کیا سچن بھارت رتن کے حقدار ہیں؟

Share Article

کرکٹ  اگر ہندوستان کا دھرم ہے تو سچن کرکٹ کی دنیا کے بھگوان۔ایسا ماننے والوں کی کمی نہیں ہے اس ملک میں۔ ظاہر ہے ایک ملک کے کروڑوں مایوس لوگوں کو خوشی کے جتنے پل سچن رمیش تندولکر نے دئے ہیں، اتنے شاید کسی نے نہیں۔ بدعنوانی اور گھوٹالوں کی خبریں سن سن کر پریشان ہو چکے عوام کے لیے یہ خبر ساون کی رم جھم پھوار سے کم نہیں تھی۔پدم اعزازات کا اعلان ہونا تھا۔ اسی درمیان25جنوری کو ایک خبر آئی کہ ملک کا سب سے بڑاشہری اعزاز بھارت رتن سچن کو مل سکتا ہے۔سچن کے چاہنے والوں کے لیے یہ ایک بڑی خبر تھی۔ لتا منگیشکر بھی چاہتی ہیں کہ کرکٹ کے اس بھگوان کو بھارت رتن ملے۔خود سچن بھی وقتاً فوقتاً میڈیا سے یہ کہتے رہے ہیں کہ اگر انہیں یہ اعزاز ملا تو خوشی ہوگی۔ افواہوں کو اگر صحیح خبر بھی نہ مانیں تو ایسی خبریں آئیں کہ کئی لیڈروں اور جانے مانے لوگوں نے سچن کو بھارت رتن دینے کی مانگ کی حمایت کی اور خود بھی یہ مانگ رکھی۔جشن یوم جمہوریہ سے صرف48گھنٹے قبل کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سنجے نروپم نے کہا کہ اس اعزاز کے لیے ان کی پارٹی نے سچن کے نام کی بھرپور وکالت کی ہے۔ممبئی میں جب نروپم یہ بیان دے رہے تھے، تب خود سچن بھی وہاں موجود تھے۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ سچن بھارت کے رتن ہی نہیں بلکہ انمول رتن ہیں۔سچن کو بھارت رتن ملنا چاہئے یا نہیں اس پر میڈیا میں بھی بحث ہوئی۔ عام طور پر قومی میڈیا نے عوام کی نبض کو بھانپتے ہوئے سچن کی حمایت میں ہی اترنے میں اپنی بھلائی سمجھی، لیکن اس سب کے درمیان اس حقیقت کی جانب شاید کسی کا بھی دھیان نہیں گیا کہ اب تک یہ اعزاز کسی کھلاڑی کو نہیں دیا گیا ہے۔اب تک بھارت رتن سے صرف انہی عظیم ہستیوں کو نوازا گیا ہے جنہوں نے آرٹ، ادب، سائنس اور عوامی خدمات کے شعبے میںاہم کام کیا ہے یا کوئی بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہو یا جن کے کاموں سے ملک کی خدمت ہوئی ہو۔ اس لحاظ سے اب تک کسی بھی کھلاڑی کو بھارت رتن نہیں مل سکا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے تب سچن کو یہ اعزاز کیوں دیا جانا چاہئے؟ اگر کھیل کے ہی شعبے سے اس اعزاز کے لیے کسی کو منتخب کرنا ہو تو پہلے میجر دھیان چند کیوں نہیں؟ہاکی تو پھر بھی ہمارا قومی کھیل ہے اور پھر ان کی حصولیابیوں کو کون بھول سکتا ہے؟ان کی صلاحیت کو کون چنوتی دے سکتا ہے، جن کی ہاکی توڑ کر دیکھی گئی کہ کہیں اس میں مقناطیس تو نہیں لگا ہے؟کیونکہ مخالف کھلاڑی ان سے گیند چھین ہی نہیں پاتے تھے۔
سوال کچھ اور بھی ہیں جو سچن کی مخالفت میں نہیںبلکہ بھارت رتن جیسے اعزاز کو بچائے رکھنے سے جڑے ہیں۔مثلاً سچن کے پاس ابھی اتنا وقت ہے کہ وہ بھارت رتن جیسے اعزاز کے لیے تھوڑا مزید انتظار کر سکتے ہیں۔ عمر کے لحاظ سے ابھی بھی کئی لوگ ہیں جنہیں یہ اعزاز دیا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حکومت بھی سچن کو یہ اعزاز دینے سے ہچکچا رہی ہے۔اس کے علاوہ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ سچن کھیل کے علاوہ ان تمام برانڈوں کا اشتہار بھی کرتے ہیں جو وقتاً فوقتاً متنازعہ رہے ہیں۔ عموماً اس طرح کے اعزاز سے نوازے جانے والی ہستیوں سے یہ امید ہوتی ہے کہ وہ نہ تو خود متانازعہ رہی ہوں او رنہ ان کا کسی تنازعہ سے تعلق رہا ہو۔ ایک اور سوال، کیا ہمارے ملک کے لیے واقعی کرکٹ اتنا اہم ہو گیا ہے؟ایسا کرکٹ جسے ٹیم انڈیا بھلے ہی کہا جاتا ہو،لیکن سرکاری طور پر یہ ٹیم بی سی سی آئی، جس کے دامن پرآئی پی ایل گھوٹالے سے لیکر غیر شفاش ادارہ ہونے کا الزام لگا ہے۔
خیر یہ امید کی جانی چاہئے کہ ایک حساس انسان اور بہترین کھلاڑی ہونے کے ناطہ سچن خود آگے بڑھ کر اس طرح کی باتوں کو کلین بولڈ کر دیں گے۔ اگر سچن ایسا کرتے ہیں تو بنا بھارت رتن ملے بھی وہ ہم سب کے لیے کسی بھارت رتن اعزاز یافتہ سے کم نہیں ہونگے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *