کیا انا کی مہم کرپشن ختم کر پائے گی؟

Share Article

وسیم راشد
ہم چوتھی دنیا انٹرنیٹ ٹی وی پر ایک لائیو پروگرام ’’بلیک اینڈ وہائٹ‘‘ کرتے ہیں، جس کے کئی پروگرامز میں ہم نے بارہا عوام سے درخواست کی کہ مہنگائی ، کرپشن، استحصال، سماجی نابرابری اورخواتین کے ساتھ زیادتی وغیرہ کے خلاف عوام کو احتجاج بلند کرنا چاہئے، ان ہی کو آواز اٹھانی ہے۔ اندازہ تھا کہ ایک وقت ہوگا جب مصر، تیونیشیا اور لیبیا کی طرح ہندوستان میں بھی ایک ایسی عوامی تحریک اٹھے گی جو بدعنوانی، مہنگائی اور کرپشن کے خاتمہ کا مطالبہ کرے گی۔ اس بار انا ہزارے نے یہ بیڑا اٹھایا اور ہزاروں لوگوں کو اپنے ساتھ کرلیا۔ انا ہزارے صحیح ہیں یا غلط، ان کا موقف کتنا سچا ہے، وہ خود کتنے ایماندار ہیں، ہم ابھی اس پر بات نہیں کر رہے ہیں۔ ہاں اس پورے ہزاری میلے میں خوب تام جھام ہوا۔ ڈھول تاشے بجے، اسٹیج پر طرح طرح کی نوٹنکیاں دیکھنے کو ملیں۔ بابا رام دیو بھی اپنے مزاحیہ انداز میں ’’میرا رنگ دے بستی چولا‘‘ گاتے نظر آئے۔ ممبئی میں شبانہ اعظمی اور ارملا ماتونڈکر نے بھی انا ہزارے کا ساتھ دیا اور دیکھا جائے تو پورا ہندوستان کسی نہ کسی طرح اس تہوار کو منانے میں جٹ گیا۔ بیرون ممالک میں بسنے والے ہندوستانی بھی اس مہم میں انٹرنیٹ کے ذریعے جڑے رہے اور میڈیا تو جیسے بھوکی بیٹھی تھی۔ اس نے بھی اپنی ٹی آر پی بڑھانے کے لیے انا جی کو گاندھی جی کے مدمقابل لا کھڑا کیا۔ ایک بات تو اس میں مثبت نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ انا ہزارے کا ایشو اچھا تھا، مگر کیا دس آدمیوں کی کمیٹی بننے سے ملک میں پھیلنے والا کرپشن پکڑ میں آسکے گا، جن گھوٹالوں کی گنتی مشکل ہے، وہ گھوٹالے اس ملک کا مقدر بن چکے ہیں، ایسے میں معمولی چپراسی سے لے کر فوجی افسران، آئی اے ایس افسران، پولس، انتظامیہ، لیڈران سبھی رشوت کے پیسے کو حلال کی کمائی اور اپنا حق سمجھ کر بٹورلیتے ہیں، جو لوگ چھوٹی موٹی نوکریوں پر ہیں، وہ یہ سوچتے ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ بڑے بڑے افسران تو اتنی موٹی رقمیں اپنی تنخواہ کی شکل میں بھی لے رہے ہیں اور اوپر کی آمدنی بھی ہے۔ ایسے میں ہمارا تو پورا حق ہے، اس اوپر کی کمائی پر اور پھر جب ٹاٹا اور امبانی جیسے لوگ گھوٹالوں میں ملوث ہوں، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بدعنوان ہوں، تو پھر عام آدمی کے لیے تو رشوت ہی اصل کمائی ہوجاتی ہے۔ بدعنوانی کے خلاف یہ پہلا احتجاج نہیں ہے۔ میرے اپنے ہوش میں دو یا تین بار اس طرح کا احتجاج ہوا ہے۔
جے پرکاش نارائن جی کی قیادت میں پہلی بار اس وقت ہو اتھا جب مسز گاندھی ہندوستان کی وزیراعظم تھیں۔ جے پرکاش نارائن جی کا جنون اندرا گاندھی کو لے ڈوبا اور جے پرکاش جی کے ایشو کا دائرہ بڑا تھا، وہ ملکی نظام میں تبدیلی کے لیے تحریک چلا رہے تھے۔ پہلی بار اس وقت ہندوستان کی گلیوں میں یہ نعرہ گونجا تھا کہ ’’گلی گلی میں شور ہے اندرا گاندھی چور ہے۔‘‘
دوسرا سب سے بڑا احتجاج وی پی سنگھ کی قیادت میں ہوا اور راجیوگاندھی کی حکومت کو 1989 میں اقتدار کھونا پڑگیا۔ یہاں ان سب باتوں کو بیان کرنے کا ایک مقصد اور بھی ہے، وہ یہ کہ بار بار سیاسی اقتدار کی چابیاں بدلتی رہیں، مگر عوام کو سکون میسر نہیں ہو ا اور پھر ہندوستان کی تاریخ کا وہ لمحہ بھی یاد ہے، جب بابری مسجد شہید کردی گئی، وہ لمحہ بھی ہندوستان کے سینے پر رستا ہوا ناسور ہے، جب گجرات میں مسلم کش فساد ہوا اور جس نے ہندوستان کی تاریخ میں وہ لمحہ ہمیشہ کے لیے کالے حروف سے لکھ دیا۔ مگر اس وقت کوئی انا ہزارے سامنے نہیں آیا۔ گجرات میں اقلیتی فرقے کے تقریباً 4 ہزار لوگ مارے گئے، انا جی ابھی بھی مودی کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والے انا جی کو یہ نظر نہیں آیا کہ مودی کتنے کرپٹ ہیں اور ہزاروں مسلمانوں کے خون سے ان کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں۔ اس طرح اڑیسہ میں گرجا گھروں میں آگ لگا دی گئی۔ عیسائیوں کا قتل عام ہوا، اس وقت بھی کوئی سامنے نہیں آیا۔ آسام میں 1983 کے قتل عام میں پانچ ہزار سے زیادہ مسلمان بے قصور مارے گئے۔ 1984 میں سکھوں کا قتل عام ہوا۔ میرٹھ کے ملیانہ اور ہاشم پورہ آخر کتنے فسادات کے نام گنائے جائیں۔
اس وقت بھی ایسا ہی کوئی قدم اٹھانا چاہیے تھا، جس سے کہ مسلمانوں کی روح پر لگے زخموں پر مرہم لگایا جاسکتا۔ بے شک بدعنوانی ملک کے لیے ناسور ہے، لیکن فرقہ واریت بدعنوانی سے بڑا ناسور ہے، جس پر انا ہزارے جیسے سماجی کارکن کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ عامر خان وزیراعظم کو خط لکھ رہے ہیں، مگر اقلیتوں کے مسائل پر تو آج تک کسی بھی فلم اسٹار نے وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کو خط نہیں لکھا۔ آج ہم انا ہزارے کو چھوٹا گاندھی کہہ رہے ہیں، مگر گاندھی جیسا سیکولر ذہن و دل دماغ اگر انا جی کا ہوتا تو وہ مودی کی تعریف نہ کرتے۔ مگر پھر بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ملک ہمارا ہے۔ اس کے سارے مسائل ہمارے ہیں۔ ہم بھی اپنے ملک کے نیشنل ایشوز سے خود کو جوڑنا چاہتے ہیں اور اگر شروعات انا جی سے ہی ہوتی ہے تو ہم ان کے ساتھ ہیں، کیوں کہ کوئی تو یہ بیڑا اٹھائے گا۔ اس وقت ہندوستان کی فضا مسلمانوں کے لیے ساز گار ہے۔ تقریباً 8-9 سال سے یعنی 2004 سے 2011 تک کسی بھی بڑے فساد کی خبر نہیں ہے اور مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے والوں کی زبان بھی کچھ حد تک خاموش ہے، کیوں کہ سامنے اسیمانند اور پرگیہ ٹھاکر ہیں۔ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات بے شک نافذ نہیں ہوئیں، مگر مسلمانوں کے لیے کام تو ہوا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر اپنی آنکھیں اور کان کھلی رکھیں۔ کرپشن کے خلاف آواز ضرور اٹھائیں۔ ایک بار نہیں دو بار نہیں تیسری بار ہلکی سی آواز کوئی سنے گا اور پھر جب یہی آواز چیخ کی شکل میں کانوں سے ٹکرائے گی تو یقینا انقلاب لے آئے گی۔ ا س کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم کسی بھی تحریک کے سیاسی پہلوؤں پر ضرور غور کریں اور جذباتیت سے پرہیز کرتے ہوئے دیکھیں کہ آخر اس وقت جب کہ 5 ریاستوں آسام، کیرالہ، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور پانڈیچری میں الیکشن کی تاریخوں کا اعلان ہوچکا ہے، ایسے میں نہ جانے کیوں بار بار یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ ایسا موضوع جس کو بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں سرفہرست رکھا ہو اس پر ملک گیر تحریک چلانے کا کیا مقصد ہوسکتا ہے؟ اسی طرح آر ایس ایس نے بھی پوری طرح انا کی تحریک کی حمایت کی ہے۔ اس سے بھی کہیں نہ کہیں ہمارے تحت الشعور میں کچھ کھٹک رہا ہے۔ پھر بھگوالیڈروں نے انا کے ساتھ مل کر مرکزی سرکار کو جس طرح اس ایشو پر گھیرا، پھر انا کا مودی کی ستائش کرنا، نہ جانے کیوں کچھ تو لگ رہا ہے، جس کی پردہ داری ہے۔ لوک پال بل تو کافی عرصہ سے گرد و غبار والی فائلوں میں دبا ہوا تھا۔ خیر چلئے زیادہ شک و شبہ اچھی بات نہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ بل بے حد طاقتور ہوگا۔ بل کو نافذالعمل بنانے کے لیے جو ادارہ قائم ہوگا اس کو بیک وقت فیصلہ سازی، انتظامی اور جوڈیشیل پاورس حاصل ہونگی۔ اس لیے اس پر پہلے بحث و مباحثہ ہو جانا چاہئے کہ کیا اتنے طاقتور ادارے کو بنانا چاہئے جیسے کہ کشمیر میں فوج کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں مگر ان کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔یعنی جس چیز کو زیادہ طاقتور بنا دیا جاتا ہے اس کا کہیں نہ کہیں غلط استعمال ہو سکتا ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *