کیا خوب ہے ہماری جمہوریت

Share Article

وسیم راشد
یہ ہیں ہم اور یہ ہے ہماری جمہوریت۔ ہمیں جمہوریت پر فخر ہے، کیونکہ جمہوریت ہمیں اپنی بات کہنے کا حق دیتی ہے۔ اپنے مسائل پر آواز اٹھانے کی اجازت دیتی ہے اور ساتھ ہی انسان کی شکل میں ہماری عزت بھی کرتی ہے، لیکن جمہوریت برقرار رہے اس کے لیے ہم کیا کرتے ہیں؟ہم صرف باتیں کرتے ہیں، کبھی کبھی گلا پھاڑتے ہیں اور تفریح کے لیے کبھی کبھی جلوس بھی نکال دیتے ہیں۔ ممبئی جیسے حادثات پر ہم باہر نکلتے ہیں اور تلاش کرتے ہیں کہ ٹی وی کیمرے کدھر ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اگر کیمرے والے نہ رہیں تو ہم سڑک پر ہی نہ آئیں۔کیا ہم کیمرے پر مبنی جمہوریت کی دنیا میں جی رہے ہیں؟ اپنے ملک میں جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لیے بہت زیادہ نہیں کرنا ہے۔ کرنا ہے صرف اس دن جس دن ووٹنگ ہونی ہے۔ ووٹنگ مراکز تک جانا ہے اور ووٹنگ کرنی ہے، لیکن اس ملک کا امیر طبقہ اور متوسط طبقہ اس دن کو چھٹی کے دن کی شکل میں دیکھتا ہے اور کنبہ و دوستوں کے ساتھ سیرو تفریح کے لیے نکل جاتا ہے۔تب جمہوریت بچانے کی ذمہ داری کیاصرف غریب، مزدور ، کسان اور محروم طبقہ کی ہی ہے۔وہ ووٹ ڈالتا جائے اور یہ ان لوگوں کو متاثر کرتے جائیں، جو جیت کر پارلیمنٹ میں آتے ہیں۔دوسرے الفاظ میں پیسے والے لوگ ان کو دولت سے متاثر کرنے میں لگ جائیں جو غریبوں کے ووٹ سے منتخب ہو کر آتے ہیں۔آخر غریبوں کو ، کسانوں کو ، مزدوروں کو اور اقلیتوں کو اس جمہوریت سے کیا ملا ہے؟اس سوال کا جواب انہیں دینا چاہئے جو اس نظام کو چلانے کے ذمہ دار ہیں۔سیاسی جماعتیں، نوکر شاہ، عدلیہ سے وابستہ لوگ یا دانشور کیوں نہیں سوچتے کہ جس جمہوریت کی بات وہ کرتے ہیں وہ غریبوں یا ملک کے عام لوگوں کی جمہوریت نہیں ہے۔پہلے وہ اسے اپنی مانتے تھے اور باجے گاجے کے ساتھ ووٹ دینے جاتے تھے، لیکن پچھلے 60برسوں میں کیا ہوا؟ غریبوں کی روزی روٹی چھنی، اس کے روزگار کے مواقع کم ہوئے، کسانوں کو اس کی پیداوار کے کم سے کم دام ملے، وہیں کاشتکاری کے لیے لازمی بیج، کھاد ، بجلی اورزرعی مشینیں مہنگی سے مہنگی ہوتی چلی گئیں۔ مزدور کو مزدوری نہیں ملتی، انہیں روزگار کے لیے گھروں سے دور جانا پڑتا ہے۔ اقلیتوں کو نہ ملازمت میں حصہ، نہ صنعت میں، نہ تعلیم میں اور نہ سیاست میں  انصاف پر مبنی شرکت مل پائی ہے۔نوجوان پڑھ لکھ کر بیکار ہو جاتے ہیں۔ بغیر پڑھے لکھے مزید بیکاری کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔یہ سب مل کر ملک کا70سے80 فیصد ہوتے ہیں۔ان کا بھروسہ اس نظام سے دوسرے الفاظ میں جمہوریت سے اٹھ رہا ہے۔وہ سوچتے ہیں کہ کسی کو بھی ووٹ دیں ان کی حالت میں بہتری نہیں آئے گی۔اس مایوسی کا نتیجہ بھی بہت خطرناک نکل رہا ہے۔ملک کے750 اضلاع میں سے تقریباً150اضلاع ہندوستانی خودمختاری کے اندر ایک نئی خود مختاری کا ماحول بنا رہے ہیں۔ ہم انہیں مائو نواز کہیں یا کچھ اور، لیکن جمہوریت سے مایوس عام لوگ، غریب اور محروم انہیں اپنی حمایت دینے سے نہیں ہچکچا رہے ہیں۔انھوں نے اپنا عدالتی نظام، اپنا قانون اور اپنی کرنسی کا چلن بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ہندوستان کے تقریباً تمام ساحلی صوبے بے چین ہیں۔
کشمیر میں تو چلئے دہشت گرد کہہ کر بے عزت کردیا جاتاہے، مگر ان ایک سو پچاس اضلاع میں تو مذہب پر مبنی کچھ بھی نہیں ہے، طبقہ پر مبنی اور غریبی کو بنیاد بنا کر لوگ ہتھیار اٹھا رہے ہیں ۔ پورا شمال مشرق شورش زدہ ہے، جہاں فوج ہی اسے ہندوستان سے جوڑنے کا کام کر رہی ہے۔ اگر فوج نہ ہو تو وہ حصہ ہندوستان کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں ہے۔ کچھ یہی حال کشمیر کا ہے۔ ہر جگہ پہلے مسئلہ، پھر اس کا حل نہ ہونا، لوگوں میں مایوسی کا بڑھنا اور پھر انہیں یا تو شر پسند یا علیحدگی پسندی کے تمغے کا مل جانا۔ اس جمہوریت میں باپ اپنے بیٹے کو جانشیں بنا دیتا ہے اور جب بیٹا پوری طرح ناکام ہو جاتا ہے تب بھی باپ کہتا ہے کہ ’’میرا بیٹا استعفیٰ نہیں دیگا‘‘بھلے ہی ایک بیٹے کے پیچھے ہزاروں کروڑوں بیٹے مارے جائیں مگر اقتدار کی کرسی سے بیٹے کو ہٹانا ناممکن ہے۔ اس جمہوریت میں صرف 2وزیروں کے میٹنگ میں نہ آنے کی وجہ سے وہ میٹنگ ملتوی کر دی جاتی ہے، جس پر پوری ریاست کا دار ومدار ہوتا ہے ، جس پر معصوم شہر یوں کی آنکھیں لگی ہوتی ہیں۔ بھئی جمہوریت ہے کیونکہ جب تک سبھی شامل نہ ہوں تو جمہوریت کا جھنڈا کیسے بلند ہوگا؟ وہ دو وزیر چاہے اپنی عیاشی کے سبب نہ آئے ہوں ، چاہے بیوی بچوں کے درمیان عید کی خوشیاں منا رہے ہوں۔
کوئی صوبہ سکون سے نہیں ہے۔ پینے کا پانی جب نہیں ہے توآبپاشی کا پانی کہاں سے آئے گا؟ معیشت نوجوانوں کی روزی روٹی کے سوال کا جواب دینے کی جگہ اسے نظر انداز کر رہی ہے اور میڈیا جسے ان سب کی مخالفت کرنی چاہئے، حالات کا ورکنگ پارٹنر بن گیا ہے۔آپ اندازہ لگائیے کہ تین ہزار یا پانچ ہزار ماہانہ تنخواہ پانے والے کتنے لوگ ہمارے ملک میں ہوں گے۔ سو کروڑ آبادی والے ملک میں پچاس فیصد سے زیادہ تو یقینا ہوں گے۔چینی 35-40روپے کلو سے زیادہ قیمت میں فروخت ہو رہی ہے۔ وہ چائے میں چینی کی جگہ نمک ڈال کر پی رہے ہیں، باقی قیمتوں کے بارے میں بات کرنا بیکار ہے۔
کیا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تمام لوگ ہمارے نظام سے خوش ہیں؟ بالکل نہیں۔ یہ سب نہ صرف ناراض ہیں بلکہ مایوس بھی ہیں۔انہیں جمہوریت سے اب شکایت بھی نہیں ہے، کیونکہ یہ سوچتے ہیں کہ جو آئے گا وہ یہی کرے گا اور جب ناراضگی مایوسی سے مل جاتی ہے تو خطرناک ہو جاتی ہے۔ اسی صورتحال کو ہم انتخابات میں دیکھ رہے ہیں۔ امیر چھٹی منانے نکل جاتا ہے اور ووٹ نہیں ڈالتا، وہیں غریب اس لئے ووٹ ڈالنے سے ہچکچاتا ہے کہ اس کے ووٹ کا کوئی فائدہ تو ہوتا نہیں ہے، جو بھی جیتے گا وہ ان کے مفادات کے خلاف ہی کام کرے گا۔یہ صورتحال خطرناک ہے اور اسے ہماری جمہوریت کو چلانے والے نہیں سمجھ رہے ہیں ۔ ان سب کا اعتماد ہماری جمہوریت پر نہیں رہا ۔ خدا کرے یو پی اوربہار الیکشن میں ایسا نہ ہو۔
سونیا گاندھی، لال کرشن اڈوانی، پرکاش کرات، ملائم سنگھ، مایاوتی، جے للتا، چندربابو ، پرکاش سنگھ بادل اور فاروق عبد اللہ کی جمہوریت الگ ہے اور دلت، اقلیتوں، غریبوں اور محروموں کی جمہوریت الگ۔ اس وقت کی حکومت کا یہی امتحان ہے کہ وہ عوام کو اعتماد میں لے پاتی ہے یا نہیں۔وہ ہماری جمہوریت میں واپس لوٹ پاتے ہیں یا نہیں اور انہیں یقین دلا پاتے ہیں یا نہیں کہ یہ جمہوریت ان کی بھی ہے۔
ہندوستانی جمہوریت کا چہرہ پارلیمنٹ ہے۔ کشمیر کا مسئلہ ہو، مائونوازوں کا ہو، دولت مشترکہ کھیلوںمیں بدعنوانی کا معاملہ ہو یا بابری مسجد ہر بار امتحان تو پارلیمنٹ کا ہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پارلیمنٹ کس حدتک اس امتحان میں کامیاب ہوپاتی ہے۔ کیوںکہ اگر پارلیمنٹ ان امتحانات میں کامیاب نہیں ہوتی تو پھر بندوق کی بات کرنے والوں کی دلیل عوام کو صحیح لگنے لگے گی ایسی حالت میں جمہوریت صرف کچھ لوگوں کے ڈرائنگ روم کی زینت پر بن کر رہ جائے گی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *