کیا کورٹ میں ٹك پائے گا عام طبقے کو 10 فیصد ریزرویشن کا قانون؟

Share Article

مودی حکومت کے ریزرویشن بل کو چھلاوا مان رہے مخالفین کا کہنا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر رہی ہے اور قانون بنتا بھی ہے تو عدالت اسے نہیں مانے گا۔

 

 

ریزرویشن بل: راجیہ سبھا میں مودی حکومت کا اصل امتحان آج

 

مودی حکومت نے عام طبقے کے غریبوں کے لئے 10 فیصد کوٹہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے منسلک بل لوک سبھا میں پاس ہو گیا ہے اور راجیہ سبھا میں اس پر بحث جاری ہے۔ اس درمیان ایک اہم سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ قانون کورٹ میں ٹک پائے گا؟یہ سوال اس لئے اہم ہے کیونکہ سپریم کورٹ یہ بات صاف کر چکا ہے کہ کسی بھی صورت میں 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتا جبکہ مرکزی حکومت کی طرف سے عام طبقے کے غریب طالب علموں کے لئے 10 فیصد نشستیں مخصوص کرنے سے 60 فیصد تک ہو جاتا ہے ۔

 

 

بی جے پی لیڈرکا متنازعہ بیان،کہا!ہندوستان کاہرشہربن جائے گاپاکستان

 

منگل کو لوک سبھا میں اس بل پر بحث میں مداخلت کرتے ہوئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اس بارے میں حکومت کی دلیل بیان کی۔ جیٹلی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 50 فیصد کی جو حد لگائی ہے وہ حد صرف ذات پر مبنی کے لئے لگائی ہے۔ اس کے پیچھے کورٹ کی احساس تھی کہ عام طبقے کے لئے کم از کم 50 فیصد سیٹیں تو چھوڑی جائیں ورنہ ایک کلاس نکالنے کے لئے دوسرے کلاس کے ساتھ امتیازی سلوک ہو جائے گا۔ جیٹلی کے مطابق اس لحاظ سے موجودہ بل سپریم کورٹ کے فیصلے کی احساس کے خلاف نہیں ہے۔ کیونکہ یہ 10 فیصد ریزرویشن اسی عام طبقے کو دے رہا ہے جس کے مفاد کو ذہن میں رکھتے ہوئے 50 فیصد کی حد طے کی گئی ہے۔ اسی دلیل کے مطابق حکومت کو امید ہے کہ اس کا بل سپریم کورٹ کی امتحان میں پاس ہو جائے گا۔اندرا ساہنی کیس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کسی بھی صورت میں 50 فیصد سے زیادہ ریزرویشننہیں ہو سکتا کیونکہ ایک طرف ہمیں میرٹ کا خیال رکھیں گے تو دوسری طرف ہمیں سماجی انصاف بھی دیکھنا ہوگا۔ اسی میں ایک خاص بات جسٹس جیون ریڈی نے اٹھائی کہ کچھ حالات میں حکومت 50 فیصد کی حد لائن کو پار سکتی ہے۔

 

 

کورٹ کا جھٹکازورسے لگا

 

مودی حکومت کے ریزرویشن بل کو عام طبقے کے ساتھ چھلاوا مان رہے مخالفین کا کہنا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر رہی ہے۔ کورٹ نے 50 فیصد سے زیادہ ریزرویشننہ ہونے دینے کی بات اس لئے کہی تھی، تاکہ کم سے کم آدھی نشستیں میرٹ کی بنیاد پر بھری جائیں۔اگر عام طبقے کے غریبوں کے لئے 10 فیصد کا کوٹہ مقرر کیا گیا تو میرٹ کے لئے محض 40 فیصد نشستیں رہ جائیں گی جو کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہوںگے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بل سپریم کورٹ میں ٹک نہیں پائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *