عالم اسلام کا ہیرو کون؟

Share Article

گزشتہ چند برسوں میں عالم اسلام کے اندر زبردست سیاستی اتھل پتھل ہوئی ہے۔ کئی لیڈر ابھرے تو کئی گوشہ گمنامی میں چلے گئے۔ شام گزشتہ سات سال سے متحارب قوتوں کی خونی چپقلش کا شکار ہے۔ عراق دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے۔ مصر میں جمہوریت کی لاش تاناشاہی کی سولی پر لٹکتی دکھائی دے رہی ہے۔ لبنان مسلکی منافرت کے بارود کی ڈھیر پرکھڑا ہے۔ ایران گذشتہ 35سال سے اقتصادی پابندی کے حصار میں پھنسا ہے۔ بحرین میں جمہوریت نواز عوامی تحریک کا گلا دبایاجارہا ہے۔ یمن مسلح بغاوت کی تپش میں جھلس رہا ہے۔ لیبیا اور تیونس میں مطلق العنان حکومتوں کا بیڑا غرق تو ہوا ہے لیکن وہاں کے نظام حکومت کا سفینہ اب بھی ایک مضبوط لیڈر شپ کی تلاش میں سرگرداں ہے۔یہ تو عالم عرب کی حالت ہے جہاں تک جنوب ایشا کی بات ہے تو مسلم ملکوں میں پاکستان کی جوصورت حال ہے تو وہاں کوئی ایسی لیڈر شپ ہے ہی نہیں جو اس ملک کو عالمی سطح کی قیادت دے سکے یا پھر اس کے اندرون ملک دہشت گردی کے تسلط اور معاشی بحران کے خاتمے کی طرف ٹھوس قدم اٹھانے کی پالیسی پر مضبوطی سے عمل پیرا ہوسکے ۔
طیب اردگان
غرضیکہ پورے عالم اسلام کی طرف نظر دوڑانے سے فی الوقت چار ایسے چہرے سامنے آتے ہیں جن کو عالمی شہرت یافتہ لیڈر کہا جاسکتا ہے اور جن کا طرز حکومت یا انداز سیاست دنیا کے مسلمانوں پر کسی نہ کسی طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ان میں پہلا نام ترکی کے موجودہ صدر طیب اردگان کا ہے۔انہوں نے 1976 میں سیاست میں قدم رکھا تھا۔ 1994 میں استنبول کے میئر بنے۔ اس وقت استنبول جرائم کا شہر تھا۔انہوں نے صرف دو برس میں شہر کو کرائم فری کر دیا اور عوام کے دیگر تمام مسائل بھی حل کر دیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے استنبول دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہونے لگا۔ استنبول کی تعمیر و ترقی کو دیکھ کر عوام نے انھیں ترکی کے وزیراعظم کے طور پر آگے آنے کا مشورہ دیا اور 2002 کے انتخابات میں کامیابی ان کے نام کردی۔ ان دنوں ترکی اقتصادی بحران میں پھنسا ہوا تھا۔ طیب اردگان نے ترکی کو اس بحران سے نکالا اور ترکی کو حقیقی معنوں میں ’’مرد بیمار‘‘ کی کیفیت سے نکال کر ترقی و استحکام کی راہ پر گامزن کر دیا اور ترکی کی معیشت کا شمار دنیا کی بہترین معیشتوں میں ہونے لگا۔
2007 میں الیکشن ہوا تو ترک قوم نے ایک بار پھر انہیں ہی منتخب کیا۔ 2011 میں وہ تیسری بار ترکی کے وزیراعظم بنے اور پھر ترکی کے مضبوط صدر بن گئے۔ ہر بار عوام کے دلوں میں ان کی محبت پہلے سے زیادہ ہوتی چلی گئی۔ 15 جولائی 2016 کی شب فوج کے ایک دھڑے نے ملک میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کیا تو بغاوت کی سازش کو ترک عوام نے سڑکوں پر نکل کر، ٹینکوں کے آگے لیٹ کر اور اپنی جانیں قربان کرکے ناکام بنا دیا۔ طیب اردگان کا وقتاً فوقتاً کوئی نہ کوئی ایسا منصوبہ، کارنامہ، عالم اسلام کی حمایت اور اغیار کے خلاف دیا گیا کوئی بیان سامنے آتا رہتا ہے جو ان کی مقبولیت اور ہر دلعزیزی میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ اس وقت طیب اردگان اپنے ملک کی معاصر تاریخ کا مقبول ترین اور ہر دلعزیز حکمران شمار ہوتے ہیں۔

 

 

 

 

مہاتیر محمد
اس کڑی میں دوسرا نام ملیشیا کے مہاتیر محمد کا آتا ہے۔مہاتیر محمد کی معاشی پالیسیوں پر ایک طویل بحث ہے لیکن ان کی سیاسی پالیسیاں بھی کم دلچسپ نہیں ہیں۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حکومتیں بنانے کے علاوہ حکومتیں گرانے کے فن میں بھی ماہر ہیں۔ ان کا سیاسی عروج ملیشیا کے پہلے وزیرِاعظم تنکو عبدالرحمن کی حکومت گرانے کی کوششوں سے ہی ہوا۔ 21 سال کی عمر میں حکمراں جماعت میں شامل ہونے والے ڈاکٹر مہاتیر محمد 1964 میں پہلی بار رکن پارلیمنٹ بنے مگر 1969 کے الیکشن میں وہ اپنی نشست گنوا بیٹھے۔ الیکشن ہارنے کے بعد انہوں نے وزیرِاعظم تنکو عبدالرحمن کے خلاف ایک کھلا خط لکھا جس پر انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد مہاتیر محمد نے ملائی قوم کی حالت پر ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے ملائی قوم کو معاشی اعتبار سے پیچھے دھکیلنے کا الزام لگایا اور ساتھ ہی ملائی قوم کو بھی دوسرے درجے کی شہریت پر اکتفا کرنے کا طعنہ دیا۔
ڈاکٹر مہاتیر محمد کی اس کتاب نے انہیں حکمران جماعت کے نوجوان ملائی رہنماؤں میں مقبول بنا دیا اور انہوں نے انہیں دوبارہ پارٹی میں شامل کرایا۔ 1974 میں مہاتیر محمد دوبارہ رکن پارلیمنٹ بنے اور تعلیم کی وزارت انہیں سونپی گئی۔ 4 سال کے اندر ہی مہاتیر محمد سب کو پیچھے دھکیل کر پارٹی کے ڈپٹی لیڈر بن گئے اور پھر 1981 میں وزارتِ عظمیٰ کا تاج ان کے سر پر سجا۔
2018 میں ان کی سیاست میں واپسی نے ان کی سیاست کو مسلم ملکوں میں مزید شہرت دی۔مہاتیر محمد کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنا ہدف پوراکرنے میں کسی کی تنقید پر چراغپا نہیں ہوتے ہیں۔ ان کا ایک بیان بہت مشہور ہے کہ اگر لوگ مجھے ظالم یا فرعون کہتے ہیں تو کیا؟ مجھے فرق نہیں پڑتا کیونکہ سیاست میں ایسا ہوتا ہے۔انہیں یہ بھی فکر نہیں ہوتی ہے کہ تاریخ انہیں یاد رکھے گی یا نہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ لوگ مجھے یاد رکھیں گے یا نہیں، یاد رکھیں تو اچھا ہے، اگر یاد نہیں رکھیں گے تو بھی ٹھیک ہے، مجھے کیا فرق پڑے گا میں تو مرچکا ہوں گا۔مہاتیر ایک کامیاب سیاستدان ہیں یا نہیں؟ اس بارے میں تو اختلاف موجود ہے، لیکن اس بات سے شاید سب ہی اتفاق کریں کہ 92 سال کی عمر میں دوبارہ اقتدار میں واپسی اور تقریبا 6 دہائیوں سے ملیشیا اور عالمی سیاست میں ان کا اہم کردار انہیں ہمیشہ یاد رکھنے کے لیے کافی ہے۔
انور ابراہیم
ملیشیا کے ہی ایک دوسرے رہنما انور ابراہیم کے بارے میں سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ عرب ملکوں میں ان کی شبیہ بہت مضبوط نہیں ہے لیکن افریقی اور ایشائی ملکوں میں وہ ایک مضبوط لیڈر کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ان کا تعلق پیپلز جسٹس پارٹی سے ہے۔ ان کی سحرانگیز شخصیت کا ہر کوئی معترف ہے اور انہیں ملیشیا کے آئندہ وزیراعظم کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ انہیں 1998 میں اقتدار کے بیجا استعمال اور اغلام بازی میں ملوث پائے جانے کے الزام میں معطل کردیا گیاتھا اور بعدازاں انہیں جیل ہوگئی تھی۔ نجیب رزاق کے دورحکومت میں انورابراہیم کو 2015 میں ایک بار پھر جیل بھیجا گیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس کے پس پشت سیاسی محرکات کارفرما تھے۔ان کی سزا پر ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا میں سربراہ فل رابرٹسن نے کہا تھا کہ ’یہ در حقیقت ملیشیا کی عدلیہ کی تاریخ کا سیاہ ترین دور ہے۔ عدلیہ نے ظاہر کر دیا کہ ملک میں سیاسی مسائل کے سامنے وہ استقامت کا مظاہرہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ان کی قیادت میں ہی 2013 کے انتخابات میں ملیشیا کی حزبِ اختلاف کافی مستحکم ہوئی تھی۔1957 میں ملیشیا کی آزادی کے بعد سے ملک کی مقتدر جماعت کے لیے انور ابراہیم سب سے بڑے مخالف رہے ہیں۔ان کی سیاسی قوت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کو دبانے کی تمامتر کوششوں کے باجود 2008 اور 2013 کے انتخابات میں حزبِ اختلاف کے مضبوط رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے تھے۔اب جبکہ ان کے وزیر اعظم بننے کے امکانات بہت قوی ہیں تو توقع کی جاتی ہے کہ وہ مسلم ملکوں میں ایک مضبوط رہنما کے طور پر ابھریں گے ۔

 

 

 

 

محمد بن سلمان
عالم اسلام میں سیاسی دبائو رکھنے والے رہنمائوں میں ایک نام جوان سال سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کا بھی ہے۔ان کے سیاست میں آنے کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ان کے والد موجودہ سعودی شاہ سلمان جنوری 2015 میں اپنے بڑے بھائی عبداللہ کے انتقال کے بعد تخت پر بیٹھے تھے۔شاہ سلمان نے جانشینی کے سلسلے میں کئی کلیدی تبدیلیاں کیں۔ سب سے پہلے انھوں نے اپنے 33 سالہ بیٹے محمد بن سلمان کو وزیرِ دفاع مقرر کیا، اور اس کے بعد جون 2017 میں محمد بن نائف کی جگہ ولی عہد بنا دیا۔بعض لوگوں کو شہزادہ محمد کا تیزی سے ابھرتا ہوا ستارہ اور ان کا جارح مزاج شیکسپیئر کے کسی ڈرامے کی یاد دلاتا ہے۔ اگر وہ مستقبل قریب میں بادشاہ بن گئے تو کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کا تخت نصف صدی تک ان کے پاس رہ سکتا ہے۔
شہزادہ محمد کی تباہ کن خارجہ پالیسی کا سب سے پہلے یمن نشانہ بنا۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں سعودی عرب روز بروز دھنستا چلا جا رہا ہے۔دوسری طرف شہزادے نے تیزی سے شاہی خاندان کی تمام طاقت اپنی ذات کے اندر مرکوز کرنا شروع کر دی ہے جس کی وجہ سے خود شاہی خاندان، تجارتی طبقے اور مذہبی علما ء کی جانب سے ان کی مخالفت کا سلسلہ شروع ہے۔اس مخالفت نے اس وقت زبردست مخالفت کی ہوا چلا دی جب استنبول میں ایک سعودی صحافی خاشقجی جو کہ امریکہ میں جلا وطن کی زندگی گزار رہے تھے ،کو قتل کردیا گیا۔اس قتل کی وجہ سے نہ صرف اس کا سب سے بڑا حلیف ملک امریکہ بلکہ پوری دنیا میں شہزادے پر تنقید شروع ہوگئی ۔مانا یہ جارہا ہے کہ اس قتل میں بالواسطہ شہزادہ محمدبن سلمان ملوث ہیں۔ السعود خاندان کے اندر بعض عناصر کو یقین ہے کہ شہزادہ اندھا دھند فیصلے کرتے ہیں جس سے ملک کی سلامتی خطرے میں ہے۔
تحقیقاتی ادارے کیپیٹل اکنامکس کے مطابق،سعودی شاہی خاندان میں بغاوت کی افواہیں بھی جنم لے رہی ہیں۔مزید براں ایک طرف شہزادہ محمد کی شدت پسندی اور خاشقجی کے قتل نے ان کی شہرت پر قدغن لگا دیا ہے ورنہ ان کا ورژن 2030 جس میں ملک کی مختلف شعبوں میں اصلاحات کو مستحسن نظر سے دیکھا جارہا تھا، اب ماند پڑتی جارہی ہے۔
چاروں کا تقابلی جائزہ
اگر ہم مذکورہ عالمی شہرت یافتہ لیڈروں کا سیاسی تجزیہ کریں تو ان میں مہاتیر محمد گرچہ ایک مقبول لیڈر ہیں اور عالم اسلام میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر ان کی بڑھتی عمر اور ان کا سیاست سے الگ تھلک ہونے کا عندیہ عالم اسلام کا لیڈر ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔البتہ ان کے سیاسی حلیف انور ابراہیم جو کہ پورے جوش و خروش کے ساتھ ملیشیا کی سیاست میں حصہ لے رہے ہیں،عالمی شہرت رکھتے ہیں اور انہیں ایک مضبوط لیڈر بھی سمجھا جاتا ہے مگر ان کی شہرت جتنی ایشیائی اور افریقی مسلم ملکوں میں ہے،ویسی شہرت انہیں عالم عرب میں حاصل نہیں ہے،اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انور ابراہیم کے مضبوط لیڈر ہونے کے باجود انہیں عالم اسلام کے ہیرو لیڈر کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔
جہاں تک سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کی بات ہے تو ابتدائی دنوں میں ان کا ورژن2030 بہت مقبول ہورہا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ عالم اسلام کے سب سے مقبول اور ابھرتے ہوئے لیڈر کا اعزاز حاصل کرلیں گے لیکن ان کا سیاسی مخالفوں کو کچلنا، علماء و صحافیوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری اور اب خاشقجی کے قتل میں مشتبہ ہونے کی وجہ سے ان کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آگیا ہے بلکہ یہ خبر بھی پھیلنے لگی ہے کہ شاہ سلمان ان سے ولی عہدہ کا مرتبہ واپس بھی لے سکتے ہیں حالانکہ فی الوقت اس کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں مگر اتنا تو طے ہے کہ وہ جس تیزی کے ساتھ عالم اسلام کی سیاست پر چھارہے تھے ،اسی رفتار سے اس میں کمی ہوتی جارہی ہے۔
اب ایک لیڈر رہ جاتے ہیںطیب اردگان۔ طیب اردگان کے نہ صرف معاشی اصلاحات بلکہ امریکی اثر سے نکل کر روس کی طرف بڑھتے قدم اور دیگر مسلم ملکوں خاص طور پر میانمار میں روہنگیائیوں کی مدد،شامی مہاجروں سے ہمدردی اور فلسطین کے لئے اسرائیل سے نمٹنے کے فیصلے نے انہیں عالم اسلام کا ہیرو بنارکھا ہے۔ انھوں نے ملک کو جو استحکام اور معاشی ترقی عطا کی ہے وہ ایک مثال ہے اور انھوں نے پڑوسی ملکوں سے بھی ترکی کے تعلقات کو بہتر کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *