کیا اپنی غلطیوں سے بی جے پی کچھ سبق سیکھے گی

Share Article

کہتے ہیں کہ غلطیوںسے سبق سیکھنے کی عادت ہی کامیابی کی راہ کھولتی ہے۔ جو غلطیوںسے نہیں سیکھتا ، وہ بکھر جاتا ہے۔ تمام تر امیدوں اور کوششوںکے باوجود جب پچھلے اسمبلی انتخابات میںریاست بہارمیں بی جے پی اقتدار سے دور رہ گئی تو ایک لمحہ کو ایسا لگا کہ اب آگے کی راہ پارٹی کے لیے کافی مشکل ہوگئی ہے۔ بی جے پی نے جانے انجانے میں 2015 کے اسمبلی انتخابات میں اتنی غلطیوںکو انجام دے دیا کہ اس کا بنابنایا کھیل ہی بگڑ گیا ۔مخالف اتحاد کو کم آنکنا اور زمینی حقیقت سے الگ فیصلے لے کر بی جے پی نے اقتدار میں واپسی کا ایک سنہرا موقع کھودیا۔ لیکن پارٹی کے لیے اطمینا ن کی بات یہ ہے کہ بہت جلد ہی وہ ہار کے صدمہ سے ابھر کر آگے کی راہ پکڑنے کی قواعد میںجٹ گئی ہے۔
ریاستی سربراہ کو فری ہینڈ
بھروسہ مند ذرائع پر بھروسہ کریں تو امت شاہ نے ریاستی صدرنتیانند رائے کو فری ہینڈ دے دیا ہے۔ امت شاہ نے نتیانند رائے سے صاف کہہ دیا کہ انھیں 2014 والے مظاہرے کو ریاست میںدوہرانا ہے۔ اب یہ کام کیسے ہوگا، اس کی پوری پلاننگ شری رائے کو کرنی ہے۔ نتیانند رائے یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے سامنے چیلنج کافی سخت ہے۔ لالو پرساد اور نتیش کمار اگر ایک بنے رہے تو 34 والے عدد کو پانا تقریباً ناممکن ہوجائے گا۔ نریندر مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ کا جو کرشمہ کام کرے لیکن اگر مہا گٹھ بندھن متحد رہا اور پسماندہ ذاتوں کی مضبوط گول بندی جاری رہی تو پھر اسمبلی والا ہی حال ہوجائے گا۔ بی جے پی کے پالیسی ساز یہ سمجھ رہے ہیںکہ ریاست میںجس طرح ترقی پر ذات پات کی گول بندی حاوی رہتی ہے،ویسے مہاگٹھ بندھن میں شگاف ڈالے بغیر لوک سبھا کا مہارن جیتا نہیں جاسکتا ہے۔
اس لیے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں مہاگٹھ بندھن کی کمزورکڑی یعنی لالو اینڈ فیملی پر تابڑ توڑ حملے کی حکمت عملی بنائی گئی۔ریاستی کمیٹی کی تشکیل میں سشیل مودی کو لے کر جو کڑواہٹ تھی، اسے بھی دور کرنے کا کہا گیا۔ طے ہوا کہ نتیش کمارپر حملے کم سے کم ہوں اور لالواور ان کے خاندان کی بدعنوانی کو جم کر اچھالا جائے۔ گڈ گورننس کی دہائی دے کر نتیش کمار سے بس اتنا پوچھا جائے کہ قانون کاراج اسی طرح سے چلتا ہے۔ میٹنگ کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سشیل مودی کو دستاویزکا پلندہ دے کر آگے کردیا گیا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ لالو اور ان کے خاندان سے جڑی بدعنوانی کی دستاویز کو مہیا کرانے میںجے ڈی یو کا ایک گروپ بھی سرگرم ہے۔ لالو کے بڑے بیٹے چونکہ فوری طور رپر ردعمل دیتے ہیں اس لیے شروعات ان ہی سے کی گئی اور مال کی مٹی کو زو میں کھپانے کا مدعا اچھالا گیا۔ اس کے بعد تو گھیرے میں تیج پرتاپ،رابڑی دیوی، میسا بھارتی اور ان کے شوہر شیلیش آتے چلے گئے۔
اس بیچ چارہ گھوٹالے میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے نے بی جے پی کو منہ مانگا وردان دے دیا۔ الزامات کو چونکہ کورٹ کی بھی بیساکھی مل گئی تو بی جے پی نے بدعنوانی کے ان مدعوں کو سڑکوں پر بھی لے جانے کا پروگرام بنا لیا۔ سبھی ضلع ہیڈ کوارٹروں میں پارٹی نے دھرنا پردرشن کرکے عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ نتیش کمار گڈگورننس کی بات تو کرتے ہیں لیکن لالو اور ان کی بدعنوانی پر چپ ہیں۔ سشیل مودی کہتے ہیں کہ اگر نتیش کمارصحیح معنوںمیںگڈ گورننس کے لیڈر ہیں تو اب تک تیجسوی اور تیج پرتاپ پر کارروائی کیوں نہیں کررہے ہیں۔ سشیل مودی سوال داغتے ہیںکہ وزیر تیج پرتاپ اور تیجسوی یادو کے ذریعہ داخل کیے گئے جائیداد اورعمر کے جھوٹے حلف نامہ کے خلاف کارروائی کرنا وزیر اعلیٰ کے دائرے سے باہر کیسے ہے؟ کوآپریٹو میں سیکڑوںاراکین اسمبلی کے انتظار کے باوجود لالو پرساد اور جے پرکاش یادو کو دو دو پلاٹ الاٹ ہونے پر نتیش کمار کی نظر کیوںنہیںجارہی ہے۔

 

750 کروڑ روپے کے مال کی تعمیر
محکمہ ماحولیات کی اجازت کے بغیر 750 کروڑ روپے کے مال کی تعمیر ہونے دینا کیا نتیش کمار کے دائرے سے باہر کی چیز ہے۔ بی جے پی کا اس طرح لالو اینڈ فیملی پر حملہ کرکے نتیش کمار کو کٹہرے میںکھڑا کرنے کی حکمت عملی مہاگٹھ بندھن کو کمزور کرنے کی پہلی قواعد ہے جو بہت حد تک نشانے پر لگی ہے۔ نتیش کمار اس معاملے میں بہت ہی سنبھل کر بول رہے ہیں اور اپنی گڈ گورننس کی امیج کو بچانے میںلگے ہوئے ہیں۔ گڈ گورننس ہی نتیش کمار کا سرمایہ ہے اور اسے وہ کھونا نہیںچاہیں گے۔ بی جے پی کے تھنک ٹینک مان کر چل رہے ہیںکہ جس طرح سے بدعنوانی کا معاملہ بہار میںسب کی زبان پر چڑھتا جارہا ہے، اس سے گھبراکر ایک نہ ایک دن نتیش کمار کو کچھ سخت فیصلے کرنے ہی پڑیںگے۔
اسی طرح انٹر ٹاپر کو لے کر سرکار کو جو شرمندگی اٹھانی پڑرہی ہے،اسے بھی بی جے پی ہتھیار بنا رہی ہے۔ وزیر تعلیم اشوک چودھری چونکہ کانگریس کوٹے سے ہیں اس لیے بی جے پی کو لگ رہا ہے کہ اگر اس معاملے کو بھی لالو کی بدعنوانی کی طرح سڑک سے لے کر ایوان تک اچھالا جائے تو کانگریس کو لے کر بھی نتیش کمار پر دباؤ بڑھے گا۔ کہا جائے تو بی جے پی نے مہاگٹھ بندھن کو کمزور کرنے کاا پنا جو پہلا ٹاسک ہاتھ میں لیا تھا، اس میں وہ کامیاب ہوتی جارہی ہے۔ اب دوسرا ٹاسک پچھڑوں کی گول بندی مہا گٹھ بندھن کے حق میں روکنے کی ہے۔ یہ ٹاسک بی جے پی کے لیے نیا نہیں ہے۔ دیکھیں تو اسمبلی انتخابات کے دوران بھی اس سمت میں پارٹی نے کام کیا تھا لیکن وہ آدھے ادھورے من سے ہوا تھا۔ بی جے پی اب اپنی پرانی غلطی کو سدھارنے میں لگی ہے۔

 

یوپی کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کا بہار دورہ طے کردیا گیا ہے۔ کشواہا سماج کے مضبوط لیڈر سمراٹ چودھری کو ان کی موجودگی میں پارٹی میں شامل کرایا گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ کشواہا سماج میں سمراٹ چودھری کی اچھی پکڑ ہے۔ سمراٹ چودھری کو آگے کرکے بی جے پی کشواہا اور دیگر پسماندہ ذاتوں کو گول بند کرنے کے لیے کوچ کررہی ہے۔ ماہرین بتاتے ہیںکہ بی جے پی کی تیاری ہے کہ ڈویژن سطح پر پسماندہ اور انتہائی پسماندہ ذاتوں کی بڑی کانفرنس کرکے اسے پارٹی کے حق میں گول بند کیا جائے۔ اسے لے کر بی جے پی میں بہت ہی سنجیدگی کے غورو فکر چل رہا ہے اور جلد ہی اس پلان کو عملی جامہ پہنادیا جائے گا۔
ریاستی صدر نتیا نند رائے کہتے ہیںکہ ہم لوگ بارہ مہینے عوام کے درمیان رہنے والے لوگ ہیں۔ ہم لوگ اقتدار میں رہیں یا اقتدار سے باہر، عوام سے سیدھی بات چیت رکھتے ہیں، ان کے مسائل کو سنتے ہیں اور اس کا حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شری رائے مانتے ہیںکہ بی جے پی کا ہر ایک کارکن اس وقت ریاست میںپارٹی کی عوامی حمایت مضبوط کرنے کے لیے کام کررہا ہے۔
عوام اس سرکار کی بدعنوانی اور گھوٹالے سے پریشان ہیں اور نتیش کمار سے پوچھ رہے ہیںکہ کیا ہواا ٓپ کا گڈ گورننس کا وعدہ ۔ رائے کا دعویٰ ہے کہ یہ سرکار زیادہ دنوں تک چلنے والی نہیں ہے اور جلد ہی بہار کے عوام کو اس بدعنوان سرکار سے نجات ملے گی۔ بہرحال یہ تو اس وقت کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی اپنی پرانی غلطیوں سے سیکھ رہی رہے اور صحیح ڈھنگ سے اپوزیشن کا کردار نبھانے کی کوشش کررہی ہے۔ اب یہ مہاگٹھ بندھن کی سرکار کو طے کرنا ہے کہ بی جے کے اس بڑھاؤ کو کیسے روکا جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *