مغربی بنگال: فیصلہ کن کردا ر میں مسلمان

Share Article

بمل رائے
شمالی بنگال کے 6اضلاع کی 54 اسمبلی سیٹوں کے لیے پہلے مرحلہ کے انتخابی اعداد و شمار جنوبی بنگال کے مقابلے میں کئی معنوں میں الگ ہیں۔ کوچ بہار، جل پائی گوڑی، دارجلنگ، شمالی دیناجپور، جنوبی دیناجپور اور مالدہ میں 18 اپریل کو ہونے والے انتخابات میں ست رنگی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔خلیج بنگال سے اٹھی تبدیلی کی ہوا چائے باغان سے ہوتے ہوئے پہاڑیوں سے ٹکراکر جیسیرک گئی ہے۔ یہ علاقہ مکمل طور پر بنگالیوں کا ہے بھی نہیں اور نہ یہاں کی تہذیب کولکاتہ جیسی ہے۔ یہاں گورکھا ہیں، راج ونشی ہیں، بہار، اترپردیش، راجستھان کے لوگ ہیں اور انگریزوں کے زمانے سے چائے کے باغانوں میں کام کر رہے جھارکھنڈ کے قبائلی ہیں۔ آسام میں الفا کے تشدد سے ڈر کر یہاں بسے آباد ہندی بولنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔ ایک بڑی آبادی مسلمانوں کی ہے، جن میں سے زیادہ تر بنگلہ دیش سے آئے ہوئے ہیں۔ اس طرح مختلف طبقات کے الگ الگ مفاد اور بدلے ہوئے حالات کی وجہ سے زیادہ تر پارٹیاں نتائج کے حوالے سے فکرمند ہیں۔
دارجلنگ ضلع کے چار میں سے تین ژون دارجلنگ، کرسیانگ اور کالنپونگ میں گورکھاؤں کی اکثریت ہے تو ترائی اور جل پائی گڑی کے ڈوآرس علاقہ میں گورکھا اورقبائلی ووٹ فیصلہ کن ہیں۔ گورکھاؤں کی نمائندگی کر رہی پارٹیوں میں بمل گرونگ کا گورکھا جن مکتی مورچہ ، سوواس گھسنگ کا گورکھا نیشنل لبریشن فرنٹ، مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی سے ٹوٹ کر بنی سی پی آر ایم اور گورکھا لیگ ہیں تو آدیواسی وکاس پریشد اور ڈوآرس-ترائی آدیواسی پریشد بن باسیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔ کوچ بہار میں راج ونشی طبقہ کے لوگ الگ گریٹر کوچ بہار اور کامتا پور پیپلز پارٹی کے دونوں دھڑے الگ کامتا پوری ریاست کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اس طرح بنگال سے الگ رہنے کی چاہت رکھنے والے تین طبقوں کے اپنیمفاد ہیں اور 35 سالوں سے نظرانداز رہنے کے بعد اس بار وہ لیفٹ اور کانگریس یا ترنمول اتحاد کو ووٹ دینے کے بدلے خود اپنا نمائندہ بھیجنے پر آمادہ ہیں، تاکہ ان کی آوازمزید صاف سنی جاسکے۔
1980کی دہائی میں گورکھا لینڈ تحریک چلانے والے سبھاش گھسنگ کی پارٹی جی این ایل ایف نے اس بار بھی تین سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں، لیکن ان کی عوامی حمایت کو بمل گرونگ نے پوری طرح ہڑپ لیا ہے۔ 2006 میں دارجلنگ، کرسیانگ اور کالنپونگ سیٹوں سے جی این ایل ایف کے امیدوار جیتے تھے، لیکن اس کے ٹھیک بعد بمل گرونگ کے سیاسی منظرنامہ پر ابھرنے کے بعد ان میں سے 2 ممبران اسمبلی گوجمومومیں شامل ہونے کے لیے مجبور ہوئے، جب کہ کرسیانگ کی ممبراسمبلی شانتا چھیتری آج بھی گھسنگ کے ساتھ بنی ہوئی ہیں۔ 2005 سے پہاڑوں پر پنچایتی انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ یہاں کے میونسپل بورڈ بھی ایک ایڈمنسٹریشن بورڈ کے ذریعہ چلائے جارہے ہیں۔ بمل گرونگ مقامی اداروں کے انتخابات کی مخالفت یا ان کا بائیکاٹ کرتے رہے ہیں۔ حالانکہ اسمبلی الیکشن لڑنے کا اعلان کر کے انہوں نے اپنی سیاسی زمین اور مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ پارٹی کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ انہیں ان نمائندوں کی ضرورت ہے، جو اسمبلی میں گورکھا لینڈ کی آواز بلند کرسکیں۔ اگر ڈوآرس اور ترائی علاقے میں اس کے یا اس کے ذریعہ حمایت یافتہ امیدوار جیت جاتے ہیں تو اس سے گورکھا لینڈ کے دائرے میں کچھ اور علاقے شامل کرنے کی مانگ کوطاقت ملے گی۔ جن مکتی مورچہ کے جنرل سکریٹری روشن گری نے ’’چوتھی دنیا‘‘ کو بتایا کہ ان کا اہم انتخابی ایشو الگ گورکھا لینڈ ریاست کی مانگ ہے۔ ان کے مطابق دارجلنگ علاقہ کے لیے گورکھا لینڈ آزاد کونسل کی مانگ اب ایک بند باب ہے۔
آدیواسی وکاس پریشد نے ڈوآرس کی 5، دارجلنگ اور شمالی دیناجپور کی ایک ایک سیٹ پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں اور اسے کامتاپور پیپلز پارٹی کے ایک دھڑے اور پروگریسیو پیپلز پارٹی کی حمایت مل رہی ہے، جیسا کہ پریشد کے ریاستی صدر ورسا تِرکی نے ’’چوتھی دنیا‘‘ کو بتایا کہ ان کی پارٹی کانگریس سے انتخابی تال میل کرنا چاہتی تھی، لیکن ممتا نے ان سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کر دئے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ لیفٹ مخالف ووٹوں کے تین طرف بٹوارے کے سبب نتائج کے بارے میں پراعتماد ہونا مشکل ہے۔ انہوں نے صاف کہا کہ بمل گرونگ کی پارٹی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پریشد کا لیفٹ کی حکومت سے بھی اعتماد اٹھ چکا ہے، کیوں کہ ہندی بولنے والوں کے لیے جو اعلانات ہوئے تھے، وہ ابھی کاـغذوں پر ہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا کہ جن قبائلیوں کے حقوق کی آئینی گارنٹی دی گئی ہے، انہیں وہ 35 سالوں کے لیفٹ کی حکومت میں بھی حاصل نہیں کر پائے۔ ان کے مطابق چائے باغان کے علاقوں میں اعلیٰ تعلیم یا تکنیکی تعلیم کے اداروں کو کون پوچھے، سڑک، بجلی، پانی جیسی بنیادی سہولتیں بھی پوری طرح بحال نہیں ہو پائی ہیں۔
شمالی بنگال میں ترنمول کا اتحاد کمزور رہا ہے، حالانکہ بنگالیوں کے درمیان اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ممتا بنرجی نے جنوبی بنگال میں تو کانگریس کا صفایا کر ہی دیا ہے، شمالی بنگال میں بھی آدیواسی پریشد اور کانگریس کے درمیان اتحاد روک کر سخت جھٹکا دیا ہے۔ لوگ کانگریسیوں کو راہل گاندھی کی اس بات کی یاد دلارہے ہیں کہ عزت کی بنیادپر ہرگز سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ کانگریس اور ترنمول کے درمیان تعلقات کی کھٹاس کے پیچھے آسام کے انتخابی اعداد و شمار بھی ہیں۔ ممتا دوسری ریاستوں میں ہاتھ آزماتی رہی ہیں اور 2001 میں انہوں نے آسام میں اس کی شروعات کی اور ایک ممبراسمبلی کو جتانے میں کامیاب ہوئیں۔ پارٹی نے 2006 کا انتخاب نہیں لڑا، لیکن اس بار اس نے 10 ناراض کانگریسیوں کو ٹکٹ دئے ہیں اور کل 100 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہیں۔ کانگریس اعلیٰ کمان اس سے ناراض ہے۔ ممتا نے بنگال میں کچھ اور سیٹیں دے کر آسام میں کانگریس سے تال میل کرنا چاہا، لیکن سونیا نے اسے ٹھکرا دیا۔ یہ بھی دلچسپ ہے کہ آسام میں ترنمول اسی مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی تنقید کر رہی ہے، جس میں ممتا وزیر ریل ہیں۔ کانگریس کو بنگال میں 65 سیٹوں پر روکنے کے علاوہ ممتا نے ایک اور چال چلی ہے۔ اپنی معاون پارٹی ایس یو سی آئی کو انہوں نے کانگریسی امیدواروں کے خلاف انتخاب لڑنے کے لیے اکسا دیا ہے۔
شمالی بنگال میں بی جے پی ایک چھوٹی طاقت کے طور پر ضرور ابھری ہے۔2009کے لوک سبھا الیکشن میں گورکھا لینڈ کی حمایت کے بدلے میں بمل گرونگ نے بی جے پی کے جسونت سنگھ کو جتا دیا تھا۔ حالانکہ قبائلی اکثریتی اور کچھ سرحدی علاقوں میں بی جے پی کے ووٹ بنک میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس کی وجہ ہے در اندازی کا ایشو ، جسے بی جے پی کو چھوڑ کر کوئی دوسری پارٹی نہیں اٹھاتی ہے۔یہ بھی غور طلب ہے کہ بی جے پی بنگلہ دیش سے آئے ہندؤں کی طرف داری کرتی رہی ہے۔
بنگال بی جے پی کا گورکھا جن مکتی مورچہ سے تال میل ہے، لیکن اسے صرف ایک مداری ہاٹ سیٹ دی گئی ہے۔جن مورچہ خود چار سیٹوں پر الیکشن لڑ رہا ہے۔غور کرنے کی بات ہے کہ گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں ڈوآرس کی مداری ہاٹ سیٹ پر بی جے پی کو 37.67فی صد ووٹ ملے تھے۔کال چینی میں تو33.93فیصدووٹ لیکر بی جے پی نے بائیں محاذ کا فیصد کم کرکے 37.16فیصد کی سطح پر لا دیا۔ یہاں تک کہ سلی گڑی سیٹ پر بی جے پی نے 18.14فیصد اور اس سے ملحق ماٹی گاڑا نکسل باڑی سیٹ پر 22.98فیصد ووٹ حاصل کرکے سب کو حیرت زدہ کر دیا۔غنی خان کے قلعہ مالدا میں بھی بی جے پی کا ووٹ فیصد بڑھ کر 12.9 ہو گیا۔حالانکہ بی جے پی فیکٹر کی وجہ سے تھوڑی بہت راحت بائیں محاذ کو بھی ہے۔اس کا اندازہ ہے کہ پہلے مرحلے کی 54سیٹوں میں سے 14سیٹوں پر بی جے پی ووٹ کاٹ کر اس کے امیدواروں کو جتا سکتی ہے۔حالانکہ آخری لمحوں میں ووٹوں کے ایک طرف جانے سے اعدادوشمار بدل بھی سکتے ہیں۔چوتھی دنیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی صدر راہل سنہا نے امید جتائی کہ اس مرتبہ پارٹی اچھی تعداد میں سیٹیں جیتے گی۔واضح رہے کہ گزشتہ الیکشن میں بی جے پی کا کھاتہ بھی نہیں کھلا تھا۔
مالدا ضلع اے بی اے غنی خان چودھری کا قلعہ رہاہے اور ابھی ان کی وراثت ممبر پارلیمنٹ موسم بے نظیر نور اور ابو ہاشم خان چودھری آگے بڑھا رہے ہیں۔12اسمبلی سیٹوں والے اس ضلع میں دوطرفہ مقابلہ ہے۔9اسمبلی سیٹوں والا شاملی دیناجپور پریہ رنجن داس منشی کا حلقہ ہے۔مگر ان کے غیر فعال ہونے سے ان کی بیوی دیپا داس منشی کانگریس کے ووٹ بنک کو بچائے ہوئے ہیں۔حالانکہ اس کے کچھ حصوں میں اب بھی بائیں محاذ کا دبدبہ ہے۔2009کے لوک سبھا الیکشن کے نتائج سے ایسا لگتا ہے کہ ترنمول نے بھی ان اضلاع میں دراندازی کی ہے۔جلپائی گڑی کی12سیٹیں ہیں تو جنوبی دیناجپور کی 6اسمبلی سیٹوں پر مقابلہ سہ رخی ہونے والا ہے۔
پہلے مرحلے کے الیکشن میں مسلم رائے دہندگان کی حمایت بھی اہم ہے۔ ریاست کے 19اضلاع میں کم سے کم 10اضلاع ایسے ہیںجہاں ایک چوتھائی یا اس سے بھی زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے۔ 2001کی مردم شماری کے مطابق مرشد آباد میں63.67مالدا میں 49.72شمالی دناجپور میں47.36ویر بھوم میں 35.08جنوبی چوبیس پرگنہ میں33.24اور ندیا، ہاؤڑا،کوچ بہار، شمالی چوبیس پرگنہ ، جنوبی دناجپور میں اوسطاً24.47فیصد آبادی مسلم اقلیت کی ہے۔ایک طرح سے بنگال کی 294میں سے لگ بھگ آدھی سیٹوں پر مسلم ووٹوں کی اہمیت ہے۔مسلم روایتی طور پر بائیں محاذ کو ووٹ دیتے رہے ہیں، کیونکہ 1977میں ان کے اقتدار میں آنے کے بعد ہوئے زمین اصلاحات  اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا فائدہ انہیں بھی ملا۔اپنی طاقت کو مزید ٹھوس بنانے کے لیے بنگال کی 6بڑی مسلم تنظیموں جماعت اسلامی ہند، شہری جمعیت اہل حدیث،ملی کونسل، اہل سنت و الجماعت،شیعہ اثنا عشریہ اور مسلم انسٹی ٹیوٹ نے 2007میں ملی اتحاد کونسل کا قیام کیا،لیکن بائیں محاذ کا اعتماد نہیں جیت پائے، جس کی جھلک ہمیں 2009کے لوک سبھا الیکشن کے نتائج کے طور پر دیکھنے کو ملی۔اس میں اثر تھا نندی گرام اور سینگور تحریکات کے بعد بنی ہوا کا۔ان کا دل جیتنے کے لیے سرکار کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے با وجود مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ کانگریس ترنمول کانگریس اتحاد کی جانب جھکا نظر آتا ہے۔یہی رخ شمالی بنگال میں بھی ہے۔خلیج بنگال سے اٹھا تبدیلی کا طوفان بھلے ہی جنوب سے شمال کی جانب چلا ہو لیکن ای وی ایم مشینوں کی دھن شمال سے جنوب کی جانب بج رہی ہے۔یہ کہنا بڑبولا پن نہیں ہوگا کہ 6مرحلوں میں ہونے والے بنگال کے الیکشن کی چابی شمالی بنگال کے ہی پاس ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *