کیا دل کی تیز دھڑکن ہوتی ہے خطرے کی علامت؟

Share Article

ہوسکتا ہے یہ پڑھ کر آپ کی دل کی دھڑکن کچھ ہوجائے کہ دھڑکن کی رفتار کو آئندہ دو دہائیوں میں موت کے امکانات کی پیشگوئی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔یہ دعویٰ چین میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن افراد کی دل کی دھڑکن فی منٹ 80 ہوتی ہے ان میں اگلے 20 برسوں میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 45 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ چنگ ڈاؤ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق بیشتر افراد کی دل کی دھڑکن کی رفتار 60 سے 100 فی منٹ ہوتی ہے مگر پیشہ ور ایتھلیٹس کا دل فی منٹ 40 بار دھڑکتا ہے۔

Image result for What is the risk of a rapid heart rate signal?

دل کی سست دھڑکن کو طبی ماہرین زیادہ صحت مند اور فٹ دل کی علامت قرار دیتے ہیں۔ محققین نے دریافت کیا ہے کہ دل کی دھڑکن کی رفتار میں فی منٹ 10کا اضافہ بھی موت کا خطرہ 9 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، جبکہ ہارٹ اٹیک یا فالج کے امکان میں آٹھ فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔ محققین نے دل کی دھڑکن اور موت کے درمیان تعلق کو دریافت کرنے کے لیے 12 لاکھ افراد پر ہونے والی 45 طبی مطالعوں کا جائزہ لیا۔

محققین نے کہا ہے کہ دل کی دھڑکن سب سے سست رات کو ہوتی ہے جب جسم سکون کی حالت میں ہوتا ہے اور اس وقت ہی درست ترین ریڈنگ ممکن ہوتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنی صحت کے حوالے سے دل کی دھڑکن کی رفتار پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے اور جسمانی سرگرمیوں کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے جو دھڑکن کی رفتار کو سست کرتی ہیں۔ خیال رہے طبی ماہرین کے مطابق 18 سے 35 سال کے مردوں میں 56 سے 61 بار دل کا دھڑکنا مناسب ترین ہوتا ہے جبکہ 80 سے اوپر جانا خطرے کی علامت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح خواتین میں یہ تعداد 61 سے 65 بہترین کے لیے ہے جبکہ 83 سے اوپر خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ تحقیق طبی جریدے کینیڈین میڈیکل ایسوسی ایشن جرنل میں شائع ہوئی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *