کیا پرینکا گاندھی آسانی سے ان چیلنجوں کا سامنا کر پائیں گی؟

Share Article

 

پرینکا کے لئے وہ چیلنجز کیا ہیں اور کیا وہ بہ آسانی ان چیلنجوں سے نمٹ پائیں گی، یہ دیکھنے کی بات ہو گی۔

Image result for priyanka gandhi in lucknow

لکھنؤ میں راہل- پرینکا کے روڈ شو میں امڈی زبردست بھیڑ سے کانگریس لیڈران اور کارکنان بیحد پرجوش ہیں۔ زبردست بھیڑ کو وہ اپنے حق میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی ماحول سے تعبیر کر رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان اور پارٹی اقلیتی شعبہ کے چئیرمین ندیم جاوید نے کہا کہ لکھنؤ نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ وہ ایماندارانہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ وہ ایسی تبدیلی چاہتے ہیں جس میں لوگوں کی آواز سنی جائے۔ ندیم جاوید نے کہا کہ لکھنؤ میں لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں ایک نئے انقلاب کی آہٹ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب یوپی میں تبدیلی بہر صورت آئے گی۔

 

Image result for priyanka gandhi in lucknow

تاہم، اس روڈ شو کے بعد سے ہی پرینکا گاندھی کا چیلنجوں سے پر سیاسی سفر بھی اب شروع ہو گیا ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں وہ کچھ کرشمہ کر دکھا پائیں۔ حالانکہ یہ اتنا آسان بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ پرینکا کے لئے وہ چیلنجز کیا ہیں اور کیا وہ بہ آسانی ان چیلنجوں سے نمٹ پائیں گی، یہ دیکھنے کی بات ہو گی۔ پرینکا کے لئے پہلا چیلنج پارٹی کو ریاست میں از سر نو کھڑا کرنا ہے۔ اب جبکہ لوک سبھا انتخابات بالکل قریب ہیں، ایسے میں اتنے کم وقت میں یہ آسان نظر نہیں آ رہا۔ ذرائع کے مطابق، کسی کسی ضلع میں تو پارٹی صدر تک نہیں ہیں۔ گرام پنچایت یا بلاک سطح کا بھی کوئی لیڈر نہیں ہے۔

 

Image result for priyanka gandhi in lucknow

دوسرا چیلنج پرینکا گاندھی کے لئے اپنے شوہر پر عائد الزامات کا سامنا کرنا ہے۔ پرینکا جب یوپی بالخصوص مشرقی اترپردیش جس کی ذمہ داری انہیں دی گئی ہے، انتخابی تشہیر کے لئے وہاں جائیں گی تو وہاں انہیں اپنے شوہر رابرٹ واڈرا پر لگے الزامات کا سامنا بھی کرنا ہو گا۔ واڈرا پر ڈی ایل ایف زمین گھوٹالے اور بیرون ملک منی لانڈرنگ کیس میں ان کی املاک ہونے کا الزام ہے۔ ای ڈی اس معاملہ میں ان سے پوچھ گچھ کر چکی ہے۔
تیسرا چیلنج پارٹی کے لئے مضبوط امیدواروں کو تلاش کرنا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ پارٹی کو ریاست میں رہنماوں کے بحران کا سامنا ہے، ان کے لئے ہر ایک انتخابی حلقہ میں ایسا مضبوط امیدوار کھڑا کرنا جو کم از کم مقابلہ میں رہے، مشکل ہی نظر آتا ہے۔

 

Image result for priyanka gandhi in lucknow

چوتھا چیلنج بی جے پی جیسی ریاستی اور قومی سطح پر مضبوط پارٹی کو سخت ٹکر دینے کے لئے ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد میں کانگریس کے لئے بھی راہ ہموار کرنا ہے۔ حالانکہ دونوں ہی پارٹیاں آپس میں اتحاد کا اعلان کر چکی ہیں اور کانگریس کو اس اتحاد سے الگ کر دیا ہے۔ لیکن اب جبکہ پرینکا گاندھی نے سرگرم سیاست میں قدم رکھ دیا ہے، ذرائع کے حوالہ سے ایسا کہا جا رہا ہے کہ دونوں ہی پارٹیاں اب ایک بار پھر اتحاد پر غور کر سکتی ہیں۔ اس سلسلہ میں پرینکا گاندھی کو بھی پیش رفت کرنا ہو گی اور بات چیت کے ذریعہ کسی نتیجہ پر پہنچنا ہو گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *