کیا کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے ؟

Share Article

انتظار نعیم
کرپشن یعنی بد عنوانی او ررشوت ستانی پر اِس وقت پورے ملک میں گفتگو جاری ہے۔ ماضی میں بھی ہورہی تھی اور مستقبل میں بھی ہوتی رہے گی۔ گزشتہ مہینوں دولت مشترکہ کھیلوں کے دوران اس کا خصوصیت سے ذکر رہا۔ اس کے بعد اس کے تذکرے میں مزید شدت آئی جب کئی بڑے لوگ سلاخوں کے پیچھے گئے اور کئی اونچے افراد سے مسلسل تفتیش جاری ہے۔ اِسی درمیان ایک عالمی تجزیاتی ادارے نے جمہوریہ ہند کو دنیا کے بدعنوان ترین ملکوں کی طویل فہرست میں اعلیٰ مقام تفویض کرتے ہوئے چوتھے مقام پر فائز کیا۔ ملک کے مشہور سماجی لیڈر جناب انّا ہزارے نے وزیراعظم جناب منموہن سنگھ تک کی اپیل کے باوجود بدعنوانی کے خلاف دھرم یُدھ چھیڑتے ہوئے ۵؍اپریل کو نئی دہلی میں پارلیمنٹ سے قریب جنتر منتر پر اُیواس کے ساتھ آمرن انشن شروع کیا۔ راقم الحروف کو پختہ یقین ہے کہ نہ محترم انَا ہزارے کی موت کا سانحہ ہونے دیا جائے گا اور نہ ہی بدعنوانی کو اس ملک سے ختم کیا جاسکے گا۔
انّا ہزارے صاحب کو اس لیے موت سے ہمکنار ہونے نہیں دیا جائے گا کہ وہ ملک کی ایک صاف ستھری کردار کی حامل محترم شخصیت ہیں، وہ جنتر منتر پر آمرن انشن کے سبب مر گئے تو ملک میں ایک ہیجان پیدا ہوگا، جو حکمرانوں، سیاست دانوں اور معروف بدعنوانوں کے حق میں نہیں جائے گا، اس لیے ہمارے یہاں کی پرانی روایت کے مطابق ایک کلائمکس پیدا ہونے کے بعد اُن کو کوئی خوبصورت فریب دے کر جوس کا گلاس پلا کر موت کا شکار ہونے سے بچا لیا جائے گا اور بدعنوانی کا سیلاب جوں کا توں گاؤں سے لے کر پارلیمنٹ تک جاری رہے گا۔ایسا کیوں نہ ہو؟ گاؤں کا ایک غریب اور مفلوک الحال شخص جب پنچایت کا الیکشن جیت کر پردھان یا سرپنچ بنتے ہی راتوں رات پنچایت فنڈ کے لاکھوں روپے اپنی صواب دید پر خرچ کرنے کا مکلف ہوجاتا ہے اور کوئی عقیدہ و تصور اور عملاً قانون اُس کی راہ میں حائل نہیں ہوپاتا ہے تو آسمان سے اچانک ٹپکے ہوئے اس خزانے کے ایک بڑے حصے کو وہ اپنی شخصیت اور اپنے اعزہ و اقارب پر صرف کرنے سے کیوں گریز کرے؟
اِسی طرح جب ایک صوبائی یا مرکزی وزیر کی جنبشِ قلم پر کروڑوں نہیں اربوں روپے رقص کرتے ہوں تو وہ ان میں سے اپنا معقول حصہ نکال کرا پنی کئی پشتوں کا نظم کیوں نہ کرلے؟ اس کو معلوم ہے کہ انتہائی فن کاری سے انجام دیے گئے اس کام کی اولاً تو کسی کو کانوں کان بھنک نہیں لگے گی اور کچھ ہوا بھی تو چند اخباری خبروں اور سرسری تحقیقات کے بعد معاملہ خود ہی سرد خانے میں چلا جائے گا۔ اتنے بڑے ملک میں بہت تیزی سے مسلسل سامنے آنے والے بدعنوانی کے بے شمار واقعات میں اُس کا واقعہ کس کو یاد رہے گا! وقتی طور پر کابینہ سے علیٰحدگی ہو بھی گئی تو اگلی کابینہ میں وزیر بننے سے اس کو کون روک سکے گا؟ اور فرض کیجیے قسمت نے تھوڑی دیر ساتھ نہ دیا اور چند مہینے جیل میں بھی گزر گئے تو اس سے کیا ہوتا ہے؟ رہائی کے بعد اس کو ہار پھول پہنا کر سر پر بٹھانے والے حواریوںکی کب کمی ہوتی ہے؟ اور سب سے بڑی بات یہ کہ اپنی حکمت و دانائی سے جو کئی ہزار کروڑ روپے اس نے جمع کرلیے ہیں انھیں حکومت یا عدالت اُس سے واپس تھوڑے ہی لے پائے گی۔
پنچایت سے پارلیمنٹ تک کا ذکر تو بس نمونے کے طور پر کیا گیا، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ تن ہمہ داغ داغ شد — کی کیفیت ہے اور کوئی شعبۂ زندگی ایسا ملنا نا ممکن سا ہے جہاں بدعنوانی، کرپشن اور لوٹ کھسوٹ نہ ہو۔ گاؤں سرپنچ سے لے کر مرکزی وزیر تک، چپراسی سے لے کر اعلیٰ ترین افسر تک ، آٹو رکشا والے سے لے کر ہوائی جہاز کے پائلٹوں تک۔ (حال ہی میں فرضی اور غلط لائسنسوں کی بنیاد پر کچھ پائلٹ گرفت میں آئے) بس کنڈکٹر سے لے کرریلوے کے ٹی ٹی تک، دودھ گھی تیار کرنے اور فروخت کرنے والوں سے لے کر دوا سازوں اور دو ا فروشوں تک، ملک کے بارڈروں اور ہوائی اڈوں پر متعین کسٹم ملازمین سے لے کر ملک کی سرحدوں کی حفاظت پر مامور افواج تک، کرپشن اور بدعنوانی سے کون کتنا پاک ہے یہ کہنا مشکل ہے ! یہ نہ سمجھا جائے کہ اس فہرست میں جن بے شمار کاموں پیشوں اور شعبوں کے نام درج نہیں کیے گئے ہیں وہ سب بڑے پاکباز اورا نتہائی دیانت دار ہیں۔ واقعہ تو یہ ہے کہ اس پر حیرت ہے کہ کرپشن کی فہرست میں بھارت کو تو مقام ِ اول پر ہونا چاہیے، ہم چوتھے نمبر پر کیسے ہیں؟ کیا ہم سے زیاد کرپٹ بھی کوئی ملک ہوسکتا ہے؟
کرپشن کے پہلو سے ملک کی جو تشویش ناک صورت حال ہے، اُس پر انّا ہزارے جیسے حضرات سرکار اور اہل وطن کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں، یہ اپنے آپ میں بہت غنیمت ہے، لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا یہ مرض اتنا مہلک اور سماج کے رگ و پے میں ایسا سرایت کیے ہوئے ہے کہ کسی بھی عام علاج سے اس کا خاتمہ آسان نہیں ہے۔ بات بہت سادہ سی ہے کہ جب کسی بڑی محنت و جدوجہد کے لاکھوں کروڑوں روپے اور بے حدوحساب جائداد ہاتھ آرہی ہو تو کوئی بھی شخص اس سے منہ کیوں موڑے؟ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جن کی زندگیاں ہمارے سامنے ہوں تو امیدکی جاسکتی ہے کہ ہماری روحوں تک میں بسیرا کیے ہوئے اندھیرے کافور ہوسکتے ہیں اور ہم بدعنوانی و کرپشن کے اس تاریک غار سے سچائی و دیانت کے نور سے روشن شاہراہ پر آسکتے ہیں۔ مدینہ کی گلیاں تھیں، رات کی تاریکی تھی، ہر طرف سنّاٹا تھا، صبح ہونے کے قریب تھی۔ گھر کے اندر سے کسی ماں کی آواز آرہی تھی: بیٹی اٹھ جا، اُٹھ جا، صبح ہورہی ہے، اٹھ جا دودھ میں پانی ملا دے! بیٹی نے کہا: امی یہ گنا ہ ہے! امیر المؤمنین نے اعلان کرایا ہے کہ دودھ میں کوئی ملاوٹ نہیں کی جائے گی! ماں نے قدرے بلند آواز سے کہا: یہاں کہاں ہیں امیر المؤمنین! اُٹھ جا دودھ میں پانی ملا دے! بیٹی نے ادب سے عرض کیا :ماں! امیرالمؤمنین نہ سہی، اللہ تو موجود ہے! امیر المؤمنین نہ دیکھیں، وہ تو دیکھ رہا ہے! اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کیا اس گفتگو کے بعد بھی ماں نے دودھ میں پانی ملانے پر اصرار کیا ہوگااور رات کے سناٹے میں بھی خدا کے اپنے گھرمیں موجود ہونے کا یقین رکھنے والی بیٹی نے دودھ میں پانی ملا دیا ہوگا؟ نہیں، ہرگز نہیں! تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا نہیں ہوا، بلکہ اس کے ساتھ یہ دلچسپ واقعہ ہواکہ اپنے عوام کی خبرگیری کے جذبے سے راتوں کو مدینے کی گلیوں کا گشت لگانے والے امیر المؤمنین حضرت عمرؓ خود ہی گلی میں کھڑے ہوئے ماں بیٹی کی یہ گفتگو سن رہے تھے۔ آپ معصوم لڑکی کے جذبہ ایمان اور حسن کردار سے ایسے متاثر ہوئے کہ صبح ہونے پر اس لڑکی کو اپنی بہو بنا لیا۔
یہی امیر المؤمنین عمر ؓ مدینہ کی مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مسلمانوں کو خطاب فرمارہے تھے۔ مجمع سے ایک صاحب اٹھے اور کہا کہ ہم آپ کی بات نہیں سنیں گے، جب تک آپ یہ نہ بتائیں کہ آپ نے یہ لمبا کرتا کیسے سِلا لیا؟ یعنی بیت المال سے تو ہر مسلمان کو صرف ایک ایک چادر تقسیم ہوئی تھی( ایک ہی چادر آپ کو بھی ملی تھی ، اور ایک چادر میں آپ جیسے دراز قد شخص کا قمیص تیار ہونا ممکن نہیں ہے)حضرت عمرؓ جن کے نام سے قیصر وکسریٰ کی حکومتیں کانپتی تھیں، فرمایا کہ اس اعتراض کا جواب میرے بیٹے عبد اللہ دیں گے۔ بیٹے نے کھڑے ہوکر وضاحت کی کہ بیت المال سے جو چادر میرے حصے میں آئی تھی وہ میں نے والد محترم کو پیش کردی تھی( اس طرح دوچادریں ملا کر امیر المؤمنین کا کرتا تیارہوا ہے) اعتراض کرنے والے شخص نے مطمئن ہوکر کہا کہ ٹھیک ہے، اب آپ کا خطاب سنیں گے۔
اِنھیں حضرت عمر کی اگلی نسلوں کے ایک عزیز عمر بن عبد العزیز ؒبھی خلیفہ ہوئے تو دل کی دنیا اور زندگی کی کیفیت تبدیل ہوگئی۔ حضرت عمر بن عبد العزیز سرکاری کام میں مشغو ل تھے کہ بیت المال کی امانت کے طور پر رکھے ہوئے سیب کے ڈھیر میں سے اُن کے چھوٹے سے معصوم بیٹے نے ایک سیب اٹھالیا۔خلیفہ نے بیٹے کے ہاتھ سے سیب لے کر امانت میں ڈال دیا تو بچہ روتے ہوئے گھر چلا گیا۔ کام ختم کرکے جب وہ خود گھر پہنچے تو بیوی نے شکایت کی کہ آپ نے بیٹے کے ہاتھ سے سیب چھین لیا اور وہ خالی ہاتھ روتے ہوئے واپس آگیا۔ خلیفۂ وقت نے کہا کہ وہ سب بیت المال کی امانت تھی( اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں) بیٹے کو سیب چاہئے تو میں اپنے پیسے سے بازار سے لا دیتا ہوں!
یہ چھوٹے چھوٹے تین تاریخی واقعات اِس بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ اگر اللہ کے ہونے پر کامل ایمان ہو،آخرت کا یقین اور وہاں ہر چھوٹے بڑے نیک و بدعمل کی جواب دہی اور جزا و سزا کا احساس تازہ رہے اور دنیوی اعتبار سے بھی رحمت عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول مبارک پیش نظر رہے کہ اگر محمد ؐ کی بیٹی بھی چوری کرتی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا جاتا تو ملک میں موجود کرپشن کی موجودہ صورت باقی نہ رہتی۔ جہاں نہ خدا ک خوف ہو، نہ آخرت میں جواب دہی کا احساس، نہ دنیا میں بھی جرم کی سخت سزا کا اندیشہ اور کیفیت یہ ہو کہ   ؎
بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
وہاں کرپشن کا دریا بہنے اور بہانے سے کیسے اور کس طرح روکا جاسکتاہے؟ اس کو مستحکم عقیدے اور مؤثر قانون اور اس کے بے لاگ نفاذ سے ہی ختم کیاجاسکتا ہے۔ کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *