Ram Mandir and Babri Masjid

ایودھیا میں ر ام مندر اور بابری مسجد تنازع معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ اس معاملے میں فیصلے کا سبھی کو انتظار ہے۔ ایسےمیں 2019میں سپریم کورٹ سے پرانے سے پرانےمعاملے کا کوئی نتیجہ نکل سکے گا یا پھر ملک کو سالوں انصاف کے لیے انتظار کرنا ہوگا۔
 
ایودھیا میں رامن مندر بابری مسجد تنازع سے جڑا کیس عدالت میں1950سے چل رہا ہے۔ کسی بھی تنازع کو سلجھانےکے لیے سات دہائی بہت طویل وقت ہوتا ہے۔ 70سال میں پیڑھیاں بدل جاتی ہیں۔ لوگ بدل جاتےہیں اور تو اور ملک کی سیاست بدل جاتی ہیں۔ملکوںکا دوبارہ تعمیر ہو جاتا ہے لیکن اس تنازع کا کوئی حل نہیں نکل سکا ہے۔ سپریمکورٹ کے چیف جسٹس رنجن گگوئی کی قیادت میںتین نئے ججوں کی بنچ اس معاملے پر 4جنوری کو سنوائی کرے گا۔ ایسے میںکیا سالوں پرانے اس معاملےکا فیصلہ2019میں آئے گا یا پھر ابھی اور انتظار کرنا پڑے گا؟
 

نیا سال کا تحفہ پٹرول اور ڈیزل ہوا سستا ، جانیے کیا ہے نئی قیمتیں

 
واضح رہے کہ ایودھیا رامن مندر بابری مسجد کی زمین کے مالکان حق کو لےکر چل رہے تنازع پر لمبے وت کے بعد الٰہ باد ہائی کوٹ کی لکھنؤ بنچ نے 30دسمبر2010میں فیصلہ دیا تھا۔ ہائی کوٹ نے منتازع زمین کو تین حصوںمیں تقسیم کرنےکا فیصلہ سنایا تھا۔ کورٹ نے تینوں فریقوں رام للا، نرموہی اکھاڑا اور سنی وقف بورڈ میں 2.77ایکڑ زمین کو برابر باٹنے کاحکم دیا تھا۔
ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ہندو مہاسبھا اور سنی سینٹرل وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کر دی تھی۔ اس کے بعد سے ایودھیا رامن مندر بابری مسجد زمین کے مالکان حق کا مقدمہ سپریم کورٹ میں اٹکا ہوا ہے۔ حالانکہ اس سال دہائیوں پرانے معاملےمیں سپریم کورٹ سنوائی کرے گا۔
 

کناڈا میں بالی ووڈ کے معروف اداکار قادرخان انتقال کرگئے

 
ایودھیا تنازع کو سلجھانے کے لیے لیڈروں سےلے عدالتوں تک بہت سی کوششیں کی جاچکی ہیں، لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ نہیںنکل سکا ہے۔ایسےمیں ساری امیدیں سپریم کورٹ سے لگیہیں۔ کورٹ اس معاملےمیں سنوائی کب ہوگی، اس پر4جنوری کو فیصلہ کرے گا۔ حالانکہ اس معاملے کے فیصلے کے لیے چاروں طرف سے آواز اٹھ رہی ہے۔
دراصل ایسا مانا جاتا ہے کہ سال1528میں ایودھیا میںایک ایسی جگہ پر بابری مسجد کا تعمیر کیا گیا جسے ہندو بھگوان رام کا پیدائش کی جگہ مانتے ہیں کہاجاتا ہے کہ متنازع جگہ پر مسجد مغل بادشاہ بابر کے وقت میں اس کے فوجی میر باقی نے بنوائی تھی۔ اس لحاظ سے500سال پرانا معاملہ پہلی بار آزادی کے بعد1950میں عدالت پہنچا۔ اس کے بعد سے ابھی تک فیصلے کا محض انتظار ہورہاہے۔ ایسے میں اب معاملہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میںہےاور سنوائی کی تاریخ بھی نئے سال کے ساتھ دستک دے رہی ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here