مغربی بنگال : فیصلہ کی گھڑی قریب ہے

Share Article

بمل رائے
اسمبلی انتخابات اپنے آخری مرحلے میںہیں، فیصلہ کی گھڑی قریب ہے۔ دو تین سالوں کے رجحانات اور امید وںکی بنیاد پر ہم ایک نتیجہ تک پہنچتے رہے ہیں، لیکن معاملہ صرف 5-7فیصد ووٹوں کے ادھر ادھر ہونے کا ہے۔ قومی اور صوبائی لیڈران کے ذریعہ زبردست تشہیر جاری ہے۔ترنمول کے نئے گڑھ یادو پور سے کھڑے وزیراعلیٰ بدھا دیب بھٹاچاریہ کھلی جیپ میں ریلیاں نکال رہے ہیں تو وہیں ممتا پیدل مارچ کر رہی ہیںاور وہ بھی چار چار کلو میٹر کا پید ل سفرکر کے۔بستی کے گھرئو اور سومارو جب اپنی دیدی کے سامنے آ کر ہاتھ ملاتے ہیں تو چھتوں سے پھولوں کی بارش ہونے لگتی ہے۔ بدھا دیب کی جیپ تک چھوٹے لوگوں کے ہاتھ نہیں پہنچ پاتے اور وہ چاہ کر بھی ان سے ہاتھ نہیں ملا پاتے۔ ایک کے ساتھ پولس چلتی ہے تو دوسرا عوام کے درمیان بے خوف ہو کر ملتا جلتا ہے۔
ایم سی پی میں کسی خاص شخص کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس کی پالیسیاں بولتی ہیں، لیڈر نہیں۔ ان کے پوسٹروں میں نعرے بولتے ہیں، ترقی کی کہانیاں بولتی ہیں۔ تصویریں بڑے لوگوں کی ہوتی ہیں، لیڈران یا امیدواروں کی نہیں۔ جب تک جیو تی بسو راج کرتے رہے، اس ضابطہ میں کبھی ترمیم کی ضرورت نہیں پڑی۔ عوامی ریلیوں میں جم غفیر لگتا تھا، لیکن اب ایم سی پی کے جلسوں کے لئے بیشتر لوگ لائے جاتے ہیں۔بسو جیسی شہرت بنگال میں کسی ایم سی پی لیڈر کو نصیب نہیں ہے۔اس لئے بدھا دیب ایک کھانٹی بھدر لوک کی طرح دھول ، دھپاڑ ، امس اور پسینے کی بو والے ماحول سے دور رہنا پسند کرتے رہے ہیں، جبکہ انہیں اقتدار سے بے دخل کرنے کے دہانے پر کھڑیں ممتا کی سیاسی زندگی کا 70-80فیصد حصہ گائوں اور بستیوں کی گرد بھڑی سڑکوں اور گلیوں پر گزرا ہے۔ حالات کو بدلتا دیکھ پہلی بار وزیر اعلیٰ اپنے انتخابی حلقہ کی خاک چھان رہے ہیں۔
اس رائے کو بھی ماننے والے کم نہیں ہے کہ اگر 35سال میں بھی کوئی حکومت نہیں بدلے گی تو کب بدلے گی؟ کمیونسٹوں کے گڑھ کیرل میں بھی ہر پانچ سال میں حکومتیں بدلتی رہی ہیں، لیکن بنگال میں ایساکیوں نہیں ہوا؟ یہاں کے رائے دہندگان کی سیاسی بیداری کی ملک میں مثال دی جاتی ہے۔یہاں سہ رخی مقابلوں کے باوجود کبھی معلق اسمبلی کی نوبت نہیں آئی۔ یہاں آزاد امیدواروں کے جیتنے کا فیصد بھی ملک میں شاید سب سے کم ہے۔ رائے دہندگان دو میں سے ایک کو ہی منتخب کرتے رہے ہیں، تیسرے کی حمایت نہیں کرتے۔ اس لئے اکثریت کا اعتماد جیت کر اقتدار میں آنے کی اہلیت حاصل کرنے میں اپوزیشن کو 35سال لگ گئے۔بنگال کی تقسیم کے بعد تقریباً دو دہائیوں تک بنگالیوں نے کانگریس کو ہی منتخب کیا۔ درمیان میں1967میں کانگریس سے الگ ہو کر اجے مکھر جی نے وپلوی بانگلہ کانگریس بنائی اور جوائنٹ مورچہ حکومت کا قیام ہوا، جس میں جیوتی بسو نائب وزیر اعلیٰ بنے۔ اسی دوران بنگال میں نکسلی تحریک کے طور پر خونی سیاست کا آغاز ہوا۔تشدد اور فرضی مڈبھیڑوں میں سیکڑوں لوگ مارے گئے۔1972میں دھاندلی کے الزامات کے درمیان کانگریس کی اقتدار میں واپسی ہوئی۔اس انتخاب میں جیوتی بسو بھی 40ہزار ووٹوں سے ہار گئے تھے۔ آخر میں عوامی لہر پر سوا ر ہو کر کمیونسٹ 1977میں آئے اور چھا گئے۔ اس کے بعد کے انتخابات میں بھی کانگریس کو 30-40فیصد ووٹ ملتے رہے۔ ممتا کی کانگریس سے علیحدگی کے بعد ووٹوں کی تقسیم سے بایاں محاذ کا کام کچھ آسان ہو گیا اور وہ انتخاب پر انتخاب جیتتے گئے۔
بنگال کے رائے دہندگان کی سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی عادت رہی ہے۔ زمینی اصلاح، کھیتی کے معاملہ میں ترقی کے علاوہ بایاں محاذ کے اقتدار میں رہنے کا ایک بڑا سبب علاقہ پرستی کو کھاد پانی دینا بھی ہے۔ ایم سی پی کے ذریعہ بیشتر مسائل کے لئے مرکزکو ذمہ دار ٹھہرا کر ہمیشہ تلوار تانے رہنے، حمایت کے عوض میں اپنی بات منوانے، نظریات سے سمجھوتہ نہ کرنے اور سیاست کی مین اسٹریم سے الگ اپنی لیک پر چلنے جیسی ضد سے بنگالی متوسط طبقہ خوش ہوتا رہا۔ حالانکہ ایم سی پی کی تلوار سے اس کے ہاتھ تب کٹ گئے، جب اسے جیوتی بسو کو وزیر اعظم بنانے کا موقع گنوانا پڑا۔ایم سی پی کو سمجھ میں نہیں آیا کہ ایک بنگالی کے پی ایم بننے سے اس کی علاقہ پرستی اور زیادہ مقبول ہوتی۔ یہی ٹرننگ پوائنٹ تھا، جب بنگالیوں کا ایم سی پی سے بھروسہ اٹھنا شروع ہو گیا۔ بسو نے اسے تاریخی بھول کہہ کر سنبھلنے کا موقع دیا، لیکن مارکسوادی اصولوں والے مرکزی لیڈران نے سبق لینے سے انکار کر دیا ۔ ممتا کا اس علاقائی شناخت کو ہوا دینے کا کوئی اعلانیہ ایجنڈا نہیں ہے، لیکن وہ موقع ملنے پر بھی سیاسی عقل مندی دکھانے میں ناکام ہوتی جا رہی ہیں۔مثال کے طور پر الیکشن کمیشن کے اس اشتہار پر ممتا نے اعتراض ظاہر کیا، جس میں سوربھ گانگولی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوربھ کئی ایم سی لیڈران کے قریبی رہے ہیں۔ آخر میں تنازعہ بڑھتا دیکھ سوربھ خود پیچھے ہٹ گئے۔ سوربھ اپنی کرکٹ زندگی میں بھلے ہی متنازعہ رہے ہوں، لیکن بنگال میں ان کی مقبولیت کو لے کر کوئی شبہ نہیں ہے۔یقین نہ ہو تو گزشتہ 11اپریل کو کولکاتہ نائٹ رائڈرس اور دکن چارجرس کے درمیان ہوئے میچ کے دوران ہزاروں خالی پڑیں کرسیاں اس کی گواہی دے سکتی ہیں۔ آئی پی ایل کی کسی ٹیم نے سوربھ کو نہیں خریدا، اس سے بنگالیوں کو گہرا صدمہ پہنچا ہے اور وہ ایک طرح سے نائٹ رائڈرس کو اپنی ٹیم ماننے سے انکار کر چکے ہیں۔ ایسے حساس موقع پر ممتا کو اپنے رائے دہندگان پر زیادہ یقین کرنا چاہئے تھا۔ آخر سوربھ گانگولی رائے دہندگان سے اپنا قیمتی ووٹ ضرور ڈالنے کی اپیل کرنے والے تھے، نہ کہ کمیونسٹوں کو جتانے کی۔
مضبوط کیڈر کے تحت بایاں محاذ کو پوری طرح اکھاڑ پھینکنا اس بار بھی ممکن نہیں ہوگا۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے بعد سے ملک کے سیاسی افق پر کافی تبدیلی آئی ہے۔ اب بچہ بچہ جان گیا ہے کہ بھے سے بھالو نہیں ’’بھرشٹاچار‘‘ ہوتا ہے۔ کچھ انجان لوگوں کو انا کی بھوک ہڑتال نے پوری طرح سمجھا دیا۔ وہیں کانگریس اپوزیشن اتحاد کی ایک جماعت ہے۔حالانکہ ممتا کے اتحاد کی قیادت کرنے کے سبب بنگال میں اس فیکٹر کا اثر کم ہو سکتا ہے۔ ان کے پاس پوری ریاست میں پھیلی عوامی مقبولیت بھی ہے۔ ایک وقت تھا کہ گائوں میں ان کی تنظیم نہیں تھی، لیکن نندی گرام اور سنگور میں زمین ایکوائرنگ تنازعہ پیداہوا تو بایاں محاذ کا انتظامی تجربہ فیل ہو گیا اور اس بہانے ممتا گائوں میں پہنچ گئیں۔ا پنی غلطیاں سدھارنے کے لئے ایم سی پی نے کچھ لبھائونے اعلانات کے ساتھ معافی مانگنے کا سلسلہ شروع کیا، لیکن لگتا ہے کہ لوگ اسے معاف کرنے کے بدلے ممتا کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں۔ایم سی پی لیڈران لوگوں کو سمجھا رہے ہیں کہ ممتا اسی طرح ریاست کی باگ ڈور سنبھالیں گی، جیسے ریلوے کی سنبھالی ہے۔اپوزیشن کے منتشر ہونے اور باہمی رسہ کشی کی وجہ سے لوگوں کے ذہن میں خدشہ رہا اور بایاں محاذ ہر پانچ سال پر کامیاب ہوتا رہا،لیکن اب تمام سیاسی اتحاد صحیح جگہ پر ہیں۔ بے عزتی کا گھونٹ پی کر بھی کانگریس نے اتحاد کیا اور گھوٹالوں کے در میان خوش ہونے کے لئے اسے بنگال کی جیت جیسا ہی کچھ چاہئے۔17جنوری 1996کو ممتا نے بنگال یوتھ کانگریس کے صدر کی حیثیت سے ایک نعرہ دیا تھا’’سی پی ایم ورودھے نیا سوپان، نتن سکال آنبے طوفان‘‘ اسٹیج سے تقریر کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا رائو نے انہیں بنگال کی ویرانگنا کے اعزاز سے نواز تھا۔ اس وقت شاید اس ویرانگنا کو اندازہ نہیں رہا ہوگا کہ نئی صبح کا انتظار اتنا لمبا ہوگا۔ یہ وقت کی رفتار ہے کہ جماعت کو چھوڑ کر انھوں نے ایم سی پی کے خلاف بگل بجایا ، آج اسی کی مدد سے وہ اپنے ادھورے کاموں کو انجام دینے میں لگی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *