پروین مہاجن
ودربھ کے کسان بد حال ہیں اور یہاں کے سیاست داں بد معاش ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ کسان خوشحال ہوں، ان  کے مسائل کا حل ہو،وہ ترقی کریں اور اقتصادی طور پر خودکفیل ہوں۔ اس لئے کاشتکاری سے جڑے مسائل کا مستقل حل کرنا نہیں چاہتے ہیں۔اگر کسانوں سے جڑے مسائل کا حل تلاش کر لیا گیا تو سیاست کرنے کے لئے ملنے والا  ایک جذباتی ایشو  ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔یہی یہ وجہ ہے کہ اقتدار کے سیاسی دائو پیچ میں آج کسان ،کاشتکار ی محض ایک ایشو بن کر رہ گئے ہیں۔ جب بھی مہاراشٹر لیجسلیچر کا سرما ئی سیشن ناگپور میں ہوتا ہے یا انتخاب کا موسم آتا ہے تو لیڈروں کو وِدربھ  کے کسانوں کی  خستہ حالی کی فکر ستانے لگتی ہے۔تحریک کا اعلان ہوتا ہے۔ کبھی کبھار ایکونومیکل پیکیج کا اعلان کرکے وقتی فائدہ پہنچانے کا اعلان ضرور کیا جاتا ہے لیکن اس کا فائدہ کسانوں کو آج تک کتنا ملا ہے؟یہ غور کرنے کا موضوع ہے،لیکن ارباب اقتدار اور اپوزیشن میں بیٹھنے والے لیڈروں نے آج تک مسائل کے مستقل حل کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔ اس لئے ودربھ میں کسانوں کی خود کشی کا سلسلہ نہیں رک رہا ہے۔ یہ کہنا ہے گاڑھے گھاٹ ( بھیواپور تحصیل) کے رہنے والے بھاسکر ریہہ پاڑے اور موریشور شندے کا۔
کسانوں کی مالی بد حالی کا پتہ اس سے ہی چل جاتا ہے کہ رواں سال 2011 میں ہی اب تک 674  کسانوں نے خود کشی کرلیہے، لیکن سرکار نے اس سے اب تک کوئی سبق نہیں لیا ہے۔ کسانوں کو کبھی سیلاب تو کبھی خشک سالی خشک کر دیتی ہے۔کبھی گھٹیا بیج ان کا مالی استحصال کر کے مصیبتوں میں ڈال دیتے ہیں۔اگر کبھی کبھار فصل اچھی ہو گئی تو اس کی صحیح قیمت نہیں ملتی ہے۔ ان کی پیداوار کی مناسب قیمت  دلانے میں سرکار ہمیشہ  پیچھے ہی رہتی ہے۔ پیداوار کی لاگت سے کم بازار نرخ ملنے سے کسان بینکوں کا قرض وقت پر نہیں لوٹا پاتے ہیں۔ اپنے گھر ، خاندان کی پرورش نہیں کرپاتے ہیں جس سے وہ نفسیاتی طور پر بالکل ٹوٹ جاتے ہیں۔آخرجب کہیں سے کوئی مدد ملنے کی امید نہیں بچتی تو وہ مایوس ہوکر خود کشی کرنے جیسے قدم اٹھا لیتے ہیں۔ روز کی ہورہی خود کشی کے سبب ودربھ میں کسان کی بیوائوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سرکار ہمیشہ کسانوں کی خود کشی کے حادثے کی تعداد کم کر کے بتانے کی کوشش کرتی ہے، لیکن اب  سرکار کی آنکھ کھل جانی چائیے، کیونکہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ مہاراشٹر میں سب سے زیادہ کسانوں کی خود کشی ہو رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزیر ِ زراعت شرد پوار نے دعویٰ کیا تھا کہ سال 2010 میں 365  کسانوں نے خود کشی کی تھی اور اس میں سے محض 65  نے قرض کی وجہ سے خود کشی کی تھی۔ اس پس منظر میں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی جاری رپورٹ سے ان کے دعوے کی پول کھل جاتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے 16 سالوں میں پورے ملک میں 2 لاکھ 52 ہزار کسانوں نے خود کشی کی ۔ سال 2010  میں پورے ہندوستان میں 15 ہزار 964  کسانوں نے خود کشی کی ہے، جن میں سب سے زیادہ مہاراشٹر میں 3 ہزار 141 کسانوں نے خود کشی کی ہے۔ یہ رپورٹ شرد پوار کے دعوے کو پوری طرح جھٹلا دیتی ہے۔ اس کے بعد بھی  صوبے کے ارباب اقتدار بے شرمی کی چادر اوڑھ کر اپنے دعوے کو صحیح ثابت کرنے کے لئے  دلیل دیتے رہتے ہیں ۔ ودربھ میں خود کشی  کے واقعات  ہو رہے ہیں اس کے لئے صوبہ و مرکز کی زراعتی پالیسی  ذمہ دار ہے۔ کسانوں کی خود کشی روکنے کے لئے  ’ اوپائے یوجنائوں‘  کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن اس کے  عملدرآمد کی خامیوں کی طرف توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ یہ ’اوپائے یوجنائیں‘  بھی  وقتی ہوتی ہیں۔ لہٰذا مسائل جوں کے توں  ہر سال بنے رہتے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  جب سرکار کپاس کی لاگت کے مطابق قیمت نہیں دے سکتی ہے تو اس کی بر آمدات پر  پابندی کیوں لگاتی ہے؟ سرکار کی زراعتی پالیسی کی پول اسی سے کھل جاتی ہے کہبحران میں مبتلا کنگ فیشر ایئر سروس کے مالک کو مالی مدد کرنے کی جلدی رہتی ہے خواہ مدد مانگی گئی ہو یا نہیں، لیکن بد حال کسانوں کے ذریعہ مالی مدد مانگنے پر بھی سرکار مدد کے لئے آگے  نہیں آتی ہے۔اسے ملک کے کسانوں کو نظر انداز کرنا نہیں کہا جائے گا تو کیا کہا جائے گا؟ایسا لگتا ہے کہ کسان مرتا ہے تو مرنے دو کا  نظریہ  سرکار  غیر اعلانیہ  طور پر اپنا چکی ہے۔
سچائی یہی ہے کہ روز  کے مرنے والے کے لئے کون روز روتا ہے۔ کسان خود کشی کے لئے بدنام ایوت محل ضلع کے  گائوں کا دورہ کر کے  لیڈر اپنی سیاسست چمکاتے ہیں۔ اسمبلی اور پارلیمنٹ  ہائوس میں کلاوتی جیسی کسان بیوائوں کا ذکر کر کے لچھے دار بھاشن دے کر اپنی برادری و میڈیا میں واہ واہی لوٹتے ہیں۔ راہل گاندھی ہوں یا نتن گڈکری (جنہوں نے حال ہی میں  کلاوتی کو ایک لاکھ کی مدد کی اورخود کشی کرنے والے کسانوں کے متاثر گائووں کو گود لینے کا اعلان کیا ہے)یا کوئی دیگر لیڈر ہوں ، وہ وہاں جاکر  وعدے کی خیرات بانٹ کر واپس چلے جاتے ہیں۔ اس کے بعد اس گائوں کی کیا حالت ہے، جن کی مدد کی، ان کی حالت میں سدھار ہوا ہے کہ نہیں ، ان باتوں پر غور کرنے کے لئے ان کے پاس وقت ہی نہیں رہتا ہے۔ نہ ہی اتنا وقت رہتا ہے کہ وہ جاکر اس گائوں کا جائزہ لیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سیاسی سوچ کے ساتھ وہاں جاتے ہیں لیکن مسائل کے حل کرنے میں عدم دلچسپی  ان لیڈروں  میں صاف جھلکتی ہے۔ اس لئے اب تک صوبائی و مرکزی سرکار کسانوں کی خود کشی کا توڑ نکالنے میں ناکام رہی ہے۔ان کو صرف کروڑوں  کے کاغذی پیکج بنا کر اعلان کرنے کے علاوہ کوئی راستہ دکھائی  نہیں دیتا ہے۔ اب تک کسانوں کی مدد کے لئے  سارے مالی پیکج  ناکافی ہی ثابت ہوئے ہیں۔ پیکجوں  کے ساتھ جو شرطیں سرکار لگاتی ہے  اس کے سبب اس پر عملکرنے میں دشواری ہوتی ہے اور جن کسانوں کو سب سے زیادہ مالی مدد کی ضرورت رہتی ہے ، و ہی اس کے فائدے سے محروم کر دیے جاتے ہیں۔
پچھلے سات سال میں  ہوئی خود کشی کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سرکار کی  ’اوپائے یوجنا‘ کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔ وِدربھ  کسانوں کا سوسائڈ زون اب بھی بنا ہوا ہے۔ سرکاری اعدا د و شمار کے مطابق سال 2004 میں  456 ، سال2005 میں 668 ، سال 2006 میں 1586 ،سال 2007 میں1556،سال 2008 میں1680 ،سال 2009 میں 1054  ، سال 2010 میں 826 ،  کسانوں نے  مالی بد حالی، قرض کے بوجھ اور قدرتی آفات کے تحت دیگر اسباب، کھیتی میں ہوئے نقصان کی وجہ سے خود کشی کو گلے لگایا ہے اور اتنے ہی کسانوں کی بیوائوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا تو یہ مطلب نکلتا ہے کہ صوبائی و مرکزی سرکار نے کسان کی خود کشی کے لئے بدنام ضلع اور گائووں کی تصویر بدلنے کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے  سوائے پیکج کا اعلان کرنے کے۔ رواں سال  2011 میں ہی 15 نومبر تک674 کسانوں نے خود کشی کی ہے اور مذکورہ اعداد و شما میں اور اضافہ ہو جائے تو حیرت کی بات نہیں ہوگی۔ خواتین کسانوں کے  ذریعہ خود کشی کرنے کی نئی بات بھی سامنے آئی ہے۔۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ خواتین کسان کی حالت زیادہ تشویشناک ہے۔ گزشتہ سال 2010 میں ملک میں 2372 خواتین کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ کرناٹک میں 457 ، آندھرا پردیش میں 395 ،چھتیس گڑھ میں 348 ، مدھیہ پردیش میں 264 ، اور مہاراشٹر میں 149 خواتین کسانوں نے خود کشی کی ہے۔ جس رفتار سے کسانوں کی خود کشی ودربھ میں جاری ہے اگر اسے روکنے کے  طریقے  نہیں اپنائے گئے تو خواتین کسان کے اعدا دو شمار  آنے والے دنوں میں مہارشٹر میں  آگے نکل سکتے ہیں۔ اس کی وجہ  یہ ہے کہ  ودربھ میں کسانوں کی خود کشی کے واقعات کے ساتھ  ہی کسان بیوائوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ان بیوائوں کے کندھے پر ہی گھر کی ذمہ داری آجاتی ہے۔ ساتھ ہی ان کسان بیوائوں کوانتظامیہ کے ساتھ ساتھ خاندانی و سماجی  بے اعتنائیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے ان کی پوزیشن اور بھی قابل رحم ہو جاتی ہے۔ ان سب کے بیچ بس ایک ہی سوال گونجتا ہے کہ آخر ودربھ میں کب رکے گا کسانوں کی خود کشی کا سلسلہ۔
ہر سال کی مانند اس بار بھی دسمبر مہینے میں چھوٹی راجدھانی ناگپور میں سردی کا لطف لینے کے لئے  12 دسمبر سے ایک  پروگرام  منعقد کیا جارہا ہے۔ریاست کے دیو  ( وزیر،ممبران اسمبلی، افسر) دیو نگری (ممبئی) چھوڑ کر ناگپور تشریف لا رہے ہیں۔ چاروں طرف کسان تحریکیں ہو رہی ہیں۔ کسان خود کشی کے نام پر  سیاست تیز ہو گئی ہے۔ پورا انتظامیہ ان کی آئو بھگت کی تیاری میں جٹا ہوا ہے۔ پولیس  بندوبست کے نام پر عوام کی مشکلیں اور بڑھا نے والی ہے۔ مگر عوام کی مشکلوں  سے سرکار کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ پھر یہ سوال کیا جارہا ہے کہ اس سال  ناگپور  سیشن  سے ودربھ کے کسانوں کو کیا ملنے والا ہے؟ودربھ کے لوگوں کو کتنا فائدہ ہونے والا ہے؟سب سے اہم سوال یہی ہے کہ ودربھ میں  مایوسیوں،ناامیدیوں  میں گھرے کسانوں کی زندگی خوشحال کب ہوگی؟ان کی خود کشی کے واقعات پر سرکار کب روک لگائے گی؟ان کے خاندانوں کی از سر نو تعمیر کب ہوگی۔مگر ان سوالوں کا جواب ریاست کا کوئی وزیر ، افسر اور لیڈر دینے کو تیار نہیں  ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ مسئلے کا پوری طرح حل کرنے کے  پر کبھی غور کرنے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔ بس مسائل کو ٹالنے کے لئے وقتی قدم اٹھا کرخود کو اپنے فرض سے سبکدوش مان لیتے ہیں ۔یہی ریاست کے عوام ، کسانوں کی بد قسمتی ہے۔  g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here