احمد اجراوی
گیارہ ستمبر کے حملوں کا بے بنیاد الزام اسلامی دنیا کے سر منڈھنے اور اسے مذہبی جنگ اور تہذیبی تصادم کا عنوان قرار دینے کے بعد افغانستان وعراق کو تہس نہس کرکے امریکہ کو یہ یقین ہو گیا ہے کہ عالم اسلام کے ہر خطے پر بالادستی حاصل کرنے سے اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ چناں چہ امریکہ ہر اس مسلم ملک کو ترچھی نظروں سے دیکھ رہا ہے، جو اس کے اہداف کو بہ عجلت رو بہ عمل لانے کی راہ میں حائل ہوسکتا ہے۔ اسرائیل چوں کہ امریکہ کا منظور نظر ہے اور ایران نیو کلیائی توانائی حاصل کرنے کے بعد اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم ، خلیجی ممالک میں اس کی بڑھتی دخل اندازی اور آگ وخون سے کھیلنے کی اس کی حد سے بڑھی انا کو چیلنج کرسکتا ہے، اس لیے امریکہ، ایران کی نیو کلیائی ٹیکنالوجی کے حصول کی راہ پر بڑھتے قدم کو روکنے کے لیے بے تاب ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ سب کچھ اسرائیل کے اشارے پر ہو رہا ہے۔ واقعہ بھی یہی ہے کہ امریکہ کے پالیسی سازوں پر اسرائیلیوں کا کنٹرول ہے۔ یہی وجہہ ہے کہ اگر کوئی امریکی صدر ہمت اور حوصلے سے کام لیتے ہوئے صہیونی مقاصد کو رو بہ عمل لانے کی مفوضہ ذمے داری سے سر مو بھی انحراف یا چشم پوشی کر تا ہے تو اسے اپنی جان اور مال کی خیر منانی پڑتی ہے۔ چناں چہ جس طرح امریکہ نے عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ بناکر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی، اسی طرح ایران کی جوہری تنصیبات کا ہوا کھڑا کرکے اس پر بھی سرا سر ناجائز اور انسانی تاریخ کی ایک اور شرمناک جنگ تھوپنے کے لیے تیار ہے۔
سر دست امریکہ یورپ سمیت پوری عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی سر توڑ کوششوںمیں مصروف ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام امن عالم کے لیے بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہے، جب کہ ایران اپنے حکمرانوں کی زبانی بار بار عالمی برادری کو اس بات کی یقین دہانی کرا چکا ہے کہ اس کا مقصد نیو کلیائی ٹکنالوجی کا پر امن استعمال کرنا ہے اور بس۔ تاکہ اس کے دریعے بجلی کی قلت کے مسائل حل کیے جاسکیں۔  چناں چہ ۱۲؍ جنوری ۲۰۱۲ء کومعتبر خبر رساں ایجنسی  رائٹر میں ایران کے جوہری پروگرم کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی کہ:’’ ایران مغرب کے ان شبہات کو مسترد کرتا ہے کہ اس کا نیو کلیائی پروگرام حربی نوعیت کا ہے۔ ایران خالصتاً پر امن مقاصد رکھتا ہے۔ حالاں کہ امریکہ سمیت فرانس، جرمنی اور برطانیہ ایران کو نیو کلیائی ٹیکنالوجی حاصل کرنے سے باز رکھنے کے لیے کئی سیاسی اور اقتصادی تعاون کی تجاویز پیش کر رہے ہیں، مگر ایران نے دو ٹوک الفاظ میں ایک بار پھر کہہ دیا ہے کہ’’ اسلامی جمہوریہ ایران کسی دباؤ یا لالچ میں آکر اپنے حق سے دست بردار نہیں ہوگا۔‘‘
عالمی برادری اور امریکہ کا یہ دوہرا پیمانہ نہیں تو اور کیا ہے اگر کوئی مسلم ملک پر امن مقاصد کے لیے نیو کلئیر توانا ئی حاصل کرنا چاہ رہاہے، تو اس کو سنگین نتائج سے دو چار ہونے کی دھمکی دی جارہی ہے ۔  دوسری طرف اگر کوئی یورپی ملک  پر امن مقاصد کے لیے نہیں، بلکہ خالص سیاسی اور جنگی مقاصد کے تحت بھی ایٹمی ہتھیار بنائے، تو نہ امریکہ کو اس کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی عالمی برادری اس کے خلاف عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔ اگر ایران یا کوئی دوسرا مسلم ملک پرامن طور پر ترقیاتی کاموں کو روبہ عمل لانے کے لیے اس قسم کی کوئی پیش رفت کرے، تو وہ بدی کا محور، امن عالم کے لیے خطرہ ہے اور اگر کوئی صلیبی اور صہیونی ملک جوہری ہتھیاروں کا مالک ہو اور بار بار امن عالم کو چیلنج کرتا ہو، تب بھی وہ دنیا کے لیے تحفظ اور امن وسلامتی کا محافظ ہے۔ آخر ایسا کیوں؟ عالمی برادری کو اس کا جواب نہ صرف امریکہ ، بلکہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے اراکین سے بھی پوچھنا چاہیے۔ امریکہ کا بغل بچہ اسرائیل نیوکلئیر ہتھیاروں کے اتنے بڑے ذخیرے کا مالک ہے کہ وہ منٹوں میں پورے مشرق وسطیٰ کو آگ اور خون میں نہلا سکتا ہے، لیکن اقوام متحدہ اور امریکہ سمیت پوری عالمی برادری اپنی زبانوں پر خاموشی کا قفل ڈالے ہوئے ہیں۔ یہ کوئی دیوانے کی بڑ نہیں، بلکہ ایک زبردست سچائی ہے کہ اسرائیل کے پاس معتبرذرائع کے مطابق 200 جوہری ہتھیارہیں۔ اسرائیل 1965میں ہی فرانس کے تعاون سے ایٹمی اسلحہ تیار کر چکا تھا۔ ایک اسرائیلی دانشور ایونر کوہن نے اپنی کتاب’’اسرائیل اینڈ دی بم‘‘ میں یہ حیرت انگیزانکشاف کیا تھا کہ امریکی انٹلی جنس کو (اسرائیل کے ) دمونہ ایٹمی پلانٹ کا علم اس کے قیام کے تین سال بعد ہوا، جو اس کی بد ترین ناکامی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اسرائیل نے صرف خود ہی چوری چھپے ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے، بلکہ وہ اپنے دیرینہ حلیفوں کو بھی اس سلسلے میں دامے درمے تعاون دیتا رہا ہے اور اس سے زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ امن عالم کی نام نہاددہائی دینے والوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ مشہور اسرائیلی اخبار ’’ ہارٹز‘‘ نے 20؍ اپریل 1997 کو یہ خبر مشتہر کی کہ 80کی دہائی میں اسرائیل نے جنوبی افریقہ کو جوہری اسلحہ سازی میں مدد دی تھی۔اور اس کے تبادلے میں اس نے 500ٹن یورینیم خریدا تھا۔ اسرائیل نے کبھی ان خبروں کی تردید نہیں کی۔ اسرائیل نے صرف اسلحہ سازی پر ہی بس نہیں کیا، بلکہ اسلحہ سازی میں کام آنے والے مواد کا بڑا ذخیرہ بھی مستقبل کے لیے محفوظ کرلیا ہے۔ خبروں سے پتہ چلا ہے کہ اسرائیل کے پاس 900 کلوگرام پلوٹو نیم کا ذخیرہ ہے۔ واضح رہے کہ ایک ہتھیار کی تیاری میں تقریبا 5کلو پلوٹو نیم کی مقدار استعمال ہوتی ہے۔
صرف اسرائیلی ریاست ہی امن عالم کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ پوری یہودی برادری ہی بنی نوع انسانیت کے لیے ایک رستا ہوا ناسور بن چکی ہے۔ یہودی جہاں کہیں بھی جاتے ہیں، شر انگیزی، قتل وغارت گری اور فتنہ فساد ڈالنے کی اپنی فطرت سے باز نہیں آتے۔ یہودیوں کا اس بات پر ایمان ہے کہ اس روئے ارض پر صرف ان کاحق ہے۔ ان کے علاوہ ہر کسی کو اس دنیا کو خیر باد کہہ کر آخرت کو سدھار جانا چاہیے۔ دنیا کا سارا عیش و آرام اور اور زندگی کے تمام تروسائل خدا نے صرف یہودیوں کے لیے پیدا کیے ہیں، لہٰذا جو بھی اس میں شراکت کا دعویٰ کرے، اسے اپنی خیر منا نی چاہیے۔ یہ بات خود موساد کے منحرف جاسوس ووسکی نے اپنی کتاب   ’’ By the way of deception‘‘ میں لکھی ہے۔ وہ لکھتا ہے۔’’دنیا میں ہر جگہ ہنگامہ آرائی کرنا، قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنا اور بد امنی پھیلانا صہیونیوں کا کام ہے۔ اور اب صہیونی ملک اسرائیل اس فساد اور ہنگامے کے پیچھے ہوتا ہے۔ وہ دنیامیں آگ وخون کی ہولی کھیلنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تا کہ دنیا الھی رہے اور وہ قائم رہیں۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here