میگھناددیسائی
بسمارک نے کہا تھا کہ کوئی بھی سچ تب تک سچ نہیں ہے، جب تک کہ آفیشیل طور پر اس کی مذمت نہ کر دی جائے۔آج یہی بات ہم تھوڑے الگ انداز میں کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً کوئی بھی سچ تب تک سچ نہیں ہے جب تک کہ وہ لیک نہ ہو جائے اورخاص کر انٹرنیٹ پر۔ابھی ہمارے پاس وکی لیکس ہے، راڈیا ٹیپس ہیں کچھ اور سچ بھی ہو سکتے ہیںجو آن لائن لیک کیے جائیں گے یا میڈیا کے ہاتھوں میں دے دئے جائیں گے۔
آفیشیل طورپر انتظامیہ ایسے انکشافات کی ہمیشہ مذمت ہی کرتی ہے، لیکن آن لائن انکشافات سے انکار کرنا بہت مشکل ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ انکشافات مسلسل ہو رہے ہیں۔کچھ انکشافات جیسے کہ امریکہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنا چاہتا ہے اور اس کے اس کام میں سعودی عرب، اسرائیل اور جورڈن مدد کرنے کو تیا رہیں، شاید ہی چونکائیں، لیکن شمالی کوریا کی حفاظت کرتے کرتے اب چین تھک گیا ہے، یہ حیران کرنے والا انکشاف ہے۔
ویسے ان سبھی لوگوں کوجو یہ سوچتے ہیںکہ چین ہندوستان کے جمہوری نظام کے مقابلے میں زیادہ ترقی کرر ہا ہے یہ واضح کرنا چاہئے کہ جنوبی کوریا کے مقابلے شمالی کوریا اتنا غریب کیوں ہے؟ کیسے شمالی کوریا ایک لڑاکو ملک بنتا جا رہا ہے۔مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان لیڈروں کو پہلے سے اس انکشاف کا اندیشہ تھا۔شمالی کوریا جلدی سے ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا تھا کہ جو چین کو ان کی مدد کرنے کے لیے مجبور کرے۔ اگر کوریا کی جنگ شمالی ایشا میں پھیلتی ہے تو چین ایک کنارے اور امریکہ دوسرے کنارے پر ہوگا اور ہندوستان کو احتیاط کے ساتھ اپنی سرحد کو دیکھنا ہوگا۔
وکی لیکس سے ایک اور دلچسپ کہانی کاانکشاف ہوا ہے، وہ یہ کہ امریکہ مسلسل پاکستان سے ناراض ہوتا جا رہا، امریکہ کو پاکستان سے محدود فائدہ ہی ہے۔ چاہے وہ دہشت گردی کے خلاف اس کی زمین کا استعمال ہو یا اپنے جوہری ایندھن کی بہ حفاظت سپلائی کو برقرار رکھنا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ پاکستانی سخت گیری اور پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی مدد جس کا استعمال پاکستان ہتھیار خریدنے میں کرتا ہے، کے آگے بے بس ہے۔ امریکہ نے خود کو ایک گڈھے میں پھنسا لیا ہے۔پہلے پاکستان کی زمین کا استعمال طالبانوں کو مدد دینے میں کیا تاکے افغانستان سے سوویت فوج کو بھگایا جا سکے  اور ایک بار پھر انہی طالبان کوافغانستان سے نکالنے میں۔ یہ دونوں کام ہی امریکہ کے لیے گلے کا پھندا بن گئے۔
اسامہ بن لادن تو اتنا ہی پاک ہے جتنا کہ امریکی پروڈکٹ سپرمیک۔ ہندوستان کے لیے یہ بیکار ہے کہ وہ پاکستان کو ملزم ٹھہرانے کے لیے امریکہ پر منحصر رہے۔ امریکہ جب افغانستان میں پھنسا تو امریکہ کو بلیک میل کرنے کے لیے پاکستان کو ایک سنہرا موقع ہاتھ لگ گیا۔جوزیف بڈین کی وہ بات جو گورڈن برائون کو بتائی یہ ثابت کرتی ہے کہ امریکن کتنے سہمے ہوئے ہیں۔زرداری نے بڈین کو کہا تھا کہ انہیں تشویش ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ میرا قتل کرا سکتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ وہ ایک شیر کی سواری کر رہے ہیں اور اس سواری سے اترنے میں انہیں ڈر لگ رہا ہے۔ اوبامہ شاید بھارت کی پیٹھ تھپتھپا سکتے ہیں، لیکن جب آپ نے اسلام آباد میں امریکی سفیر کے بھیجے گئے ای میل کو دیکھ لیا ہے تب ایسے میںامریکی حمایت کی کیا اہمیت ہے۔پاکستان کے ساتھ کسی بھی طرح کے سنگین حالات میں ہندوستان امریکہ سے یہ امید نہیں کر سکتا کہ وہ ہندوستان کے مفاد میں کچھ کرے۔اس کے لیے ہندوستان کو خود پر ہی منحصر ہونا پڑے گا۔ اگلی بار ہو سکتا ہے کہ امریکہ کچھ پالیسیاں تھوپنے کی کوشش کرے۔مثلاً ایٹمی شہری لائبلٹی بل، ہندوستان کو تب اسے سرے سے خارج کر دینا چاہئے۔
راڈیا کا ٹیپ بھی کچھ ایسی ہی کہانی بیاں کرتا ہے۔ اس بات میں کوئی حیرت نہیں ہے کہ صنعتی گھرانے اپنی غرض کے لیے رابطۂ عامہ ایجنسیوں کی مدد لیتے رہے ہیں، جو ان کی جانب سے لوگوں سے رابطہ کریں۔اصل حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہندوستانی سیاست میں پنپ رہی بد عنوانی کے بارے میں ہمارے جو خدشات تھے، وہ صحیح ثابت ہو رہے ہیں۔دقت صرف اس بات کی ہے کہ جس میڈیا کے بارے میںہم یہ مانتے تھے کہ وہ سیاسی بدعنوانی کو اجاگر کرنے کے معاملے میںغیر جانبدار رہتا ہے، وہ میڈیا بھی آلودہ ہو گیا۔ سیاسی رہنمائوں نے ان سب کو بھی بدعنوان بنا دیا جو ان کے رابطے میں آئے۔دنیا بھر کے لوگوں نے اس بدعنوانی پر توجہ دی ہے۔ اب یہ سوال اٹھنے لگے کہ کیا ہندوستان تجارت کے لیے صحیح جگہ رہ گیا ہے۔ہندوستان بدعنوانی کے معاملے میں اپنی عریانیت کوچھپانے میں نا کام رہا ہے۔آ ج ہم 2جی، سی وی سی اورپبلک سیکٹر کی کمپنیوں کے ذریعہ ریئل اسٹیٹ کمپنیوں کو غیر قانونی طریقے سے لون دینے جیسے گھوٹالوں سے دوچار ہو رہے ہیں۔کرناٹک اور آندھرا پردیش کی حالت کے بارے میں کیا کہا جائے۔
کانگریس کے پاس اپنا دفاع کرنے کاعجیب نسخہ ہے۔وہ کہتی ہے کہ بی جے پی بھی بدعنوان ہے۔ کیا اس طرح اپنے دفاع کے طریقے کو سنگین کہا جا سکتا ہے؟ کیا ہندوستانیوں کو اس بات میں خوشی ملنی چاہئے کہ دونوں قومی پارٹیاں بد عنوان ہیں اور کھلے عام ایسا بول رہی ہیں؟ کیا ووٹروں کے پاس صرف یہی ایک جمہوری متبادل باقی ہے کہ وہ کم یا زیادہ بدعنوان پارٹیوں میں سے کسی ایک کو منتخب کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here