سماجی رشتوں کے تحفظ کے لئے حکومت حساس کیوں نہیں ؟

Share Article

آزادی ایک عظیم ترین نعمت ہے، لیکن آزادی سے مراد مطلق آزادی نہیں بلکہ پابند آزادی مراد ہے۔ ساتھ ہی آزادی کا مطلب انسانی سماج اور ملک کے تمام باشندوں کی اپنے دائرے میں ضرورت بھر آزادی ہے، نہ کہ کسی ایک کمیونٹی اور طبقے کی آزادی۔ لیکن آزادی جس مخصوص شکل میں سامنے آرہی ہے اس کے متعلق کئی طرح کے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ برابری کے معنی ومطلب پر غور وفکر اور تعین معانی کی ضرورت بھی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ اگر مطلق آزادی مراد ہے تو آئین وقانون کی توضیع و نفاذ کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ہے۔ اور اگر برابری ومساوات کا خاص معنی و حد نہیں ہے توحاکم ومحکوم اور الگ الگ مناصب، فرق مراتب کے ساتھ ، موجود ہونے کابھی کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ہے۔ ارسطو، افلاطون، ٹالسٹائے، گاندھی اور گروگولولکر وغیرہم نے جس اعلیٰ مثالی معاشرے کا تصور پیش کیا ہے جس میں کوئی آدمی حاکم نہیں ہوگا کوئی محکوم نہیں ہوگا۔ معاشرے کے تمام افراد اپنے طور پر فطری قوانین کے مطابق کسی پر کوئی زیادتی اور نا انصافی کیے بغیر زندگی گزار یں گے۔ یہاں ایک خوش کن آزادی سے ہمکنار ہوں گے۔ ظاہرہے کہ اس تصور کی حیثیت، خواب وخیال سے زیادہ نہیں ہے۔ اس طرح کا تصور رکھنے اور پیش کرنے والے اس دنیا سے چلے گئے اور تصوراتی نظام اور معاشرہ اپنے گھر تک میں بھی ان کو دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔
زندگی کی حقیقت اور رومانی کہانی میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ خواب دیکھنے اور الفاظ کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہوتی ہے۔ تاہم آئین وقانون والے ملک میں الفاظ اور اعمال کی بھی حدہوتی ہے اور ضروری پابندی کو سماج اور ملک اور مختلف افراد کے رشتوں کو بچانے کے لئے ایک مہذب معاشرے کی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ ایسا بلا امتیاز مذہب وفرقہ یکساں ہونا چاہئے، تاکہ ہر فرد اور کمیونٹی کواپنے دائرہ کار میں اپنی صلاحیت وقابلیت کے مطابق مطلوبہ پرسکون زندگی کے معیار کو پانے کی آزادی ملے اور اس کو یہ احساس کرکے محرومی او رگھٹن نہ ہو کہ ہمیں اپنے دائرہ کار میں بھی ضروری آزادی حاصل نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ چاہے برابری کی بات ہو یا آزادی کا معاملہ ہو، وہ سماجی درو بست، آگے جاری بہتر نظام زندگی کے مطابق ہو، جب شوہر بیوی اور دیگر افراد میں جو رشتہ ہے، وہ مطلوبہ سطح پر وہ کس طرح شرافت و وقار اور تقدس کے ساتھ باقی رہ سکتا ہے، اگر برابری اور آزادی سے اس پر غلط اثر مرتب ہورہا ہے اور رشتوں کا مقصد نسل انسانی تسکین وبقا کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ برابری وآزادی کو سمجھنے میں غلطی ہورہی ہے۔ اگر ایک فرد کا بھی جان ومال اور عزت خطرے میں پڑجائے تو اس سے بات صاف ہوجاتی ہے کہ زندگی کے معنی ومطلب سمجھنے میں چوک ہوئی ہے، کوئی بھی قانون بہتر سماج کی تشکیل اور اس کا تحفظ کرتے ہوئے زندگی کو بچانے کے لئے ہوتا ہے نہ کہ سماج کو تباہ اور اس کے آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے۔ مرد، مرد، عور ت عورت کے درمیان جنسی تعلق کا کوئی معنی ونتیجہ نہیں ہوتا ہے۔ اس میں مرد عورت کا جو فطری رشتہ مذہب اور سماج کی جہت سے قائم ہوتا ہے وہ بری طرح متاثر ہوگا۔ ایک دوسرے کی ضرورت اور اس کی بنیا دپر نسل انسانی کی افزائش وبقاء کا سلسلہ ختم ہوکر رہ جاتا ہے۔آگے سلسلہ نہیں چل سکتا ہے۔ مرد، مرد، عورت عورت پر سماج ختم ہوجاتاہے۔ پھر یہ کہ دوستی اور دیگر طرح کے بھائی بہن باپ بیٹے وغیرہ کے قائم رشتے شک وشبہ کے دائرے میں آجاتے ہیں۔ سہیلی سہیلی، دوست دوست کے درمیان مقدس رشتے کے متعلق بھائی بہن کا نظریہ بدل جاتا ہے۔ اولاد کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ہے۔ اگر کہیں سے گود لے لیا جائے تو بچے، اولاد کے لیے ماں باپ کا رشتہ ختم ہوجاتا ہے، بچے، بچی کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ماں کون ہے اورباپ کون ہے؟ ایسی حالت میں مطلق آزادی کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ہے۔

 

 

 

 

آئین نے آزادی کو امن عامہ کی بقاء سے مشروط کیا ہے، جس آزادی سے سماج اور زندگی فضا میں معلق ہوکر رہ جائے اس آزادی کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ہے۔ اگر ایک کی آزادی سے دوسرے کی جائز آزادی اور زندگی متاثر ہو یا رشتے پر زد پڑتی ہوتو اس آزادی کا زیادہ معنی مطلب نہیں رہ جاتا ہے۔ ایک عورت، بیوی رہتے ہوئے یا ایک مرد شوہر رہتے ہوئے بغیر جائز مذہبی ، سماجی یا قانونی طور سے قائم رشتے کے بغیر جنسی تعلق کیسے قائم کرسکتا ہے۔ اس کی اجازت سے مرد، عورت کا شوہر بیوی کے طور پر قائم رشتے کا کوئی معنی نہیں رہ جاتا ہے۔ مذہب، سماج اورقانون کی جہت سے قائم رشتے کی ضرورت وافادیت سوال کی زد میں آجاتی ہے۔ اس سلسلے میں مرد، عورت کے درمیان تفریق کا سوال بنیادی حق، برابری کے تناظر میں ضرور آتا ہے۔ لیکن یہ صرف مرد، عورت میں کسی ایک کو ایک جیسے جرم کرنے کے سلسلے میں قصوروار قرار دیا جائے، اگر رشتے سے پرے جاکر رشتے بنانے کے لئے مرد عورت دونوں کو مجرم قرار دیا جائے توبرابری کے تناظر میں غلط تفریق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔
جب بھی جنسی رشتہ قائم ہوتا ہے، مرد ، عورت کا سوال ہمیشہ سامنے آتاہے۔ شوہر کے سوا عورت اور بیوی کے سوا مرد، جس سے جنسی تعلق بناتا ہے وہ سب مرد، عورت ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے مرد، عورت کے درمیان برابری اور تفریق کا سوال زیادہ بامعنی نہیں رہ جاتا ہے۔ مسئلہ مرد، عورت میں تفریق اور برابری کا نہیں بلکہ شوہر بیوی کے درمیان قائم رشتے کی بقاء وتقدس اور باہمی اعتماد ویقین کو بنائے رکھنے کا معاملہ ہے۔ اگر یہ سب باقی نہیں رہ پاتے ہیں تو آزادی اور برابری کے معنی ومطلب اور جائز حد بندی کے متعلق غوروفکر کرکے اقدام ضروری ہوجاتا ہے۔ اس سمت میں بسااوقات برسراقتدار حکومت کے لیے سماج اور عوامی مفاد میں آگے بڑھنا وقت کا تقاضا ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ ایسا قانون بنائے جس میں رشتوں سے پرے جاکر نا جائز تعلقات کو بغیر جنسی تفریق کے مرد، عورت دونوں کے لیے مجرمانہ قرار دیا جائے۔ اس سے برابری کے تقاضے پورے ہوجاتے ہیں۔ بڑی حیرت کی بات ہے کہ اتنے حساس اور اہم معاملے میں حکومت کی طرف سے سماجی رشتوں کے تحفظ اور بہتر کرنے کے لیے کوئی خاص ہوتا ہوا نظر نہیں آتا ہے۔ اس کے لیے دیگر معاملات میں امن عامہ اور مفاد عامہ کے پیش نظر صحیح اور ضروری آزادی اور برابری کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں اکثریت واقلیت کے تناظر میں تفریق کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

 

 

 

 

تبدیلی مذہب گاؤ رکشا، لوجہاد وغیرہ کے نام پر اقلیتوں اور دلتوں، آدی واسیوں کے لیے آزادی اور برابری کو بالکل بے معنی بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ بیٹی بچاؤ بہولاؤ جیسی مہم کا آخر مطلب کیا ہے؟ فرقہ وارانہ اور مذہب کے حوالے سے سماج میں کھلے بھید بھاو کو دیکھا جاسکتا ہے۔ کثر ت پرستی کی ذہنیت اور عمل نے ملک میں آزادی اور برابری کو بالکل بے معنی بنا کر رکھ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے سماج اور عوام کی بڑی اکثریت کی زندگی آزادی اور پابندی کے درمیان معلق ہوکر رہ گئی ہے۔ جہاں ایک کمیونٹی اور فرد کے لیے جو آزادی ہے وہیں دوسری کمیونٹی اور فرد کے لیے پابندی اور اسیری بن گئی ہے۔ جس کا برابری پر مبنی ایک سیکولر آزادنظام حکومت میں کوئی جواز نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *