damiگزشتہ 16 اپریل کو تلنگانہ کی برسراقتدار تلنگانہ راشٹر سمیتی ( ٹی آر ایس) نے ایم آئی ایم ، کانگریس اور سی پی ایم کے تعاون سے اسمبلی سے ایس ٹی اور بی سی ای کے لیے اضافی ریزرویشن بل بالآخر منظور کرالیا جبکہ بی جے پی آخر الذکر کی سخت مخالفت کرتی رہی مگر اسی کے ساتھ ایس ٹی کے اضافہ کی اس نے حمایت کی۔ اس کی دلیل یہ تھی کہ مذہبی بنیاد پر آئین ہند کے تحت کوئی ریزرویشن نہیںدیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس وزیر اعلیٰ چندرشیکھر راؤ کا اصرار تھا کہ نئی ریاست کے وجود میںآنے کے بعد ان دونوں کی آبادی میںکافی اضافہ ہوگیا ہے اور اس کی وجہ سے ایس ٹی اور بی ایس ای دونوںکی پسماندگی مزید بڑھ گئی ہے۔ لہٰذا خالص سماجی- اقتصادی پسماندگی کی بنیاد پر یہ اضافی ریزرویشن دیا گیا ہے اور اس بل میںکہیں بھی مذہب لفظ کا ذکر نہیںکیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کے انتخابی منشور میں بی سی ای کے لیے موجودہ 4 فیصد سے 12 فیصد اور ایس ٹی کے لیے موجودہ 6 فیصد سے 10 فیصد بڑھاکر ریزرویشن کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ یہ سب کہہ کر انھوںنے یہ بھی کہا کہ ایسا کرنے میںکوئی غلط بات نہیںہے۔ ریاستی حکومت کو یقین ہے کہ ریزرویشن کا فیصد 50 سے زیادہ ہونے پر مرکز اس بل کو آئین کے 9 ویں شیڈول میں شامل کرے گا۔ اس بل کو تلنگانہ پسماندہ طبقات، درج فہرست اقوام بل کا نام دیاگیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی یہ دلیل تھی کہ بی جے پی اقتدار والی راجستھان حکومت نے بھی گوجروں اور جاٹ طبقہ کے ریزرویشن کوٹے کو 68 فیصد کرتے ہوئے قرارداد منظور کی تھی۔
بی جے پی کے ذریعہ بی سی ای ریزرویشن میں8 فیصد اضافہ کی اصل وجہ یہ تھی کہ بی سی ای زمرہ میںمسلمان بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے یہاںتک کہہ دیا تھا کہ اس طرح کے ریزرویشن سے ایک اور پاکستان بن جائے گا۔
ویسے یہ بات صحیح ہے کہ تقسیم کے بعد تلنگانہ میںایس سی، ایس ٹی او راقلیتوں بالخصوص مسلمانوںکی آبادی کی شرح بڑھی ہے۔ یہ کمیونٹیاںغیر منقسم اے پی کی رائل سیما اور آندھرا کے خطوںکے بالمقابل نئی ریاست میںزیادہ گھنی آبادی میںہیں۔ تقسیم کے بعد ایس ٹی کا آبادی میںشیئر9.08 فیصد تک بڑھا جبکہ یہ غیر منقسم ریاست میں7.11 فیصد تھا۔ اس طرح بی سی ای میںمسلمان بھی 9.56 فیصد سے بڑھ کر 12.68 فیصد ہوگئے۔ دراصل ان ہی اعداد و شمار پر مبنی حقائق کی بنیاد پر جی سدھیر اور ایس چیلپّا سبک دوش آئی اے ایس آفیسروں کی سربراہی والے دو رکنی کمیشن نے ان دونوںکمیونٹوں کے ریزرویشن کو مزید بڑھانے کی سفارش کی تھی اور برسراقتدارٹی آر ایس نے انتخابات سے قبل پہلے اپنے منشور میںاسے شامل کیا اور پھر اب اپنے کیے گئے وعدے کو مذکورہ بل کو اسمبلی میںپاس کراکے منظور کرایا۔
ویسے ہندوستان کی مختلف ریاستوںمیںریزرویشن کی پوزیشن پرطائرانہ نگاہ ڈالتے ہی یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ تلنگانہ حکومت کا یہ فیصلہ غیرمنطقی اور غیر مدلل نہیںہے۔ مذکورہ بل کی روشنی میںایس ٹی کا ریزرویشن10 فیصد اور بی سی ای کا ریزرویشن 12 فیصد ہوجاتا ہے او راس طرح کل ریزرویشن62 فیصد تک پہنچ جاتا ہے جو کہ آئین کی مقرر کردہ حد50 فیصدسے تجاوز ہے ۔ مگر تلنگانہ کو توقع ہے کہ آئین ہند کے 9 ویں شیڈول میں ریزرویشن کو شامل کرکے اس معاملہ کو نمٹایا جاسکتا ہے اور اسی کے ساتھ نئے قانون کو جوڈیشیل اسکروٹنی سے بچایا جاسکتا ہے ۔ یہ ریزرویشن سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میںداخلے کے لیے ہیں۔
تلنگانہ حکومت کی یہ توقع پوری کرنے میںمرکز کی بی جے پی سرکار کتنا آگے آئے گی، اس میںتو شبہ ہے جبکہ اس کی نظیرتمل ناڈو کے معاملے میںپہلے سے موجود ہے۔ قابل ذکر ہے کہ تمل ناڈو میںمرکزی حکومت کے اتفاق رائے سے 69 فیصد ریزرویشن برسوں نافذ رہا ہے۔
یہ شبہ اس لیے بھی بڑھ جاتا ہے کہ اس تعلق سے مرکزی وزیر برائے سوشل جسٹس تھوار چند گہلوت نے اظہار خیال کردیا ہے کہ پسماندہ مسلمانوں کے 80 فیصد حصے تو منڈل کمیشن کی سفارشات کے نافذ ہونے سے کور ہو ہی گئے ہیں۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ انھوںنے اس سلسلے میں اپنے تحفظات کا اظہار کردیا۔
جہاںتک آندھر اپردیش میں مسلمانوں کے ریزرویشن کا معاملہ ہے، اس کی شروعات 2004 میں ہوئی۔ سب سے پہلے وہاں کے کانگریسی وزیر اعلیٰ وائی ایس راج شیکھر ریڈی اسے لے کر آئے مگر آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے 5 فیصد ریزرویشن کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن آئین کے مطابق نہیں ہے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے اپنے ایک اینٹرم آرڈر میںریزرویشن کی پھر سے اجازت دی اور اسے 5 فیصد سے کم کرکے 4 فیصد کردیا تاکہ یہ 50 فیصد کے اندر رہے۔
اب برسراقتدار ٹی آر ایس کا کہنا ہے کہ وہ ان سب حقائق سے واقف ہے اور اسی لیے بل میںریزرویشن مذہبی بنیاد پر نہیں بلکہ پسماندگی کی بنیاد پر تجویز کیاگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تلنگانہ اسمبلی میںزبردست بحث چل رہی تھی تب وزیر اعلیٰ کے سی آر نے بہت تیزی سے اور تیکھے انداز میںکہا تھا کہ کیا مسلمان ہمارے شہری نہیں ہیں؟ جب ہر مذہب میںپسماندہ گروپ کو ریلیف دیا جارہا ہے تو مسلمانوںکو کیوں نہیں؟ برسراقتدار ٹی سی آر نے بی سی ای کو 2014 کے اپنے منشور میں12 فیصد ریزرویشن کا وعدہ کیا تھا اور گزشتہ تین سالوں میں اس پر اس تعلق سے زبردست دباؤپڑرہا تھا۔ اس بل کے منظورہوجانے کے بعد تلنگانہ میںجو مجموعی صورت حال بنتی ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمانوںکا ریزرویشن12 فیصد، ایس سی کا 15 فیصد،ایس ٹی کا10 فیصد اور او بی سی کا 25فیصد ہوا۔ یعنی ریاست میںریزرویشن کا کل فیصد 62ہوا۔
آئیے، اب ذرا دیکھتے ہیں کہ مرکز اور مختلف ریاستوںمیںریزرویشن کی پوزیشن کیا ہے؟ مرکزی حکومت کے مالی تعاون سے چل رہے اعلیٰ تعلیم گاہوں میں 22.50 فیصد سیٹ ایس سی (15 فیصد) اور ایس ٹی (7.5فیصد) ریزروڈ ہیں۔ یہ تناسب پارلیمنٹ اور تمام انتخابات میںلاگو ہے جبکہ یہ فیصد مختلف ریاستوں میںالگ الگ ہے۔ مثال کے طور پر تمل ناڈو میںایس سی کے لیے ریزرویشن 18 فیصد ہے جبکہ ایس ٹی کے لیے صرف ایک فیصد ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ مقامی آبادی کے حساب سے ہے۔ نارتھ-ایسٹ ہندوستان خصوصاً اروناچل پردیش،میگھالیہ،ناگالینڈ اور میزورم میںریاستی حکومت کی ملازمتوںمیںریزرویشن80 فیصد جبکہ نیہو (شیلانگ) اور راجیو گاندھی یونیورسٹیوںمیںایس ٹی طلباء کے لیے 60 فیصد ریزرویشن ہیں۔ اسی طرح بنگال میںتعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں35 فیصد ایس سی (22 فیصد)، ایس ٹی (6 فیصد) اور او بی سی (7 فیصد) کے لیے ریزروڈ ہیں۔ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی سطح پر سینٹرل تعلیمی اداروں میںمذہب کی بنیاد پر کوئی ریزرویشن نہیںدیاگیا ہے مگر اس بات سے بھی انکار نہیںکیا جاسکتا ہے کہ چند ریاستوں میںمذہبی کمیونٹیوں کو ریزرویشن فراہم کیا گیا ہے۔ تمل ناڈو حکومت نے مسلمانوںاور عیسائیوںکو الگ الگ 3.5 فیصد سیٹ دی ہیں۔ اس طرح اس کے اس قدم سے او بی سی ریزرویشن کا کوٹا 30 سے 23 فیصد کم ہوگیا۔
ریاست میں کیرل پبلک سروس کمیشن نے مسلمانوںکو 12 فیصد کوٹا دیا ہے۔ یہاں مذہبی تعلیمی اداروںکے پاس مسلم یا عیسائیوںکے لیے 50 فیصد ریزرویشن کی حد ہے۔ علاوہ ازیںمرکزی حکومت نے بھی متعدد مسلم کمیونٹیوںکو پسماندہ مسلمان قرار دے رکھا ہے جس سے انھیںریزریشن کا استحقاق مل جاتا ہے۔
ان تمام حقائق کی روشنی میںیہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ تلنگانہ میںبی سی ای اور ایس ٹی کے لیے جو بل منظور ہوا ہے،وہ کوئی نئی اور انہونی قانون سازی نہیں ہے۔ اس طرح کاکوٹا سسٹم دیگر ریاستوں میںپہلے سے قائم ہے۔ بہر حال یہ سوال تو اپنی جگہ رہ جاتا ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت اسے کس طرح لیتی ہے اور یہ صدر جمہوریہ ہند کی منظوری پاتا ہے یا نہیں؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here