دوا کے کلینکل ٹرائل کے نام پر کیا جارہا ہے فراڈ

Share Article

دوا کمپنیاں کوئی بھی دوا بازار میںاتارنے سے قبل ا س کا ٹرائل کرتی ہیں ۔ اس کے لیے ایسی بیماری کی زدمیںآئے کسی شخص پر اس کا ٹرائل کیا جاتا ہے، جس بیماری کے لیے وہ دوا بنائی گئی ہوتی ہے، یا پھر جانچ کے ذریعہ اسے لے کر یقینی ہونے کے بعدہی ٹرائل ہوتا ہے کہ اس شخص پر اس دوا کاکوئی غلط اثر نہیںپڑے گا۔ لیکن اس سلسلے میںہال میںایک ایسا واقعہ دیکھنے کو ملا جو نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی طور پر بھی غلط ہے۔اپریل میںراجستھان کے جے پور میںہوا کلینکل ٹرائل، مقامی انتظامیہ کے طریقہ کار پر بھی سوال کھڑے کرتاہے۔ اس کلینکل ٹرائل کو بڑے ہی ڈرامائی ڈھنگ سے انجام دیا گیا۔
دراصل 18-19اپریل کو راجستھان کے چورو سے 21اور بھرتپور سے 4 لوگوںکو یہ کہہ کر جے پو ر لایا گیا کہ وہاںایک اسپتال میںکیمپ کا کام چل رہا ہے اور اس میںانھیں500 روپے دہاڑی ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی آئی پی ایل میچ دکھانے کا لالچ بھی دیا گیا۔ اسپتال کیمپ میںکام کی بات سن کر لوگ آگئے۔ وی کے آئی انڈسٹریل ایریا میںواقع مال پانی ہاسپٹل کے ایک وارڈ میں انھیں ٹھہرایا گیا اور صبح ساڑھے 10 بجے کے قریب ناشتے کے بعد یہ کہتے ہوئے ایک ٹیبلیٹ کھانے کودی گئی کہ اس سے کھانا اچھی طرح ہضم ہوجائے گا اور تھکان بھی نہیںہوگی۔ کچھ لوگوںنے دوالی، کچھ نے یہ کہتے ہوئے دوا لینے سے منع کردیا کہ انھوں نے اب تک کوئی دوا نہیں کھائی ہے، اس لیے نہیںکھا سکتے۔ اس کے بعدکئی لوگوںپر دوا لینے کا دباؤ بھی بنایا گیا۔ ا س کی وجہ سے کچھ لوگ کسی بہانے سے اسپتال سے بھاگ گئے۔ جن لوگوں نے دوا لی تھی،انھیںتھوڑی دیر بعد چکر، الٹی نیند، بے ہوشی اورپیشاب نہیںآنے کا مسئلہ شروع ہوگیا۔اس بارے میںجب انھوںنے ڈاکٹر سے شکایت کی تو ان سے کہا گیا کہ تھوڑی دیر میںسب ٹھیک ہوجائے گا لیکن جن 9 لوگوںکی طبیعت بگڑی،وہ کسی طرح وہاںسے نکلنے کی کوشش کرنے لگے اور اس کے بعد یہ معاملہ باہر آگیا۔
ان سب کو جو دوا دی گئی تھی،وہ دراصل ایک نئی دوا تھی،جس کا ٹرائل کیا جا رہا تھا۔ لیکن ٹرائل کا یہ طریقہ پوری طرح سے غلط اور غیر قانونی ہے۔ اس معاملے میںجب ہلہ شروع ہوا تو اسپتال انتظامیہ نے اس غیر قانونی ٹرائل سے پوری طرح پلہ جھاڑ لیا۔ ٹرائل کرنے والے ڈاکٹرنے حالانکہ دعویٰ کیا کہ انھیںٹرائل کے لیے منظوری ملی ہوئی ہے اور وہ ٹرائل کرتے بھی ہیں۔ لیکن ڈاکٹر نے یہ نہیں بتایا کہ کیا ٹرائل کا یہی طریقہ ہے کہ کسی کو بھی دھوکے سے بلاکر اس پر کسی بھی دوا کا ٹرائل کردیا جائے۔ ڈاکٹر نے یہ بھی کہا کہ ہمیںنہیںپتہ کہ وہ لوگ کون ہیں اور کہاںگئے ہیں، جو طبیعت بگڑنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

اسپتال کے اس ڈاکٹر راہل سینی نے تو یہاںتک دعویٰ کردیا کہ ان لوگوںکو کوئی دوا نہیں دی گئی لیکن دوا لینے کے بعد جن کی حالت بگڑی،وہ اب بھی اپنے الزام پر قائم ہیں اور اپنے لیے انصاف کی مانگ کر رہے ہیں۔ دوالینے کے بعد بیمار ہونے والوں میںڈگاریا گاؤں کے باشندے سانورمل، کالو رام، مولا رام، لچھو رام، سوہن لال، بھاگو رام،اومرام، بنواری اور بھنور رام شامل ہیں۔ان کا سیدھاالزام ہے کہ انھیں جھانسا دے کر گاؤںسے یہاںلایا گیا۔ بھرتپور سے لائے گئے چار لوگوںکو تو ان ہی کے ایک واقف کار نے آئی پی ایل دکھانے کے بہانے سے بلایا۔ ان چار لوگوںمیںشامل فتح سنگھ اور بھاگیرتھ کا کہنا ہے کہ بھرتپور کے ہی رہنے والے مہاویر نے یہ کہہ کر بلایا کہ کام کے بدلے ہزار روپے تک دلوا دے گا۔ مہاویر سے جب اس معاملے میں پو چھ تاچھ ہوئی تو اس نے بتایا کہ وہ انھیں آئی پی ایل میچ دکھانے کے لیے لایا تھا۔ اس کا دوست ویشنو اسپتال میںکام کرتا ہے، اس لیے ان سبھی لوگوںکو وہاںٹھہرایا گیا ۔ حالانکہ خود مہاویر کو نہیںپتہ تھا کہ میچ کب اور کہاںہے؟
متاثرین کے الزاموں اور ثبوتوں سے الگ اسپتال انتظامیہ خود کو پاک صاف ثابت کرنے میںلگا ہواہے۔ ڈاکٹر سینی نے تو بچاؤ میںیہاںتک کہہ دیا کہ گلیکسو کمپنی کی جس اسٹڈیو آرتھرائٹس کی دوا کا ٹرائل ہونا تھا، وہ شروع نہیںہوا۔ ہم نے انھیںکوئی دوا نہیںدی۔ دوا دینے سے پہلے ہم اسکریننگ کرتے ہیں اور پتہ کرتے ہیںکہ مریض کو دوا دی جاسکتی ہے یا نہیں۔ اس کے بعد ٹرائل کرتے ہیں۔ ایسے میںطبیعت بگڑنے کی حالت نہیںآتی۔ لیکن متاثرین کی حالت اور ان کے الزام ڈاکٹر کے دعووں کو کٹہرے میںکرتے ہیں۔
اسپتال انتظامیہ نے اس پورے معاملے کو رفع دفع کرنے کے لیے متاثرین کو ڈرایا دھمکایا، وہیںکئی کو لالچ بھی دیے گئے۔ لیکن یہ معاملہ پھر سے سرخیوں میںتب آگیا جب دوا کھانے والوںمیںسے ایک ڈگاریا گاؤں کے باشندے 23 سالہ بھاگو رام کی 9 مئی کو ا چانک طبیعت خرا ب ہوگئی اور اسے سجان گڑھ کے سرکاری اسپتال میںبھرتی کرانا پڑا۔ جانچ میںپتہ چلا کہ اس دوا کے اثرکی وجہ سے ہی بھاگو رام کی دوبارہ طبیعت خراب ہوئی ۔ کلینکل ٹرائل کا یہ طریقہ اسپتال انتظامیہ کو تو کٹہرے میںکھڑا کرتا ہی ہے، انتظامیہ کے کام کرنے کے انداز پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔
ضابطے کے مطابق کسی بھی اسپتال کو کلینکل ٹرائل کے لیے پہلے کلینکل ایتھیکل کمیٹی سے اجازت لینی ہوتی ہے۔ اس کمیٹی میںڈاکٹر، وکیل اور سماجی کارکن سمیت نو لوگ ہوتے ہیں ۔کلینکل ٹرائل کے لیے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ جس شخص پر ٹرائل کیا جانا ہے، وہ اس بیماری سے متعلق مریض ہو۔ اس کے ساتھ ہی ٹرائل سے پہلے ڈاکٹر اور کمپنی کے افسرکو مریض کو دوا کے بارے میںپوری جانکاری دینی ضروری ہوتی ہے۔ ان سب کے بعد اگر مریض تیار ہوتا ہے تبھی اس پر ٹرائل کیا جاسکتا ہے لیکن اس معاملے میںایساکچھ نہیںہوا۔ ویسے تو اس معاملے کی جانچ شروع ہوگئی ہے لیکن یہ دیکھنے والی بات ہوگی کہ اس میںقصورواروں کو سزا ملتی بھی ہے یایہ معاملہ بھی بے حسی کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *