مسلمانوں کو اپنی شناخت ختم کرنے کا مشورہ کیوں؟

Share Article

 

(عارف عزیز)

 

بعض لوگ ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ زریں مشورہ دیتے نہیں تھکتے کہ ’’وہ خود کو ہندوقومیت کا ایک حصہ سمجھیں اور اپنے اُن پرکھوں کی عزت کریں جو بنیادی طو رپر ہندوتھے‘‘ غالباً مشورہ دینے والوں کو اِس حقیقت کا علم نہیں یا وہ جانتے بوجھتے اِسے نظر انداز کررہے ہیںکہ ملک سے وفاداری، روحانی عقیدت، تہذیبی خصوصیات، معاشرتی امتیاز، ذاتی روابط، پرکھوں کا احترام اور رشتہ داری کے تعلقات سب علاحدہ علاحدہ پہلو ہیں جن کو ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط نہیں کیاجاسکتا، ہندوستان کے مسلمان، مسلمان بھی ہیں اور ملک سے محبت کرنے والے شہری بھی، بالکل اُسی طرح جیسے کہ برما کے بودھ، بودھ بھی ہیں اور برمی بھی۔ یا نیپال اور سری لنکا کے ہندو، ہندوبھی ہیں اور ان ممالک کے شہری بھی، ایسا تو نہیں ہے کہ ہندوستان سے باہر جتنے بھی بودھ یا ہندوہوں اُن سب کی ابتدائی وفاداری ہندوستان کے ساتھ ہو اور صرف ثانوی وفاداری ان ملکوں کے ساتھ جہاں وہ سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اگر جاپان، برما، سری لنکا اور کمپیوچیا کے بودھ سارناتھ، سانچی اور گیا وغیرہ کے ساتھ یا ہندوستان کے سکھ پاکستان میں ننکانہ صاحب اور پنجہ صاحب کے ساتھ روحانی عقیدت کا تعلق رکھتے ہوئے بھی ملک کے وفادار شہری ہوسکتے ہیں تو ہندوستان کے مسلمانوں سے خود کو ہندو سمجھنے کہنے یا ہندو قومیت کا ایک جزو بننے کا مطالبہ کیوں ہورہاہے؟ وہ ہندوستانی ہیں اور اپنی اِس حیثیت پر یقینا فخر کرتے ہیں مگر ان کے نزدیک مسلمان ہونا بھی کم فخر کی بات نہیں۔ اسی طرح ان پر مذہبی طور سے یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ دیگر تمام مذاہب اور ان کے پیشوائوں کا احترام کریں اور اپنی زبان سے کوئی ایسی بات ہرگز نہ کہیں جس سے ان بزرگوں کی بے عزتی ہوتی ہو۔ مسلمانوں پر اپنا نقطہ تھوپنے والوں کو یہ حقیقت بھی ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ اجتماعی زندگی کے سیاسی اور شخصی دو دائرے ہوا کرتے ہیں۔ ریاست ایک خالص سیاسی ادارہ ہے شخصی نہیں اور مذہب ، تہذیب ، زبان شخصی دائرہ میں آتے ہیں جس پر اکثریت کو حکم چلانے یا اپنے ثقافتی غلبہ کی چھاپ لگانے کا حق نہیںدیاجاسکتا، نہ یہ طرزِ فکر اُس جمہوریت اور سیکولر اساس سے میل کھاتا ہے جس کو ہم نے اپنے یہاں ایک نظام حکومت کے طور پر اپنا رکھا ہے اور دنیا کے سامنے اُسے فخر کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

 

جس لمحہ یہ حقیقت فراموش کردی جاتی ہے کہ اکثریت اقلیتوں کی مختار کل نہیں صرف محافظ ہے اُسی لمحہ اکثریت جملہ حقوق اپنے نام محفوظ کرالیتی ہے اور ریاست وحکومت کی ایجنسیوں کو کم تعداد والے گروہوں پر شخصی خصوصیات مسلط کرنے کے لئے استعمال کرنے لگتی ہے۔ ایسے ہی رویہ سے اکثریت اور اقلیت کے درمیان بدگمانی، نفرت اور تصادم کا آغاز ہوتا ہے، ہندوستان میں رجعت پرستی کے شکار لوگوں کا آج یہی مقصد ہے اور اسی لئے وہ مسلمانوں کو اپنی الگ شناخت ختم کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں تاکہ وہ اکثریت کے دھارے میں ضم ہوجائیں جسے وہ قومی دھارے کا نام دیتے ہیں مگر قومی دھارے کا مطلب ہندوطرز فکر کبھی نہیں ہوسکتا اِس غلطی سے وہ اپنے ذہن کو صاف کرلیںتو بہتر ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *