ان سوالوں کا جواب کون دے گا؟

Share Article

 

یہ عام ہندوستانی کا درد ہے جو میں اظہار کر رہا هوں۔ پہلے جب کل جماعتی میٹنگ ہو رہی تھی جو اتحاد ہم دنیا کو دكھائیں اگر اس میٹنگ کے سربراہی وزیراعظم کرتے یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر بھی اس اجلاس میں ہوتے تو شاید ملک زیادہ خوش ہوتا۔ پر اس میٹنگ کی صدارت وزیر اعظم کرنے نہیں آئے اور نہ مسٹر امت شاہ جی آئے۔ دکھ ہوتا ہےاور اب اچھا ہی ہے کہ کابینہ کے ساتھی ہر فوجی کے آخری سفر میں تصویر تو کھنچوا رہے ہیں پر ہندوستانی ثقافت کا اہم مسئلہ بھول گیا کہ جب کسی لاش سفر کے پاس ہم ہوتے ہیں یا جنازے کے قریب ہوتے ہیں تو جوتے پہن کر نہیں بیٹھتے اور مسکرا کر باتیں نہیں کرتے۔اس میں زیادہ تر سوشل میڈیا پر تصاویر عام ہو چکی ہیں جس میں بہت سے لوگ ہنستے كھلكھلاتے مذاق کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر دکھ ہو رہا ہے۔

 

Image result for pulwama attack

 

کیا اس واقعہ کا استعمال خود اشتہار کے لئے، انتخابی مہم کے لئے کرنا چاہیے اگر اس موقع کو انتخابی مہم کے لئے استعمال ہو رہا ہے تو ماننا چاہیے کہ فوجیوں کے لے محبت لفظی نہیں بلکہ منافقت ہے۔پلوامہ سے اٹھے کئی سارے سوالات ہیں، لیکن ان سوالوں کو ہمارے چینل نہیں اٹھا رہے ہیں۔ یہ ایسی بحث میں لوگوں کو ڈال رہے ہیں جس سے وہ سوال اپنے آپ قبر میں چلے گئے۔ یہ ایک سب سے بڑا دکھ کا موضوع ہے کہ انٹلی جینس کے رپورٹ ہونے کے بعد بھی اتنے بڑے كنواي کی ایئر لفٹنگ کیوں نہیں کی۔ کون تھا جس نے ایئر لفٹنگ کی تجویز کو مسترد کر دیا۔ تین شدید الرٹ تھے۔حملے کی صرف خدشہ نہیں تھی پیشگی اطلاع تک تھی اور اس بھول چوک کو خود جموں کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے مانا ہے لیکن ذمہ داری لینے اور ذمہ داری طے کرنے کے بجائے فوجیوں کی لاشوں کے ٹکڑوں کو جمع کیے جانے سے پہلے ہی انتخابی ریلی کا افتتاح، گھروں کی چابھيا باٹنا اور نئی نئی پوشاکیں پہن کر كھلكھلاتے ہوئے فوٹو كھچوانا جن لوگوں نے کیا ہے، انہیں دیکھ کر سر تو فخر سے نہیں اٹھتا اور چونکہ ذمہ داری طے نہیں کر رہی ہے اس لیے ہمیں یہ خدشہ کرنی چاہیے کہ آنے والے دنوں میں اسی طرح کے دہشت گردانہ حملے اور بھی کئی دھماکہ خیز آئیں اور اس سے ملک آگاہ ہوگا۔ ابھی تو سوال صرف یہ ہے کہ ملک دہشت گردانہ حملوں میں پورے طور حکومت کے ساتھ ہے، مگر حکومت کس کے ساتھ ہے یہ تو حکومت کو بتانا پڑے گا۔ شاید حکومت نہ بتائیں ہمیں خود سمجھنا پڑے گا۔

 

Image result for pulwama attack dead bodies

 

تین سال پہلے خود ملک کے سب سے بڑے ذمہ دار شخص نے بولا تھا کہ کشمیر میں تمام اسٹےكهولڈروں کے ساتھ بات چیت شروع کر کے مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جائےگا۔ کیا کوئی اب تک کشمیر میں اسٹےكهولڈر کے ساتھ مذاکرات ہوئی۔ میری معلومات میں نہیں ہوئی۔ جموں و کشمیر میں بی جے پی اور محبوبہ حکومت اب تک تھی مطلب مرکز کا ہی دخل تھا۔ اب براہ راست صدر کی حکومت ہیں اس کے بعد بھی کوئی پیش رفت کیوں نہیںہوئی۔اتنا ہی نہیں ہم بڑے ناامید ہوئے تھے جب وزیر اعظم نے 8 نومبر 2016 کو بہت مضبوطی کے ساتھ کہا تھا کہ دہشت گردی کی ہم نے کمر توڑدي ہے اور وہ دن تھا جب ہندوستان میں نوٹ بندي ہوئی تھی۔ اس کا تجزیہ کیوں نہیں اب تک حکومت نے کیا کہ کمر کیوں نہیں ٹوٹا جبکہ نوٹ بندي ہوئی اور ملک میں اس کو لے کر بہت سارے سوالات کھڑے ہوئے نہ سوالات کا جواب ملا نہ کشمیر میں دہشت گرد کی کمر ٹوٹنے کا کوئی جواب ملا۔اب سوال تو یہ بھی کھڑا ہوتا ہے دماغ میں کہ 2014 سے 2018 کے درمیان دہشت گردانہ حملوں 176 فیصد اور ان حملوں میں ہوئے فوجی کی موتو میں 93 فیصد کا اضافہ ہوا۔کیوں ہو گئی جو ڈی پی کے نہیں جیتے جاگتے انسان کی موتو کے اعداد و شمار ہیں وہ اعداد و شمار جنہیں شاید کوئی حکومت نہیں چھپا سکتیں اور ایسا وقت ہوا ہے جب دہلی اور سرینگر دونوں جگہ بی جے پی ہی بی جے پی ہے ایک سوال اور دماغ میں آتا ہے، کہ ادھر ہمارے شہیدوں کی چتا سلگتی رہیں گی اور ادھر سرحد پار چل رہے اڈانی صاحب اور امبانی صاحب کے اور حکومت چاہے تو سرمایہ کاروں کے دھندوں میں منافعکی روٹياں تابڑ توڑ سک رہی ہیں ایسا کیوں ہو رہا ہے اور ان سوالات کو دبانے کے لئے ایک گروہ پیدا ہو گیا ہے جو کشمیریوں کے خلاف انماد اکسانے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا جیسے جنگ جیسے چھیڑ دیا ہو۔چینل، واٹسپ، سوشل میڈیا اور ریومر اسپیڈنگ سوسائٹی کے انماديوں سے اپنے کو کس طرح بچائے انہیں کس طرح کنارے کریں کس طرح كارپوریٹ چاکر بدعنوان سردار ولڈركار ڈ پٹی غیر ملکیوں کو كٹگھرے میں کھڑا کریں سمجھ نہیں آ رہا ہے۔ اب اس وقت جب ملک مکمل طور متحد ہے اس وقت اس اتحاد کو توڑنے والے بھی دہشت پھیلانے والو کی ایک دوسری شکل ہے۔مجھے یادہےکہ کل جماعتی میٹنگ میں دکھائے کےسمت تجویز پاس ہوا جس میں دہشت گردی کا یکجہتی کا اعلان کیا گیا تھا کیا ہم اسے عمل میں لا پائیںگے۔

 

Image result for pulwama attack dead bodies

دہشت گردوں کو کار کہاں سے ملی کار کس کی تھی اتنی بھاری مقدار میں 350 کلو آر ڈی ایکس یا دیگر دھماکہ خیز اشیا اسے اٹھا کر اس دھماکہ خیز مواد دہشت گردوں کے پاس تک کیسے پہنچا۔ کیا ہمارا ملک ان دھماکہ خیز مواد کا دھندہ کر رہا ہےاور اگر سرحد پار سے یہ دھماکہ خیز مواد آئے تو اتنی بھاری مقدار میں اتنی چیزیں فوج کی نگرانی کے باوجود دہشت گردوں کے پاس کس طرح پہنچی دہشت گردوں کو فوجیوں کے قافلے میں آنے کی خبر کس کوملا جس کشمیر میں چپے چپے پر فوج کے جوان تعینات ہیں اور جہاں بہت چوکیوں اور ناكو پر آر پی ایف کی سخت پہرہ ہے یہ دہشت گرد کار چلاتے ہوئے کس طرح سی آر پی ایف کے كنوائي کے پاس قافلے کے پاس پہنچ گیا اور پھر سوال یہ بھی ہے کہ اس کی گاڑی میں اتنی بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد تھا پھر بھی گاڑی کی کسی ناکے پر تلاشی کیوں نہیں لی گئی۔ ہمارے ٹی وی چینل کہہ رہے ہیں کہ محبوبہ مفتی نے ایک ناکے کو ہٹوا دیا تھا اور اسی کو وہ مثال بنائے ہوئے ہیں لیکن کشمیر میں تو ناکے کے بعد ناکے ہیں تو کسی ناکے پر کار کی تلاشی کیوں نہیں لی تو اب پتہ چل رہا ہے کہ جس سڑک پر یہ حملہ کیا گیا ہے وہاں ڈبل سڑک ہے اور درمیان میں ڈيواڈر ہیں پھر بھی سامنے سے ڈوايڈر کے غلط سائٹ سے دہشت گرد کی کار کس طرح چلتی رہی اور سامنے سے آتی ڈيوايڈر کے غلط سمت میں کار کو دیکھ کر سی آر پی ایف کے جس ٹرک میں جوان تھے اسے کنارے کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی۔حملہ تو فدائین تھا لیکن حملہ آور کے جسم کے حصے نہیں ملے۔ اب یہ سوال تو میں نہیں کھڑا کرتا کہ کشمیر سے جبکہ خبریں آنا اتنا آسان نہیں ہے پھر بھی حملہ ہونے کے پانچ منٹ کے اندر تمام میڈیا چینلز پر یہ خبر کس طرح آ گئی اور اگلے پانچ منٹ میں یہ حملہ آور کا ویڈیو بھی وائرل ہو گیا اور آدھے گھنٹے کے اندر اندر یہ پتہ بھی چل گیا کہ اس کا ماسٹر مائنڈ یہ ہے اس گاؤں کا رہنے والا ہے۔ بالکل ہوگا اگر یہ خبر پہلے سے تھی تو اسے روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی اور کون سا فارمولا ہے ہمارا، جس نے حملہ ہونے کے بعد ہی حکومت کو بتاتا ہے کہ ایسا ایسا ہوا تو یہ آدمی ہے تو وہ پہلے کیوں نہیں بتاتا ہے، میں نے ویڈیو کو لے کر کوئی سوال نہیں اٹھاتا۔ کیوں کہ جو ویڈیو ہمارے پاس آیا ہے اس میں آواز مبہم نہیں ہے اور منہ کے ہاو بھاو اور آواز میں سمجھ نہیں آتاہے ایسا لگتا ہے کہ ویڈیو کسی اور کا ہے اور آواز کسی اور کی ہے کیا اسے سیکورٹی ایجنسیوں نے اس کی پڑتال کی اور پھر وہی سوال پھر میں دوہراتا ہوں کہ جب سیکورٹی ایجنسیوں کے پاس حملے کا الرٹ تھا پھر بھی سیکورٹی نظام میں چاک چوبند کیوں نہیں کی گئی اور وہ ذمہ داري کیوں نہیں ابھی تک طےہوئی کہ کس کے کہنے سے مکمل روڈ کو سنجیدگی سے نہیں کی گئی جبکہ سی آئی ڈي اور انٹیلی جنس کے انتباہات میں سے سنجیدہ کرنے کی بات واضح طورپر لکھی ہوئی ہے۔

 

Image result for pulwama attack dead bodies

 

اب خبر آئی تھوڑی دیر پہلے میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں کہ قافلے کی دو بسیں خراب ہو گئیں تھیں لہٰذا مکمل قافلہ رک گیا تو یہ آہستہ آہستہ انفارمیشن آرہی ہے اور اس کے پہلے انفارمیشن آئی تھی جو حکومت نے ہی چلتے هے قافلے میں سائیٹ سے اوورٹیک کرتا ہوا دہشت گرد آیا اور اس نے اسی بس میں اپنی گاڑی بھڑادي، جو بختر بند نہیں تھی اب حقیقت کیا ہے جب ملک کے عوام کو آپ نہیں بتائیں گے اور ٹکڑوں ٹکڑوں میں معلومات لوگوں کے پاس لے آئیں گے تو پھر دس طرح کے شک و شبہ پیدا ہوں گےہیں۔ایک دوست نے ایک پوسٹ بھیجی ہے اور اس میں لکھا ہے کہ کل ایک شخصسے ملاقات ہوئی اس نے پوچھا کہ کشمیر میں کیا ہونا چاہیے وہ پوسٹ لکھتا ہے کہ دوست نے ان سے کہاں کہ صرف دو کام کیجیے۔ پہلا یہ کہ فوج کو صرف بارڈر پر لگائيے اور انتباہ جاری کر دیجیے کہ اےلوسي کے ایک کلو میٹر کے اندر کوئی دیکھیے تو براہ راست گولی مار دی جائے۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ اور دوسرا مسلم ریگیمنس بنا کر کشمیر کے اندر تعینات کر دیجیے۔ ایک سال میں کشمیر کا مسئلہ ختم ہو جائےگا، لیکن اس آدمی نے کہا کہ مسلم ریگیمنس؟ وہ بغاوت کردے تو، تب میرے دوست نے ان سے کہا کہ تیسرا کام اور بھی ضروری ہے کہ ملک کے مسلمانوں پر ہمیں یقین کرنا چاہیے اور وہ شخص جس نے یہ سوال کھڑا کیا تھا کہ کشمیر میں کیا ہونا چاہیے اپنا سر کھجاتے ہوئے چلا گیا۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کارٹوں ہو۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کی آپس میں بات چیت ہوئی ہو، پر یہ بات چیت یہ تو بتاتی ہے کہ ہم اپنے ہی ملک کے 20 فیصد لوگوں کے اوپر بالکل بھروسہنہیں کر رہے ہیں بلکہ ان 20 فیصد لوگوں سے یعنی مسلم سماج کے لوگوں کے بارے میں کہی یہ بات کرناکہ آپ کو ایک عجیب طرح کے انماد کا سامنا کرتا ہے اور اگر آپ کشمیر کی بات کر دیتے ہیں تو پھر تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ ملک کے دشمنوں کی بات کر رہے ہیں۔ میں پھر صاف کر رہا ہوں کہ کشمیر کی زمین اور کشمیر کے لوگ دونوں ہی ہمارے ہیں دونوں کے ساتھ انسانیت کے ماحول میں بات چیت ہونی چاہیے اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ دس ہزار بیس ہزار تیس ہزار چالیس ہزار یا دو لاکھ تین لاکھ چار لاکھ لوگوں کو گولی سے مار دیں گے تو یہ قتل عام کے بعد کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا تو یہ بہت خطرناک کھیل ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ کھیل کھیلنا چاهيے۔ انماد پیدا کرنا آسان ہے لیکن انماد میں کیا کیا جھیلنا پڑے گا یہ کسی کو نہیں پتہ نہیں اور جو انماد پیدا کرتے ہیں وہ بھی اگر اس کی آنچ میں گھر گئے تو پھر کیا کریں گے یہ بھی کوئی نہیں بتا سکتا۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *