کراچی میں واقع چینی قونصل خانے پر گزشتہ دنوں ہوئے حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے۔ اس کی ذمہ داری بلوچ علیحدگی پسند گروہ’ بلوچ لبریشن آرمی ‘نے قبول کی ہے۔بلوچ علیحدگی پسندوں نے چینی حکومت کو تنبیہ کی ہے کہ وہ سی پیک کے نام پر بلوچ سرزمین اور اس کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کا منصوبہ ترک کر دے ورنہ اسے مزید حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

 

بلوچ سیاسی قیادت اور مسلح گروہ سمجھتے ہیں کہ اسلام آباد نے بلوچستان اور خاص طور پر گوادر کے مسقتبل کا فیصلہ کرتے ہوئے اس صوبے کی قیادت کو اعتماد میں لینا تو دور کی بات، اطلاع تک نہ دی۔ اس کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت نے سی پیک پر کئی آل پارٹیز کانفرنسز کیں جس میں بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں کو بلا کر لمبی لمبی بریفنگز بھی دیں گئیں لیکن بلوچستان کے دل میں جو میل آ گیا تھا وہ نکل نہیں سکا۔
سوئی گیس پاکستان میں گھر گھر استعمال ہوتی ہے لیکن بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں قدرت کا یہ انمول تحفہ ناپید ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں چولہا جلانے کے لیے گھروں میں پائپ کے ذریعے آنے والی گیس کو سوئی گیس اس لیے کہتے ہیں کہ یہ گیس بلوچستان کے علاقے سوئی میں واقع گیس کے ذخائر سے حاصل کی جاتی ہے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں کے بر عکس بلوچستان کے اکثر علاقے اس گیس سے محروم ہیں۔ ایسے میں یہ اعتراض تو بنتا ہے کہ جس صوبے کا اس قدرتی ذخیرے پر حق ہے، اسے اس میں سب سے کم حصہ کیوں دیا جا رہا ہے؟

 

گوادر شہر کو صاف پانی فراہم کرنے والے واحد ذخیرے آکڑا ڈیم سے سال میں چند ہفتے ہی پانی مل پاتا ہے۔ باقی دن گوادر کے باشندہ حقیقی معنوں میں پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں۔ دوسری طرف چین اور پاکستان کے دوسرے حصوں سے آئے انجینئرز اور دیگر افسران اور اہلکاروں کے لیے جنگل میں منگل کا سماں ہے۔ لیکن ان چنے گئے افسروں اور دیگر عملے میں مقامی لوگوں یا بلوچوں کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی صورتحال صوبے میں جاری دیگر ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بھی بتائی جاتی ہے۔
بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے رہنے والوں کو ان ملازمتوں اور دیگر اقتصادی موقعوں میں برابر کا حصہ نہیں دیا جا رہا۔ اگر ملازمتیں دی بھی جا رہی ہیں تو وہ مزدور کی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے تعلیم یافتہ لوگ ملتے ہی نہیں تو انہیں ان کے حصے کے مطابق ملازمتیں کہاں سے دیں؟ مگر سوال یہ ہے کہ آخر بلوچ کے لوگوں میں تعلیم کا فقدان کیوں ہے۔ ظاہر ہے اس کے پیچھے حکومت کی ناکارہ پالیسی یا پھر قصداً انہیں پیچھے رکھنے کی سازش ہے۔بہر کیف متاثرہ بلوچوں کو خدشہ ہے کہ چین کی بڑے پیمانے پر گوادر میں موجودگی عسکری کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے گی جس سے بلوچ براہ راست متاثر ہوں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here