شہریت بل 2016 بی جے پی کے لئے زبردست طور پر مسائل پیدا کررہاہے۔ آج اسے لے کر پرائے تو پرائے، اپنے بھی خفا ہیں۔ اسے لے کر بنائی گئی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی یعنی جے پی سی کے اندر بھی اتفاق رائے نہیں ہوپارہا ہے۔اپوزیشن پارٹیوںکو تو پہلے سے ہی اس سے اختلاف ہے اور اب تو اس کی اتحادی یا حلیف پارٹیاں بھی اس کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں اور دھمکیاں بھی دے رہی ہیں۔
عیاں رہے کہ 2014 میں پارلیمانی انتخابات سے قبل بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ پارلیمنٹ سے قانون شہریت میں ترمیم کرکے ہندوستان میں پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آئے مسلمانوں کو چھوڑ کر ہندوازم سمیت 6مذاہب سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو رعایت دے کر شہری بنانے کے لئے اقدام اٹھائے گا۔لہٰذا اپنے اسی وعدے کو نبھانے کے لئے اس نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل 2016 کو پیش کیا جو کہ تعطل کا شکار ہوا اور اسی کے نتیجے میں جے پی سی بنی۔
جے پی سی کے لئے اس وقت سب سے بڑامسئلہ یہ بن گیاہے کہ عنقریب شروع ہورہے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے آخری روز اس کی مدت ختم ہورہی ہے۔ لہٰذا اسی سرمائی اجلاس کے دوران اسے پاس کرانا اس کی ضرورت ہے۔ اس تعلق سے گزشتہ ماہ جے پی سی کی میٹنگ منعقد ہوئی ۔ اس میں بی جے پی کے جے پی سی رکن نے ہی یہ تجویز پیش کی کہ تین ممالک میں سے بنگلہ دیش کو استثنیٰ قرار دیا جائے کیونکہ بنگلہ دیش کو ان ممالک میں شامل کئے جانے سے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے باہمی تعلقات پر منفی اثر پڑسکتا ہے۔ لگتا ہے کہ اب بی جے پی کو یہ خوف ستا رہا ہے کہ بنگلہ دیش کو اس کے 6مذاہب سے تعلق رکھنے والے اقلیتی تارکین وطن کو ہندوستان میں شہری حقوق دینے میں سہولیات عطا کرنا راس نہیں آئے گا اور پھر وہاں کے مسلم تارکین وطن کا مسئلہ اٹھے گا۔
 
 
 
بی جے پی کے اس اندیشے کی حقیقت جو بھی ہو، اتنی بات تو طے ہے کہ ہندوستان کے پڑوسی ممالک میں بنگلہ دیش ہی واحد ملک ہے جو کہ اس کا سب سے گہرادوست ملک ہے۔ اس کا احساس گزشتہ ماہ بنگلہ دیش کے ذریعے مدعو تقریباً ایک درجن ہندوستانی صحافیوں بشمول راقم الحروف کو ہوا۔ وہاں کی مقتدر مختلف شخصیات بشمول وزیر خارجہ، وزیر اطلاعات، پارلیمنٹ کی اسپیکر اور وزیر اعظم شیخ حسینہ کے سیاسی مشیر حسین توفیق امام سے میڈیا انٹریکشن کے دوران بھی بنگلہ دیش کے ہندوستان سے خصوصی تعلقات کا خاص طور سے ذکررہا ۔
یہ احساس صرف سرکاری طور پر ہی نہیں ہوا بلکہ عوامی طور پر بھی یہ بات کوکس بازار میں محسوس ہوئی۔ کوکسیس بازار جسے انگریز آفیسر لارڈ کوکس نے 1854 میں قائم کرنا شروع کیا مگر اسی دوران ان کا انتقال ہوگیا، لہٰذا اس شہر کا نام ان کے نام پر کوکس بازار رکھا گیا۔ اس شہر کے ایک کلچرل پروگرام میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی دعوت پر یہ میڈیا وفد وہاں گیا۔ وہاں کے شہریوں نے اسٹیج پر ہندوستانی صحافیوں کا جس طرح پُرتپاک خیر مقدم کیا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بنگلہ دیشی عوام کے دلوں میں ہندوستانیوں کے لئے بڑا پیار ہے، بڑا احترام ہے۔ تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے کئی ہزار لوگوں کا مجمع گونج رہا تھا۔
سرکاری اور عوامی طور پر بنگلہ دیش میں خصوصی جذبوں کا پایا جانا ہندوستان کے لئے بہت اہم ہے۔ اس لحاظ سے بی جے پی کے جے پی سی رکن کی یہ تجویز فطری ہے مگر اس سوال کا جواب تو بی جے پی کو اپوزیشن پارٹیوں کو دینا مشکل ہورہا ہے کہ ان تین ممالک کے صرف اقلیتوں کو ہی یہ اعزاز کیوں دیا جارہا ہے؟
 
 
 
بات صرف اپوزیشن پارٹیوں کی ہی نہیں ہے، نارتھ ایسٹ جہاں این آر سی کا مجموعی طور پر مطالبہ کیا جارہا ہے، وہاں بھی شہریت بل 2016 کی مخالفت ہورہی ہے۔ آسام میں آسام گن پریشد ( اے جی پی ) نے اسے لے کر بی جے پی سے اتحاد بھی توڑنے کی دھمکی دی ہے۔ اے جی پی کی تازہ دھمکی بی جے پی کو تب ملی جب مرکزی وزارت داخلہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کی رو سے پاکستان ، افغانستان اور بنگلہ دیش کے اقلیتی تارکین وطن کو شہری قانون کے سیکشن 6 کے تحت سرٹیفکیٹ آف نیچورلائزیشن دینے کا نارتھ ایسٹ کی ساتوں ریاست میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس اور ریاستی داخلہ سکریٹریوں کو خصوصی اختیار ملتا ہے۔ اے جی پی کا الزام ہے کہ دراصل شہریت ترمیمی بل کو قانون بنانے کی جانب یہ ایک عملی قدم ہے۔ اے جی پی کا کہنا ہے کہ شہریت ترمیمی بل 2016 موجودہ شکل میں اسے ہرگز منظور نہیں ہے۔
عیاں رہے کہ وزارت داخلہ کا مذکورہ نوٹیفکیشن بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں گجرات، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان، اترپردیش اور چھتیس گڑھ بھی بھیجا گیا ہے۔ ویسے یہ عام آدمی پارٹی کی حکومت والی یونین ٹیریٹوری دہلی کو بھی ملا ہے۔ یہ اسپیشل پروویژن دو سال کا ہوگا۔ اس طرح سے مرکزی حکومت تقریبا ًتین لاکھ افراد کو شہریت دینے کا پلان رکھتی ہے۔
بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ بی جے پی کا شہریت ترمیمی بل 2016 پارلیمنٹ کے آئندہ سرمائی اجلاس میں پاس ہو کر قانونی شکل اختیار کرتا ہے یا نہیں؟کیونکہ اس پر بی جے پی کی نئی پلاننگ کا بڑا دارو مدار ہوگا۔ دراصل بی جے پی چاہتی ہے کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات سے قبل ایسا کچھ ہوجائے تاکہ وہ عوام میں اپنا عملی چہرہ دکھا سکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here