مباحثہ گروپ کیوں؟

اروند کیجریوال
گزشتہ ایک سال سے انا ہزارے کی قیادت میں بدعنوانی کے خلاف تحریک چل رہی ہے۔ جس تعداد میں اگست مہینے میں لوگ سڑکوں پر اترے اور حکومت نے بار بار یقین دہانی کرائی کہ پارلیمنٹ کے سرما ئی اجلاس میں وہ ایک سخت لو ک پال قانون لائے گی۔ اس سے پوری امید تھی کہ حکومت ایک سخت قانون پارلیمنٹ میں ضرور پیش کرے گی ۔ ہمیں امید تھی کہ حکومت ہماری صد فیصد باتیں نہ تسلیم کرے لیکن 50فیصد باتیں تو مان ہی لے گی۔ لیکن حکومت نے جو قانون پارلیمنٹ میں رکھا ہے وہ اتنا خطرناک ہے کہ 50فیصد باتیں ماننا تو دور وہ بدعنوانی کے خلاف رائج موجودہ نظام کو بھی ختم کر دیتاہے۔ ایسا محسوس ہوتاہے کہ اب لڑائی صر ف جن لو ک پا ل کی نہیں رہی، بلکہ اب یہ جن لوک پا ل سے زیادہ بڑی ہوگئی ہے۔

کانگریس کی ابھیشک منو سنگھوی کی صدارت والی پارلیمانی اسٹنڈنگ کمیٹی کے پاس غور کرنے کے لئے یہ بل بھیجاگیا۔ سنگھوی نے بھی دھوکہ دیا۔ انہوں نے قانون کا ایک ایسا مسودہ تیار کیا جو پارلیمنٹ کے 27اگست کی تجاویز کے بالکل خلاف اور کمزور تھا۔ اسٹنڈنگ کمیٹی کے 30اراکین میں سے 2اراکین تومیٹنگ میںکبھی آئے ہی نہیں۔ باقی 28میں سے 17 اراکین نے اس کی مخالفت کی۔ مجموعی طور پر دیکھیں تو سنگھوی نے جو تجاویز پیش کیںوہ 30میں سے 11اراکین کو ہی منظور تھیں۔ اس میں سے 7کانگریس کے تھے، ایک لا لو یا دو تھے اور ایک امر سنگھ تھے۔ کانگریس نے امر سنگھ اور لالو یادو کے ساتھ بیٹھ کر بدعنوانی کا مسودہ تیارکیا ۔اب آپ خود سوچ لیجئے کہ یہ قانون کیسا رہا ہوگا؟

اب یہ جمہوریت کی لڑائی بن گئی ہے۔ ملک کے عوام ایک قانون کی مانگ کر رہے ہیں، لیکن پھربھی حکومت اس قانون کو پاس کرنے کے لئے تیار نہیںہے۔ کیا یہی جمہوریت ہے؟
ابھی تک اپنی تحریک میں ہم صر ف میڈیا کے ذریعہ عوام تک اپنی بات پہنچاتے تھے۔ میڈیا نے ہمارا بھر پورساتھ دیا۔ میڈیاایک طرح سے تحریک کا حصہ بھی بن گیا، لیکن اس کی اپنی مجبوریاں ہیں۔جیسے کہ وہ ہمارا موقف پور ی طرح سے نہیں رکھ پاتا۔ اسے کاٹ چھانٹ کر پیش کرتاہے۔اس سے عوام میں کئی سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ابھی تک عوام کو اپنے سوالوںکے جواب نہیں مل پاتے ، کیونکہ عوام ہم سے براہ راست سوال نہیں کر پاتے ۔ چو نکہ عوام کا براہ راست ہم سے مکالمہ نہیں تھا اس لئے عوام کی تجاویز بھی ہم تک نہیں پہنچ پاتی تھیں۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہماری تحریک میں اپناایسا انتظام ہو جس سے تحریک عوام سے آمنے سامنے مکالمہ کرسکے۔ لمبی لڑائی کے لئے  یہ انتظام ضروری ہے۔ اسی سلسلے میںپورے ملک کے گاوؤں اور شہروں میں مباحثہ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ہر ایک مباحثہ گروپ کو منعقد کرنے کی ذمہ داری کوئی ایک رضاکار لے گا، جو اسی علاقے کا ہوگا۔اس کا کام صر ف مباحثہ گروپ میں اٹھے سوالوںکو تحریک تک لانا ہوگا۔
ان مباحثہ گروپوں میںہندوستان کے دوسرے مسائل کا بھی ذکر ہوگا۔جیسے سب سے اہم سوال ہے کہ کیا آج  جمہوریت ہندوستان کو غریبی اور بدعنوانی سے نجات دلا سکتی ہے؟ کیا ہندوستان واقعی ایک جمہوری ملک ہے؟گزشتہ ہفتے مباحثہ گروپ میں ایک سوال ہر جگہ اٹھایا گیا، سبھی پارٹیاں بدعنوان کیوں ہو گئی ہیں اورکسے ووٹ دیں؟ تو کیا ہندوستان کے عوام اس بدعنوان نظام کے سامنے بالکل مجبورہو گئے ہیں؟ ایسے کئی دوسرے سوالوں کے سیدھے جواب نہیںدئے جاسکتے۔ ان مباحثہ گروپوں کا مقصد یہ بھی ہوگا کہ ایسے سوالوں پر پوریملک میں مباحثیہوں اور ملک کے لوگ مل کر اس کا حل تلاش کریں۔ گزشتہ سال سے حکومت انا ہزارے کی تحریک کو قدم قدم پر دھو کہ  دیتی آرہی ہے۔ پورا ملک انا کی حمایت میں بدعنوانی کے خلاف سڑکوں پر اتر آیا۔ پھر بھی حکومت نے ملک کو اچھا قانون دینے کے بجائے قدم قدم پر دھوکہ دیا۔ پچھلے ایک سال میں عوام کے ساتھ ہوئے دھوکوں کے بارے میں ہی آج ہم بات کریں گے۔
دھوکہ نمبر1
5اپریل کو انابھوک ہڑتال پر بیٹھے۔ ہڑتال کے چار دنوںکے بعدہی حکومت نے لوک پال قانون ڈرافٹ کرنے کے لئے ایک جوائنٹ کمیٹی تشکیل دی، جس میں پانچ لوگ حکومت کی نمائندگی کر رہے تھے اور پانچ انا کے مشور ے پر لئے گئے تھے۔ہم لوگ بہت امید کے ساتھ اس میٹنگ میں گئے ۔ ہمیں لگ رہا تھا کہ اب تو اچھا قانون آہی جائے گا، لیکن حکو مت کی نیت  تو شروع سے ہی خراب تھی۔ جوائنٹ کمیٹی کے اندر ہماری ایک بھی بات نہیں مانی گئی ۔ڈھائی مہینے میں نو مٹینگیںہوئیں اور آخری میٹنگ میں ہم سے کہا گیاکہ آپ اپنا قانون لکھ لیں ، ہم اپنا قانون لکھ لیں گے۔ یہی کرنا تھا تو جوائنٹ کمیٹی بنانے کا دکھاوا کیوں کیا گیا؟ ہم نے پنا قانون تو شروع میںہی لکھ لیا تھا۔ کمیٹی میں فیصلہ ہو اکہ دونوں قانون کابینہ کے سامنے رکھے جائیں گے اور کابینہ یہ طے کرے گی کہ کون سا قانون منظور کرنا ہے۔ یہاں حکومت نے دھوکہ دیا۔ کابینہ کے سامنے صرف پانچ وزیروںکے ذریعہ لکھا قانون رکھا گیا۔
دھوکہ نمبر2
جولائی کے مہینے میں حکومت نے زور شور سے کہا کہ وہ سخت لوک پا ل قانون لے کر آئے گی، لیکن جو لوک پال بل اگست میں پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ، وہ بدعنوانوں کو تحفظ فراہم کرنے اور بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو پریشان کرنے والا تھا۔ اس کی ایک شقکے مطابق اگر کوئی شخص لوک پال سے بدعنوانی کی شکایت کرے گا تو واضح ثبوت نہ ہونے کی حالت میں شکایت کرنے والے کو دو سال کی سزا ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف بدعنوانی ثابت ہونے پر بدعنوان افسر کو  صر ف چھ مہینے کی سزا ہوگی۔ سرکاری لوک پال بل ایک بھدا مزاق اور دھوکہ تھا۔بدعنوان کی سزا چھ مہینے اور شکایت کرنے والے کی سزا دو سال۔
دھوکہ نمبر 3
انانے اس قانون کے خلاف آواز اٹھائی ۔ انھوںنے کہا کہ 16اگست سے غیر معینہ بھوک ہڑتال(آمرن انشن) کروں گا۔، لیکن 16اگست کی صبح وہ باپو کی سمادھی (راج گھاٹ ) کے لئے نکلے ہی تھے کہ انھیں گرفتارکرکے تہاڑ جیل بھیج دیاگیا، جہاں کلماڑی اور راجہ جیسے بدعنوان قید تھے۔ کیا ستم ظریفی تھی؟ بدعنوانی کرنے والے اور بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والے ایک ہی جیل میں قید تھے۔ انا پر الزام تھا کہ ان کے باہر رہنے سے ملک اور سماج کے امن کو خطرہ ہے۔ انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا اور پھر سات دن کے لئے جیل بھیج دیا گیا۔ اس کارروائی کے خلاف سارا ملک کھڑا ہو گیا۔ ملک میں آگ لگ گئی۔ لاکھوں کرڑوں لوگ سڑکوں پر اتر آئے۔ جیل بھرو مہم شروع ہو گئی، حکومت کی جیلیں چھوٹی پڑ گئیں۔ بڑے بڑے اسٹیڈیموں کو جیل بنا یا گیا، وہ بھی چھوٹے پڑ گئے۔ گرفتاری کے چند گھنٹوں کے بعد ہی حکومت نے انا کو رہا کر دیا۔ سوال یہ اٹھتاہے کہ حکومت کی نظر میں جو انا ہزارے کچھ گھنٹوں پہلے ملک اور سماج کے امن کے لئے خطرہ تھے اور جنہیں سات دنوں کے لئے جیل بھیجا گیا تھا، شام ہوتے ہوتے وہ اچانک  امن کے لیے خطرہ کیسے نہیں رہے؟  اس کا مطلب ہے کہ حکومت من مانے طریقے سے جسے جب چاہیجیل میں ڈال سکتی ہے اور جب چاہے رہا کر سکتی ہے۔ کیا اس ملک میں کوئی قانون ہے یا صرف اقتدار میں بیٹھیلوگوں کی مرضی چلتی ہے؟
دھوکہ نمبر4
اناکی 12دنوں کی بھوک ہڑتال کے بعد27اگست کو اتفاق رائے سے سارے ملک کے سامنے انکی تین باتیں منظور کی گئیں ۔ان میں سے دو باتیں تھیں سٹیزن چارٹر اور  نچلی نوکر شاہی کو لوک پال کے دائرے میں لایا جائے گا۔ وزیر اعظم نے انا کو خط لکھ کر پارلیمنٹ کی تجویز کے بارے میں بتایا اور ان سے ہڑتال واپس لینے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم کے ذاتی یقین دہانی پر انا نے بھروسہ کیا، انہوں نے اپنی ہڑتال واپس لے لی، لیکن وزیر اعظم کی نیت خراب تھی۔ 13ستمبر کو وزیر اعظم نے کابینہ کی صدارت کرتے ہوئے سٹیزن چارٹر کے لئے الگ سے بل منظور کر لیا، جو بے حد کمزور ہے۔ یہ رشوت خور ی سے پریشان عوام کو کوئی انصاف نہیں دلاتا، اور قانون بننے کے کچھ  ہی دنوں کے بعد پارہ پارہ ہو جائے گا۔ یہ بل پارلیمنٹ کی27اگست کی تجویز کے خلاف ہے ۔ وزیر اعظم نے سیدھے سیدھے پارلیمنٹ کی توہینکی، پارلیمنٹ کو دھوکہ دیا۔ سوال یہ اٹھتاہے کہ اگر وزیر اعظم خود پارلیمنٹ کو سیدھے سیدھے اس طرح دھوکہ دینے لگیں گے تو اس ملک کا مستقبل کیا ہو گا؟
دھوکہ نمبر5
کانگریس کی ابھیشک منو سنگھوی کی صدارت والی پارلیمانی اسٹنڈنگ کمیٹی کے پاس غور کرنے کے لئے یہ بل بھیجاگیا۔ سنگھوی نے بھی دھوکہ دیا۔ انہوں نے قانون کا ایک ایسا مسودہ تیار کیا جو پارلیمنٹ کے 27اگست کی تجاویز کے بالکل خلاف اور کمزور تھا۔ اسٹنڈنگ کمیٹی کے 30اراکین میں سے 2اراکین تومیٹنگ میںکبھی آئے ہی نہیں۔ باقی 28میں سے 17 اراکین نے اس کی مخالفت کی۔ مجموعی طور پر دیکھیں تو سنگھوی نے جو تجاویز پیش کیںوہ 30میں سے 11اراکین کو ہی منظور تھیں۔ اس میں سے 7کانگریس کے تھے، ایک لا لو یا دو تھے اور ایک امر سنگھ تھے۔ کانگریس نے امر سنگھ اور لالو یادو کے ساتھ بیٹھ کر بدعنوانی کا مسودہ تیارکیا ۔اب آپ خود سوچ لیجئے کہ یہ قانون کیسا رہا ہوگا؟
 دھوکہ نمبر6
10اکتوبر کو وزیر اعظم نے خط لکھ کر یقین دہانی کرائی کہ حکومت ایک مضبوط بل لائے گی۔انا کو 15اکتوبرسے ’’جن جاگرن یاترا ‘‘ پر نکلناتھا۔ وزیر اعظم کی تحریری یقین دہانی کے بعدانھوںنے اپنی یاترا منسوخ کر دی۔ انا نے بار بار ملک کے سامنے کہا کہ انہیں وزیر اعظم پر یقین ہے، لیکن وزیر اعظم کی نیت خراب تھی۔ 22دسمبر کو پارلیمنٹ میں ایک ایسا بل پیش کیا گیا جو ملک کے ساتھ ایک بہت بڑا دھوکہ تھا۔ یہ بل سیدھے سیدھے بدعنوانوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بات کرتا ہے۔ بدعنوانی کرنے والے افسروں اور نیتاؤں کے بچاؤکے لئے حکومت مفت میں وکیل مہیا کرائے گی۔ بد عنوانی کی شکائت کرنے والوں کے خلاف الگ سے مقدمہ درج کرانے کے لئے  ملزم بدعنوان نیتاوںکومفت وکیل مہیا کرایا جائے گا۔ اس قانون کے ذریعہ بدعنوانوںکو  تحفظ فراہم کرنے کے لئے جانچ کے سارے قاعدے قانون بد ل دئے گئے ہیں۔ جانچ کے دوران ہی بدعنوانوں کو وقتاًفوقتاً جمع کئے گئے ثبوت دکھائے جائیں گے۔اس سے بدعنوانوںکو ثبوت مٹانے اور گواہوںکو ڈرا نے دھمکا نے کا مناسب موقع مل جائے گا۔ ایف آئی آر در ج کرنے سے پہلے بدعنوان افسر سے پوچھا جائے گا۔ اس کے بعد بھی اگر کسی کے خلاف بدعنوانی کا معاملہ ثابت ہو گیا تو اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے پہلے بھی اس سے پوچھا جائے گا۔
دھوکہ نمبر7
ایک طرف تو صر ف 5فیصد نیتااور افسر ہی اس کے دائرے میں لا ئے گئے ہیں۔ لیکن چندے سے چلنے والے ملک کے سارے سماجی اور مذہبی ادارے اسکے دائرے میں  آئیںگے، جیسے مندر، مسجد، گرودوارے، چرچ ، یوتھ کلب، اسپورٹس کلب، پرائیویٹ اسکول، پرائیویٹ کالج، پرائیویٹ ہسپتال وغیرہ۔ حد تو یہ ہو گئی کہ ان اداروں میں کام کرنے والے پنڈت ، پادری ، فادر، سسٹر، بشپ، مولوی، مفتی، استاد، ڈاکٹر اور دوسرے ملازمین اس قانون کے تحت سرکاری ملازم تسلیم کئے جائیںگے اور لو ک پال ان کے خلاف بدعنوانی کی جانچ کرسکے گا۔ وزیر اعظم کو حکومت، افسر اور نیتا ایماندار لگتے ہیں، لیکن اس ملک کے عوام بے ایمان نظر آتے ہیں۔
دھوکہ نمبر 8
راہل گاندھی نے کہا کہ لوک پا ل کو آئینی درجہ دیا جائے اور پوری حکومت اس میںلگ گئی۔ ایک غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے آئینی درجہ دئے جانے سے لوک پال سخت بن جائے گا۔یہ تو وہی بات ہوئی کہ ایک مرے ہوئے آدمی کو بہت سارے زیور پہنا دو۔ اگر لوک پال کو مضبوط  بنانا ہے تو اسے آئینی درجے کی نہیں سی بی آئی کی ضرورت ہے۔ سی بی آئی حکومت کے ہاتھوںکی کٹھ پتلی ہے۔ حکومت سی بی آئی کا غلط استعمال کرتی ہے۔ مرکز میں حکومت کے قدم ڈگمگانے لگے تو سی بی آئی کو مایا وتی، ملائم، لالویا جے للیتا کے پیچھے چھوڑ دو۔ وہ دوڑے دوڑے آکر سرکار بچالیں گے۔ راہل گاندھی سی بی آئی کو سرکاری شکنجے سے آزاد کرانے کی بات کیوں نہیں کرتے؟ یہ کیسی جمہوریت ہے؟ ملک میں لاکھوں کروڑوں  لوگ سڑکوں پر مظاہرہ کرکے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انا والا سخت لوک پال لاگو کرو تو حکومت ایک نہیں سنتی۔ یہ کیسی جمہوری سرکارہے جو ملک کے لوگوں کی نہیں سنتی اور ایک آدمی کے اشارے پرناچنے لگتی ہے؟
دھوکہ نمبر9
انا کی تحریک اور انکی ٹیم کی شبیہ خراب کرنے کے لئے خود ساختہ اور بے بنیاد الزامات عایدکئے گئے اور سازشیںرچ کر انھیں پھنسانے کی چال چلی گئی۔ پہلے توپرشانت بھوشن اور شانتی بھوشن کے خلاف ایک فرضی سی ڈی بنا کر انھیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ بعدمیںلیباریٹری کی جانچ میں سی ڈی فرضی پائی گئی ۔ انا ہزارے کو کانگریس ترجمان منیش تیواری نے سر سے پیر تک بدعنوانی میں ڈوبا ہوا بتایا۔ د گ وجے سنگھ اور ان کے کئی ساتھی کانگریسی نیتاوں نے انا ہزارے کو آر ایس ایس اور بی جے پی کا مکھوٹا بتایا۔ کانگریس  کے ایک دوسرے نیتا بینی پرساد ورمانے یہاںتک کہہ ڈالا کہ اناہریش چندر کی اولاد نہیں ہیں۔ انا ہزارے کو ان کی ٹیم سے توڑنے کے لئے کروڑوں روپے خر چ کئے گئے۔ کرن بیدی ایک ایماندار آئی پی ایس افسر رہی ہیں۔ پوری زندگی انھوں نے ایک روپے کی رشوت نہیں لی اور اپنی ایمانداری کی وجہ سے اپنی پہچان بنائی۔ سرکار نے  انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کا غلط استعمال کرکے ان سے متعلق کچھ جانکاری اکٹھا کیں اور انھیں مسخ کرکے ان کے خلاف پیش کیا گیا اور ان پر بدعنوانی کے الزامات عاید کئے گئے۔اروند کیجری وال جو انکم ٹیکس کمشنر جیسے  عہد ے پر کام کر چکے ہیں اور جنہوں نے کبھی ایک پیسہ کی رشوت نہیں لی ان پر بھی بدعنوانی کے غلط الزامات عاید کئے گئے۔کمار وشواس کو آر ایس ایس کا ایجنٹ کہا گیا۔ان تمام الزاما ت میں سے ایک بھی الزام آج تک صحیح ثابت نہیں ہو پایا ہے۔صرف ان لوگوںکی شبیہ خراب کرنے کے لئے حکومت نے سازش رچی ہے۔
دھوکہ نمبر 10
حکومت نے لوک سبھا میں بہت ہی کمزور لوک پا ل بل پیش کیا۔ اس بل کی پورے ملک میں تنقید ہوئی۔یہ بل اتنا خراب تھا کہ حزب اختلاف نے اس کے خلاف لوک سبھامیں55اور راجیہ سبھا میں 187ترامیم پیش کیں۔ لیکن سرکار تو اپنی ضد پر اڑی ہوئی تھی،کسی کی سننے کو تیار نہیں تھی۔اس نے تہیہ کر رکھاتھا کہ نہ تو وہ ملک کے لوگوں کی سنے گی اور نہ ہی پارلیمنٹ میں حز ب اختلاف کی۔لوک سبھامیں یو پی اے اکثریت میں ہے۔ اس اکثریت کا غلط استعمال کرتے ہوئے اس نے لوک سبھامیںاس بل کو تو پاس کروا لیا ، لیکن راجیہ سبھا میں حکومت کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ وہاں اگر ووٹنگ ہو جاتی تو اس بل میں کئی ترامیم ہو سکتے تھیں۔اس میں کئی اچھی ترامیم تھیں جس سے بل کی کئی خامیاں دور ہو سکتی تھیں۔لیکن سرکارنے لالو یادو کو آگے کر کے پارلیمنٹ میں ہنگامہ کھڑا کرنے کی سازش رچی۔لالو یادو کی پارٹی کے ایک ایم پی نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں اور ہنگامہ کر دیا،اور راجیہ سبھامیں ووٹنگ نہیں ہونے دی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *