عید کس کی ہے؟

Share Article

وسیم راشد
عید کی آمدآمد ہے۔ جب تک یہ شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہوگا تب تک ہلال عید یا تو اپنا جلوہ دکھا چکا ہوگا یا پھر آپ اس کا دیدار کرنے کے لیے بیتاب ہوںگے۔ عید پر خصوصی شمارہ نکالتے وقت کئی چیزیں ذہن میں تھیں، جس میں یہ بات بار بار ذہن پر کچوکے لگا رہی تھی کہ ہمارے معزز کالم نگاروں نے عید کے تعلق سے بہت کچھ لکھا اور اس میں زکوٰۃ، صدقہ، فطرہ سبھی کا ذکر کرتے ہوئے عید کے اصل معنی بتانے کی بھر پور کوشش کی، مگر یہ تشنگی برقرار رہی کہ عالم اسلام کی حالت زار پر کسی نے روشنی نہیں ڈالی۔ ہاں لفظ عید کے معنی ضرور دیکھے، جس میں یہ معلوم ہوا کہ عید کا لفظ عود سے ماخوذ ہے جس کے معنی لوٹنے کے ہیں اور چونکہ یہ دن مسلمانوں پر بار بار لوٹ کر آتاہے اس لیے اسے عید کہتے ہیں۔ اس ضمن میں علامہ شامی کا قول ہے کہ مسرت اور خوشی کے دن کو عید، نیک شگون کے طور پر کہا جاتا ہے تاکہ یہ دن ہماری زندگی میں بار بار لوٹ کر آئے، لیکن جب ہم پوری دنیا میں اسلامی ممالک کی حالت زار دیکھتے ہیں تو بے اختیار دل سے یہ دعا نکلتی ہے کہ اے پروردگار ایسی عید قوموں کی زندگی میں کبھی نہ آئے۔ عراق، افغانستان، ایران، فلسطین، پاکستان اور آخر میں ہندوستان اور سبھی ممالک میں مسلمانوں کی حالت زار پر نظر ڈالیں تو دل بے اختیار ہوجاتا ہے۔ ہماری نظروں کے سامنے عراق میں 25؍ اگست کو ہوئے بم دھماکے کی تازہ رپورٹ ہے، جس میں 57؍افراد ہلاک اور تقریباً 200افراد زخمی ہوگئے۔ بغداد سے 170؍کلو میٹر دور شمال مشرقی شہر قط میں ایک خود کش کار بم دھماکہ میں کم از کم 20پولس کے جوان اور دیگر 90لوگ زخمی ہوئے۔ حالانکہ عراق سے اس وقت امریکہ کے تمام سپاہی واپس گھرجاچکے ہیں، مگر ابھی بھی وہاں امریکیوں کے خلاف غم وغصہ نکالنے کا کوئی موقع عراق کے لوگ نہیں چھوڑتے۔ افغانستان کی حالت زار تو ساری دنیا کے سامنے ہے۔ مجھے یاد آرہا ہے کہ اپریل 2008میں اقوام متحدہ کی خیرسگالی کی سفیر اور ہالی ووڈ کی خوبرو اداکارہ ’انجلینا جولی‘ نے جب افغانستان کا پہلی مرتبہ دورہ کیا تو پہلے ہی دورے کے موقع پر افغان عوام کی حالت زار دیکھ کر وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور زار و قطار رو پڑیں۔ افغانستان کی موجودہ صورت حال یہ ہے کہ افغانستان پوری طرح غربت و افلاس کا شکار ہوچکا ہے۔ عوام کے دلوں میں امریکی حکومت کے خلاف جو بھی غم و غصہ ہو مگر وہ اس وقت روزی روٹی کے لیے جد و جہد کر رہے ہیں۔ سرمایہ دار، امیر ترین اور طاقت ور ممالک کی ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ ایک طرف تو مہلک ہتھیار بنانے اور اپنے ملک میں عیش پرستی کو فروغ دینے کے لیے اربوں روپے صرف کر رہے ہیں تو دوسری طرف دنیا کے مسلم ممالک بے تحاشہ غربت میں مبتلا ہیں۔ ان کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے۔ افغانستان کی اس وقت حالت یہ ہے کہ وہاں کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی نہیں جٹا پا رہے اور تباہ حال افغانستان میں ایک کروڑ سے بھی زیادہ یتیم اور لاوارث بچے ہیں۔ ایک تازہ سروے کے مطابق افغانستان میں تقریباً 40فیصد بچے پانچ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ تقریباً ایک لاکھ سے زائد ننھے منھے بچے بازاروں، سڑکوں اور گلیوں میں محنت مزدوری کرتے ہیںیا بھیک مانگتے ہیں۔ عید مناتے وقت ان معصوموں کا اگر خیال آجائے تو آپ کی عید کا رنگ پھیکا نہیں ہوگا، بلکہ آپ اس ملک کے بچوں کے لیے بھی کچھ امدادی رقم اقوام متحدہ کو بھیج سکتے ہیں۔ افسوس ہوتا ہے سعودی عرب اور دوسری اسلامی مملکت پر جو کہ ہر طرح سے مالا مال ہیں اور چاہیں تو بے تحاشہ مدد کرسکتی ہیں، مگر جتنا کام اقوام متحدہ نے کیا ہے، جتنا کام دوسری تنظیمیں کر رہی ہیں، عرب ممالک نے ان کا ایک حصہ بھی نہیں کیا ہے۔ اب اگر ہم افغانستان کے بعد ایران کو لیں تو بھی لگتاہے کہ یہ ملک بھی تباہی کے دہانے پر ہے اور کبھی بھی اس پر حملہ ہوسکتا ہے کیوںکہ افغانستان اور عراق میں ناکام امریکہ نے ا یران کو کئی بار دھمکی دی ہے اور حال ہی میں امریکہ نے ایرانی سرحدوں کے سامنے اپنی فوجی قوت میں اضافہ کیا ہے۔ امریکی فوجی ذرائع نے یہ بتایا ہے کہ امریکہ نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے پیٹریٹ میزائل ایران کی سرحدوں کے پاس تعینات کیے ہیں۔
اب بات کرتے ہیں سب سے مظلوم قوم کی یعنی فلسطینیوں کی تو ابھی پچھلے دنوں پڑھاتھا کہ مسجد اقصیٰ کے دروازے فلسطینیوں کے لیے کھولے تو گئے ہیں، مگر دہشت کے سایے ان پر منڈلا رہے ہیں۔ 60-65سالوں سے فلسطین کا مسئلہ جوں کا توں ہے اور اس وقت فلسطینیوں کی یہ حالت ہے کہ وہ بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں، جو بحری بیڑے ان کے لیے دوائیں، غذائی اشیا اور ضروریات زندگی کی مختلف چیزیں لے کر جاتے ہیں، ان کو روک دیا جاتا ہے اور اس طرح فلسطینی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے کے لیے مجبور ہیں۔ حالانکہ اسرائیل نے بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام تو کچھ حد تک روک دیا ہے، مگر ان کے خلاف ابھی نفرت کا اظہار کرنا نہیں چھوڑا۔ اقوام متحدہ کی ہی ایک رپورٹ کے مطابق فلسطینی عوام طبی امداد کے لیے اسرائیل پر انحصار کرتی ہے اور اس وقت بیت المقدس میں ہی اعلیٰ درجے کے اسپتال ہیں، جن تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مظلوم فلسطینی عوام کو پہلے ایک سخت اور لمبے طریقۂ کار سے گزر کر اپنے لیے پاس جاری کروانے پڑتے ہیں اور بعد میں اسرائیلی حکومت کے زیرنگرانی ان کو ڈاکٹر سے ملاقات کی تاریخیں دی جاتی ہیں۔ کئی بار تو یہ تاریخیں اتنے بعد کی ہوتی ہیں کہ اس شخص کی موت بھی ہوجاتی ہے۔ 15سے 30سالہ فلسطینی مرد و بچوں کو طبی امداد کے لیے ظالم اسرائیلی حکومت پاس تک جاری نہیں کرتی اور ان کو مزید اذیت دینے کے لیے اور سڑنے کے لیے چھوڑ دیتی ہے۔ہزاروں فلسطینی، اسرائیلی قیدمیں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ’الضمیر‘ کی ڈائریکٹر ’سحر فرینس‘ نے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کے حالات کے جائزے کے بعد واضح کیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید تنہائی کاٹنے والے قیدیوں کا باقی قیدیوں سے نہ رابطہ ہے نہ ہی ان کو کسی بھی وقت کوٹھریوں سے باہر نکلنے کی اجازت۔ فلسطین کا کوئی گھر ایسا نہیں ہے جو اسرائیلی بربریت کا شکار نہ ہوا ہو۔ ان غریبوں کی کیا عید کیسی عید۔ یہ تو بے چارے یہی چاہیںگے کہ ایسی قید خانہ کی عید کبھی ان کی زندگی میں دوبارہ نہ آئے۔ اب یمن کی باری ہے۔ دسمبر 2009میں یمن میں امریکی جنگی طیاروں نے یمن کے شہری علاقوں، بازاروں، مہاجر کیمپوں، دیہاتوںا ور سڑکوں پر بمباری کی جس سے کہ تقریباً 120افرد جاں بحق ہوئے اورتقریباً 44افراد زخمی ہوئے۔ یمن کے الحوثی گروپ نے یمن میں امریکی مداخلت پر سخت تنقید کی ہے ا ور ابھی بھی یمن امریکی حملہ سے خائف ہے۔ تازہ خبروں کے مطابق امریکہ کا اگلا نشانہ یمن ہوسکتا ہے۔ جس میں ڈرون طیاروں کا استعمال بھی متوقع ہے۔ جواز یہ ہے کہ واشنگٹن امریکہ کی سلامتی کو اب یمن میں موجود القاعدہ سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خبر رساں ادارے کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ سی آئی اے کو یقین ہے کہ یمن میں موجود القاعدہ کی شاخ اسامہ بن لادن کی بانی تنظیم القاعدہ سے زیادہ طاقتور بن چکی ہے اور سی آئی اے یمن میں امریکی فوجی آپریشن کے بارے میں سوچ رہی ہے۔
مسلم ممالک کا ذکر کرتے کرتے ہماری آنکھیں اس وقت نم ہوگئیں جب ہم نے پاکستان میں حالیہ سیلاب سے متاثرین کی تصاویر دیکھیں۔ پاکستان وہ بدنصیب ملک ہے، جس کو تقسیم کے بعد سے اب تک جمہوریت نصیب نہیں ہوئی جو ملک کا قائد بنا اسی نے ملک سے زیادہ اپنے مفاد پر توجہ دی۔ اس وقت پاکستان اپنے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ تبھی تو امریکی نائب صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ پاکستان کی صورت حال ان کے لیے عراق اور افغانستان سے زیادہ خطرناک ہے۔ پاکستان کے اس بھیانک سیلاب نے پاکستان کو 50سال پیچھے دھکیل دیا ہے اور اس تباہ کن سیلاب سے خیبر پختونخواہ صوبۂ سندھ اور بلوچستان کی حالت بےحد خراب ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق سیلاب متاثرین کی تعداد ایک کروڑ 71لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے اور اقوام متحدہ نے خوراک کی کمی کے باعث تقریبا5ہزار بچوں کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ تقریباً 60لاکھ سے زیادہ متاثرین ابھی بھی امداد سے محروم ہیں۔ ایک طرف سیلاب سے بربادی ، دوسری طرف لوٹ، مار، چوری، ڈاکہ زنی اور تیسری جانب وبائی امراض کا پھیلنا ان سب سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے پاس نہ تو ذرائع ہیں اور نہ ہی ملک کے رہنماؤں میں وہ جذبہ۔ حالانکہ اقوام متحدہ کی جانب سے چار سو ساٹھ ملین ڈالر کی امداد کی اپیل کے بعد سے اب تک 29کروڑ چالیس لاکھ کی امداد مل چکی ہے،مگر ابھی بھی یہ بہت کم ہے۔ اس ملک کے پاس نہ تو اپنے ذرائع ہیں نہ ملک کے سربراہان کے پاس وہ جذبہ۔تبھی تو آصف علی زرداری جب ان کا ملک بدترین دور سے گزر رہا تھا تو وہ برطانیہ میں براجمان تھے۔ اس ملک کی قسمت ہی خراب ہے۔ کبھی اندرونی خانہ جنگی، کبھی دہشت گردی، کبھی قدرتی آفات اور کبھی سیاسی قائدین کی خود غرضی اس ملک کو پنپنے ہی نہیں دیتی، ایسے میں جب کہ پورا پاسکتان اس قدرتی آفت سے نبرد آزما ہے، وہ بے چارے کیا عید منائیںگے۔ ہماری کچھ پاکستانی دوستوں سے بات ہوئی جو اسلام آباد، کراچی،لاہور اور سندھ میں رہتے ہیں، ان کا کہنا یہ تھا کہ اس سیلاب کی وجہ سے مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے اور لوٹ مار ڈاکہ زنی کا بازار اس قدر گرم ہے کہ عید کا تو تصور ہی ختم ہوگیا ہے، وہ خوشی جو عید کے تعلق سے رہتی تھی، وہ نئے نئے کپڑے وہ گھروں کو سجانا وہ سب اب خواب کی باتیں ہوگئی ہیں، اب تو بس عید کا دوگانہ ادا کرنا ہے۔ سبھی اسلامی ممالک کی حالت ابتر ہے، ایسے میں اگر کچھ بہتر حالات میں ہیں تو وہ ہندوستان کے مسلمان ہیں کم سے کم انہیں اندرون خانہ جنگی، امریکی جارحیت، چوری ڈاکہ زنی جیسے حالات سے تو نہیں گزرنا پڑ رہا، مگر یہاں کشمیر کی حالت خراب ہے۔ کشمیریوں کو کوئی دن سکھ کا نصیب نہیں اور جیسے وہاں کی عورتیں، بچے، بوڑھے سبھی سروں پر کفن باندھ کر نکل چکے ہیں۔ دہلی میں کامن ویلتھ گیمز کی وجہ سے یوں تو پوری دہلی ہی ملبہ کا ڈھیر بنی ہوئی ہے اور بارش کے بعد ڈینگو، ملیریا، وائرل اور آشوب چشم کی بیماریاں زور پکڑ رہی ہیں، مگر مسلم علاقوں کی حالت زیادہ خراب ہے، ان علاقوں میں صفائی کا فقدان ہے۔ کوڑے کے ڈھیر کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور گلیوں میں تو صفائی دور کی بات ہے۔ بازاروں اور سڑکوں پر بھی صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے اور اس پر مہنگائی کی مار۔
عید ان سب کے باوجود انہی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ آگئی ہے، خدا کرے کہ یہ سب کے لیے خوشیوں کا پیغام لے کرآئے اور سبھی اسلامی ممالک اس عید کے دوگانہ میں اپنے ملک کی سلامتی کے لیے بھی دعا کریں اور ساتھ ہی اپنی سلامتی کے لیے ہماری بھی خدا سے یہی دعا ہے کہ کوئی ایک عید ایسی آئے، جب تمام عالم اسلام سکون، آرام اور چین سے عید مناسکیں۔ ہم سب کے دکھ درد میں اتنے ہی شریک ہیں، جتنی خوشیوں میںہیں۔ تمام عالم اسلام کو عید کی پر خلوص مبارکباد۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

One thought on “عید کس کی ہے؟

  • September 10, 2010 at 4:03 pm
    Permalink

    وسیم راشد صاحبہ
    آپ نے دل کو چهو لینے والی باتیں کہی ہیں .
    مبارکباد کے مستحق ہیں.

    جاوید اختر، راشد
    اکھلا، نی دلھی-١١٠٠٢٥.
    9313007131  

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *