حکومت قبائلیوں کی کیوں نہیں سنتی؟

Share Article

کے بی سکسینہ
آج ملک کے قبائلی سیاست کے درمیان آگئے ہیں۔لیکن اپنی تہذیب اور سماجی وثقافتی ورثہ کے لیے نہیں بلکہ اس لیے کہ انہوں نے ملک کی حکومت کے خلاف جدوجہد کا بگل بجا دیا ہے۔یاد رکھنے کی بات ہے کہ قبائلی ایک ایسے سماج کے ممبر ہیں جو آج اپنی پہچان کے لیے لڑ رہا ہے۔وہ اپنے وجود کے تحفظ کے لیے لڑ رہے ہیں۔قبائلیوں کے تئیںحکومت اور پورے ہندوستانی سماج کا منفی رویہ ملک کے آئین میں ان کو دئے گئے حقوق کے خلاف جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔ان اسباب کی وجہ سے جب آج انہیں قانون اپنے ہاتھ میں لینا پڑ تا ہے تو ہمارے ملک کی سکیورٹی ایجنسیاں ان پر ظلم کرتی ہیں اور انہیں لاٹھی اور بندوقوں کا بے وجہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اگر ہم حقیقت میںقبائلیوں کے مسائل کوسلجھانا چاہتے ہیںتو ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ قبائلی سماج اور ان کے عقائد ہندوستا ن کے دوسرے سماجی طبقات سے مختلف ہیں۔یہ سماج ایسے سماجی تعلقات سے عبارت ہے جو قدرت کے ساتھ تال میل قائم کرکے چلتا ہے۔اس سماج کے اصول لین دین سے زیادہ برابری کی شراکت پر مبنی ہیں۔یہ سماج اپنے لڑائی جھگڑوں کو نمٹانے کے لیے انصاف کے موجودہ سسٹم کا نہیں بلکہ صدیوں سے چلے آرہے قبائلی اداروں کا سہارا لیتا ہے۔داخلی اتحاد اور خارجی زندگی سے کٹاؤ اس سماج کی اہم خصوصیات ہیں۔ان کا روایتی اقتصادی نظام زمین اور جنگل پر مرکوز ہے۔ایسا نظام پیسے اور بازار سے زیادہ آپسی بھائی چارے پر منحصر ہے اور خود کفیلی اس کی خاص پہچان ہے۔یہ نظام پیسے کے لین دین سے زیادہ اشیاء کے تبادلے پر منحصر ہے۔ اسی وجہ سے اسے سماجوادی یاکمیونسٹ نظام کہا جا سکتا ہے۔جدید سرمایہ دارانہ نظام کے بر خلاف یہاں سرمایہ اور بازار کا کوئی وجود نہیں ہے۔لیکن اس نظام کی کچھ برائیاں بھی ہیں،کیونکہ یہ ایک بند نظام ہے اور برابری کی تقسیم پر منحصر ہے، اس لیے جب بھی خشک سالی یا سیلاب جیسی آفت آتی ہے تو یہ نظام دباؤ میں آجاتا ہے،کیونکہ کوئی اور وسائل دستیاب نہیں ہوتے ہیں۔اس سماج کا سیاسی نظام بھی روایتی ہے جہاں نمٹارا بزرگوں کے ذریعہ ہی کیا جاتا ہے اور ان کی بات سب کے لیے قابل قبول ہوتی ہے۔یہ سوراج کا ہی ایک مقامی ماڈل کہا جا سکتا ہے لیکن ہندوستان کی مین اسٹریم سے یہ سب بہت ہی الگ ہیں۔آزادی کے بعد سے اس قبائلی سماج میں بھی بہت سی تبدیلیاں آئیں۔کبھی سرکاری فلاحی اسکیموں کے تھوپے جانے سے تو کبھی حکومت کی بندشوں اور کبھی حکم امتناعی کے سبب، لیکن آج بھی اس سماج کے ان طبقات کا یہی حال ہے جو مین اسٹریم سے دور رہے ہیں۔قبائلیوں سے ہندوستانی سماج کی مین اسٹریم کی دوری ہی سرکاری رویہ کے لیے بھی ذمہ دارہے۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ قبائلی ریاستی نظام سے باہرہی رہے ہیںاور اسی وجہ سے وہ آج تک اپنی پرانی روایت کو سنبھال پائے ہیں۔بغیر کسی بڑی اتھل پتھل کے یہ نظام ملک کی آزادی کے وقت بکھرنا شروع ہو گیا۔ اس کی اہم وجہ تھی ملک میں اور ان شعبوں میں ایسی پالیسیوں کا نفاذ جو کہ پہلے نہ کبھی دیکھی گئی تھیں اور نہ ہی سنی گئی تھیں۔سب سے بڑا اثر پڑ ا برطانوی حکومت کی اس پالیسی کا جس کے تحت قدرتی وسائل کو ریاست کے تسلط میں لایا گیا۔برطانوی حکومت کی مستقل بندوبست کی پالیسی نے کسانوں کو تو بھکاری بنا ہی دیا،ان قبائلیوں کو بہار کے لوگوں اور سود خوروں کا شکار بنا دیا۔زمین اب خرید وفروخت کی چیز بن گئی اور اسی وجہ سے زمین بازار کی چیز بن گئی۔اس وجہ سے زمین اب ساجھا نہیں رہ گئی اور روایتی حقوق زمین سے ختم ہو گئے۔ان سبھی کی وجہ سے قبائلی اپنی زمین کھوتے گئے۔تحویل اراضی قانون  نے اس پالیسی کو اور بھی تیز دانت دے دئے۔ جنگلاتی اثاثہ اب سرکاری سسٹم کے ہاتھ میں آگیا اور کانکنی اور جنگل کی دولت کے سرکاری استعمال کی وجہ سے قبائلی اپنی زمین اور گھروںکو کھو بیٹھے۔ اس نئے نظام میں قبائلی کم تنخواہ پر کام کرنے والے غریب مزدور بن گئے۔ سرکاری سسٹم کا مطلب پولس اور قانونی نظام بھی ہوتا ہے۔اس سرکاری سسٹم کے دن بہ دن بڑھتے جانے سے قبائلیوں کے اپنے ادارے بھی مر گئے۔جب انہوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تو قانون بنا دیا گیا کہ ایسے قبائلی پیدائشی طور پر مجرمانہ ذہنیت کے ہوتے ہیں۔ہندوستان کی آزادی کے بعد بھی جن قبائلیوں کو سرکار کو سنجو کر رکھنا چاہئے تھا ،ان کی کوئی سدھ نہیں لی گئی ہے۔پرانے طریقوں پر قبائلیوں کے مفادات کی خلاف ورزی چلتی رہی۔ یہاں تک کہ نئے طریقے بھی تلاش کئے گئے۔ اس چلی آرہی استحصال کی روایت کو اور مضبوط کرنے کے۔قبائلیوں کو پہلے سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر بازار سے جوڑ دیا گیا۔اوپر سے جنگل اور قدرتی وسائل کا استعمال مزید بڑھ گیا اور اس پر سرکای کنٹرول اپنے عروج پر پہنچ گیا۔قبائلی علاقوں میں دوسرے باہری لوگوں کا کنٹرول بھی  پہلے سے زیادہ بڑھ گیا۔جب ہندوستان کی معیشت کو عالمی بازار کے لیے کھول دیا گیا اور نئی ترقی پسندی کا شکنجہ کسنے لگا تو قبائلی علاقوں کا استعمال دور کے ممالک نے بھی کرنا شروع کر دیا۔اس کے ساتھ ہی ان کی زمین کو بڑے پیمانے پر تحویل میں لیا گیا۔یہ تحویل ریاست اور نجی کمپنیوں دونوں نے ہی کی۔قانون بھی بنا دئے گئے۔جس کی وجہ سے اب قبائلی علاقے باہری خریدوفروخت کے لیے بالکل کھل گئے۔حکومت کو چست بنانے کے لیے لائی گئی اصلاحات کے نام پر عہدوں کو کم کیا گیا ،جس کے سبب قبائلیوں کے لیے محفوظ ریزرویشن بھی سمٹ گیا۔حکومت اپنے فلاح و بہبود کے فرائض کو نظر انداز کرتی گئی، جس کے سبب معیار زندگی میں گراوٹ آنے لگی اورنئی ترقی پسندانہ معیشت کے سبب چھوٹے قرض کے امکانات بھی کم ہوتے چلے گئے۔
قبائلیوں کی آج کی حالت کوسماجی اور اقتصادی پیمانوں پر سمجھا جا سکتا ہے۔اقتصادی پیمانوں کو دیکھا جائے تو قبائلی ہمارے ملک کے مزدوروں میں سب سے زیادہ تعداد میں ہیں لیکن اس کے برعکس وہ باقی ماندہ مزدوروں سے زیادہ بدتر حالت میں ہیں کیونکہ ان کی بیشتر آبادی زراعت پر مبنی ہے او ر جس وجہ سے ان کی یومیہ مزدوری یا تنخواہ بہت ہی کم ہے۔ زراعت سے باہر ان کی مزدوروں میں حصہ داری سب سے کم ہے یا یوں کہیں کہ نہیں کے برابر ہے اور جوہے بھی وہ سب سے نچلی سطح پر ہے۔ قبائلیوں کے پاس نہیں کے برابر کھیتی کے لائق زمین ہے اور بہت کم تعداد میں قبائلی کسان بہت ہی چھوٹے ٹکڑے پر کھیتی کرتے ہیں۔اس کم تعداد میں بھی بس ایک چوتھائی ایسے ہیں جن کے پاس کہنے کوہی صحیح لیکن آبپاشی کا کوئی بھی ذریعہ نہیںہے۔یہ محدود وسائل انہیں سال میں بس ایک ہی فصل پیدا کرنے کو مجبور کردیتے ہیں۔ان چھوٹے کسانوں کو نہ تو سرکاری مدد ملتی ہے اور نہ ہی سرکاری قرض، جو کم سود والا ہو۔الٹے یہ سبھی سود خور ساہو کاروں کی گرفت میں ہیں اور آہستہ آہستہ اپنی زمین سے بے دخل ہوتے جا رہے ہیں۔اس غریبی کے سبب یہ عدم غذائیت کے شکار ہیںاورفاقہ کشی ایک عام بات ہے۔آزادی کے بعد ہندوستان میں غریبی کم ہوئی لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پہلے تو قبائلیوں میں غریبی آج بھی سب سے زیادہ ہے اور دوسری غریبی میں سب سے کم کمی قبائلیوں میں ہی ہوئی ہے۔یہ سبھی باتیں ان حقائق کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ان قبائلیوں کے معیار زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے اور آج بھی ان کی فی شخص آمدنی ہندوستان کے دوسرے کسی بھی طبقے سے کم ہے۔
سماجی پیمانے پر بھی ان کا اتنا ہی برا حال ہے۔ ہندوستان میں سب سے زیادہ پسماندگی قبائلیوں میں ہی پائی جاتی ہے۔ چاہے وہ خواندگی میں ہو یا صحت کے شعبے میںیا زچہ بچہ کی شرح اموات میں۔ ایک اطلاع کے مطابق عام ہندوستان اور قبائلیوں کے درمیان نا برابری کافی زیادہ ہے۔ یہی نہیں کہ قبائلی سب سے زیادہ پسماندہ ہیں، یہاں تک کہ قبائلی علاقے بھی ہندوستان کے سب سے پسماندہ علاقوں میں آتے ہیں، جن کی دوسرے علاقوں سے نا برابری دیکھنے لائق ہے۔یہ نا برابری کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *