔حکومت تو حاجیوں کے لئے جو کچھ کرتی ہے اس کے پیچھے مقصد ہوتا ہے  ووٹ بینک۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت حاجیوں کے لئے جو سبسڈی جاری کرتی ہے اس کا پورا فائدہ سرکاری ادارہ انڈین ایئر لائنس کو ملتا ہے مگر احسان ڈالا جاتا ہے مسلمانوں پر،جبکہ ملک کا مسلمان حکومت سے سبسڈی نہیں ، سہولتیں چاہتا ہے۔سچ  تو یہ ہے کہ مسلمانوں کو عبادت کی ادائیگی میں نہ تو سرکاری امداد کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی طرح کی رعایت کی۔ حج بھی ایک عبادت ہے اور اس کی ادائیگی میں حکومت کی طرف سے امداد پانے کی تمنا کسی کو نہیں ہے۔البتہ ملک کا شہری ہونے کے ناطے ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ حکومت ان کے لئے وہ تمام سہولتیں فراہم کرے جو ملک کے ایک شہری کا حق ہے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس عظیم عبادت کی راہ میں جو بھی انتظامی رکاوٹیں ہیں انہیں دور کرے اور کوئی ایسی نئی  پالیسی نہ اختیار کرے جس سے انہیں مشکلیں پیش آئیں۔ اگر حکومت سبسڈی کو روک لے اور اس کے بجائے ان کے لئے قانونی و دیگر مسائل کو حل کردے تو یہی عازمین کے لئے بہت بڑا کام ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here