صرف للت مودی ہی کیوں؟قصوروار تو اور بھی ہیں

انڈین پریمئر لیگ کے مستعفی کمشنر للت مودی کو ممبئی ہائی کورٹ سے کوئی راحت نہیں ملی۔ آئی پی ایل کے انعقاد میں مالی خامیوں کے الزام میں مودی نے کورٹ میں ایک اپیل دائر کر کے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے ذریعہ ان کے خلاف کی جا رہی کارروائی پر روک لگائی جائے اور اس کے لئے ایک غیر جانبدرانہ پینل تشکیل دیا جائے، مگر کورٹ نے ان کی اپیل کو خارج کر دیا۔ اس سے پہلے بی سی سی آئی نے مودی پر آئی پی ایل ٹیموں کے ٹینڈر کے عمل میں بے ضابطگیوں، لیگ کے میچوں کے نشریاتی حقوق میں دھاندلی اور تیسرے سیزن میں اووروں کے درمیان اشتہارات کے الاٹمنٹ سے جڑے معاملات میں الزامات طے کئے اور اس کی تفتیش کے لئے ایک تین رکنی ڈسپلن کمیٹی تشکیل دی۔ بی سی سی آئی کا یہ رویہ سمجھ سے باہر ہے، کیونکہ بورڈ کروڑوں روپے کے اس گھوٹالہ کی تمام ذمہ داری اکیلے مودی کے سر پرڈال کر اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ان کی مدت کار کے دوران لیگ سے جڑے فیصلوں میں مودی کا اہم کردار ہوتا تھا، لیکن تمام فیصلے آئی پی ایل کی گورننگ کونسل کی صلاح سے ہی لئے جاتے تھے۔ لیگ کی گورننگ کونسل میں بی سی سی آئی کے افسران اور سابق کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا تھا ۔دلیل کی بنیاد پر دیکھیں تو لیگ میں مالی بے ضابطگیوں کے لئے گورننگ کونسل کے ارکان بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنے للت مودی ۔
اس سال اپریل میں آئی پی ایل گھوٹالہ کی بات سامنے آنے کے بعد سے ہی بی سی سی آئی مسلسل معاملہ کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔پہلی مرتبہ جب یہ معاملہ روشنی میں آیا تھا تو بورڈ کے افسران کے علاوہ حکمرانوں، اداکاروں اور کھلاڑیوں تک پر الزام عائد ہوئے تھے۔ اسی ایشو پر مرکزی وزیر ششی تھرور کو اپنے عہدہ سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ جبکہ آئی پی ایل کی شروعات کے وقت بی سی سی آئی کے صدر رہ چکے وزیر زراعت شرد پوار بڑی مشکل سے اپنی کرسی بچانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اس گھوٹالہ کی گونج پارلیمنٹ کے گلیاروں تک میں سنائی دی تھی۔ممبران نے اس کی تفتیش کے لئے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا تھا ،مگر اول تو حکومت نے ان کے اس مطالبہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور اس کے بعد معاملہ کو رفع دفع کرنے کے لئے بی سی سی آئی نے الگ سے حکمت عملی بنائی۔ اس حکمت عملی کا ایک ہی مقصد ہے، تمام تربے ضابطگیوں کا ٹھیکرا مودی کے سر پھوڑ کر اپنا سر بچایا جائے۔بورڈ کی اس سازش میں حکومت بھی شامل ہے، وگرنہ اتنے بڑے پیمانہ پر ہوئے گھوٹالہ سے وہ اپنی آنکھیں موندکر کیسے رہ سکتی ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت مودی کے حامی ان کا ساتھ چھوڑتے گئے اور آج وہ اپنی لڑائی اکیلے ہی لڑنے کو مجبور ہیں۔
مودی کے خلاف الزامات کی جانچ کے لئے بنائی گئی تین رکنی ڈسپلن کمیٹی کی تشکیل کا جواز بھی سمجھ سے باہر ہے، کیونکہ اس کے اراکین میںوہی لوگ شامل ہیںجو مودی کی مدت کار کے دوران آئی پی ایل کی گورننگ کونسل میں شامل تھے۔ پہلی بار جب ا س کی تشکیل کی گئی تو اس میں بی سی سی آئی کے صدر ششانک منوہر ، نائب صدر ارون جیٹلی اور لیگ کے موجودہ عبوری کمشنر چرایو امین شامل تھے۔بعد میں ششانک منوہر اس سے الگ ہو گئے اور ان کی جگہ مرکزی وزیر کامرس جیوتی رادتیہ سندھیا کو اس کا ممبر بنایا گیا۔ سندھیا کا انتخاب بھی دلائل کے ترازو پر کھرا نہیں اترتا، کیونکہ ان کے پاس کرکٹ کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ ان کی واحد قابلیت یہی ہے کہ وہ بی سی سی آئی کے سابق صدر مادھورائو سندھیا کے بیٹے ہیں اور سیاست میں دخل رکھتے ہیں۔ اگر کسی سیاسی چہرے کو ہی کمیٹی میں شامل کرنا تھا ،تو کھیل اور انتظامیہ کی گہری سمجھ رکھنے والے کسی تجربہ کار لیڈر کو شامل کرنا زیادہ مناسب ہوتا ۔مگر بی سی سی آئی نے ایسا نہیں کیا۔ اتنا ہی نہیںمودی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ جیٹلی اور امین کے کمیٹی میں رہتے ہوئے معاملہ کی غیر جانبدرانہ جانچ ہو ہی نہیں سکتی۔ ان کی دلیل ہے کہ امین لیگ کے تیسرے سیزن کے دوران پنے ٹیم کی ناکام بولی میں شامل تھے، جبکہ جیٹلی بورڈ کی اس میٹنگ میں شریک تھے، جس میں مودی کے خلاف الزامات کو حتمی شکل دی گئی تھی۔
دراصل، بورڈ کی یہ منشا ہی نہیں ہے کہ اس معاملہ کی غیر جانبدرانہ اور شفاف تفتیش ہو۔ایسا ہوا تو بورڈ کے کئی اعلیٰ افسران کا عہدہ پر برقرار رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈسپلن کمیٹی کی تشکیل اور تفتیش کا عمل صرف ایک دکھاوا ہے۔ یہ پہلے سے ہی طے ہے کہ مودی کو قصوروار ثابت کر کے ان کے خلاف مجرمانہ مقدمہ دائر کیا جائے اور پورے معاملہ کو رفع دفع کرد یا جائے گا۔
ہمارے ملک میں کرکٹ ایک مذہب کی طرح ہے اور عام لوگ اس کھیل کے ساتھ جذباتی طور سے وابستہ ہیں۔ معاملہ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا  تویہ چاہئے تھا کہ بی سی سی آئی کسی رٹائرڈ جج کی صدارت میں ایک تفتیشی کمیٹی تشکیل دیتا اور معاملہ کی پوری جانچ پڑتال کی جاتی اور پھر قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جاتی۔ جانچ کی زد میں صرف مالی خامیاں ہی نہیں، بلکہ کنوینروں اور سٹے بازوں کے کردار کی بھی جانچ ضروری ہے ۔ آئی پی ایل میں میچ فکسنگ کے سبب بار بار سوال اٹھتے رہے ہیں۔ کئی بار ایسے الزامات بھی لگتے رہے ہیں کہ خود ٹیموں کے مالکان ہی مقابلوں کو فکس کرنے میں شامل ہیں۔ میچ کے بعد ہونے والی لیٹ نائٹ پارٹیوں میں کھلے عام شراب، شباب اور ڈرگس کا کھیل چلتا ہے۔ کنوینروں کے ذریعہ منعقد ان پارٹیوں میں پر اسرار لوگوں کی موجودگی بھی عام ہے، مگر نہ تو حکومت اور نہ ہی بی سی سی آئی اس جانب کوئی دھیان دے رہی ہے ۔ یہاں تو دوسرا ہی کھیل چل رہا ہے۔ بی سی سی آئی اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہا ہے اور مودی کو بلی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *