کولکاتہ ،گورنر جگدیپ دھنکھڑ کو مرکزی حکومت نے زیڈ پلس سیکورٹی مہیا کرا دی ہے۔ مرکزی سیکورٹی فورس کے جوان ان کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالنے کے لئے راج بھون کولکاتہ پہنچ چکے ہیں۔ اسے لے کر حکمران ترنمول کانگریس نے اعتراض درج کرایا ہے۔ دوسری طرف انتظامیہ کے افسران نے بھی اسے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گورنر کو مرکزی حکومت کی سیکورٹی آئین و قوانین کی خلاف ورزی جیسا معاملہ ہے۔
دراصل کچھ دنوں پہلے گورنر دہلی گئے تھے اور وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد جمعرات کو وزارت داخلہ کی جانب سے ایک خط ریاستی پولیس ڈائریکٹر جنرل وریندر کمار کے پاس آئی ہے۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ گورنر کی حفاظت اب ریاستی حکومت کے ذمہ نہیں رہے گی بلکہ ان کی حفاظت کی ذمہ داری مرکزی فورسز کی ہوگی۔ اسے لے کر جمعہ کو ایک ریٹائرڈ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آئینی عہدے پربراجمان شخص کی حفاظت آئین و قوانین کے دائرے میں ہوتی ہے۔ کولکاتہ پولیس ریگولیشن ایکٹ 1968 کے مطابق گورنر کی حفاظت کولکاتہ پولیس کے ریزرو فورس کی ہوتی ہے۔ انسپکٹر رینک کے افسر گورنر کی حفاظت میں تعینات ہوتے ہیں۔ اگر براہ راست مرکزی حکومت انہیں تحفظ دیتی ہے تو یہ اصول کو نظر انداز کرنے جیسا ہے اور اس سے آئینی تعطل پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر راج بھون اور گورنر کی حفاظت مکمل طور پر مرکزی فورسز کے ماتحت ہوگی تو کسی ہنگامی صورت حال میں ریاستی حکومت کی سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تال میل بنانا بھی مشکل ہو جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here