شہریت ترمیمی بل پر مسلمان خاموش کیوں؟

Share Article

 

ڈاکٹر حلیمہ سعدیہ8527118529

ہندوستان کو ہندوراشٹرا بنانے کی قسم کھاچکے آر ایس ایس کے انتہاپسندانہ اور مسلم دشمن نظریات کو پارلیمان سے پاس کراکر قوانین کی شکل دینے والے 130کروڑ ہندوستانیوں کے وزیر اعظم نریندرمودی اور ان کے راز دار مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے 3ممالک کے غیر مسلموں کو شہریت دینے کے بل کولوک سبھا میں پیش کرکے ایک بار پھرمسلم دشمنی کا ثبوت دیاہے۔مودی کی قیادت میں مرکزی کابینہ نے چہارشنبہ کے روز شہریت ترمیمی بل ، 2019 کو منظوری د دی تھی،جس سے افغانستان ، بنگلہ دیش اور پاکستان کے غیر مسلموں (ہندوو ¿ں ، سکھوں ، جینوں ، بودھوں ، پارسیوں اور عیسائیوں) کو ہندوستانی شہریت دینے میں آسانی ہوگی،لیکن مذکورہ ممالک سے آئے ہوئے کسی مسلمان کو کسی بھی صورت میں شہریت نہیں دی جائے گی ۔پارلیمان میں اپوزیشن پارٹیاں مسلم مخالف بل کے خلاف ہنگامہ کررہی ہیں لیکن لوک سبھا میں بی جے پی اکثریت ہے اس وجہ سے اپوزیشن کی اٹھتی ہوئی آواز کی قدروقیمت نہیں ہے۔تاہم اپوزیشن جماعتوں اور شمال مشرقی ریاستوں کی بیشتر تنظیموں کے علاوہ حکمراں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی جے ڈی یو اس بل کی مخالفت کررہی ہیں،لیکن چنددن قبل این ڈی اے سے مکمل رشتہ ختم کرکے سکیولر پارٹیاں یعنی این سی پی اور کانگریس کے ساتھ حکومت بنانے والی شیوسینا مودی اور امیت شاہ کے ساتھ ہے۔تجزیہ نگاروں کا مانناہے کہ کسی کو ملکی شہریت دینا یہ سرکارکا آئینی حق ہے لیکن ایک مخصوص طبقہ کو شہریت سے محروم کرنا نہ صرف جمہوریت بلکہ انسانیت کے بھی منافی ہے۔

 

اپوزیشن جماعتوں نے بھی پارلیمان میں پیش ہونے والے شہریت ترمیمی بل کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ کانگریس نے اس بل کو مذہب کی بنیاد پر ہندوستان کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ راشٹریہ جنتا دل نے کہاہے کہ اس ملک کو اسرائیل نہ بننے دیں، اسے گاندھی کا ہندوستان ہی رہنے دیں۔بائیں بازو کی جماعتنے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل ہندوستان کی بنیاد کو منہدم کرتا ہے۔ہندوستان کے شہری صرف شہری ہیں۔ انہیں ان کے مذہب اور ذات کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔حکمراں این ڈی اے کی حلیف آسام گن پریشدنے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کو پیش کرنے سے پہلے ان سے کوئی بات نہیں کی گئی ہے جب کہ ایسا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔اس کے خلاف آوازیں تو اٹھ رہی ہیں لیکن جس طبقہ کی طرف سے آواز اٹھنی چاہئے تھی ،وہاں خوف و دہشت کی وجہ سے خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے روشن مستقبل کا مکمل انحصار سکیولر کہی جانے والی سیاسی پارٹیوں پر کرلیاہے۔

 

ووٹ کیلئے سکیولرپارٹیاں بھی مسلمانوں کے حقوق کے حصول اور ان پر ہورہے سرکاری مظالم کی آوازیں بلندکرتے ہیں۔مسلمان ان آوازوں کو اپنے لئے ملکی سلامتی سمجھتے ہیں حالانکہ راجیہ سبھامیں اپوزیشن کی کثیر تعداد ہونے کے باوجود مودی اور شاہ کی جوڑی نے طلاق ثلاثہ بل کو پاس کرالیا۔اپوزیشن کے پاس حکمراں طبقہ سے لڑنے کی طاقت تو ہے لیکن صرف ایک طبقہ کیلئے وہ مدمقابل پارٹی سے آخری حدتک کیوں لڑائی کرے؟اس پر مسلمانوں نے کبھی سوچاہی نہیں۔موجودہ حالات میں ہوگا وہی جو آر ایس ایس کے نمائندے یعنی مودی اور امیت شاہ چاہیں گے لیکن حکومت کی جانب سے حق تلفی اور سوتیلاسلوک کئے جانے آواز بلندکرنے کے جو اختیارات ہندوستانی آئین اوردستور نے باشندوں کو دیاہے،اس کا استعمال کرنے میں شریعت اسلامیہ رکاوٹ آرہی ہے یا مودی کا خوف و دہشت؟ شہریت ترمیمی بل حکمراں بی جے پی کے ایجنڈے میں شامل رہا ہے۔ مودی حکومت نے 2016میں بھی اس بل کو پارلیمان میں پیش کیا تھا اور بعد میں لوک سبھا میں منظور بھی ہوگیا تھا لیکن لوک سبھا کی مدت ختم ہونے کی وجہ سے ختم ہو گئی اورایوان بالا میں اسے بھیجا نہیں جاسکا تھا،اس لئے لوک سبھا یہ دوبارہ پیش کیاگیاہے۔ بی جے پی نے اپنے تمام اراکین کو ایوان میں مستقل حاضر رہنے کی ہدایت دی ہے۔ دفعہ 370کو ختم کرنے کیلئے بل پیش کرنے سے قبل بھی پارٹی نے اسی طرح کی ہدایت جاری کی تھی۔دراصل اس بل میں بی جے پی اپنا کافی سیاسی فائدہ دیکھ رہی ہے۔ شمال مغربی ریاست آسام اور مغربی بنگال جیسے صوبوں میں غیر قانونی شہریوں کا معاملہ کافی اہم رہا ہے۔

 

آسام کے اسمبلی انتخابات اور گزشتہ عام انتخابات میں بی جے پی نے اس مسئلے کو کافی زور شور سے اٹھایا تھا۔ اب چونکہ مغربی بنگال میں اسمبلی الیکشن ہونے والے ہیں ،اس لئے آر ایس ایس کی سیاسی پارٹی شہریت ترمیمی بل پر زیادہ جارحانہ موڈ میں دکھائی دے رہی ہے۔ایسے میں اول ضروری تویہ ہے کہ مسلما ن دوسروں پر انحصار کرنے کی بجائے وکلاءاور ماہرین سے مشورہ کرکے جمہوریت میں دئے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مودی حکومت کے اس متعصبانہ بل کے خلاف پرزور مخالف کریں۔اگر ایسا نہیں کرسکتے تو کم ازکم ان لوگوں کا بھرپور ساتھ دیں جو اس بل کے خلاف آوازیں بلندکررہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *