عارف عزیز
 
۲۵جون ۱۹۷۵ء کی نصب شب میں جس ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا اور جو پرانی نسل کے لوگوں کو آج بھی ایک ڈرائونے خواب کی طرح یاد ہے، اس ایمرجنسی سے پہلے دو اہم واقعات ملک میں رونما ہوچکے تھے پہلا واقعہ تھا وزیراعظم اندراگاندھی کے خلاف راج نرائن کی الیکشن پٹیشن کا فیصلہ جس کے مطابق الٰہ آباد ہائیکورٹ نے اندراگاندھی کا رائے بریلی سے پارلیمنٹ کے لئے الیکشن کالعدم قرار دے دیا تھا اور سرکاری عہدہ کا بے جا استعمال کرنے کے کئی الزامات میں اندراگاندھی کو چھ سال کے لئے الیکشن میں حصہ لینے سے بھی نااہل ٹھہرایا تھا ۔ دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ لوک نائک جے پرکاش نرائن کے ’’مکمل انقلاب‘‘ کی تحریک جو تیزی سے عوام میں مقبول ہورہی تھی الٰہ آباد ہائیکورٹ کے مذکورہ فیصلے کے بعد اس میں مزید شدت آگئی یہاں تک کہ اس کا مقابلہ کرنا حکومت کے بس میں نہیں رہا، تو اندراگاندھی نے گھبرا کر اپنے بچائو میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کرلیا اور ۱۹ ماہ تک ملک کو ایک ایسے قید خانے میں تبدیل کردیا جہاں نہ اخبارات کو اظہار خیال کی آزادی تھی، نہ سیاسی پارٹیوں کو جلسے وجلوس اور تقاریر کے مواقع حاصل تھے بلکہ پورے ملک میں خوف وہراس اور ظلم وجبر کا ایک ایسا ماحول طاری تھا جس میں سرکاری حکام سے لے کر معمولی کارندے تک حکومت کے مخالفوں پر قابو پانے کے نام پر مظالم میں مصروف تھے ، کہیں نس بندی کی صورت میں نسل کشی کی جارہی تھی تو کہیں غریبوں کی آبادیوں پر بلڈوزر چلاکر ’’جلیان والا باغ‘‘ کی تاریخ دہرائی جارہی تھی غرضیکہ قانون نے آمریت کا چولا پہن لیا تھا۔
 
مختلف سیاسی جماعتوں کے ایک لاکھ سے زیادہ ورکروں کو گرفتار کرکے جیل میں بند کردیا گیا اور انہیں مختلف اذیتوں کا شکار بھی بنایا جارہا تھا اس کے خلاف لوگوں میں ہر سطح پر ردعمل ہورہا تھا سیاست دانوں ، دانشوروں اور محنت کشوں کے علاوہ عوام الناس بھی احتجاج میں پیچھے نہیں تھے تمام غیر جمہوری اور آمرانہ کارروائی کے خلاف احتجاج میں جگہ جگہ کانگریس (او) سوشلسٹ پارٹیاں، جن سنگھ وغیرہ کے کارکن پیش پیش تھے اسی طرح پنجاب میں اکالیوں، مدراس میں ڈی ایم کے ، جماعت اسلامی اور آرایس ایس کے کارکنان احتجاج کرکے ایمرجنسی کی مزاحمت کرنے اور جیلوں کو بھرنے میں مصروف تھے اور انہیں عدالتی چارہ جوئی تک سے محروم رکھا جارہا تھا۔ پھر ۱۹۷۷ء میں جیسے ہی حالات کو اپنے موافق سمجھ کر اندرا گاندھی نے الیکشن کرانے کا اعلان کیاتو سیاسی رہنمائوں کی رہائی شروع ہوگئی ، رہنمائوںنے جے پرکاش نرائن کی قیادت اور مرارجی ڈیسائی کی صدارت میں ایک نئی سیاسی جماعت ’’جنتا پارٹی‘‘ کے نام سے بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کو جگجیون رام نیز بہوگنا جیسے پسماندہ طبقات کے بااثر رہنمائوں کی حمایت ملنے اور حکمراں کانگریس چھوڑ دینے سے کافی تقویت ملی۔
 
اسی سال ہونے والے پارلیمانی الیکشن کے نتیجہ کے طور پر عوام کا جو فیصلہ سامنے آیا اور جو کام الٰہ آبا دہائی کورٹ کے فیصلہ سے ۱۹۷۵ء میں نہ ہوسکا وہ ۱۹ ماہ بعد پارلیمانی الیکشن کے نتیجہ میں انجام پاگیا لہذا نہ صرف رائے بریلی سے اندراگاندھی کو شکست فاش ہوئی بلکہ پورے ملک سے ان کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا۔
 
یہی وہ صورت حال ہے جس کا پاس ولحاظ کرکے اندراگاندھی نے ’’آپریشن بلو اسٹار‘‘ سے قبل یا بعد میں پنجاب جیسی شورش زدہ ریاست میں ایمرجنسی لگانے کی ہمت نہیں کی اور ایمرجنسی کے دوران ان سے یا ان کی حکومت سے جو غلطیاں سرزد ہوئیں عوام سے ان کی برسرعام معافی مانگی۔ تب سے آج تک۴۲ سال گزر چکے ہیں کسی وزیر اعظم یا اس کی ماتحت حکومت کو ملک میں ایمرجنسی لگانے کی جرأت نہیں ہوئی نہ ملک کے آئین میں اس کو بآسانی نافذ کرنے کی گنجائش باقی رہی۔
 
پھر بھی ملک میں آئے دن ایسے واقعات ہورہے ہیں جن کو آمرانہ طرز فکر یا طریقہ عمل سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ، گجرات ، مہاراشٹر ، آندھرا اور راجستھان اس کی مثالیں ہیں، جہاں ظالمانہ قوانین کا بیقصور مسلمانوں کے خلاف پوری آزادی بلکہ بے دردی سے استعمال ہوتا رہا ۔ گجرات میں تو گودھرا کے ٹرین سانحہ کو بنیاد بناکر مہینوں مسلمانوں کی نسل کشی ہوئی اور بعد میں بھی فرضی انکائونٹروں کے ذریعہ مسلم اقلیت کو ظلم وجبر کا شکار بنایا گیا۔ دوسری ریاستوں میں جہاں جہاں بم دھماکے ہوئے اور ان میں زیادہ مسلمان ہی مارے گئے مثال کے طور پر مالیگائوں، اجمیر، حیدرآباد، جے پور او رممبئی وغیرہ۔ وہاں پکڑ دھکڑ کرکے مسلمانوں کی ہی ہوتی رہی اور پوری دنیا میں مجرم بناکر انہیں ہی پیش کیا گیا ، لوگ کہتے ہیں کہ ایسے حالات تو ایمرجنسی میں بھی پیدا نہیں ہوئے کہ صرف ایک طبقہ کو ناکردہ گناہوں کی پاداش میں داروگیر کا نشانہ بنایا گیا ہو، ایمرجنسی میں مظالم کرنا اور سہنا سبھی کیلئے یکساں عمل تھا، ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی سب پر اس کی زد پڑرہی تھی لیکن پچھلے ۱۵ سال میں جمہوری ہندوستان کا یہ حال ہے کہ یہاں مجرم صرف ایک طبقہ یعنی’’ مسلمان‘‘ ہیں اور دہشت گردی کا سرچشمہ صرف اور صرف اسلامی آتنک واد ہے، کبھی اس کو سیمی توکبھی انڈین مجاہدین اور کبھی کچھ اور نام دیا جاتار ہا، جس طرح ایمرجنسی میں کسی کو داد وفریاد کی اجازت نہیں تھی، اسی طرح پوری مسلم اقلیت کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا نہ موقع تھا ، نہ اس کی اجازت ، قومی پریس دہشت گردی کا واقعہ رونما ہونے سے پہلے ہی اسے مسلمانوں کی کسی نام نہاد تنظیم سے جوڑ دیتا تھا، لیکن آج اسی پریس کو سانپ سونگھ گیا ہے جو وہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اینڈ کمپنی اور بعد میں راجستھان، مدھیہ پردیش میں گرفتار آر ایس ایس کے کارکنان کے کارناموں ہندو آتنک واد کہنے پر آمادہ نہیں، نہ ان کے حلق سے یہ سچائی اتر رہی ہے کہ ہندو دہشت گردی کی سزا دس سال سے مسلمان بھگت رہے ہیں، ان کا لگایا گیا یہ نعرہ بھی باطل ہوگیا ہے کہ’’ مسلمان بھلے ہی دہشت گرد نہ ہو لیکن ہر پکڑاجانے والا دہشت گرد مسلمان ہے‘‘۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here